Top Posts
شہباز شریف کی حکومت کیوں ناکام ہے؟ سید...
روس اور ایران کا اسٹریٹجک اتحاد کتنا مضبوط؟...
یو اے ای: غیر قانونی افراد کو پناہ...
افغانستان: پنچشیر میں نیشنل ریزسٹنس فرنٹ کا حملہ:...
عمران خان مائنس ہوا تو ایک بھی باقی...
اسرائیل اں سال دنیا بھر میں قتل ہونے...
بابا وانگا نے 2026 کیلئے کونسی اہم اور...
مسلم ممالک کا اعتراض: ٹونی بلیئر کا نام...
مائیکروسافٹ کا بھارت میں 17.5 ارب ڈالر کی...
پاکستان ڈیفالٹ کے خطرے سے پیچھے ہٹ رہا...
  • Turkish
  • Russian
  • Spanish
  • Persian
  • Pakistan
  • Lebanon
  • Iraq
  • India
  • Bahrain
  • French
  • English
  • Arabic
  • Afghanistan
  • Azerbaijan
شفقنا اردو | بین الاقوامی شیعہ خبر رساں ادارہ اور تجزیاتی مرکز
اردو
  • صفحہ اول
  • تازہ ترین
  • آپ کی خبر
  • بلاگ
  • پاکستان
  • تصویری منظر نامہ
  • دلچسپ و عجیب
  • سائنس و ٹیکنالوجی
  • صحت وتعلیم
  • عالمی منظر نامہ
  • فیچرز و تجزیئے
  • کھیل و کھلاڑی
  • وڈیوز
  • رابطہ

