سپریم کورٹ نے مخصوص نشستوں کے معاملہ پر نظر ثانی کی اپیل میں گزشتہ سال جولائی میں سپریم کورٹ کے 13 رکنی بنچ کے اکثریتی فیصلہ کو مسترد کر کے، اسی کیس میں پشاور ہائی کورٹ کا فیصلہ بحال کر دیا ہے۔ جس کے تحت خواتین اور اقلیتوں کی مخصوص نشستیں تحریک انصاف یا سنی اتحاد کونسل کو نہیں دی جا سکتیں۔ اس مقدمہ میں قانونی موشگافیوں سے قطع نظر یہ فیصلہ سیاسی بداعتمادی و عدم استحکام میں اضافہ کرے گا۔
آئین کے مطابق انتخابات کے بعد اسمبلیوں میں اقلیتوں کی نمائندگی کے لیے مخصوص نشستیں تقسیم کی جاتی ہیں۔ یہ مقررہ سیٹیں ہر اسمبلی میں سیاسی پارٹیوں کی نمائندگی کے مطابق تفویض ہوتی ہیں۔ تاہم فروری 2024 کے انتخابات کے بعد ان نشستوں کے حوالے سے تنازعہ شروع ہوا تھا۔ الیکشن کمیشن نے تحریک انصاف کو ’بیٹ‘ کا انتخابی نشان دینے سے انکار کر دیا تھا کیوں کہ الیکشن کمیشن کا موقف تھا کہ پارٹی کے انٹرا پارٹی انتخابات قابل قبول نہیں تھے۔ سپریم کورٹ نے اس فیصلہ کی توثیق کی تھی جس کے بعد تحریک انصاف کے امیدواروں نے درجنوں مختلف نشانات کے تحت انتخاب میں حصہ لیا لیکن منظم مہم جوئی اور عوامی رابطہ کے نتیجہ میں وہ کثیر تعداد میں سیٹیں جیتنے میں کامیاب ہو گئی۔
تاہم تحریک انصاف کے بینر تلے منتخب ہونے والے ان امیدواروں کو ’آزاد‘ تصور کیا گیا۔ آزاد ارکان چونکہ کسی سیاسی پارٹی کا گروپ کا حصہ نہیں ہوتے، اس لیے انہیں مخصوص نشستوں میں حصہ نہیں ملتا۔ البتہ اگر کوئی آزاد رکن نتیجے کا اعلان ہونے کے تین دن کے اندر کسی سیاسی پارٹی میں شامل ہو جائے تو ان کی طاقت اس سیاسی پارٹی کی طاقت سمجھتے ہوئے انہیں مخصوص نشستیں دے دی جاتی ہیں۔ تحریک انصاف نے مخصوص نشستوں میں حصہ لینے اور اپنی پارلیمانی حیثیت مستحکم کرنے کے لیے سنی اتحاد کونسل نامی غیرمعروف سیاسی پارٹی میں شامل ہونے کا فیصلہ کیا اور اپنے تمام ارکان کو اس پارٹی میں شامل ہونے کی ہدایت کردی۔ اس کے بعد سنی اتحاد کونسل کی طرف سے مخصوص نشستیں حاصل کرنے کی کوشش کی گئی۔ الیکشن کمیشن کے اکثریتی ارکان نے البتہ تین دن کی مدت کے بعد کیے گئے اس فیصلہ کو ماننے سے انکار کر دیا اور مخصوص نشستیں مسلم لیگ (ن) ، پیپلز پارٹی و دیگر جماعتوں کو دے دی گئیں۔ اس فیصلہ کو پہلے پشاور ہائی کورٹ میں چیلنج کیا گیا لیکن مئی 2024 میں پشاور ہائی کورٹ سے یہ اپیل مسترد ہو گئی تو اس کے خلاف سپریم کورٹ میں اپیل دائر کی گئی۔
سپریم کورٹ کے 13 رکنی بنچ نے 12 جولائی 2024 کو آٹھ پانچ کی اکثریت سے مخصوص نشستوں کی تقسیم پر الیکشن کمیشن کے فیصلہ کو ناجائز و غیر قانونی قرار دیتے ہوئے ان سیٹوں پر نامزد کیے ہوئے ارکان کو ڈی نوٹیفائی کرنے کا حکم دیتے ہوئے یہ سیٹیں تحریک انصاف کو دینے کا حکم دیا۔ اکثریتی ججوں کا کہنا تھا کہ انتخابات میں تحریک انصاف کے امیدواروں نے کامیابی حاصل کی ہے، اس لیے یہ سیٹیں سنی اتحاد کونسل کو نہیں مل سکتیں بلکہ تحریک انصاف کو دی جائیں۔ تنازعہ کی بنیاد یہ حقیقت بنی کہ اس معاملہ میں تحریک انصاف درخواست گزار ہی نہیں تھی لیکن اکثریتی ججوں نے پارٹی کو ’گھر سے بلا کر‘ اضافی سیٹوں کا تحفہ عطا کر دیا۔ اس بارے میں قانون دان منقسم تھے اور اسے آئینی کی بجائے سیاسی فیصلہ قرار دیا گیا۔ سپریم کورٹ کے اکثریتی فیصلہ میں اگر سنی اتحاد ہی کو سیٹوں کا مستحق مان لیا جاتا تو شاید یہ معاملہ زیادہ پیچیدہ نہ ہوتا۔ البتہ اس فیصلہ کے سیاسی تاثر کی وجہ سے اس پر اختلافات سامنے آنے لگے۔
