ادارہ صحت (ڈبلیو ایچ او) کے پاکستان میں نمائندے ڈاکٹر داپنگ لو نے کہا کہ پاکستان میں ہر سال 2 لاکھ 56 ہزار افراد فضائی آلودگی کے باعث جان کی بازی ہار جاتے ہیں۔
اسموگ کے دوران صحت کا بحران
عالمی ادارہ صحت (ڈبلیو ایچ او) کے پاکستان میں نمائندے ڈاکٹر داپنگ لو نے آٹھویں اور آخری سیشن کا آغاز کرتے ہوئے کہا کہ صاف ہوا میں سانس لینا ایک بنیادی انسانی حق ہے۔
انہوں نے بتایا کہ پاکستان میں ہر سال 2 لاکھ 56 ہزار افراد فضائی آلودگی کے باعث جان کی بازی ہار جاتے ہیں اور یہ صرف اعداد و شمار نہیں بلکہ کسی کے ’ بھائی، والد، بہنیں، مائیں اور بیٹے‘ ہیں، جن سب کی اپنی کہانیاں اور خواب ہیں۔
ڈاکٹر داپنگ لو کا کہنا تھا کہ فضائی آلودگی کے اثرات حقیقی اور سنگین ہیں، جبکہ ہم اس بارے میں کیا کرنے جا رہے ہیں؟ خوش آئند بات یہ ہے کہ یہ معاملہ ہمارے اپنے ہاتھ میں ہے۔
انہوں نے زور دیا کہ فضائی آلودگی سرحدوں سے آزاد خطرہ ہے جو سب سے زیادہ اثر کمزور اور کم وسائل رکھنے والے طبقات پر ڈالتا ہے۔
انہوں نے کہا کہ پاکستان میں فضائی آلودگی کا مسئلہ 2012 میں دوبارہ شدت اختیار کرنے لگا، جب ملک میں قدرتی گیس کی فراہمی ختم ہو گئی۔