عارضی جنگ بندی اور عمران خان کی پیش کش/سید مجاہد علی

by TAK 13:33 | جمعرات اکتوبر 16، 2025
13:33 | جمعرات اکتوبر 16، 2025 45 views
45
یہ تحریر کاروان ناروے میں شائع ہوئی
مولانا فضل الرحمان کے بعد اب عمران خان نے بھی افغانستان کے ساتھ قیام امن کے لیے تعاون کرنے کی پیش کش کی ہے۔ اس دوران افغانستان نے آج ایک بار پھر بلوچستان اور خیبر پختون خوا کے علاقوں میں پاکستان پر حملے کیے تھے۔ تاہم افغانستان کی درخواست پر پاکستان 48 گھنٹے کی جنگ بندی پر راضی ہو گیا ہے۔
آئی ایس پی آر کے مطابق آج صبح بلوچستان کے سرحدی ضلع چمن کے علاقے اسپن بولدک اور خیبرپختونخوا کے کُرم سیکٹر میں افغان طالبان اور فتنۃ الخوارج نے حملے کیے تھے۔ پاک فوج نے ان حملوں کو ناکام بناتے ہوئے 45 سے 50 حملہ آوروں کو ہلاک کر دیا۔ جوابی کارروائی میں کئی چیک پوسٹیں اور ٹینک بھی تباہ کیے گئے۔ اسی دوران پی ٹی وی نے اطلاع دی تھی کہ ان جھڑپوں کے بعد پاکستان نے کابل اور قندھار میں متعدد اہداف کو نشانہ بنایا اور افغان فوج کو شدید نقصان پہنچایا گیا۔ ان حملوں کے بعد ہی کابل کی طرف سے عبوری جنگ بندی کی درخواست دی گئی ہے جسے دفتر خارجہ کی اطلاع کے مطابق 48 گھنٹے کے لیے منظور کر لیا گیا ہے۔
خیال کیا جا رہا ہے کہ پاکستان ان دو دنوں میں افغانستان پر واضح کرے گا کہ وہ بنیادی مسئلہ ختم کرنے کے لیے کارروائی کرے بصورت دیگر یہ جنگ طول پکڑ سکتی ہے۔ پاکستان اور افغانستان کے درمیان موجودہ کشیدگی ایک بار پھر افغانستان نے ہی شروع کی ہے۔ اس سے پہلے 11 اور 12 اکتوبر کی درمیانی شب افغان طالبان نے پاکستان پر بلا اشتعال حملہ کیا تھا۔ اس فوجی کارروائی میں پاکستان کے 23 فوجی شہید ہوئے تھے لیکن دشمن کو بھی بھاری جانی نقصان اٹھانا پڑا۔ پاک فوج نے بتایا تھا کہ افغانستان کی بیس کے لگ بھگ چوکیوں پر پاکستان نے عارضی طور سے قبضہ کر لیا تھا۔ افغانستان کی وزارت دفاع کا اس بارے میں موقف تھا کہ یہ حملہ 9 اکتوبر کو کابل پر پاکستان کے فضائی حملے کے جواب میں کیا گیا تھا۔ پاکستانی فوج نے اس حملے کی ذمہ داری قبول نہیں کی لیکن اس سے انکار بھی نہیں کیا۔
افغان وزارت دفاع نے اتوار کی رات ہونے والے حملے کے چند گھنٹے بعد ہی فائر بند کرنے کا اعلان کرتے ہوئے اعلان کیا تھا کہ ہم نے اہداف حاصل کر لیے ہیں، اب اگر ہمارے خلاف جارحیت نہ کی گئی توہم جنگ نہیں کریں گے۔ پاکستان نے اس جنگ بندی کو قبول نہیں کیا تھا لیکن دو روز تک سرحدوں پر سکون رہا تھا۔ آج علی الصبح ہونے والے حملوں سے پہلے یہی امید کی جا رہی تھی کہ اب دونوں ممالک مستقل جنگ بندی پر متفق ہوجائیں گے۔ تاہم اب ایک بار پھر محاذ گرم ہو چکا ہے۔
افغانستان نے آج ہونے والی جھڑپوں کے بارے میں کوئی موقف پیش نہیں کیا اور نہ یہ بتایا گیا ہے کہ جنگ بندی کا اعلان کرنے کے بعد ایک بار پھر بلوچستان اور خیبر پختون خوا میں حملے کرنے کی ضرورت کیوں پیش آئی۔ غالباً افغانستان کے اقتدار پر قابض طالبان میں مختلف گروہوں کی باہمی چپقلش کے نتیجہ میں پاکستان کے خلاف محاذ کھولا گیا ہے۔ اس بارے میں فیصلے کرتے ہوئے افغان لیڈروں میں اتفاق رائے کی کمی محسوس کی جا سکتی ہے۔ اس کے علاوہ وقت کا تعین کرتے ہوئے بھی حساسیات کا لحاظ نہیں کیا گیا۔ اتوار کو جب افغان فوج نے پاکستان کی سرحدوں پر جنگ چھیڑی تو اس وقت وزیر خارجہ امیر خان متقی نئی دہلی کا دورہ کر رہے تھے۔ وہاں انہوں نے بعض متنازعہ بیان بھی دیے تھے۔ کابل حکومت نے اس موقع پر پاکستان کے خلاف جنگ کا آغاز کر کے غیر ضروری اشتعال انگیزی کا ماحول پیدا کیا۔ پاکستان اور بھارت کے درمیان تعلقات انتہائی سرد ہیں۔ مئی کے دوران دونوں ممالک عسکری جھڑپوں میں ملوث ہوئے تھے۔ اور حال ہی میں بھارت کی فوجی و سیاسی قیادت نے پاکستان کے خلاف غیر ضروری جارحانہ بیانات دیے تھے۔
افغان حکام نے پاکستان کے خلاف جنگ چھیڑتے ہوئے اس پہلو پر غور کرنا مناسب نہیں سمجھا کہ اس موقع پر ان کے وزیر خارجہ کی بھارت میں موجودگی اسلام آباد میں بھارتی مداخلت کے بارے میں شبہات کو ہوا دے گی۔ اسلام آباد کا ایسا شبہ خود افغان حکومت کے لیے مناسب نہیں ہو گا۔ تاہم پاکستان کے خلاف جنگ شروع کرنے کے بعد طالبان حکمرانوں نے دیکھ لیا کہ بھارت سمیت دنیا کے کسی ملک نے افغانستان کے ساتھ اظہار یک جہتی نہیں کیا۔ بھارتی لیڈر افغانستان کے ذریعے پاکستان میں دہشت گردی کی منصوبہ بندی تو کرتے رہے ہیں لیکن وہ کبھی بھی پاکستان پر حملہ کے لیے افغان حکومت کی کھل کر مدد نہیں کر سکتے۔ اس صورت میں بھارتی حکومت کو دنیا بھر کی مخالفت کا سامنا کرنا پڑتا۔ ٹیرف اور پاکستان کے ساتھ جنگ بندی کے سوال پر پیدا ہونے والے تنازعہ کی وجہ سے نئی دہلی اور واشنگٹن کے تعلقات پہلے ہی کشیدہ ہیں۔
