Top Posts
ہر صبح گرم پانی میں لیموں کا عرق...
ہندوستان کی جانب سے پاکستانیوں کو بے دخل...
افغانستان قیادت دہشت گردی کے خلاف تحریری ضمانت...
حکومت اور پی ٹی آئی ’پوائنٹ آف نو...
پاکستان میں گاڑیوں پر ڈسکاؤنٹ، عارضی رعایت یا...
کیا نواز شریف اپنی سیاسی وراثت بچانا چاہتے...
افغان علما کی قرارداد پاکستان، افغانستان کشیدگی میں...
سیاست سے کوئی ’’مائنس‘‘ نہیں ہوتا/مظہر عباس
سابق ڈی جی آئی ایس آئی فیض حمید...
امریکا نے پاکستان کے ایف-16 لڑاکا طیاروں کے...
  • Turkish
  • Russian
  • Spanish
  • Persian
  • Pakistan
  • Lebanon
  • Iraq
  • India
  • Bahrain
  • French
  • English
  • Arabic
  • Afghanistan
  • Azerbaijan
شفقنا اردو | بین الاقوامی شیعہ خبر رساں ادارہ اور تجزیاتی مرکز
اردو
  • صفحہ اول
  • تازہ ترین
  • آپ کی خبر
  • بلاگ
  • پاکستان
  • تصویری منظر نامہ
  • دلچسپ و عجیب
  • سائنس و ٹیکنالوجی
  • صحت وتعلیم
  • عالمی منظر نامہ
  • فیچرز و تجزیئے
  • کھیل و کھلاڑی
  • وڈیوز
  • رابطہ

