وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات فواد چوہدری نے اعلان کیا ہے کہ وزیراعظم عمران خان نے عبدالقیوم نیازی کو آزاد جموں و کشمیر کا اگلا وزیر اعظم نامزد کردیا ہے۔
ایک ٹوئٹ میں انہوں نے کہا کہ ‘طویل مشاورت اور تجاویز کے جائزے کے بعد وزیر اعظم پاکستان و چیرمین تحریک انصاف عمران خان نے نومنتخب ایم ایل ائے جناب عبدالقیوم نیازی کو وزیر اعظم آزاد کشمیر کے عہدے کیلئے نامزد کیا ہے’۔
ان کا کہنا تھا کہ ‘وہ ایک متحرک اور حقیقی سیاسی کارکن ہیں جن کا دل کارکنوں کے ساتھ دھڑکتا ہے’۔
وزیر اعلی پنجاب کے ڈیجیٹل میڈیا کے لیے فوکل پرسن اظہر مشوانی نے کہا کہ عبدالقیوم نیازی سرحدی علاقے عباس پور، پونچ سے آزاد کشمیر کے قانون ساز اسمبلی کے رکن ہیں۔
انہوں نے کہا کہ وہ پی ٹی آئی کے مرکزی جوائنٹ سیکرٹری بھی ہیں۔
خیال رہے کہ وزیر اعظم عمران خان نے جمعے اور ہفتے کو آزاد کشمیر کے وزیر اعظم کے عہدے کے لیے کم از کم سات امیدواروں کے انٹرویو کیے تھے۔
وزیر اعظم نے ان سے مستقبل کی حکمت عملی، ماحولیات، سیاحت اور قومی اور بین الاقوامی مسائل کے بارے میں خیالات سمیت مختلف سوالات کیے تھے۔
ایک ذرائع کے مطابق وزیر اعظم عمران نے اس حقیقت پر برہمی کا اظہار کیا تھا کہ ان سے مختلف حلقوں کی طرف سے رابطہ کیا جا رہا ہے جو مخصوص امیدواروں کو منتخب کرنے کے لیے دباؤ ڈال رہے ہیں۔
عبدالقیوم نیازی جنہوں نے حالیہ آزاد جموں و کشمیر کے انتخابات میں ایل اے 18 کی نشست سے فتح حاصل کی تھی، اس سے قبل وزیر اعظم کے انختاب میں شامل نہیں تھے تاہم ان کا نام اچانک منظر عام پر آیا۔
آزاد کشمیر اسمبلی میں چوہدری انوار الحق اسپیکر، ریاض احمد ڈپٹی اسپیکر منتخب
مظفرآباد: آزاد جموں و کشمیر کی قانون ساز اسمبلی میں پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے چوہدری انوار الحق اسپیکر اور ریاض احمد ڈپٹی اسپیکر منتخب ہوگئے۔
انہوں نے پاکستان پیپلز پارٹی (پی پی پی) کے راجہ فیصل ممتاز راٹھور اور پاکستان مسلم لیگ (ن) کے نثار عباسی کو 32 حاصل کرتے ہوئے شکست دی جبکہ ان کے مخالفین کو 15 ووٹ ملے تھے۔
واضح رہے کہ فیصل ممتاز راٹھور اور نثار عباسی دونوں جماعتوں کے مشترکہ امیدوار تھے۔
قبل ازیں افتتاحی اجلاس میں آزاد جموں وکشمیر کی قانون ساز اسمبلی کے 52 میں سے 49 نو منتخب ارکان سے سبکدوش ہونے والے اسپیکر شاہ غلام قادر نے عہدے کا حلف لیا۔
پیپلز پارٹی کے چوہدری محمد یاسین ضلع کوٹلی کے دو حلقوں سے منتخب ہوئے ہیں اور انہیں 30 دنوں کے اندر اپنے ایک نشست سے حلف لینا ہے جس کی وجہ سے اسمبلی کی اس وقت عددی قوت 53 کے بجائے 52 ہے، اور پیپلز پارٹی کی نشستیں 12 کے بجائے 11 ہیں جبکہ مسلم لیگ (ن) کے سات ووٹ ہیں۔
دونوں جماعتوں نے اس سے قبل تین مخصوص نشستوں کے لیے مشترکہ امیدوار کھڑے کیے تھے اور وزیراعظم کے عہدے کے لیے مشترکہ امیدوار کھڑا کرنے کا اعلان بھی کیا تھا جس کا انتخاب بدھ کو ہونا ہے۔
پی ٹی آئی کے 32 ووٹ ہیں اور دو ریاستی جماعتوں-مسلم کانفرنس (ایم سی) اور جموں کشمیر پیپلز پارٹی (جے کے پی پی) کے پاس ایک ایک ووٹ ہے۔
تاہم افتتاحی سیشن میں پی پی پی کے چوہدری یاسین اور جاوید اقبال اور ایم سی کے سردار عتیق احمد خان ظاہر نہیں ہوئے جس کی وجہ سے 49 ارکان نے ووٹنگ کے عمل میں حصہ لیا۔
اسپیکرز کے انتخاب میں ایک ووٹ پی ٹی آئی امیدوار کے حق میں اور دوسرا اپوزیشن کے حق میں مسترد کیا گیا۔
مسٹر حق کو کامیاب قرار دیئے جانے اور حلف اٹھانے کے بعد ، انہوں نے آئندہ کارروائی کی صدارت کی اور ڈپٹی اسپیکر کے عہدے کے لیے الیکشن کرایا۔
تاہم اس بار انوار الحق نے اپنی پارٹی کے ماجد خان کے اس اعتراض کے بعد اپنا ووٹ کاسٹ نہیں کیا کہ اسپیکر صرف اس صورت میں اپنا ووٹ ڈال سکتا ہے جب الیکشن ٹائی پر ختم ہو جائے۔
ایوان سے خطاب کرتے ہوئے ڈپٹی اسپیکر سے حلف لینے کے بعد انوار الحق نے پی ٹی آئی قیادت کا ان پر اعتماد ظاہر کرنے پر اظہار تشکر کیا اور کہا کہ وہ اپوزیشن کی آواز کو نہیں دبائیں گے۔