افغانستان کو یہ اندازہ بھی ہونا چاہیے تھا کہ اس کے پاس کوئی منظم فوج نہیں ہے اور دنیا کے کسی ملک نے افغانستان کو تسلیم نہیں کیا اور ان کی خواتین کے خلاف پالیسیوں کو عالمی طور سے مسترد کیا جاتا ہے۔ ایسے میں وہ پاکستان جیسی منظم اور طاقت ور فوج کا مقابلہ کرنے کی سکت نہیں رکھتا۔ پاکستان، افغانستان کی طرف سے جنگ کے آغاز سے پہلے ہی کسی ایسے موقع کی تلاش میں تھا کہ وہ افغانستان میں ان دہشت گرد نیٹ ورک تباہ کرے جو پاکستان میں دہشت گرد حملوں کا سبب بنتے ہیں۔ گزشتہ چند روز میں پاکستان نے سرحدوں کی حفاظت کرنے کے علاوہ فضائی حملوں سے افغانستان کے متعدد علاقوں میں ایسے ہی ٹھکانوں کو نشانہ بنایا ہے۔ اب دو روز کی جنگ بندی کے دوران پاکستان یہی مطالبہ کرے گا کہ افغان حکمران تحریک طالبان پاکستان کی سرپرستی سے تائب ہوجائیں اور وہاں ملک سے مفرور دہشت گرد سرغنوں کو پاکستان کے حوالے کیا جائے۔ کابل حکومت اگر یہ مطالبہ نہیں مانتی اور اس پر عمل کر کے نہیں دکھاتی تو پاکستان، افغانستان کے خلاف شدید جنگی کارروائی کر سکتا ہے کیوں کہ یہ موقع خود کابل حکومت نے ہی اسے فراہم کیا ہے۔
اس دوران پاکستان کی طرف سے افغانستان میں عوام کی نمائندہ حکومت کی بات کر کے یہ اشارہ دیا گیا ہے کہ پاکستان اب اس جنگ کو طالبان کے اقتدار پر براہ راست ضرب لگانے کے لیے استعمال کرے گا۔ کابل میں پاکستان دشمن کی بجائے ایسے عناصر کی حکومت کا خیر مقدم کیا جائے گا جو اسلام آباد کے ساتھ اعتماد و احترام کی بنیاد پر دوستانہ تعلقات استوار کرنے میں دلچسپی رکھتی ہو۔ اور بھارت جیسے پاکستان دشمن ملک کو ساتھ ملا کر پاکستان کو کمزور کرنے کے بالواسطہ اشارے دینے سے گریز کرے۔ اس لیے آئندہ چند گھنٹوں میں ہونے والی بات چیت دونوں ملکوں کے لیے اہم ہوگی۔ تاہم طالبان حکومت کے لیے اس میں کامیابی زندگی اور موت کا سوال بھی ہے۔
دریں اثنا پاکستانی سیاسی لیڈر افغانستان کے ساتھ معاملات کے حوالے سے داخلی سیاست میں مقاصد حاصل کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ گزشتہ روز جمعیت علمائے اسلام کے مولانا فضل الرحمان نے ثالثی کی پیش کش کی تھی اور آج تحریک انصاف کے بانی عمران خان نے پیغام بھیجا ہے کہ اگر انہیں پیرول پر رہا کیا جائے تو وہ اس معاملہ میں مدد کر سکتے ہیں۔ البتہ یہ واضح نہیں ہے کہ عمران خان کابل کے ساتھ معاملات طے کرنے میں کیسا تعاون فراہم کرنے کی پوزیشن میں ہیں۔ افغان طالبان کی مزاج شناسی کے علاوہ رابطوں کے حوالے سے پاکستانی فوج و اداروں کو دہائیوں کا تجربہ حاصل ہے۔ طویل اور خوں ریز دہشت گردی کی مہم جوئی کے بعد اب سرحدوں پر ہونے والے حملوں کے بعد پاکستانی فوج طالبان حکومت کے ساتھ حساب برابر کرنے کا موقع ہاتھ سے نہیں جانے دے گی۔ ایسے میں افغان طالبان اور کسی حد تک ٹی ٹی پی سے ہمدردی رکھنے والے سیاسی لیڈروں کی کوئی مدد کارآمد نہیں ہو سکتی۔
عمران خان نے تو حال ہی میں خیبر پختون خوا کا وزیر اعلیٰ تبدیل کر کے اور صوبے میں دہشت گردی کے خلاف جنگ کو وفاقی حکومت اور فوج کی غلطی قرار دے کر خود ہی اپنے آپشنز محدود کر لیے ہیں۔ کسی حد تک مولانا فضل الرحمان سے بھی یہی چوک ہوئی ہے لیکن تحریک انصاف نے تو ایک غیر ملک کے ساتھ جنگ کے دوران ملک میں ہونے والی دہشت گردی کو سیاسی غلطی کا نتیجہ بتا کر پاکستان کی پوزیشن کمزور کی ہے۔ عمران خان نے اس تنازعہ میں پاکستان کو غلط قرار یا ہے۔ ملک کے کسی بھی سیاسی لیڈر کو سیاسی چالیں چلتے ہوئے قومی سلامتی کے اہم پہلوؤں کو نظر انداز نہیں کرنا چاہیے۔
عمران خان، افغانستان کے ساتھ معاملات طے کرانے کی پیش کش ایک ایسے ماحول میں کر رہے ہیں جب پاکستانی حکومت اور فوج شاید کوئی بڑے اہداف حاصل کیے بغیر جنگ بند کرنے پر راضی نہ ہو۔ جبکہ عمران خان کے نزدیک شاید یہ مقاصد اہمیت ہی نہیں رکھتے۔
شفقنا اردو
نوٹ: شفقنا کا اس تحریر کے مندرجات سے متفق ہونا ضروری نہیں
آئی ایس پی آراسپین بولدکافغان وزارت دفاعجمیعت علمائے اسلامعمران خانمولانا فضل الرحمان
0 FacebookTwitterLinkedinWhatsappTelegramViberEmail
گزشتہ پوسٹ
پاک-افغان کشیدگی: ’صرف فوجی کارروائیوں سے دہشتگردی کو شکست نہیں دی جاسکتی‘/زاہد حسین
اگلی پوسٹ
ماضی کے حریف، آج کے دوست: انڈیا اور افغان طالبان تعلقات میں فروغ کے ذریعے کن سٹریٹجک مفادات کا حصول چاہتے ہیں؟

