پوری دنیا میں کرونا وائرس کے پھیلاؤ کے بعد ، یہ دعوے کیے جا رہے ہیں کہ اس وبا نے عالمی سیاست اور بین الاقوامی تعلقات پر بہت وسیع اور گہرے اثرات مرتب کیے ہیں۔ وبا سے پہلے کے وقت میں ، بین الاقوامی تعلقات کی تعریف پھیلتی ہوئی دو قطبیت، ایک عظیم علاحدگی پسندیت ، بڑے تجارتی تحٖفظ اور بڑھتی ہوئی قومیت پرستی کی مدد سے کی جاتی تھی۔ ایسے وقت میں جب امریکہ تیزی سے تحفظاتی رویے کو اختیار کیے ہوئے ہے ، مشرق چین کی سربراہی میں کثیر شکلی تعلقات کی طرف بڑھتا ہوا دکھائی دے رہا ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ بین الاقوامی تنظیموں کا کردار بھی کم ہوتا دکھائی دے رہا ہے ۔ اسی طرح مقبولیت پسند رہنما اور آمر حکومتیں بھی پوری دنیا میں بتدریج طاقت حاصل کرتی دکھائی دیتی ہیں جب کہ اس کے مقابلے میں جمہوریت اور نیو- لبرلزم انحطاط کا شکار دکھائی دے رہا ہے۔ چین اور امریکی تنازعے میں اس رحجان کو واضح طور پر دیکھا جا سکتا ہے کیونکہ اکیسیویں صدی میں اس تنازعے نے پوری دنیا کو اپنی لبیٹ میں لے لیا ہے۔
اگرچہ چین اس وبا کا شکار ہونے والا اولین ملک تھا ، مگر سخت لاک ڈاؤن اقدامات، تیز ترین رد عمل، بڑے پیمانے پر سکریننگ، ٹارگٹڈ مانیٹرنگ اور مؤثر سماجی و سیاسی رد کی وجہ سے چین اس وبا پر قابو پانے میں کامیاب ہوگیا جس سے دنیا کو چین کی اصل طاقت کا اندازہ ہوا۔ 14 ارب آباد کے ملک میں دسمبر 2020 تک کرونا کیسز کی تعداد 87،000 تک پہنچ چکی تھی، چین کی مؤثر پالیسیز کو سراہنا بہت بڑی زیادتی ہوگی۔ اگر چہ یہ وائرس پہلے چین میں ہی دریافت ہوا تاہم اس وائرس کے آتے ہی مغرب اور خاص طور پر امریکہ نے لاک ڈاؤن لگائے اور اس کے ساتھ ساتھ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے چین پر اس وائرس کے پھیلاؤ اور معلومات چھپانےکا الزام لگایا۔ وائٹ ہاؤس کی جانب سے اس طرح کی افواہیں پھیلائی گئیں کہ یہ وائرس وہان کی لیبارٹری سے باہر نکلا ہے اور اس وائرس کو وہان وائرس کا نام بھی دیا گیا تاہم عالمی ادارہ صحت نے اس کی سختی سے نفی کی۔ اس طرح کے الزامات سے دونوں ممالک کے مابین تعلقات کشیدہ ہوگئے ۔ امریکہ نے یہیں تک بس نہیں کی بلکہ عالمی ادارہ صحت کی امداد بھی روک دی اور اس کا جواز یہ گھڑا کہ اس ادارے کو چینی حکام کنٹرول کر رہے ہیں۔
اس کے ساتھ عالمی ادارہ صحت کا دنیا پر اثرورسوخ کافی حد تک کمزور پڑ گیا، جس سے دنیا میں لبریل انٹرنیشل ورلڈ آرڈر کے کے مزید کمزور پڑ گیا کیونکہ عالمی تنظیموں پر دنیا کا اعتماد کم ہوگیا۔ پس کرونا وبا سے قبل عالمی اداروں پر اعتماد کی کمی کا رحجان وبا کے دوران اور بعد میں بھی جاری رہا اور تاحال جاری ہے۔ ٹرمپ کے سرحدیں بند کرنے کے اعلان کے ساتھ مغرب کے دیگر ممالک بشمول فرانس کے لی پین نے بھی اسی روش کو اپنایا پس مغرب کا حفاظتی اور قومیت پسند رویہ اس عالمی وبا کے دوران بھی جاری رہا۔ دوسری جانب چین کی سربراہی میں مشرق مسلسل ایک دوسرے کے ساتھ تعاون اور ایک دوسرے پر انحصار کے رستے پر چلتا رہا جس کا بڑا ذریعہ دو اور سہ ملکی تعاون تھا۔ امریکہ کی جانب سے عالمی وبا سے نمٹنے سے فرار سے پیدا ہونے والے خلا کو پر کرنے کے لیے چین آگے بڑھا اور دنیا کے دیگر ممالک کی مدد کی۔ چین کے وزارت خارجہ کے ترجمان ہو چن ینگ نے یہ تک کہا کہ چین اپنے تجربات کو دنیا کے ساتھ شئیر کرےگا۔
اس کے ساتھ ساتھ چین نے وبا سے سب سے زیادہ متاثر ہونے والے ممالک اٹلی ، سپین اور سربیا وغیرہ کو ماسک اور وینٹی لیٹرز مہیا کرنے شروع کر دیے۔ اس کے مقابلے میں یورپی ممالک نے اپنے بارڈرز بند کرنے شروع کر دیے اور سامان کی ذخیرہ اندوزی شروع کر دی حالانکہ اس وقت اٹلی مدد کے لیے چیخ رہا تھا۔ اور بالاخر اٹلی نے مدد کے لیے چین کی طرف دیکھنا شروع کر دیا ۔ پس چین کی ویکسین اور کرونا سفارتی کاری نے دنیا بھر میں اس کے امیج کو بہتر بنایا جبکہ امریکہ اور مغربی ممالک اس معاملے میں پیچھے رہ گئے۔ اس بات کو ہرگز نظر انداز نہیں کیا جاسکتا کہ وبا کے اثرات ٹیکنالوجی اور معاشرتی معنوں میں بہت زیادہ ہین تاہم اس بات کی توقع کرنا کہ عالمی سیاست اور بین الاقوامی تعلقات کرونا کے زیر اثر بڑی تبدیلیوں سے گزریں گے ہرگز عبث نہیں ہیں مگر ان کے اثرات محدود ہوسکتے ہیں۔ مگر یہ بات ہر گز نظرانداز نہیں کی جاسکتی کہ وبا نے بہت ساری چیزوں کو ہلایا ہے اگر مکمل طور پر تبدیل نہیں کیا تب بھی جھٹکا ضرور دیا ہے۔
بدھ، 5 مئی 2021
شفقنا اردو
ur.shafaqna.com
