Top Posts
احمد الاحمد ہمارے ’ہیرو‘ ہیں،آسٹریلوی وزیراعظم
اسرائیل پر تنقید: امریکی سیاست میں اب کوئی...
بگ بیش میں شاہین آفریدی کا مایوس کُن...
بھارت میں مردہ شخص سب سے زیادہ ووٹ...
واٹس ایپ ہیک ہونے کی صورت میں کیا...
علیمہ خان نے گزشتہ دنوں سوشل میڈیا پر...
ڈیرہ اسماعیل خان: کلاچی آپریشن میں 7 دہشت...
کیا فیض سے جان چھوٹ گئی؟ حامد میر
آئی ایم ایف اور اس کے تخلیق کردہ...
بلاول بھٹو کے مثبت تبصروں پر مریم نواز...
  • Turkish
  • Russian
  • Spanish
  • Persian
  • Pakistan
  • Lebanon
  • Iraq
  • India
  • Bahrain
  • French
  • English
  • Arabic
  • Afghanistan
  • Azerbaijan
شفقنا اردو | بین الاقوامی شیعہ خبر رساں ادارہ اور تجزیاتی مرکز
اردو
  • صفحہ اول
  • تازہ ترین
  • آپ کی خبر
  • بلاگ
  • پاکستان
  • تصویری منظر نامہ
  • دلچسپ و عجیب
  • سائنس و ٹیکنالوجی
  • صحت وتعلیم
  • عالمی منظر نامہ
  • فیچرز و تجزیئے
  • کھیل و کھلاڑی
  • وڈیوز
  • رابطہ