یہ بھی پڑھنا مت بھولیں

شہباز شریف کی حکومت کیوں ناکام ہے؟ سید...

10:38 | بدھ دسمبر 10، 2025

عمران خان مائنس ہوا تو ایک بھی باقی...

10:29 | بدھ دسمبر 10، 2025

 عمران خان کی بہنوں اور پی ٹی آئی...

04:14 | بدھ دسمبر 10، 2025

بشریٰ اپنے شوہر عمران خان کو دھوکا دینے...

07:49 | منگل دسمبر 9، 2025

کچھ لوگ ادارے اور پی ٹی آئی کے...

05:03 | منگل دسمبر 9، 2025

تحریک انصاف کا جواب بھی مایوس کن رہا!...

14:35 | پیر دسمبر 8، 2025

پی ٹی آئی پر اتنی شدید تنقید نہیں...

14:35 | پیر دسمبر 8، 2025

عمران خان کبھی مائنس نہیں ہوسکتے، عوام ان...

14:26 | پیر دسمبر 8، 2025

اَت یا پَت؟/سہیل وڑائچ

13:03 | اتوار دسمبر 7، 2025

فوج کے سخت رد عمل کی وجہ بانی...

07:27 | اتوار دسمبر 7، 2025

تبصرہ کریں Cancel Reply

میرا نام، ای میل اور ویب سائٹ مستقبل میں تبصروں کے لئے محفوظ کیجئے.

