Top Posts
احمد الاحمد ہمارے ’ہیرو‘ ہیں،آسٹریلوی وزیراعظم
اسرائیل پر تنقید: امریکی سیاست میں اب کوئی...
بگ بیش میں شاہین آفریدی کا مایوس کُن...
بھارت میں مردہ شخص سب سے زیادہ ووٹ...
واٹس ایپ ہیک ہونے کی صورت میں کیا...
علیمہ خان نے گزشتہ دنوں سوشل میڈیا پر...
ڈیرہ اسماعیل خان: کلاچی آپریشن میں 7 دہشت...
کیا فیض سے جان چھوٹ گئی؟ حامد میر
آئی ایم ایف اور اس کے تخلیق کردہ...
بلاول بھٹو کے مثبت تبصروں پر مریم نواز...
  • Turkish
  • Russian
  • Spanish
  • Persian
  • Pakistan
  • Lebanon
  • Iraq
  • India
  • Bahrain
  • French
  • English
  • Arabic
  • Afghanistan
  • Azerbaijan
شفقنا اردو | بین الاقوامی شیعہ خبر رساں ادارہ اور تجزیاتی مرکز
اردو
  • صفحہ اول
  • تازہ ترین
  • آپ کی خبر
  • بلاگ
  • پاکستان
  • تصویری منظر نامہ
  • دلچسپ و عجیب
  • سائنس و ٹیکنالوجی
  • صحت وتعلیم
  • عالمی منظر نامہ
  • فیچرز و تجزیئے
  • کھیل و کھلاڑی
  • وڈیوز
  • رابطہ

