Top Posts
شہباز شریف کی حکومت کیوں ناکام ہے؟ سید...
روس اور ایران کا اسٹریٹجک اتحاد کتنا مضبوط؟...
یو اے ای: غیر قانونی افراد کو پناہ...
افغانستان: پنچشیر میں نیشنل ریزسٹنس فرنٹ کا حملہ:...
عمران خان مائنس ہوا تو ایک بھی باقی...
اسرائیل اں سال دنیا بھر میں قتل ہونے...
بابا وانگا نے 2026 کیلئے کونسی اہم اور...
مسلم ممالک کا اعتراض: ٹونی بلیئر کا نام...
مائیکروسافٹ کا بھارت میں 17.5 ارب ڈالر کی...
پاکستان ڈیفالٹ کے خطرے سے پیچھے ہٹ رہا...
  • Turkish
  • Russian
  • Spanish
  • Persian
  • Pakistan
  • Lebanon
  • Iraq
  • India
  • Bahrain
  • French
  • English
  • Arabic
  • Afghanistan
  • Azerbaijan
شفقنا اردو | بین الاقوامی شیعہ خبر رساں ادارہ اور تجزیاتی مرکز
اردو
  • صفحہ اول
  • تازہ ترین
  • آپ کی خبر
  • بلاگ
  • پاکستان
  • تصویری منظر نامہ
  • دلچسپ و عجیب
  • سائنس و ٹیکنالوجی
  • صحت وتعلیم
  • عالمی منظر نامہ
  • فیچرز و تجزیئے
  • کھیل و کھلاڑی
  • وڈیوز
  • رابطہ