پاکستان کا معاشی چیلنج: صرف استحکام کافی نہیں /جاوید حسن

by TAK 12:52 | ہفتہ جولائی 5، 2025
12:52 | ہفتہ جولائی 5، 2025 57 views
57
یہ تحریرانڈی پینڈںٹ اردو  میں شائع ہوئی
پاکستان کی معیشت کی کہانی اب صرف مواقع گنوانے کی داستان نہیں رہی، بلکہ یہ مایوسی کے حساب کتاب کی مثال بن چکی ہے۔
اس سال حیران کن طور پر 10 کروڑ 20 لاکھ پاکستانی، یعنی آبادی کا 45 فیصد حصہ، روزانہ 3.65 ڈالر سے کم آمدن پر گزارا کر رہا ہے جو صرف ایک سال پہلے 39.4 فیصد تھا۔
اس سے بھی زیادہ تشویش ناک بات یہ ہے کہ 16.8 فیصد لوگ انتہائی غربت کا شکار ہیں اور روزانہ 2.15 ڈالر سے بھی کم پر زندگی گزار رہے ہیں۔ یہ صرف اعداد و شمار نہیں، بلکہ ایک ایسے معاشرے کی عکاسی ہیں جہاں امید تیزی سے کم ہوتی جا رہی ہے۔
گذشتہ مالی سال (2025) میں محض 2.7 فیصد عارضی شرح نمو پاکستان کی نوجوان آبادی کے لیے ناکافی ہے، جو پہلے ہی دباؤ کا شکار روزگار کی منڈی پر بوجھ ہیں۔ مالی سال 2023 سے 2025 تک اوسط شرح نمو 1.7 فیصد رہی، جو 1952 کے بعد سب سے کم ہے۔
اسی دوران اوسط پاکستانیوں کی کی قوت خرید گذشتہ تین سال میں 58 فیصد کم ہو چکی ہے، جسے مسلسل بڑھتی ہوئی مہنگائی نے بری طرح متاثر کیا۔
سرکاری اعداد و شمار کے مطابق بے روزگاری کی شرح 22 فیصد ہے اور تقریباً ایک کروڑ 90 لاکھ پاکستانی بےروزگار ہیں، جب کہ نوجوانوں میں بے روزگاری نئی بلند ترین سطح 29 فیصد تک پہنچ گئی ہے۔
یہ صرف وقتی بحران نہیں بلکہ ساختی مسئلہ ہے۔ ایک ایسی کم شرح نمو والی صورت حال جہاں معاشی ’استحکام‘ دراصل مستقل مشکلات کے لیے محض ایک نرم لفظ ہے۔
آبادی کا 40 فیصد حصہ ناخواندہ ہے، جن میں دیہی علاقوں کی 15 سے 25 سال عمر کی 61 فیصد خواتین بھی شامل ہیں۔ 26 لاکھ بچے سکول سے باہر ہیں۔ یہ صرف پالیسی کی ناکامیاں نہیں، بلکہ سوچ اور ارادے کی بھی ناکامی ہے۔
اگر پاکستان کا پڑوسی ممالک سے موازنہ کیا جائے تو مواقع گنوانے کا احساس اور شدید ہو جاتا ہے۔ انڈیا نے مسلسل چھ سے سات فیصد شرح نمو، ڈیجیٹل کیش ٹرانسفرز اور تعلیم میں سرمایہ کاری کے ذریعے انتہائی غربت کو 5.3 فیصد تک کم کر لیا ہے۔
بنگلہ دیش، جہاں غربت کی شرح 14 فیصد ہے، ملبوسات کی برآمدات کے بل بوتے پر آگے بڑھ رہا ہے۔ پاکستان میں خواتین کی لیبر فورس میں شرکت 23 فیصد ہے، جو جنوبی ایشیا کی 27 فیصد کی شرح سے پیچھے ہے اور یہی بات ملکی پیداواری صلاحیت اور سماجی ترقی میں رکاوٹ ہے۔
مالیاتی بدانتظامی، محدود ٹیکس نیٹ اور پسماندہ بالواسطہ ٹیکسوں نے عدم مساوات کو مزید گہرا کر دیا ہے جس کے باعث کروڑوں لوگ مہنگائی، موسمیاتی اثرات اور روزگار کے نقصان کے خطرے سے دوچار ہیں۔
خلیجی ممالک طویل عرصے سے پاکستان کی اضافی افرادی قوت کے لیے ایک محفوظ راستہ رہے ہیں، لیکن اب یہ سہارا بھی تیزی سے غیر یقینی ہوتا جا رہا ہے۔
کیوں کہ جی سی سی ممالک میں مقامی نوجوان آبادی تیزی سے بڑھ رہی ہے، اس لیے غیر ملکی ورکرز کی پہلے جیسی مستقل مانگ پر اب ہمیشہ کے لیے بھروسہ نہیں کیا جا سکتا۔
یہ معیشتیں نہ صرف اپنی لاکھوں نوجوان آبادی کو روزگار دینے کی کوشش کر رہی ہیں، بلکہ وہ اب ایسے شعبوں کی طرف بڑھ رہی ہیں جن میں زیادہ قدر کا اضافہ ہوتا ہے اور جن کے لیے جدید مہارتوں اور تعلیم کی ضرورت ہوتی ہے جو پاکستانی مزدور، ناکافی فنڈنگ والے تعلیمی نظام کے باعث، اکثر نہیں رکھتے۔
سعودی عرب نے اپنی غربت کی شرح 18.2 فیصد سے کم کر کے 2021 تک 13.6 فیصد کر لی۔ یہ کامیابی آمدنی کے ذرائع متنوع بنانے اور مقامی مہارتوں میں سرمایہ کاری سے حاصل ہوئی، نہ کہ غیر ملکی ورکرز کے لیے مواقع بڑھا کر۔