تازہ ترین

  • شہباز شریف کی حکومت کیوں ناکام ہے؟ سید مجاہد علی

  • روس اور ایران کا اسٹریٹجک اتحاد کتنا مضبوط؟ جاوید اختر

  • یو اے ای: غیر قانونی افراد کو پناہ دینے پر کروڑوں کے جرمانے نافذ

  • افغانستان: پنچشیر میں نیشنل ریزسٹنس فرنٹ کا حملہ: 17 طالبان جنگجو ہلاک

  • عمران خان مائنس ہوا تو ایک بھی باقی نہیں رہے گا: بیرسٹر گوہر علی خان

  • اسرائیل اں سال دنیا بھر میں قتل ہونے والے تمام صحافیوں میں سے تقریباً نصف صحافیوں کے قتل کا ذمہ دار

  • بابا وانگا نے 2026 کیلئے کونسی اہم اور بڑی پیشگوئیاں کیں؟

  • مسلم ممالک کا اعتراض: ٹونی بلیئر کا نام ’غزہ امن کونسل‘ سے نکال دیا گیا

  • مائیکروسافٹ کا بھارت میں 17.5 ارب ڈالر کی خطیر سرمایہ کاری کا اعلان

  • پاکستان ڈیفالٹ کے خطرے سے پیچھے ہٹ رہا ہے، آئی ایم ایف رپورٹ

  • یوکرینی صدر کی مشروط انتخاب کرانے پر رضامندی

  • بابر اعظم اور شاہین شاہ آفریدی بگ بیش لیگ کے 15 ویں ایڈیشن میں شرکت کے لیے آسٹریلیا پہنچ گئے

  •  عمران خان کی بہنوں اور پی ٹی آئی کارکنوں پر پولیس کریک ڈاؤن: اڈیالہ کے باہر دھرنا ختم

  • عالمی دباؤ: اسرائیل نے اردن کے ساتھ بارڈرکو غزہ کے امدادی سامان کے لیے کھولنے کا اعلان کردیا

  • قومی اسمبلی کی کمیٹی برائے خزانہ نے اسمارٹ فونز ر عائد ٹیکس میں کمی کا مطالبہ کردیا

  • وزیرستان میں تحصیل ہیڈ کوارٹر اسپتال غیر فعال: متعدد مریض جاں بحق

  • جدہ میں 135 ملی میٹر بارش ریکارڈ : نظام زندگی درہم برہم

  • گوگل میپس کی وہ ٹِرکس جو آپ کو ضرور استعمال کرنی چاہیے

  • ہندوتوا اور ہندوستان کے زیر انتظام کشمیر میں اجتماعی سزا کا کچل دینے والا ظلم/نعیم افضل

  • یورپی ملک میں خواتین نے مردوں کو گھریلو کام کاج کیلئے ہائر کرنا شروع کردیا

مقبول ترین

  • صفائی اور پاکیزگی قرآن و حدیث کی روشنی میں : شفقنا اسلام

  • چھپکلی کی جلد سے متاثرہ بھوک لگانے والا کیپسول

  • میں نے جمہوریت کی مضبوطی کے لیے کام کیا: جوبائیڈن کا قوم سے خطاب

  • کیا ہندوستان کی آنے والی نسلیں مسلم مخالف نفرت میں اس کی زوال پزیری کو معاف کر دیں گی؟/شاہد عالم

  • مہاتیر محمد نے اپنا استعفیٰ پیش کردیا

  • مکمل لکڑی سے تراشا گیا کارکا ماڈل 2 لاکھ ڈالر میں نیلام

  • ایک ارب 70 کروڑ ڈالر کے قرضوں کی ادائیگی معطل کرنے کے معاہدے پر دستخط

  • اسلام آباد: میجر لاریب قتل کیس میں ایک مجرم کو سزائے موت، دوسرے کو عمر قید

  • دی نیشن رپورٹ/پاکستانی جیلوں میں قید خواتین : اگرچہ ان کی چیخیں دب گئی ہیں مگر ان کے دکھ کو نظر انداز نہیں کیا جاسکتا

  • عورتوں سے باتیں کرنا

@2021 - All Right Reserved. Designed


Back To Top
شفقنا اردو | بین الاقوامی شیعہ خبر رساں ادارہ اور تجزیاتی مرکز
  • صفحہ اول
  • تازہ ترین
  • آپ کی خبر
  • بلاگ
  • پاکستان
  • تصویری منظر نامہ
  • دلچسپ و عجیب
  • سائنس و ٹیکنالوجی
  • صحت وتعلیم
  • عالمی منظر نامہ
  • فیچرز و تجزیئے
  • کھیل و کھلاڑی
  • وڈیوز
  • رابطہ