Top Posts
احمد الاحمد ہمارے ’ہیرو‘ ہیں،آسٹریلوی وزیراعظم
اسرائیل پر تنقید: امریکی سیاست میں اب کوئی...
بگ بیش میں شاہین آفریدی کا مایوس کُن...
بھارت میں مردہ شخص سب سے زیادہ ووٹ...
واٹس ایپ ہیک ہونے کی صورت میں کیا...
علیمہ خان نے گزشتہ دنوں سوشل میڈیا پر...
ڈیرہ اسماعیل خان: کلاچی آپریشن میں 7 دہشت...
کیا فیض سے جان چھوٹ گئی؟ حامد میر
آئی ایم ایف اور اس کے تخلیق کردہ...
بلاول بھٹو کے مثبت تبصروں پر مریم نواز...
  • Turkish
  • Russian
  • Spanish
  • Persian
  • Pakistan
  • Lebanon
  • Iraq
  • India
  • Bahrain
  • French
  • English
  • Arabic
  • Afghanistan
  • Azerbaijan
شفقنا اردو | بین الاقوامی شیعہ خبر رساں ادارہ اور تجزیاتی مرکز
اردو
  • صفحہ اول
  • تازہ ترین
  • آپ کی خبر
  • بلاگ
  • پاکستان
  • تصویری منظر نامہ
  • دلچسپ و عجیب
  • سائنس و ٹیکنالوجی
  • صحت وتعلیم
  • عالمی منظر نامہ
  • فیچرز و تجزیئے
  • کھیل و کھلاڑی
  • وڈیوز
  • رابطہ

’پیپلز پارٹی پر انحصار کم اور آئینی ترامیم میں آسانی‘: مخصوص نشستوں کے فیصلے کے بعد شہباز شریف حکومت کے ہاتھ کتنے مضبوط ہوئے ہیں؟