ہم تنزلی کا شکار کیوں ہیں؟

by TAK 14:07 | جمعرات دسمبر 29، 2022
14:07 | جمعرات دسمبر 29، 2022 16 views
16
نیوزی لینڈ کی وزیراعظم پارلیمنٹ میں دھواں دھار خطاب کررہی تھیں کہ اچانک جوش خطابت میں انہوں نے اپنے مخالف ڈیوڈ سمر کے بارے میں ایک نامناسب لفظ کہہ دیا۔ اتفاق ایسا ہوا کہ وہ لفظ پارلیمانی کارروائی سے حذف بھی نہ ہوسکا۔
اس لفظ پر ڈھٹائی کا مظاہرہ کرنے کے بجائے انہوں نے معذرت بھی کی، لیکن ڈیوڈ سمر کو چونکہ بے حد صدمہ پہنچا تھا، انہوں نے اپنی باری پر جوابی لفظی وار کرنے کے بجائے یا میڈیا سے گفتگو کے دوران ذاتی حملے کرکے اخلاقیات کا جنازہ نکالنے کے بجائے، اپنے درد کے مثبت استعمال کا فیصلہ کیا اور وزیراعظم کو اس نامناسب لفظ کی نیلامی کا مشورہ دیا۔
پڑھی لکھی اور باشعور وزیراعظم نے اس مشورے کو قبول کیا۔ ان الفاظ پر مشتمل وزیراعظم کی دستخظ شدہ کاپی کو نیلام کیا گیا۔ ایک اندازے کے مطابق اس کاپی کی نیلامی 63000 امریکی ڈالرز میں نیلامی ہوئی اور پھر یہ رقم عوام کی فلاح بہود کےلیے کینسر فاؤنڈیشن میں جمع کروادی گئی۔
یہ ان لوگوں کی صورتحال ہے جو ہمارے کہنے کے مطابق جہنمی ہیں اور ہم جو خود کو جنت کا ٹھیکیدار سمجھتے ہیں، ہمارے ہاں جو اخلاقیات کا جنازہ نکالا جاتا ہے وہ سب کے سامنے ہے۔ اور تو اور ہمارے خودساختہ ریاست مدینہ کے معمار اپنے مخالفین پر جس انداز میں حملہ آور ہوتے ہیں، ریاستی اہلکاروں کو جس انداز میں دھمکاتے ہیں، اقتدار میں آنے کے بعد ان کا جو خوفناک انجام ہونے والا ہے جس طرح سرعام اس کی نوید سنائی جاتی ہے، اس سے یہ حقیقت منکشف ہوتے دیر نہیں لگتی کہ ہم کافر اقوام سے ترقی میں پیچھے کیوں ہیں۔
یہ ایک حقیقت ہے کہ آج کے غیر مسلموں کی ترقی کے پیچھے ایسے کئی ایک واقعات ہیں اور ہماری تنزلی کی کئی ایسی وجوہات۔ آج کا کافر دین اسلام کے اصولوں پر ان کی روح کے مطابق عمل پیرا ہوکر ترقی کی بلندیوں کو چھو رہا ہے جبکہ ہم عشق رسول ﷺ میں سرشاری کے دعویدار عمل نہ کرنے کی وجہ سے پستی کی جانب گامزن ہیں۔
غیر مسلم نہ صرف خود اصولوں پر عمل کرتے ہیں بلکہ ہم جیسوں سے بھی عمل کرواتے ہیں، جیسے مثال کے طور پر ہمارے وزیراعظم شہباز شریف اسلامی جمہوریہ پاکستان میں اشارے پر رکنا تو دور کی بات پروٹوکول کے بغیر سفر ہی نہیں کرتے جبکہ یہی عظیم ہستی ولایت میں قوانین کی پاسداری میں مصروف نظر آتے ہیں۔ اگر ہم عمل نہ کریں تو عمل کروالیا جاتا ہے، جیسے ہمارے دبنگ سابق چیف جسٹس افتخار چوہدری نے جب حجاج میں لائن توڑنے کی کوشش کی تو انہیں مجبور کردیا گیا کہ وہ قانون پر عمل کریں۔
خواص ہی نہیں عوام کا بھی یہی حال ہے۔ مجھے یاد ہے 2013 میں حج کے سفر سے واپسی ہورہی تھی، ہماری فلائٹ براستہ ملتان تھی۔ جیسے ہی ہم نے ملتان ایئرپورٹ پر لینڈ کیا، پاکستانی بھائیوں نے جہاز میں ہی قوانین کی دھجیاں اڑانا شروع کردیں، جبکہ یہی مسافر ابوظہبی ایئرپورٹ پر اچھے بچوں کی طرح قوانین کا احترام کررہے تھے۔
حالیہ دنوں میں پاکستانی بھائیوں نے خلیجی ممالک کے قوانین کو جب پاکستانی قانون سمجھا تو پھر قانون حرکت میں آیا۔ پہلے ایک برادر خلیجی ملک جہاں پاکستانیوں کی بڑی تعداد رہائش پذیر ہے، بلکہ ایک اندازے کے مطابق پاکستانی بھارتیوں کے بعد دوسرے نمبر پر ہیں، اور ملک کی معیشت میں اہم خدمات سر انجام دے رہے ہیں، جب وہاں پر پاکستانیوں نے قوانین کا احترام نہ کیا تو قانون کی حکمرانی پر یقین رکھنے والے اس ملک نے پہلے ہمارے چھ شہروں سے تعلق رکھنے والے افراد پر پابندی لگائی۔ جب ہمیں پھر بھی عقل نہ آئی تو یہ تعداد 12 ہوئی۔ ہم نے پھر بھی ہوش کے ناخن نہ لیے تو یہ تعداد 18 اور اب اسلامی جمہوریہ پاکستان کے 24 شہر بلیک لسٹ ہوچکے ہیں۔
عوام کو ہوش کے ناخن لینا ہوں گے ملکی اور غیر ملکی قوانین پر عمل درآمد کو یقینی بنانا ہوگا اس سے پہلے کہ پانی سر سے گزر جائے۔ خیر تو بات ہورہی تھی اخلاقیات کی۔ اگر ہم اقوام عالم کی طرز پر ترقی کرنا چاہتے ہیں تو ہمیں اس انداز میں اسلامی اصولوں اور اخلاقیات پر عمل کرنا ہوگا جس طرح غیر کرتے ہیں، بصورت دیگر حکمران کوئی بھی ہو، دن ہمیشہ وزیروں کے ہی بدلیں گے عوام کے حصے میں صرف وعدے اور ارادے ہی آئیں گے۔
بشکریہ: ایکسپریس نیوز
محمد عمران چوہدری
پاکستانڈیوڈ سمرریاست مدینہسفر حج
0 FacebookTwitterLinkedinWhatsappTelegramViberEmail
گزشتہ پوسٹ
نزلہ زکام کے علاج میں کون سے گھریلو ٹوٹکے کارآمد؟
اگلی پوسٹ
31 دسمبر سے لاکھوں فونز پر وٹس ایپ بند ہو جائے گا

یہ بھی پڑھنا مت بھولیں

امریکا نے پاکستان کے ایف-16 لڑاکا طیاروں کے...

09:30 | جمعرات دسمبر 11، 2025

پاکستان میں کرپشن کا ’تاثر‘ اور حقائق: ٹرانسپرنسی...

12:55 | بدھ دسمبر 10، 2025

آئی ایم ایف نے پاکستان کو کن شرائط...

13:04 | منگل دسمبر 9، 2025

سعودی عرب نے پاکستان کے 3 ارب ڈالرزکے...

04:02 | جمعہ دسمبر 5، 2025

آبادی کا عفریت اور مذہبی علما کی لاتعلقی/سید...

13:08 | جمعرات دسمبر 4، 2025

27 ویں ترمیم : پاکستان کی اقوام متحدہ...

12:43 | اتوار نومبر 30، 2025

پاکستان کیمیکل ہتھیاروں کی ممانعت کی تنظیم (او...

04:21 | جمعرات نومبر 27، 2025

یورپی یونین کا دہشت گردی کے خلاف اعلامیہ

12:39 | منگل نومبر 25، 2025

کیا پاکستان کو جی ایس پی پلس کی...