توہین مذہب کے جعلی مقدمات اور مولانا فضل الرحمان/سید مجاہد علی

by TAK 12:27 | ہفتہ جولائی 19، 2025
12:27 | ہفتہ جولائی 19، 2025 88 views
88
یہ تحریر کاروان ناروے میں شائع ہوئی
سوشل میڈیا پر جمعیت علمائے اسلام (ف) کے قائد مولانا فضل الرحمان کی ایک ایسی ویڈیو شیئر کی جا رہی ہے جس میں اعلیٰ عدلیہ کے بارے میں قابل اعتراض اور ہتک آمیز زبان استعمال کی گئی ہے۔ مولانا کی یہ گفتگو بظاہر حال ہی میں توہین مذہب کے معاملہ میں اسلام آباد ہائی کورٹ کے ایک حکم پر تبصرہ کے طور سامنے آئی ہے۔
اسلام آباد ہائی کورٹ کے ایک رکنی بنچ نے اس حکم میں وفاقی حکومت کو توہین مذہب کے الزام میں ملوث کیے گئے لوگوں کے معاملات کی تحقیقات کرنے کے لیے کمیشن بنانے کا حکم دیا ہے تاکہ یہ جانچا جا سکے کہ عام لوگوں کو سوشل میڈیا پر جعلی طریقے سے توہین مذہب کے الزام میں پھنسانے اور اور بلیک میل کرنے یا عدالتوں سے سزائیں دلانے کے الزامات میں حقائق سامنے آ سکیں۔ اسلام آباد ہائی کورٹ میں گزشتہ کئی ماہ سے اس بارے میں مقدمہ زیر غور تھا۔
عدالتی کارروائی کے دوران یہ بھی کہا گیا تھا کہ ان معاملات میں وفاقی تحقیقاتی ادارے کے اہلکار بھی ایسے عناصر کا آلہ کار بنے ہوئے تھے جو بے گناہ اور معصوم لوگوں کو توہین مذہب جیسے گھناؤنے الزامات میں پھنسا کر انہیں سزائیں دلانے اور بلیک میل کرنے کے دھندے میں مصروف ہیں۔ عدالت نے اپنے حکم میں کہا تھا کہ ’کمیشن اس معاملے کو بھی دیکھے کہ توہین مذہب کے مقدمات کے اندراج کے حوالے سے وفاقی تحقیقاتی ادارے اور کچھ افراد کا گٹھ جوڑ بنا ہوا ہے جس نے مبینہ طور پر مختلف لوگوں کے خلاف مقدمات درج کروائے ہیں‘ ۔ حکم کے مطابق سماعت کے دوران درخواست گزاروں کی جانب سے ایسے شواہد پیش کیے گئے ہیں جن میں ایف آئی اے اور کچھ افراد کے گٹھ جوڑ کے الزامات کو تقویت ملتی ہے۔ اسلام آباد ہائیکورٹ کے جج جسٹس سردار اعجاز اسحاق خان نے کہا ہے کہ یہ کمیشن چار ماہ میں توہین مذہب سے متعلق مقدمات کی تحقیقات مکمل کر کے اپنی حتمی رپورٹ پیش کرے گا۔
واضح رہے 100 سے زیادہ درخواست گزاروں نے کمیشن تشکیل دینے کے لیے عدالت میں پٹیشن دائر کی تھی اور کہا تھا کہ ان کے رشتہ داروں کے خلاف توہین مذہب کے مقدمات درج ہیں۔ ان میں سے متعدد کو ٹرائل کورٹ کی جانب سے سزائیں بھی سنائی جا چکی ہیں جن کے خلاف اپیلیں مختلف ہائی کورٹس میں زیرِ سماعت ہیں۔ ان تمام افراد کے خلاف سوشل میڈیا پر ایسا مواد شائع کرنے یا شیئر کرنے کی بنیاد پر مقدمات درج کیے گئے ہیں جو کہ توہین مذہب کے زمرے میں آتے ہیں۔ اسلام آباد ہائیکورٹ نے اپنے حکم میں کہا ہے کہ اگر مقررہ مدت تک کمیشن اپنی تحقیقات مکمل نہیں کر سکا اور اسے اس ضمن میں مزید وقت درکار ہے تو اس حوالے سے ہائیکورٹ سے رجوع کیا جا سکتا ہے۔ عدالت نے اپنے حکم میں اس کمیشن میں ہونے والی کارروائی کو بھی براہ راست نشر کرنے کا حکم دیا ہے۔
پاکستان میں توہین مذہب ایک حساس معاملہ ہے۔ سابق فوجی آمر جنرل ضیا الحق کے دور میں کی گئی قانونی ترامیم کے بعد توہین مذہب کے الزام میں گرفتار کیے گئے لوگوں کی ضمانت نہیں ہو سکتی۔ اس کے علاوہ بیشتر شقات کے تحت مقدمات میں سزائے موت بھی دی جا سکتی ہے۔ گزشتہ چار دہائیوں کے دوران توہین مذہب قانون کے تحت قائم کیے گئے مقدمات میں متعدد افراد کو سزائے موت دی گئی ہے جبکہ درجنوں ایسے معاملات ہیں جن میں کسی نہ کسی وجہ سے عدالتی کارروائی ملتوی رہتی ہے اور ملزم سال ہا سال تک جیل میں بند رہتا ہے۔ کیوں کہ اسے عدالتی کارروائی میں خود کو بے گناہ ثابت کرنے کا موقع نہیں ملتا۔ اور نام نہاد قانون کے تحت ایسے ملزم کی ضمانت منظور نہیں کی جا سکتی۔ اس حوالے سے سب سے نمایاں مثال ملتان کی بہا الدین زکریا یونیورسٹی کے استاد جنید حفیظ کا معاملہ ہے۔ انہیں 2013 میں توہین مذہب کے جھوٹے الزام میں گرفتار کیا گیا۔ کئی سال تک ان کا مقدمہ التوا کا شکار ہوتا رہا۔ 2019 میں جنید حفیظ کے مقدمے کی پیروی کرنے والے ممتاز وکیل راشد رحمان کو ملتان میں ان کے دفتر میں ’نامعلوم‘ افراد نے قتل کر دیا۔ ان قاتلوں کو کبھی گرفتار نہیں کیا جا سکا۔ اس کے بعد جنید حفیظ کو سزائے موت سنا دی گئی اور اس کے خلاف اپیل ابھی تک نہیں سنی جا سکی۔
اس پس منظر میں دیکھا جاسکتا ہے کہ توہین مذہب کے قوانین کا ناجائز استعمال عام ہے۔ زیریں عدالتوں کے متعدد جج مذہبی لیڈروں کے دباؤ پر وہی فیصلے دیتے ہیں جو نام نہاد عوامی ’خواہشات‘ کے مطابق ہوتے ہیں۔ اس طرح کئی بے گناہ کوئی جرم کیے بغیر طویل مدت کی سزا پاتے ہیں یا جان سے جاتے ہیں۔ ان قوانین کے مضحکہ خیز استعمال کی ایک تازہ مثال گوجرانوالہ میں ایک احمدی کی گرفتاری اور عدالت کی طرف سے اس کی ضمانت قبول کرنے سے انکار ہے۔ اس شخص کو 10 محرم والے دن لوگوں میں خوراک اور پانی تقسیم کرنے کے الزام میں گرفتار کیا گیا تھا۔ ایک شہری نے شکایت کی تھی کہ متعلقہ شخص غیر مسلم ہے لیکن مسلمان بن کر 10 محرم کو نیاز و پانی تقسیم کر رہا تھا۔ عدالت کا کہنا ہے کہ اس شخص کے خلاف تحقیقات میں الزام ثابت ہو چکا ہے، اس لیے ضمانت قبول نہیں کی جا سکتی۔
حیرت انگیز طور پر ملک کے لوگوں کو اس حد تک گمراہ اور جذباتی کر دیا گیا ہے کہ وہ کسی شخص کی طرف سے خیرات کرنے کے عمومی فعل کو بھی قبول کرنے پر آمادہ نہیں ہیں۔ حالانکہ یہ کیسے ممکن ہے کہ اس شخص سے پانی و خوراک تقسیم کرتے ہوئے یہ اعلان بھی کیا ہو کہ وہ مسلمان ہے۔ کیا کوئی غیر مسلم مسلمانوں کو مفت کھانا تقسیم نہیں کر سکتا؟ لیکن توہین مذہب کے قوانین اور ان کے تحت مذہبی جذبات کو بھڑکانے والے ملاؤں کی وجہ سے معصوم اور بے گناہ لوگوں کو طویل مدت تک جیلوں میں بند رکھا جاتا ہے یا ہلاک کر دیا جاتا ہے۔
اس ماحول میں گزشتہ کئی ماہ سے اسلام آباد ہائی کورٹ میں سوشل میڈیا پر توہین مذہب کے غلط الزامات عائد کر کے بے گناہ لوگوں کو پھنسانے والے ایک گروہ کے خلاف سماعت ہوتی رہی ہے۔ درخواست دہندگان کا مطالبہ تھا کہ ان معاملات کی تحقیقات کے لیے کمیشن بنایا جائے تاکہ حقائق سامنے آ سکیں۔ کیوں کہ ایسی معلومات سامنے آئی ہیں کہ کیسے لوگوں کے نام سے توہین مذہب پر مبنی جعلی پوسٹس شائع کرائی جاتی ہیں پھر متعلقہ شخص کو بلیک میل کرنے یا قید کرانے کا اہتمام کیا جاتا ہے۔ سرکاری اہلکار بھی اس گھناؤنے جرم میں شریک ہیں۔ حیرت انگیز طور پر اس ساری مدت میں سوشل میڈیا پر ضرور تبصرے اور معلومات شیئر کی جاتی رہی ہیں لیکن مین اسٹریم میڈیا نے اس بارے میں چپ سادھے رکھی ہے حالانکہ توہین مذہب کے حوالے سے قوانین کو ناجائز طور سے استعمال کرنے کا معاملہ انتہائی بھیانک اور انسانیت سوز جرم ہے۔
عدالت نے حقائق کی جانچ کے لیے ایک کمیشن بنانے کا حکم دیا ہے۔ جج نے کسی شخص کو قصور وار قرار نہیں دیا لیکن اس معاملہ کی سنگینی کے پیش نظر اس کا جائزہ لینے اور تمام حقائق سامنے لانے کا حکم دیا گیا ہے ۔ سچ جھوٹ میں تمیز کے لیے متعلقہ جج نے اس کمیشن کی کارروائی کو براہ راست نشر کرنے کا حکم بھی دیا ہے۔ یہی حکم مولانا فضل الرحمان جیسے ’معتدل مزاج اور ہوشمند‘ سیاست دان و مذہبی لیڈر کو ناگوار گزرا ہے۔ کسی عدالتی فیصلہ پر کسی طرف سے بھی تنقید ہو سکتی ہے۔ اس میں کوئی مضائقہ نہیں ہے۔ لیکن اگر مولانا فضل الرحمان جیسا لیڈر اشتعال انگیز اور ہتک آمیز زبان استعمال کرے اور اعلیٰ عدلیہ کو دھمکائے تو اس کی مذمت ہونی چاہیے۔