by TAK 15:12 | منگل جولائی 1، 2025
15:12 | منگل جولائی 1، 2025 83 views
83
یہ تحریر بی بی سی اردو میں شائع ہوئی
گذشتہ برس ہونے والے عام انتخابات میں تحریک انصاف بغیر بلے کے میدان میں اتری تو بڑی تعداد میں نشستیں حاصل کرنے میں کامیاب ہوئی۔۔۔ مگر اس بلے کے بغیر جو معاملہ لٹک گیا وہ تھا مخصوص نشستوں کے حصول کا۔
پی ٹی آئی کے علاوہ اب دیگر جماعتوں نے بھی مخصوص نشستوں پر مخصوص نظریں جما لیں۔
الیکشن کمیشن، پشاور ہائیکورٹ، سپریم کورٹ اور بالآخر آئینی بینچ نے فیصلہ سنایا ہے۔ کبھی تحریک انصاف کے خلاف تو کبھی عمران خان کے حق میں۔۔۔
مگر گذشتہ ہفتے حتمی نتیجہ یہ نکلا کہ قومی اسمبلی سمیت ملک کی تین صوبائی اسمبلیوں کی 77 مخصوص نشتسیں تحریک انصاف کی بجائے دیگر جماعتوں کو دی جائیں گی۔
یوں تحریک انصاف کو مخصوص نشستوں سے محرومی نے حکمراں اتحاد کے ہاتھ مزید مضبوط کر دیے ہیں۔
اس 12 رکنی بینچ نے اپنے مختصر فیصلے میں کہا ہے کہ مخصوص نشستیں نہ پاکستان تحریک انصاف کو مل سکتی ہیں اور نہ ہی سنی اتحاد کونسل کو۔
جمعے کو جسٹس امین الدین کی سربراہی میں سپریم کورٹ کے 12 رکنی بینچ نے سات پانچ کی اکثریت سے مخصوص نشستوں سے متعلق فیصلے کے خلاف نظرثانی کی اپیلوں کو منظور کرتے ہوئے سپریم کورٹ کے 12 جولائی 2024 کے اس اکثریتی فیصلے کو کالعدم قرار دے دیا جس میں کہا گیا تھا کہ فروری 2024 میں ہونے والے انتخابات کے نتیجے میں مخصوص نشستیں پاکستان تحریک انصاف کو دی جائیں۔
اس فیصلے سے اب قومی اسمبلی کی 22 اور بلوچستان کے علاوہ باقی تین صوبائیوں اسمبلیوں کی 55 مخصوص نشستیں حکمران اتحاد کو مل گئی ہیں۔
قومی اسمبلی کی 22 نشستوں میں سے 14 حکمران جماعت مسلم لیگ ن کے حصے میں آئی ہیں۔ اب پارلیمان کے ایوان زیریں میں ن لیگ کی 110 نشستوں سے تعداد بڑھ کر 124 ہو گئی ہے۔
پاکستان پیپلز پارٹی کے حصے میں پانچ نشستیں آئی ہیں اور اس جماعت کی مجموعی نشستیں 70 سے بڑھ کر 75 ہو گئی ہیں۔ مولانا فضل الرحمان کی جے یو آئی کی نشستیں آٹھ سے بڑھ کر 11 ہو گئی ہیں۔
دو تہائی اکثریت کے لیے 224 نشستیں درکار ہوتی ہیں جبکہ اس فیصلے کے بعد 214 نشتوں والے حکمران اتحاد کے پاس دو تہائی اکثریت ملی جائے گی۔
خیبرپختونخوا اسمبلی میں خواتین کی 21 اور اقلیتوں کی چار مخصوص نشستیں بحال ہوئی ہیں، جس کے بعد جے یو آئی کو دس، ن لیگ کو سات، پیپلز پارٹی کو سات اور اے این پی کو ایک مخصوص نشست ملے گی۔
پنجاب اسمبلی میں خواتین کی 24 مخصوص نشستیں اور اقلیتوں کی تین نشستیں بحال ہو گئیں۔ ان میں ن لیگ کو 23، پیپلز پارٹی کو دو جبکہ پاکستان مسلم لیگ کو ایک نشست ملے گی۔
سندھ اسمبلی میں خواتین کی دو اور اقلیتوں کی ایک نشست بحال ہوئی ہے، جس میں پیپلز پارٹی کو دو اور ایم کیو ایم کو ایک مخصوص نشست ملے گی۔
سپریم کورٹ کا یہ فیصلہ پاکستان تحریک انصاف کو مخصوص نشستیں دینے کے خلاف نظرثانی درخواستوں کے بعد آیا ہے۔
پی ٹی آئی کے آزاد حیثیت میں منتخب ہونے والے ارکان نے سنی اتحاد کونسل کے پلیٹ فارم پر مخصوص نشستوں کے لیے درخواست دی تھی، تاہم الیکشن کمیشن نے اسے مسترد کرتے ہوئے کہا کہ سنی اتحاد کونسل کوئی پارلیمانی جماعت نہیں اور اسے مخصوص نشستوں کا حق حاصل نہیں۔
پشاور ہائی کورٹ نے بھی اس فیصلے کو برقرار رکھا تاہم 12 جولائی 2024 کو سپریم کورٹ کے 13 رکنی بینچ کے آٹھ ججز نے پی ٹی آئی کو مخصوص نشستیں دینے کا حکم دیا تھا، جس پر مسلم لیگ ن، پیپلز پارٹی اور الیکشن کمیشن نے نظرثانی کی درخواستیں دائر کی تھیں۔
قومی اسمبلی کی کل 336 نشستوں میں سے 266 پر براہ راست انتخاب ہوتا ہے جبکہ 60 خواتین اور 10 غیرمسلم پاکستانیوں کو مخصوص نشستوں پر منتخب کیا جاتا ہے۔ اسی طرح صوبوں میں سے پنجاب اسمبلی کے ارکان کی کل تعداد 371 ہے جب میں سے 297 پر براہ راست انتخاب ہوتا ہے۔
سندھ اسمبلی کی تعداد 168 ہے جن میں سے 130 جنرل نشستیں ہیں۔ خیبرپختونخوا کی صوبائی اسمبلی کل نشستیں 145 ہیں جن میں 115 جنرل نشستیں ہیں۔
بلوچستان اسمبلی میں 65 نشتیں ہیں جن میں سے 51 پر براہ راست انتخاب ہوتا ہے۔
پنجاب اسمبلی میں خواتین کے لیے 66 جبکہ غیرمسلم پاکستانیوں کے لیے آٹھ، سندھ میں خواتین کے لیے 29 جبکہ غیر مسلم پاکستانیوں کے لیے نو، خیبرپختونخوا میں خواتین کے لیے 26 جبکہ غیرمسلموں کے لیے چار اور بلوچستان میں خواتین کے لیے 11 جبکہ غیرمسلموں کے لیے تین نشستیں مخصوص کی گئی ہیں۔
الیکشن ایکٹ کے تحت خواتین اور اقلیتوں کی مخصوص نشستوں کے لیے ہر سیاسی جماعت اپنے امیدواروں کی ترجیحی فہرست الیکشن کمیشن آف پاکستان کے پاس جمع کراتی ہے۔