الیکشن کمیشن نے مخصوص سیٹوں پر نامزد کیے ہوئے ارکان کو ڈی نوٹیفائی تو کر دیا لیکن سپریم کورٹ کے حکم کے مطابق تحریک انصاف کو سیٹیں دینے کی بجائے اس فیصلہ کے سقم تلاش کرنے شروع کر دیے اور اس پر نظر ثانی کی اپیل دائر کی گئی۔ ایسی ہی اپیلیں دیگر بعض متاثرہ ارکان کے علاوہ مسلم لیگ (ن) اور پیپلز پارٹی نے بھی دائر کیں۔ کیوں کہ یہ پارٹیاں یک بیک اضافی نشستوں سے محروم ہو گئی تھیں۔ حالانکہ سیاسی طور سے انہیں اپنی نمائندہ حیثیت کے مطابق ہی مخصوص سیٹیں لینے پر اکتفا کرنا چاہیے تھا۔ سپریم کورٹ کے کسی فیصلے پر اختلاف سے قطع نظر ہر ادارہ اسے ماننے کا پابند ہوتا ہے۔ لیکن قومی اسمبلی کے اسپیکر ایاز صادق نے بھی اسے منظور نہیں کیا اور الیکشن کمیشن نے بھی سپریم کورٹ کی ہدایت کے مطابق مخصوص سیٹیں تحریک انصاف کو نہیں دیں۔ اس طرز عمل سے ملک میں قانون کی بالادستی اور عدالتی احترام کا اصول متاثر ہوا۔
26 ویں آئینی ترمیم کے بعد اس معاملہ میں نظر ثانی کی تمام درخواستیں 13 رکنی آئینی بنچ کے سپرد کردی گئیں۔ اب اسی بنچ نے اپنی نامکمل حیثیت میں سات تین کی اکثریت سے سپریم کورٹ کے اکثریتی فیصلہ کے مقابلے میں پشاور ہائی کورٹ کے فیصلے کو درست قرار دیتے ہوئے ایک بار پھر مخصوص سیٹیں تحریک انصاف یا سنی اتحاد کی بجائے قومی اسمبلی کی دیگر جماعتوں میں تقسیم کرنے کا اصول مان لیا ہے۔ اور تحریک انصاف کے ووٹوں سے منتخب ہونے والے 80 ارکان کو آزاد رکن سمجھتے ہوئے مخصوص نشستوں سے محروم کیا گیا ہے۔ تحریک انصاف کی طرف سے مقدمہ کی پیروی کرنے والے حامد خان نے سماعت کے دوران مقدمہ کے قانونی میرٹ پر بات کرنے کی بجائے زیادہ وقت بنچ کی تشکیل اور اس کے دائرہ اختیار پر سوالات اٹھاتے ہوئے ضائع کیا جس کی وجہ سے بنچ میں شامل متعدد ججوں سے سخت الفاظ کا تبادلہ بھی ہوا اور عدالت کا ماحول خراب ہوا۔
البتہ سب سے پہلا تنازعہ تیرہ رکنی آئینی بنچ کے ان دو ججوں کی طرف سے سامنے آیا جو سپریم کورٹ کے اس 13 رکنی بنچ کا بھی حصہ تھے جس نے گزشتہ سال 12 جولائی کو مخصوص سیٹیں تحریک انصاف کو دینے کا حکم دیا تھا۔ جسٹس عائشہ ملک اور جسٹس عقیل عباسی نے پہلی سماعت میں نظر ثانی کی اپیلوں کو ناقابل سماعت قرار دیا اور کہا کہ چونکہ وہ پہلے فیصلہ دے چکے ہیں، اس لیے وہ سماعت کا حصہ نہیں بنیں گے۔ آئینی بنچ کے سربراہ جسٹس امین الدین نے ان کا اعتراض نوٹ کر لیا اور 11 ججوں نے سماعت جاری رکھی۔ ان دو ججوں نے بنچ سے باقاعدہ علیحدگی اختیار نہیں کی تھی بلکہ سماعت میں شامل ہونے سے انکار کیا تھا کیوں کہ وہ پہلے ہی اپنی رائے دے چکے تھے۔ حالانکہ طریقہ کار کے مطابق نظر ثانی کی اپیل کا مقصد ہی یہ ہوتا ہے کہ متعلقہ جج حضرات نئے شواہد یا دلائل کی روشنی میں اگر اپنی رائے تبدیل کرنا چاہیں تو اس کا امکان موجود رہے اور درخواست دہندہ کو اس کا فائدہ ہو۔ کسی جج کی طرف سے نظر ثانی پر غور سے یہ کہہ کر انکار کہ وہ تو رائے دے چکا ہے، اس تاثر کو قوی کرتا ہے کہ قانونی رائے کو سیاسی مقاصد کے لیے استعمال کیا جا رہا تھا۔ گزشتہ روز کی سماعت پر حامد خان نے 26 ویں آئینی ترمیم کے بعد شامل ہونے والے ججوں کی موجودگی پر اعتراض کیا جس پر عدالت عظمی پر عوامی اعتماد بحال رکھنے کے لیے جسٹس صلاح الدین پنہوار نے سماعت سے معذرت کرلی اور خود کو الگ کر لیا۔ 10 رکنی بنچ نے سات تین کی اکثریت سے نظر ثانی کی تمام اپیلیں منظور کر لیں۔
تحریک انصاف نے اسے ’آئینی و عدالتی روایات اور انصاف کا جنازہ‘ قرار دیا۔ پارٹی کے لیڈروں نے اس فیصلہ کو سنگین نا انصافی سے تعبیر کیا ہے۔ اس نکتہ چینی اور ناراضی کے باوجود یہ فیصلہ اب حتمی ہے اور الیکشن کمیشن مختصر عدالتی حکم کی نقل موصول ہونے کے بعد ان تمام ارکان کو بحال کردے گا جنہیں 12 جولائی 2024 کے فیصلے کے بعد ڈی نوٹیفائی کیا گیا تھا۔ آئینی بنچ کے فیصلہ کے قانونی پہلوؤں پر ماہرین اسی طرح بحث کرتے رہیں گے جیسا کہ ماضی میں بارہ جولائی کے فیصلہ کو بعض عناصر نے سیاسی قرار دیتے ہوئے تنقید کا نشانہ بنایا تھا۔ لیکن سپریم کورٹ کے نئے فیصلہ کے سیاسی اثرات کو نظر انداز کرنا غلط ہو گا۔
قانونی پیچیدگیوں سے قطع نظر ملک کی سب سیاسی پارٹیوں کو علم ہے کہ تحریک انصاف نے فروری 2024 کے انتخابات میں قابل ذکر اور نمایاں کامیابی حاصل کی تھی۔ اگرچہ تحریک انصاف تو سیاسی مخالفین کی کامیابی کو فارم 47 کا دن قرار دیتی ہے لیکن اس الزام تراشی سے قطع نظر مسلم لیگ (ن) اور پیپلز پارٹی کو مخصوص نشستوں کے تنازعہ میں فریق بننے سے گریز کرنا چاہیے تھا۔ تحریک انصاف کی حمایت سے کامیاب ہونے والے تمام 80 ارکان کو خواہ کوئی بھی نام دیا جائے لیکن اس حقیقت سے انکار نہیں کیا جاسکتا کہ ان کا انتخاب عوام میں تحریک انصاف کی مقبولیت کا ثبوت ہے۔ ملک کی بڑی سیاسی پارٹیوں کو اس عوامی رائے کا احترام کرتے ہوئے الیکشن کمیشن یا عدالتوں کے فیصلوں سے قطع نظر نہ تو ان مخصوص نشستوں میں حصہ قبول کرنا چاہیے تھا اور نہ ہی اس مقدمہ میں نظر ثانی کی کارروائی کا باقاعدہ حصہ بننا چاہیے تھا۔ اب سامنے آنا والا فیصلہ ملکی سیاست میں کسی کجی کو درست کرنے میں کامیاب نہیں ہو گا۔ کیوں کہ یہ کام بہر صورت سیاسی جماعتوں کو کرنا پڑے گا۔ حکومت تحریک انصاف پر سیاسی مکالمہ سے گریز کا الزام عائد کرتی ہے۔ لیکن مخصوص سیٹوں کی بندر بانٹ میں شامل ہو کر وہ یہ بھی ثابت کر رہی ہے کہ مسلم لیگ (ن) اور پیپلز پارٹی صرف وقتی طور سے اپنی پارلیمانی قوت میں اضافہ میں دلچسپی رکھتی ہیں۔ انہیں ملک میں وسیع تر سیاسی اتفاق رائے اور باہمی احترام کا ماحول پیدا کرنے میں کوئی دلچسپی نہیں ہے۔ اس رویہ کی وجہ سے ملک میں سیاسی تصادم اور بداعتمادی میں اضافہ کا امکان بڑھ گیا ہے۔
یہ فیصلہ ملک میں سیاسی عمل، جمہوری نظام اور باہمی احترام کے ماحول کے لیے نقصان دہ ہو گا۔ اس کا خمیازہ اگر آج تحریک انصاف بھگتے گی تو کل کسی دوسری سیاسی پارٹی کی گردن بھی اس شکنجے میں آئے گی۔
شفقنا اردو
نوٹ: شفقنا کا اس تحریر کے مندرجات سے متفق ہونا ضروری نہیں