مولانا کے ارشادات کی جو ویڈیو سامنے آئی ہے اس میں وہ کہتے سنے جا سکتے ہیں کہ ’توہین مذہب کی جا رہی ہے۔ ناموس رسالت پر حملے کیے جا رہے ہیں۔ ایک لابی ایسی فضا قائم کرنا چاہتی ہے۔ اب جن لوگوں کو عدالتوں سے سزائیں ہو چکی ہیں، ان کی طرف سے نظر ثانی کی درخواستوں پر عدالت نے حکم دیا ہے۔ میں اس جج سے کہتا ہوں کہ اپنا یہ فیصلہ واپس چاٹو۔ ورنہ سپریم کورٹ کے چیف جسٹس کی طرح تمہیں یہ فیصلہ واپس چاٹنا پڑے گا‘ ۔ یادش بخیر مولانا فضل الرحمان نے مبارک ثانی کیس میں ایک احمدی کی ضمانت کے سادہ معاملہ کو قومی مذہبی حمیت کا معاملہ بنایا اور اس وقت کے چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کو نظر ثانی شدہ فیصلے میں تبدیلی کرتے ہوئے نام نہاد علمائے دین کا مطالبہ منظور کرنے پر مجبور کیا۔ اب بھی ہائی کورٹ کے ایک جج نے کسی کو کوئی سزا دینے یا جھوٹا کہنے کی بجائے فیکٹ فائنڈنگ کمیشن بنانے کا حکم دیا ہے لیکن مولانا اور ان کے ہم خیال لوگوں کو یہ جائز اور انصاف پر مبنی حکم قبول نہیں ہے۔
مولانا فضل الرحمان مدراس کے طلبہ کو سیاسی احتجاج کے لیے میدان میں لانے کی شہرت رکھتے ہیں۔ ایسے مطالبے اور بیان درحقیقت انتہا پسند مذہبی لابی کا غیر متنازعہ لیڈر بننے کی کوشش ہے۔ وہ اپنی سیاسی حیثیت اور عالم دین کے طور پر اپنی پوزیشن کو ناجائز طور سے استعمال کر کے اعلیٰ عدلیہ کے بارے میں ایسے الفاظ استعمال کرنے کا حوصلہ کرتے ہیں جو کسی عام شہری سے سرزد ہوں تو اس پر فوری طور سے توہین عدالت کا مقدمہ قائم ہو سکتا ہے۔ لیکن مولانا اپنی سیاسی طاقت اور مذہبی اپیل کی وجہ سے خود کو کسی بھی اخلاقی قدر اور قانونی حد سے بالا سمجھتے ہیں۔ اسلام کے نام پر لیڈر بننے والے اس رہنما کو اس بات کا جواب ضرور دینا چاہیے کہ کیا ان کا عقیدہ اور تعلیم انہیں اپنے خیالات کا اظہار کرنے کی یہی تعلیم دیتا ہے؟
مولانا خود بھی جانتے ہیں کہ یہ طرز تکلم نفرت پیدا کرتا ہے۔ شاید یہی ان کا مقصد ہے۔ ورنہ نجی محفلوں میں مرنجاں مرنج گفتگو کرنے کی شہرت رکھنے والے اور زبان و بیان پر عبور کے حامل ایسے لیڈر کو اس قسم کی اشتعال انگیز اور توہین آمیز گفتگو سے پرہیز کرنا چاہیے۔ البتہ وہ جانتے ہیں کہ ملک کا قانون ان کی حیثیت و پوزیشن کی وجہ سے حرکت میں نہیں آئے گا۔ لیکن ایسی باتیں سن کر زندہ باد کے نعرے لگانے والے ہجوم میں شاید انہیں چند مزید ووٹ مل جائیں گے۔ یہ طرز عمل نہ تو ایک مہذب شہری کو زیب دیتا ہے اور نہ ہی کسی عالم دین اور سیاسی لیڈر کا یہ شعار ہونا چاہیے۔
حکومت کو بھی جاننا چاہیے کہ شاید وہ اپنی سیاسی مجبوریوں کی وجہ سے مولانا کی زبان بندی نہ کرسکے لیکن ایسی اشتعال انگیزی عام کرنے کی اجازت دے کر ملک میں ایسی مذہبی انتہاپسندی میں اضافہ ہو گا جس کے بطن سے نفرت، دہشت گردی اور معاشی خرابی کے سارے عوامل جنم لیتے ہیں۔ سرمایہ کاری کے لیے دنیا بھر میں کوششیں کرنے والی حکومت اگر مولانا فضل الرحمان جیسے لیڈروں کو لگام دینے میں ناکام رہے گی تو اسے معاشی اصلاح کے ایجنڈے کو بھول جانا چاہیے۔
شفقنا ردو
نوٹ: شفقنا کا اس تحریر کے مندرجات سے متفق ہونا ضروری نہیں
اسلام آباد ہائی کورٹپاکستان توہین مذہب کے مقدماتجمیعت علمائے اسلام (ف)جنرل ر ضیاء الحقمولانا فضل الرحمان
0 FacebookTwitterLinkedinWhatsappTelegramViberEmail
گزشتہ پوسٹ
بنگلہ دیش کا نریندر مودی کو 25 من آموں کا تحفہ: کیا ’مینگو ڈپلومیسی‘ تلخ تعلقات میں مٹھاس لے آئے گی؟
اگلی پوسٹ
غزہ، بچوں اور بھوکوں کا قبرستان/الطاف حسین قریشی