ترجیحی فہرست میں شامل تمام خواتین اور غیرمسلم امیدواران اپنے کاغذات نامزدگی بھی جمع کرواتے ہیں۔
الیکشن کمیشن آف پاکستان انتخابی نتائج کی روشنی میں سیاسی جماعتوں کی جیتنے والی نشستوں کے تناسب سے ہر سیاسی جماعت کو مخصوص نشستوں پر کامیاب خواتین ارکان کا نوٹیفکیشن بھی جاری کر دیتا ہے۔
تاہم خواتین کی مخصوص نشستوں کی تقسیم صوبوں میں مخصوص کی گئی نشستوں کی تعداد کے حساب سے ہی ہو گی یعنی بلوچستان سے صرف چار خواتین مخصوص نشستوں پر قومی اسمبلی پہنچ سکتی ہیں جبکہ خیبرپختونخوا سے دس، پنجاب سے 32 اور سندھ سے 14 خواتین قومی اسمبلی کی رکن بن سکتی ہیں۔
’پیپلز پارٹی پر انحصار کم، آئینی ترمیم میں آسانی، گنڈاپور کے خلاف تحریک عدم اعتماد کا امکان بڑھ جائے گا‘
حکومتی اتحاد اب قومی اسمبلی میں دو تہائی اکثریت حاصل کرنے کے بعد وہ کون سے فیصلے کر پائے گا جو اس سے پہلے وہ نہیں کر پایا تھا، یہ سوال جب ہم حکومتی رہنماؤں اور اتحادیوں سے پوچھا تو انھوں نے فی الحال اس بارے میں تبصرہ کرنے سے انکار کیا۔
انتخابی امور کے ماہر احمد بلال محبوب نے بی بی سی کو بتایا کہ مخصوص نشستوں کے فیصلے کے بعد حکومت نے متعدد فوائد سمیٹے ہیں جبکہ پی ٹی آئی کے علاوہ پیپلز پارٹی اور جے یو آئی کی اہمیت میں کسی حد کمی واقع ہو گی۔
ان کے مطابق ’ن لیگ کی قیادت میں حکمران اتحاد کو زیادہ نشستیں ملنے سے جہاں قومی اسمبلی میں جہاں دو تہائی اکثریت مل جائے گی وہیں ن لیگ سادہ اکثریت بھی حاصل کر لے گی۔‘
ان کے مطابق آئینی ترمیم کے لیے قومی اسمبلی میں اب جے یو آئی کی مدد کی ضرورت نہیں ہو گی۔
احمد بلال کے مطابق ’سینیٹ میں جب خیبر پختونخوا سے باقی 12 نشستوں کے انتخابات ہو جائیں گے تو پھر اس بات کا بھی امکان ہے کہ حکمران اتحاد کو ایوان بالا میں بھی دو تہائی اکثریت مل جائے اور پھر یوں آئینی ترمیم میں بہت آسانی ہو گی۔
ان کے مطابق اب ن لیگ کا حکمران اتحاد پیپلز پارٹی کے علاوہ بھی مستحکم حکومت بنانے میں کامیاب ہو جائے گا۔ احمد بلال محبوب کے مطابق ’پی پی پی جو بہت مطالبات کرتی ہے تو پھر اب شاید وہ سلسلہ اب کم ہو جائے۔‘
ان کے مطابق ’خیبر پختونخوا میں حکمران جماعت اور اپوزیشن میں فرق کم ہو جائے گا، جس کا مطلب یہ ہے کہ تحریک عدم اعتماد آنے کا امکانات بھی ہو سکتے ہیں۔‘
سینیئر صحافی اور تجزیہ کار فیاض راجہ اس رائے سے متفق ہیں کہ اس فیصلے سے اب حکومت وقت کے لیے قانون سازی کا عمل آسان ہو گیا ہے اور آنے والے دنوں میں شاید 27ویں ترمیم بھی دیکھنے کو ملے۔
ان کی رائے میں اس نئی ترمیم میں ممکنہ طور پر بلوچستان اور اندرون سندھ کی قومی اسمبلی میں نشستوں کا شیئر بڑھایا جائے گا۔ ان کے مطابق نئی مردم شماری میں بلوچستان اور اندرون سندھ کی آبادی ملک کے دیگر صوبوں کے مقابلے میں زیادہ سامنے آئی ہے۔
فیاض راجہ کے مطابق اس وقت براہ راست 266 نشستوں پر انتخابات ہوتے ہیں مگر جب بلوچستان صوبے کی نشستیں زیادہ ہوں گی تو پھر یہ تعداد بھی بدل جائے گی۔ فیاض راجہ کے مطابق خیبر پختونخوا میں سینیٹ کے انتخابات میں بھی حکومت اور اس کے اتحادیوں کو نشستیں مل جائیں گی۔
انتخابی امور کی ماہر اور فری اینڈ فیئر الیکشن نیٹ ورک (فافن) کی سابق چیئرپرسن مسرت قدیم نے بی بی سی کو بتایا کہ ’اس فیصلے میں کافی ابہام پائے جاتے ہیں۔‘ ان کی رائے میں ’کچھ عرصے سے سمجھوتے کا انصاف اور سمجھوتے کی سیاست دیکھنے میں آ رہی ہے۔‘
مسرت قدیم کی رائے میں ’یہ جمہوری عمل کے لیے بہت بڑا دھچکا ہے۔ اس کے اثرات بہت منفی ہوں گے اور عوام کے اداروں پر اعتماد میں کمی واقع ہو گی۔ ان کی رائے میں لوگ ہر روز ایک نئے فیصلے سے مایوس ہوتے جا رہے ہیں۔
مسرت قدیم کے مطابق ’ووٹرز اس فیصلے سے اس وجہ سے بھی مایوس ہوں گے کیونکہ وہ یہ سوچنے پر مجبور ہوں گے کہ انھوں نے ووٹ کسی کو دیا اور سیٹ کسی کو ملی۔‘
اس فیصلے کے اثرات سے متعلق بات کرتے ہوئے انھوں نے کہا کہ اس نکتہ نظر سے حکومت کے پاس جب طاقت آ جاتی ہے تو وہ قانون سازی کی جاتی ہے جس کا سوچا بھی نہیں جا سکتا۔ ان کے مطابق ’گذشتہ چند عرصے میں جس طرح قانون سازی ہوئی ہے اس پر بہت سوالات ہیں۔‘
شفقنا اردو
نوٹ: شفقنا کا اس تحریر کے مندرجات سے متفق ہونا ضروری نہیں
پشاور ہائی کورٹسپریم کورٹسندھ اسمبلیمیاں شہباز شریف
0 FacebookTwitterLinkedinWhatsappTelegramViberEmail
گزشتہ پوسٹ
دریائے سوات عوام کی امیدیں بھی بہا لے گیا/شاہ زیب عالم
اگلی پوسٹ
لاہور میں چلنے والی گاڑیوں کا دُھواں چیک کرنے کا حکومتی منصوبہ کیا ہے اور یہ کتنا قابل عمل ہے؟