کیا غزہ میں جنگ بندی دیرپا ہوگی؟ زاہدہ حنا

by TAK 13:26 | بدھ اکتوبر 22، 2025
13:26 | بدھ اکتوبر 22، 2025 84 views
84
یہ تحریر ایکسپریس نیوز میں شائع ہوئی
غزہ وہ زمین جو کبھی زیتون کے باغات اور بچوں کی ہنسی سے مہکتی تھی، آج بارود کی بُو اور بے گور و کفن لاشوں سے پہچانی جاتی ہے۔ برسوں سے اس دھرتی پر خون بہتا آ رہا ہے اور ہر بار امن کی بات ایک بوسیدہ وعدے کی طرح دیوارِ گریہ سے ٹکرا کر لوٹ آتی ہے۔ اب پھر ایک نئی جنگ بندی کی خبر ہے مگر کیا یہ صلح دیرپا ہوگی؟ یا یہ بھی ماضی کی طرح ایک عارضی توقف ہے جو پھر کسی فائرنگ کی آواز میں دفن ہو جائے گا؟
ہماری تاریخ گواہ ہے کہ فلسطین کی سرزمین پر جتنی جنگ بندیاں ہوئیں اتنی ہی بار ان کا گلا گھونٹا گیا، سوال یہ نہیں ہے کہ جنگ بندی ہو گئی ہے، سوال یہ ہے کہ کیا امن کا یہ نازک سا پھول ظلم طاقت اور سیاست کی گرد سے بچ سکے گا؟گزشتہ برسوں کی طرح اس بار بھی جنگ بندی چند شقوں پر مبنی ہے۔
قیدیوں کا تبادلہ ،اسرائیلی فوج کا جزوی انخلا اور انسانی امداد کی اجازت۔ بظاہر یہ خوش آیند ہے لیکن سوال یہ ہے کہ ان الفاظ کے پیچھے نیت کتنی سچی ہے؟ کیا ان تحریروں کو عالمی طاقتیں تسلیم کریں گی؟ اور کیا فریقین واقعی ان پر عمل کریں گے؟ماضی کی مثالیں ہمارے سامنے ہیں اوسلو معاہدہ ہوا ،کیمپ ڈیوڈ سجا لیکن امن لہو لہان رہا۔
حقیقت یہ ہے کہ جب تک کسی معاہدے کی ہر شق کو بین الاقوامی سطح پر تسلیم نہ کیا جائے اور اس پر عمل درآمد کو یقینی نہ بنایا جائے وہ محض کاغذ ہی رہتا ہے۔دوسرا سوال سیاسی نیت کا ہے کیا اسرائیلی حکومت اس معاہدے کو سنجیدگی سے لے گی؟ یا نیتن یاہو جیسے سیاستدان اسے محض وقتی دباؤ سے نکلنے کا راستہ سمجھیں گے؟ کیا حماس کی قیادت کے پاس اتنی قوت ہے کہ وہ تمام گروپوں کو ایک موقف پر لا سکے؟ یا پھر غزہ کی سرزمین پر درجنوں مسلح گروہ کسی ایک نظم میں بندھنے سے انکاری رہیں گے؟
یہ کوئی نیا منظر نہیں ہماری دنیا کی سیاست اپنے مفادات کی گٹھری باندھے انسانی جانوں کو تختہ مشق بناتی آئی ہے۔ فلسطینیوں کا دکھ ان کے بچوں کی لاشیں، ان کی ماؤں کی چیخیں صرف وہی سنتے ہیں جن کے دل میں انسانیت ابھی سانس لیتی ہے۔
باقی سب کے لیے یہ صرف بین الاقوامی مسئلہ ہے جس پر اجلاس تو ہوتا ہے عمل نہیں۔اگر واقعی یہ جنگ بندی دیرپا ہو تو سب سے بڑا سوال یہ ہوگا کہ نگران کون ہوگا؟ کیا اقوامِ متحدہ اپنی وہ حیثیت واپس حاصل کر چکی ہے جہاں وہ متحرک کردار ادا کر سکے؟ کیا امریکا اور یورپی یونین اس امن کو مضبوط کرنے کے لیے اسرائیل پر دباؤ ڈالنے کے لیے تیار ہیں؟ یا ان کے الفاظ اب بھی دوغلے ہوں گے جب تک جنگ بندی کی خلاف ورزی پر فوری کارروائی نہ کی جائے اور کسی فریق کو یہ اعتماد نہ ہو کہ دنیا اس کے ساتھ کھڑی ہے امن ایک کمزور شمع کی طرح ہوا کے رحم و کرم پر رہتا ہے۔
ذرا ان ماؤں کا حال سوچیں جو اپنے بچے دفن کر چکی ہیں۔ ان بچوں کا تصور کریں جن کی آنکھوں نے اسکول کی جگہ صرف ملبہ دیکھا۔ وہ گھر جو اب صرف مٹی ہیں۔ جنگ بندی ان سب کے لیے ہے مگر یہ تب ہی دیرپا ہوگی جب ان کی زندگی میں حقیقی تبدیلی آئے گی۔ اگر صرف بمباری رکنے کو امن سمجھا گیا تو یہ فریب ہے۔ امن وہ ہے جب اسپتال ہوں اسکول کھلیں بچے کھیلیں اور کسی فلسطینی ماں کو خوف نہ ہو کہ اگلی صبح اس کا بیٹا واپس آئے گا یا نہیں۔
امن کی پہلی شرط ہے انصاف۔ جب تک فلسطینی عوام کو ان کا حق ان کی زمین، ان کی خودمختاری اور ان کی عزت واپس نہیں ملتی، کوئی جنگ بندی دیرپا نہیں ہو سکتی۔ یہ ایک نکتہ ہے جس پر دنیا آنکھیں بند کر لیتی ہے۔
اسرائیلی مظالم، بستیوں کی تعمیر، جبری انخلا اور فلسطینی عوام کو دہشت گرد کے لقب سے پکارنا یہ سب امن کے خلاف زہر ہیں۔ اگر دنیا واقعی جنگ بندی کو دیرپا دیکھنا چاہتی ہے تو اسے صرف میز پر نہیں میدان میں انصاف کرنا ہوگا۔یہ جنگ بندی ایک لمحہ سکون ہے جیسے کوئی زخمی ماں اپنے مردہ بچے کو آخری بار سینے سے لگاتی ہے۔ خاموش نڈھال مگر پھر بھی سینے میں امید کی کوئی ننھی سی چنگاری باقی ہے۔ کیا دنیا اس چنگاری کو بجھنے دے گی؟ یا اس پر ہاتھ رکھ کر اسے ہوا دے گی؟ یہی سوال ہے اور یہی امتحان۔
جنگ بندی کے بعد کیا پھر غزہ کی زمین پر زندگی لوٹ آئے گی؟ کیا وہ بچے جو مہینوں سے تعلیم سے محروم ہیں، پھر سے اسکول جا سکیں گے؟ کیا وہ مائیں جن کے بچے ان سے جدا ہو گئے کسی نئی صبح کی امید میں آنکھ کھول سکیں گی؟ یا پھر سب کچھ یوں ہی چلتا رہے گا؟ ہمیں یاد رکھنا چاہیے کہ صرف توپوں کا خاموش ہونا امن نہیں ہوتا۔ امن وہ ہے جو دلوں میں اُترتا ہے جو خوابوں کو جنم دیتا ہے جو نسلوں کو ایک نئے مستقبل کا حوصلہ دیتا ہے، اگر غزہ کے نوجوان اب بھی ایک ویران ملبے میں جنم لیں گے اگر ان کی زندگی صرف جدوجہد اور موت کے بیچ جھولتی رہے گی تو پھر ہم نے امن نہیں صرف خاموشی پیدا کی ہے۔
یہ صرف غزہ کا امتحان نہیں یہ پوری دنیا کا امتحان ہے۔ وہ دنیا جو انسانی حقوق کی علمبردار بنتی ہے جس کے ایوانوں میں جمہوریت کے گیت گائے جاتے ہیں اگر وہ خون میں لت پت معصومیت کے لیے آواز بلند نہیں کر سکتی تو پھر وہ اپنے ہی دعوؤں سے منہ موڑ چکی ہے۔
شفقنا اردو
نوٹ: شفقنا کا اس تحریر کے مندرجات سے متفق ہونا ضروری نہیں
امریکہحماسڈونلڈ ٹرمپغزہ جنگ بندیغزہ نسل کشینیتن یاہو
0 FacebookTwitterLinkedinWhatsappTelegramViberEmail
گزشتہ پوسٹ
’استعفوں کی سیاست‘، پی ٹی آئی کا وفاق اور پنجاب پر دباؤ ڈالنے کا حربہ کامیاب ہوگا؟رائے شاہ نواز
اگلی پوسٹ
سرحدی کشیدگی کے بعد کریک ڈاؤن اور تجارتی بندش جیسے اقدامات کیا افغان طالبان کو ٹی ٹی پی کے خلاف کارروائی پر مجبور کر سکتے ہیں؟