16:25 | اتوار نومبر 23، 2025

تجارت کے نئے راستوں کی تلاش، افغانستان کتنا...

16:13 | اتوار نومبر 23، 2025

تبصرہ کریں Cancel Reply

میرا نام، ای میل اور ویب سائٹ مستقبل میں تبصروں کے لئے محفوظ کیجئے.

تازہ ترین

  • ہر صبح گرم پانی میں لیموں کا عرق ملا کر پینے سے واقعی کوئی فائدہ ہوتا ہے؟

  • ہندوستان کی جانب سے پاکستانیوں کو بے دخل کرنے سے خاندان اب بھی تقسیم ہیں/ شہریار حسن

  • افغانستان قیادت دہشت گردی کے خلاف تحریری ضمانت دے: پاکستان

  • حکومت اور پی ٹی آئی ’پوائنٹ آف نو ریٹرن‘ پر پہنچ چکی ہیں؟

  • پاکستان میں گاڑیوں پر ڈسکاؤنٹ، عارضی رعایت یا مارکیٹ میں سخت مقابلے کا آغاز؟

  • کیا نواز شریف اپنی سیاسی وراثت بچانا چاہتے ہیں؟ سید مجاہد علی

  • افغان علما کی قرارداد پاکستان، افغانستان کشیدگی میں کیا معنی رکھتی ہے؟

  • سیاست سے کوئی ’’مائنس‘‘ نہیں ہوتا/مظہر عباس

  • سابق ڈی جی آئی ایس آئی فیض حمید کو 14 سال قید بامشقت کی سزا سنا دی گئی

  • امریکا نے پاکستان کے ایف-16 لڑاکا طیاروں کے لیے جدید ٹیکنالوجی اور معاونت کی فروخت کی منظوری دے دی ہے،

  • پاکستان کے ساتھ مائنس بھارت علاقائی اتحاد میں شمولیت ممکن ہے، بنگلہ دیش

  • میانمار فوج کا ریاست رخائن کے ایک اسپتال پر فضائی حملہ : 31 افراد کو ہلاک

  • سوشل میڈیا مہم: فوج کا پی ٹی آئی قیادت کو سخت ترین پیغام

  • حماس کے غیر مسلح ہونے کا مطالبہ ناقابل قبول ہے: خالد مشعل

  • پاکستان ویمنز فٹبال ٹیم کو پہلی مرتبہ فیفا سیریز میں شامل کرلیا گیا

  • پی ٹی آئی کا سیاسی سطح پر پیپلز پارٹی سے رابطے کا فیصلہ

  • امریکا نے وینزویلا کے ساحل کے قریب تیل بردار جہاز کو قبضے میں لے لیا

  • اسرائیل کی شمولیت پر آئیس لینڈ نے بھی یورو وژن گائیکی مقابلےکے بائیکاٹ کا اعلان کردیا

  • عمران خان کو اڈیالہ جییل سے منتقل نہیں کیا جارہا:وفاقی وزیر

  •  افغانستان سے ہونے والی دہشتگردی پاکستان، کے لیے شدید سکیورٹی چیلنج بن چکا ہے: دفتر خارجہ

مقبول ترین

  • صفائی اور پاکیزگی قرآن و حدیث کی روشنی میں : شفقنا اسلام

  • چھپکلی کی جلد سے متاثرہ بھوک لگانے والا کیپسول

  • میں نے جمہوریت کی مضبوطی کے لیے کام کیا: جوبائیڈن کا قوم سے خطاب

  • کیا ہندوستان کی آنے والی نسلیں مسلم مخالف نفرت میں اس کی زوال پزیری کو معاف کر دیں گی؟/شاہد عالم

  • مہاتیر محمد نے اپنا استعفیٰ پیش کردیا

  • مکمل لکڑی سے تراشا گیا کارکا ماڈل 2 لاکھ ڈالر میں نیلام

  • ایک ارب 70 کروڑ ڈالر کے قرضوں کی ادائیگی معطل کرنے کے معاہدے پر دستخط

  • اسلام آباد: میجر لاریب قتل کیس میں ایک مجرم کو سزائے موت، دوسرے کو عمر قید

  • دی نیشن رپورٹ/پاکستانی جیلوں میں قید خواتین : اگرچہ ان کی چیخیں دب گئی ہیں مگر ان کے دکھ کو نظر انداز نہیں کیا جاسکتا

  • عورتوں سے باتیں کرنا

@2021 - All Right Reserved. Designed


Back To Top
شفقنا اردو | بین الاقوامی شیعہ خبر رساں ادارہ اور تجزیاتی مرکز
  • صفحہ اول
  • تازہ ترین
  • آپ کی خبر
  • بلاگ
  • پاکستان
  • تصویری منظر نامہ
  • دلچسپ و عجیب
  • سائنس و ٹیکنالوجی
  • صحت وتعلیم
  • عالمی منظر نامہ
  • فیچرز و تجزیئے
  • کھیل و کھلاڑی
  • وڈیوز
  • رابطہ