یہ بھی پڑھنا مت بھولیں

پاکستان دہشت گردی سے معاشروں کو پہنچنے والے...

05:18 | پیر دسمبر 15، 2025

تصادم سے واپسی کا راستہ اب بھی موجود...

12:55 | بدھ دسمبر 10، 2025

شہباز شریف کی حکومت کیوں ناکام ہے؟ سید...

10:38 | بدھ دسمبر 10، 2025

ہندوتوا اور ہندوستان کے زیر انتظام کشمیر میں...

15:15 | منگل دسمبر 9، 2025

 چمن بارڈر پر پاکستانی اور افغان فورسز کے...

09:49 | ہفتہ دسمبر 6، 2025

یہ پانچ دن مہنگے پڑیں گے! سید مجاہد...

13:38 | جمعہ دسمبر 5، 2025

پاکستان اور کرغزستان کے درمیان توانائی، تجارت اور...

04:29 | جمعہ دسمبر 5، 2025

فیلڈ مارشل سید عاصم منیر پہلے چیف آف...

04:10 | جمعہ دسمبر 5، 2025

فیلڈ مارشل عاصم منیر کی بطور چیف آف...

15:28 | جمعرات دسمبر 4، 2025

ایک نوٹی فکیشن کو قومی سانحہ بنانے کا...

13:30 | بدھ دسمبر 3، 2025

تبصرہ کریں Cancel Reply

میرا نام، ای میل اور ویب سائٹ مستقبل میں تبصروں کے لئے محفوظ کیجئے.