اسی طرح خلیجی ممالک میں مقیم 20 سے 30 لاکھ پاکستانیوں کی جانب سے بھیجی گئی ترسیلات زر عارضی ریلیف تو فراہم کرتی ہیں لیکن ان کے معیشت پر منفی اثرات ہمیشہ نمایاں رہے یعنی یہ رقم زیادہ تر ملک میں کھپت اور جائیداد کی خرید و فروخت پر صرف ہوتی ہے اور لیکن شاذ و نادر ہی پیداواری سرمایہ کاری یا پائیدار روزگار کے مواقع پیدا کرتی ہے۔
پاکستان اس غربت کے جال سے کیسے نکل سکتا ہے؟ اس کا حل کوئی جادوئی نسخہ نہیں، بلکہ فوری ریلیف اور ساختی اصلاحات کو یکجا کرنے والی ایک جامع حکمت عملی ہے، جس میں کامیاب پڑوسی ممالک کے تجربات سے بھی سیکھا جانا چاہیے۔
سب سے پہلی بات یہ ہے کہ انسانی وسائل میں سرمایہ کاری کی جائے۔ بےنظیر انکم سپورٹ پروگرام کو انڈیا کی طرح مشروط کیش ٹرانسفر کے ساتھ وسعت دینا ان 26 لاکھ بچوں کو دوبارہ سکولوں میں لا سکتا ہے جو اس وقت تعلیم سے محروم ہیں۔
پرائیویٹ سکولوں کے لیے واؤچرز اور دیہی بنیادی ڈھانچے کے لیے پبلک پرائیویٹ شراکت داری سپلائی کے خلا کو پورا کر سکتی ہے۔ بنگلہ دیش طرز کے موبائل خواندگی پروگرام، خاص طور پر دیہی خواتین کے لیے، نمایاں سماجی فوائد لا سکتے ہیں۔
دوسرا یہ کہ مالی گنجائش پیدا کی جائے، ٹیکس نیٹ کو غیر ٹیکس شدہ شعبوں تک بڑھانا اہم وسائل فراہم کر سکتا ہے۔ قرضوں کی تنظیم نو، جو ممکنہ طور پر آئی ایم ایف سے مذاکرات کے ذریعے ہو سکتی ہے، بھی اتنی ہی ضروری ہے۔
پاکستان کے غیر ملکی قرضے، جو تقریباً 130 ارب ڈالر تک پہنچ چکے ہیں، ان کی ادائیگی ملک کے بجٹ کا نصف حصہ لے لیتی ہے، جس سے تعلیم اور صحت کے شعبے پیچھے رہ جاتے ہیں۔
صورت حال واضح ہے یعنی برآمدات تقریباً 30 ارب ڈالر پر جمود کا شکار ہیں، جبکہ مسلسل دوہرے خسارے قرضوں پر انحصار کو بڑھاتے ہیں اور غربت کا مسئلہ مزید گھمبیر بنا رہے ہیں۔
بینرجی اور ڈفلو اپنی کتاب ’پور اکنامکس‘ میں دلیل دیتے ہیں کہ قرضوں کی تنظیم نو سے بنیادی ڈھانچے اور مہارتوں کی تربیت کے لیے وسائل میسر آ سکتے ہیں، جس سے پاکستان کی نوجوان آبادی کے لیے روزگار کے مواقع پیدا ہوں گے۔
تیسرے نمبر پر مزدوروں کی منڈی میں اصلاحات لائی جائیں۔
چھوٹے اور درمیانے درجے کے کاروباروں کے لیے آسان قواعد و ضوابط اور کپڑے یا زرعی کاروبار جیسے مزدور طلب شعبوں میں پیشہ ورانہ تربیت کو یکجا کیا جائے، تو وہ 40 فیصد ناخواندہ افراد کے لیے روزگار کے مواقع پیدا کر سکتے ہیں۔
آخر میں اگر پاکستان خلیجی دولت سے صحیح فائدہ اٹھانا چاہتا ہے تو اسے محض مزدور بھیجنے والا ملک نہیں، بلکہ سرمایہ کاری کے لیے پرکشش مقام بننا ہو گا۔
جیسے جیسے خلیجی ممالک میں مہارت کی طلب بڑھتی جائے گی اور مزدوروں کی منڈیاں محدود ہوتی جائیں گی، پاکستان اپنی بے روزگاری کو برآمد کرنے کا سلسلہ جاری نہیں رکھ سکتا۔
مضبوط پالیسیوں، انسانی وسائل میں سرمایہ کاری اور ایسی ساختی اصلاحات کے ذریعے ملک کے اندر روزگار کے مواقع پیدا کرنے کا کوئی متبادل نہیں، جو ترسیلات زر کو محض سہارا بننے کے بجائے ترقی کا محرک بنا سکیں۔
وقت معاف نہیں کرتا مگر راستے بالکل واضح ہیں۔ اگر ٹھوس اصلاحات نہ کی گئیں تو پاکستان میں غربت بڑھ جائے گی گا اور ’استحکام‘ جمود کے لیے محض کوڈ ورڈ رہ جائے گا۔
اصل سوال یہ ہے کہ کیا پاکستان جرات مندانہ اقدامات کا متحمل ہو سکتا ہے یا پھر کچھ نہ کرنے کی قیمت برداشت کر سکتا ہے؟
شفقنا اردو
نوٹ: شفقنا کا اس تحریر کے مندرجات سے متفق ہونا ضروری نہیں
آئی ایم ایفبے نظیر انکم سپورٹ پروگرامپاکستان اور آئی ایم ایف قرضپاکستان جی ڈی پیپاکستان غیر ملکی قرضے
0 FacebookTwitterLinkedinWhatsappTelegramViberEmail
گزشتہ پوسٹ
امام حسین علیہ السلام: اہل سنت کی روایات سے
اگلی پوسٹ
کیا صدر ڈونلڈ ٹرمپ امریکی جمہوریت اور عالمی امن کے لیے خطرہ ہیں؟ڈاکٹر سارہ علی

