شفقنا صحت: برطانیہ کی لیورپول جان مورس یونیورسٹی کے محققین کی ایک حالیہ تحقیق میں کہا گیا ہے کہ کم پانی پینا ہمیں سٹریس یا تناؤ سے منسلک صحت کے مسائل کا زیادہ شکار بنا سکتا ہے۔
اس تحقیق میں کہا گیا ہے کہ وہ افراد جو تجویز کردہ پانی کی مقدار سے کم استعمال کرتے ہیں ان میں تناؤ کے ہارمونز کا ردعمل زیادہ ہوتا ہے، جو ڈپریشن، ذیابیطس اور دل کی بیماری کے زیادہ خطرے سے دوچار کر سکتا ہے۔
این ڈی ٹی وی کے مطابق 22 اگست 2025 کو جرنل آف اپلائیڈ فزیالوجی میں شائع ہونے والی ایک نئی تحقیق کے مطابق جو لوگ روزانہ ڈیڑھ لیٹر سے کم پانی پیتے تھے ان میں تناؤ کے خلاف کورٹیسول کا ردعمل دیکھا گیا جو کہ روزانہ پانی کی ضروریات کو پورا کرنے والوں کے مقابلے میں 50 فیصد زیادہ تھا۔
انسانی زندگی کو پانی کی ضرورت ہوتی ہے۔ انسان پانی کے بغیر صرف چند دن زندہ رہ سکتا ہے۔
خلیات اور زندگی کا توازن پانی پر منحصر ہے، جو ایک شیر خوار بچے کے جسمانی وزن کا 75 فیصد اور بوڑھے کے جسم کے 55 فیصد وزن پر مشتمل ہے۔
مناسب ہائیڈریشن یا پانی کا استعمال انہضام کے عمل، دماغی افعال اور توانائی کی سطح کو سہارا دیتا ہے۔ یہاں تک کہ پانی کی معمولی کمی بھی تھکاوٹ، سر درد، کمزور ارتکاز، اور جسمانی و ذہنی کارکردگی کو متاثر کر سکتی ہے۔
سادہ لفظوں میں یوں کہا جا سکتا ہے کہ مناسب مقدار میں پانی کے بغیر جسم بہتر طریقے سے کام نہیں کر سکتا۔
ہائیڈریشن کا ذہنی تندرستی اور تناؤ سے گہرا تعلق ہے۔ جب جسم میں پانی کی کمی ہوتی ہے تو تناؤ کے ہارمون کورٹیسول کی سطح بڑھ جاتی ہے، جس سے لوگوں کو زیادہ بے چینی، تناؤ اور تھکاوٹ محسوس ہوتی ہے۔
پانی کا مناسب استعمال ہارمون کے توازن کو منظم کرنے، دماغ میں خون کے بہاؤ کو بہتر بنانے اور نیورو ٹرانسمیٹر کے کام کو سپورٹ کرتا ہے۔
یہ سب تناؤ کی سطح کو کم کرتے ہیں اور سکون کو فروغ دیتے ہیں۔ ہائیڈریٹ رہنا نیند کے معیار اور جذباتی طور پر بھی لچک پیدا کرتا ہے، جو روزمرہ کے دباؤ سے نمٹنے کے لیے اہم ہیں۔
کچھ عام طریقوں کے ذریعے آپ اپنی ذہنی صحت کو پانی کی مدد سے بہتر کر سکتے ہیں۔
سٹریس یا تناؤ کے ہارمونز میں توازن
دن بھر مناسب مقدار میں وقفے وقفے سے پانی پیتے رہنا جسم کے ساتھ کورٹیسول کو بھی متوازن رکھتا ہے جس سے تناؤ نہیں بڑھتا۔
ذہنی استعداد بڑھنا
انسانی جسم میں دماغ وہ حصہ ہے جس کا 75 فیصد پانی پر مشتمل ہے۔
اسی وجہ سے جسم میں پانی کی معمولی کمی سے بھی انسانی دماغ تھکاوٹ کا شکار ہو سکتا ہے۔ ارتکاز، یادداشت اور فیصلہ سازی کی قوت کی بہتری کے لیے روزانہ مناسب مقدار میں پانی ضروری ہے۔
طبیعت یا موڈ کا خوشگوار رہنا
تحقیق سے معلوم ہوا ہے کہ انسانی طبیعت میں چڑچٖڑے پن، بے چینی اور خراب موڈ کا تعلق پانی کی کمی سے ہے۔ مناسب ہائیڈریشن نیورو ٹرانسمیٹر جیسے سیروٹونن اور ڈوپامائن کی مدد کر کے موڈ کو مستحکم یا طبیعت کو خوشگوار رکھنے کو فروغ دیتی ہے۔
توانائی کی سطح بہتری
پانی کا کم استعمال اکثر تھکاوٹ کا باعث بنتا ہے جو تناؤ کو بڑھا سکتا ہے اور مقابلہ کرنے کی صلاحیت کو کم کر سکتا ہے۔ ہائیڈریشن مستحکم توانائی کو برقرار رکھنے میں مدد کرتا ہے، اور کمزور ہونے کے احساسات کو کم کرتا ہے۔
نیند کے معیار میں اضافہ
دن بھر مناسب مقدار میں وقفے وقفے سے پانی پینا رات کو گہری، زیادہ آرام دہ نیند میں مدد کرتا ہے۔ اچھی نیند تناؤ کی حساسیت کو کم کرتی ہے اور جذباتی استحکام کو بہتر بناتی ہے۔ تاہم ماہرین کہتے ہیں کہ نیند سے کچھ دیر پہلے زیادہ پانی پینا سودمند نہیں۔