یہ بھی پڑھنا مت بھولیں

نور مقدم کیس میں تکلیف دہ اضافی نوٹ/محمد...

13:16 | پیر دسمبر 1، 2025

جیل میں عمران خان سے ملاقات پر پابندی/سید...

15:13 | اتوار نومبر 30، 2025

مذاکرات کی بہت کوشش کی مگر کچھ حاصل...

13:43 | جمعرات نومبر 27، 2025

آئی ایم ایف کا انکشاف اور پاکستان کی...

12:39 | جمعرات نومبر 27، 2025

فاقی آئینی عدالت میں اسلام آباد ہائیکورٹ کے...

02:40 | اتوار نومبر 23، 2025

سپریم کورٹ کے بعد ہائی کورٹ کے دو...

05:30 | جمعہ نومبر 14، 2025

27 ویں ترمیم: کچھ بھی نیا نہیں ہے:...

12:57 | منگل نومبر 11، 2025

ڈان نیوز رپورٹ/ 4 سال میں ملک بھر...

14:46 | ہفتہ نومبر 8، 2025

27 آئینی ترمیم پر مباحثہ کے اصل اہداف:...

12:47 | بدھ نومبر 5، 2025

وزیراعلیٰ سہیل آفریدی نے ان ہاؤس کمیٹی کے...

07:36 | ہفتہ نومبر 1، 2025

تبصرہ کریں Cancel Reply

میرا نام، ای میل اور ویب سائٹ مستقبل میں تبصروں کے لئے محفوظ کیجئے.