یہ بھی پڑھنا مت بھولیں

آئی ایم ایف اور اس کے تخلیق کردہ...

13:37 | پیر دسمبر 15، 2025

سیاسی کشمکش میں نئی شدت معاشی استحکام کے...

13:48 | اتوار دسمبر 14، 2025

حکومت نے مانیٹری اور کرنسی سے متعلق آئی...

03:16 | ہفتہ دسمبر 13، 2025

مشکل حالات اور سیلاب کے باوجود پاکستانی معیشت...

04:13 | جمعہ دسمبر 12، 2025

پاکستان ڈیفالٹ کے خطرے سے پیچھے ہٹ رہا...

04:23 | بدھ دسمبر 10، 2025

آئی ایم ایف نے پاکستان کو کن شرائط...

13:04 | منگل دسمبر 9، 2025

آئی ایم ایف نے پاکستان کے لیے 1...

04:13 | منگل دسمبر 9، 2025

حکومت نے پی ٹی آئی عہدیداران کی عمران...

04:29 | ہفتہ دسمبر 6، 2025

خودساختہ مقبولیت/محمد سعید آرائیں

13:39 | جمعہ دسمبر 5، 2025

پاکستانی اشرافیہ کس طرح ملک کی جڑوں کو...

04:06 | پیر دسمبر 1، 2025

تبصرہ کریں Cancel Reply

میرا نام، ای میل اور ویب سائٹ مستقبل میں تبصروں کے لئے محفوظ کیجئے.