تازہ ترین

  • احمد الاحمد ہمارے ’ہیرو‘ ہیں،آسٹریلوی وزیراعظم

  • اسرائیل پر تنقید: امریکی سیاست میں اب کوئی متنازعہ معاملہ نہیں: اکرم ضیاء

  • بگ بیش میں شاہین آفریدی کا مایوس کُن پرفارمنس کا مظاہرہ

  • بھارت میں مردہ شخص سب سے زیادہ ووٹ لے کر الیکشن جیت گیا

  • واٹس ایپ ہیک ہونے کی صورت میں کیا کرنا ہے؟

  • علیمہ خان نے گزشتہ دنوں سوشل میڈیا پر وائرل ہونے والی عمران خان کی تصویر کو اصلی قرار دے دیا

  • ڈیرہ اسماعیل خان: کلاچی آپریشن میں 7 دہشت گرد ہلاک، لانس نائیک جاں بحق

  • کیا فیض سے جان چھوٹ گئی؟ حامد میر

  • آئی ایم ایف اور اس کے تخلیق کردہ طبقات مد مقابل ہیں/ندیم اختر سرور

  • بلاول بھٹو کے مثبت تبصروں پر مریم نواز کا پرتپاک خیرمقدم، برف کیسے پگھلی؟

  • ٹرمپ مشرق وسطی کے ’طاقتور‘ رہنماؤں کی قربت کے خواہاں کیوں؟

  • ڈر ہے یہ سب ایسے ہی چلتا رہے گا/خالد محمود رسول

  • میانمار کی سیاس رہنما آنگ سان سوچی کی قید میں حالت تشویش ناک

  • سڈنی دہشت گردی پاکستان کے سر تھوپنے کی سازش ناکام

  • پاک بحریہ کا آب سے فضا تک مار کرنے والے جدید میزائل کا کامیاب تجربہ

  • سڈنی حملہ: بھارت اور افغانستان کا پاکستان کے خلاف پروپیگنڈا بے نقاب

  • پاکستان دہشت گردی سے معاشروں کو پہنچنے والے درد اور صدمے کو بخوبی سمجھتا ہے: صدر مملکت

  • جان پر کھیل کر حملہ آور کو روکنے والا شخص قابل احترام ہے: ڈونلڈ ٹرمپ

  • حماس نے غزہ میں اسرائیلی حملے میں اپنے سینئر کمانڈر رائد سعد کی شہادت کی تصدیق کردی

  • آسٹریلیا : دہشت گردی کے واقعےمیں ہلاکتوں کی تعداد 16 ہوگئی

مقبول ترین

  • صفائی اور پاکیزگی قرآن و حدیث کی روشنی میں : شفقنا اسلام

  • چھپکلی کی جلد سے متاثرہ بھوک لگانے والا کیپسول

  • میں نے جمہوریت کی مضبوطی کے لیے کام کیا: جوبائیڈن کا قوم سے خطاب

  • کیا ہندوستان کی آنے والی نسلیں مسلم مخالف نفرت میں اس کی زوال پزیری کو معاف کر دیں گی؟/شاہد عالم

  • مکمل لکڑی سے تراشا گیا کارکا ماڈل 2 لاکھ ڈالر میں نیلام

  • مہاتیر محمد نے اپنا استعفیٰ پیش کردیا

  • ایک ارب 70 کروڑ ڈالر کے قرضوں کی ادائیگی معطل کرنے کے معاہدے پر دستخط

  • دی نیشن رپورٹ/پاکستانی جیلوں میں قید خواتین : اگرچہ ان کی چیخیں دب گئی ہیں مگر ان کے دکھ کو نظر انداز نہیں کیا جاسکتا

  • اسلام آباد: میجر لاریب قتل کیس میں ایک مجرم کو سزائے موت، دوسرے کو عمر قید

  • عورتوں سے باتیں کرنا

@2021 - All Right Reserved. Designed


Back To Top
شفقنا اردو | بین الاقوامی شیعہ خبر رساں ادارہ اور تجزیاتی مرکز
  • صفحہ اول
  • تازہ ترین
  • آپ کی خبر
  • بلاگ
  • پاکستان
  • تصویری منظر نامہ
  • دلچسپ و عجیب
  • سائنس و ٹیکنالوجی
  • صحت وتعلیم
  • عالمی منظر نامہ
  • فیچرز و تجزیئے
  • کھیل و کھلاڑی
  • وڈیوز
  • رابطہ