تازہ ترین

  • احمد الاحمد ہمارے ’ہیرو‘ ہیں،آسٹریلوی وزیراعظم

  • اسرائیل پر تنقید: امریکی سیاست میں اب کوئی متنازعہ معاملہ نہیں: اکرم ضیاء

  • بگ بیش میں شاہین آفریدی کا مایوس کُن پرفارمنس کا مظاہرہ

  • بھارت میں مردہ شخص سب سے زیادہ ووٹ لے کر الیکشن جیت گیا

  • واٹس ایپ ہیک ہونے کی صورت میں کیا کرنا ہے؟

  • علیمہ خان نے گزشتہ دنوں سوشل میڈیا پر وائرل ہونے والی عمران خان کی تصویر کو اصلی قرار دے دیا

  • ڈیرہ اسماعیل خان: کلاچی آپریشن میں 7 دہشت گرد ہلاک، لانس نائیک جاں بحق

  • کیا فیض سے جان چھوٹ گئی؟ حامد میر

  • آئی ایم ایف اور اس کے تخلیق کردہ طبقات مد مقابل ہیں/ندیم اختر سرور

  • بلاول بھٹو کے مثبت تبصروں پر مریم نواز کا پرتپاک خیرمقدم، برف کیسے پگھلی؟

  • ٹرمپ مشرق وسطی کے ’طاقتور‘ رہنماؤں کی قربت کے خواہاں کیوں؟

  • ڈر ہے یہ سب ایسے ہی چلتا رہے گا/خالد محمود رسول

  • میانمار کی سیاس رہنما آنگ سان سوچی کی قید میں حالت تشویش ناک

  • سڈنی دہشت گردی پاکستان کے سر تھوپنے کی سازش ناکام

  • پاک بحریہ کا آب سے فضا تک مار کرنے والے جدید میزائل کا کامیاب تجربہ

  • سڈنی حملہ: بھارت اور افغانستان کا پاکستان کے خلاف پروپیگنڈا بے نقاب

  • پاکستان دہشت گردی سے معاشروں کو پہنچنے والے درد اور صدمے کو بخوبی سمجھتا ہے: صدر مملکت

  • جان پر کھیل کر حملہ آور کو روکنے والا شخص قابل احترام ہے: ڈونلڈ ٹرمپ

  • حماس نے غزہ میں اسرائیلی حملے میں اپنے سینئر کمانڈر رائد سعد کی شہادت کی تصدیق کردی

  • آسٹریلیا : دہشت گردی کے واقعےمیں ہلاکتوں کی تعداد 16 ہوگئی

مقبول ترین

  • صفائی اور پاکیزگی قرآن و حدیث کی روشنی میں : شفقنا اسلام

  • چھپکلی کی جلد سے متاثرہ بھوک لگانے والا کیپسول

  • میں نے جمہوریت کی مضبوطی کے لیے کام کیا: جوبائیڈن کا قوم سے خطاب

  • کیا ہندوستان کی آنے والی نسلیں مسلم مخالف نفرت میں اس کی زوال پزیری کو معاف کر دیں گی؟/شاہد عالم

  • مکمل لکڑی سے تراشا گیا کارکا ماڈل 2 لاکھ ڈالر میں نیلام

  • مہاتیر محمد نے اپنا استعفیٰ پیش کردیا

  • ایک ارب 70 کروڑ ڈالر کے قرضوں کی ادائیگی معطل کرنے کے معاہدے پر دستخط

  • اسلام آباد: میجر لاریب قتل کیس میں ایک مجرم کو سزائے موت، دوسرے کو عمر قید

  • دی نیشن رپورٹ/پاکستانی جیلوں میں قید خواتین : اگرچہ ان کی چیخیں دب گئی ہیں مگر ان کے دکھ کو نظر انداز نہیں کیا جاسکتا

  • عورتوں سے باتیں کرنا

@2021 - All Right Reserved. Designed


Back To Top
شفقنا اردو | بین الاقوامی شیعہ خبر رساں ادارہ اور تجزیاتی مرکز
  • صفحہ اول
  • تازہ ترین
  • آپ کی خبر
  • بلاگ
  • پاکستان
  • تصویری منظر نامہ
  • دلچسپ و عجیب
  • سائنس و ٹیکنالوجی
  • صحت وتعلیم
  • عالمی منظر نامہ
  • فیچرز و تجزیئے
  • کھیل و کھلاڑی
  • وڈیوز
  • رابطہ