تازہ ترین

  • احمد الاحمد ہمارے ’ہیرو‘ ہیں،آسٹریلوی وزیراعظم

  • اسرائیل پر تنقید: امریکی سیاست میں اب کوئی متنازعہ معاملہ نہیں: اکرم ضیاء

  • بگ بیش میں شاہین آفریدی کا مایوس کُن پرفارمنس کا مظاہرہ

  • بھارت میں مردہ شخص سب سے زیادہ ووٹ لے کر الیکشن جیت گیا

  • واٹس ایپ ہیک ہونے کی صورت میں کیا کرنا ہے؟

  • علیمہ خان نے گزشتہ دنوں سوشل میڈیا پر وائرل ہونے والی عمران خان کی تصویر کو اصلی قرار دے دیا

  • ڈیرہ اسماعیل خان: کلاچی آپریشن میں 7 دہشت گرد ہلاک، لانس نائیک جاں بحق

  • کیا فیض سے جان چھوٹ گئی؟ حامد میر

  • آئی ایم ایف اور اس کے تخلیق کردہ طبقات مد مقابل ہیں/ندیم اختر سرور

  • بلاول بھٹو کے مثبت تبصروں پر مریم نواز کا پرتپاک خیرمقدم، برف کیسے پگھلی؟

  • ٹرمپ مشرق وسطی کے ’طاقتور‘ رہنماؤں کی قربت کے خواہاں کیوں؟

  • ڈر ہے یہ سب ایسے ہی چلتا رہے گا/خالد محمود رسول

  • میانمار کی سیاس رہنما آنگ سان سوچی کی قید میں حالت تشویش ناک

  • سڈنی دہشت گردی پاکستان کے سر تھوپنے کی سازش ناکام

  • پاک بحریہ کا آب سے فضا تک مار کرنے والے جدید میزائل کا کامیاب تجربہ

  • سڈنی حملہ: بھارت اور افغانستان کا پاکستان کے خلاف پروپیگنڈا بے نقاب

  • پاکستان دہشت گردی سے معاشروں کو پہنچنے والے درد اور صدمے کو بخوبی سمجھتا ہے: صدر مملکت

  • جان پر کھیل کر حملہ آور کو روکنے والا شخص قابل احترام ہے: ڈونلڈ ٹرمپ

  • حماس نے غزہ میں اسرائیلی حملے میں اپنے سینئر کمانڈر رائد سعد کی شہادت کی تصدیق کردی

  • آسٹریلیا : دہشت گردی کے واقعےمیں ہلاکتوں کی تعداد 16 ہوگئی

مقبول ترین

  • صفائی اور پاکیزگی قرآن و حدیث کی روشنی میں : شفقنا اسلام

  • چھپکلی کی جلد سے متاثرہ بھوک لگانے والا کیپسول

  • میں نے جمہوریت کی مضبوطی کے لیے کام کیا: جوبائیڈن کا قوم سے خطاب

  • کیا ہندوستان کی آنے والی نسلیں مسلم مخالف نفرت میں اس کی زوال پزیری کو معاف کر دیں گی؟/شاہد عالم

  • مکمل لکڑی سے تراشا گیا کارکا ماڈل 2 لاکھ ڈالر میں نیلام

  • مہاتیر محمد نے اپنا استعفیٰ پیش کردیا

  • ایک ارب 70 کروڑ ڈالر کے قرضوں کی ادائیگی معطل کرنے کے معاہدے پر دستخط

  • اسلام آباد: میجر لاریب قتل کیس میں ایک مجرم کو سزائے موت، دوسرے کو عمر قید

  • دی نیشن رپورٹ/پاکستانی جیلوں میں قید خواتین : اگرچہ ان کی چیخیں دب گئی ہیں مگر ان کے دکھ کو نظر انداز نہیں کیا جاسکتا

  • عورتوں سے باتیں کرنا

@2021 - All Right Reserved. Designed


Back To Top
شفقنا اردو | بین الاقوامی شیعہ خبر رساں ادارہ اور تجزیاتی مرکز
  • صفحہ اول
  • تازہ ترین
  • آپ کی خبر
  • بلاگ
  • پاکستان
  • تصویری منظر نامہ
  • دلچسپ و عجیب
  • سائنس و ٹیکنالوجی
  • صحت وتعلیم
  • عالمی منظر نامہ
  • فیچرز و تجزیئے
  • کھیل و کھلاڑی
  • وڈیوز
  • رابطہ