یہ بھی پڑھنا مت بھولیں

اسرائیل اں سال دنیا بھر میں قتل ہونے...

07:47 | بدھ دسمبر 10، 2025

مسلم ممالک کا اعتراض: ٹونی بلیئر کا نام...

04:26 | بدھ دسمبر 10، 2025

عالمی دباؤ: اسرائیل نے اردن کے ساتھ بارڈرکو...

04:13 | بدھ دسمبر 10، 2025

جنگ بندی کے باوجود غزہ میں اسرائیل کی...

15:17 | پیر دسمبر 8، 2025

غزہ میں امن معاہدے کے تحت انخلا کی...

14:43 | پیر دسمبر 8، 2025

کس طرح ٹرمپ کی سٹریٹجک غلطیوں، اورجذباتی قیادت...

13:51 | اتوار دسمبر 7، 2025

يونان ميں فلسطينی پناہ گزين: اميد اور بے...

13:19 | اتوار دسمبر 7، 2025

حماس نے قابض صیہونی افواج کے خلاف ہتھیار...

07:27 | اتوار دسمبر 7، 2025

اسرائیل کا جنگی جنون: اسرائیلی کابینہ نے بجٹ...

03:56 | ہفتہ دسمبر 6، 2025

 رفح کراسنگ یکطرفہ کھولنے کے اسرائیلی بیانات پر...

03:49 | ہفتہ دسمبر 6، 2025

تبصرہ کریں Cancel Reply

میرا نام، ای میل اور ویب سائٹ مستقبل میں تبصروں کے لئے محفوظ کیجئے.

تازہ ترین

  • شہباز شریف کی حکومت کیوں ناکام ہے؟ سید مجاہد علی

  • روس اور ایران کا اسٹریٹجک اتحاد کتنا مضبوط؟ جاوید اختر

  • یو اے ای: غیر قانونی افراد کو پناہ دینے پر کروڑوں کے جرمانے نافذ

  • افغانستان: پنچشیر میں نیشنل ریزسٹنس فرنٹ کا حملہ: 17 طالبان جنگجو ہلاک

  • عمران خان مائنس ہوا تو ایک بھی باقی نہیں رہے گا: بیرسٹر گوہر علی خان

  • اسرائیل اں سال دنیا بھر میں قتل ہونے والے تمام صحافیوں میں سے تقریباً نصف صحافیوں کے قتل کا ذمہ دار

  • بابا وانگا نے 2026 کیلئے کونسی اہم اور بڑی پیشگوئیاں کیں؟

  • مسلم ممالک کا اعتراض: ٹونی بلیئر کا نام ’غزہ امن کونسل‘ سے نکال دیا گیا

  • مائیکروسافٹ کا بھارت میں 17.5 ارب ڈالر کی خطیر سرمایہ کاری کا اعلان

  • پاکستان ڈیفالٹ کے خطرے سے پیچھے ہٹ رہا ہے، آئی ایم ایف رپورٹ

  • یوکرینی صدر کی مشروط انتخاب کرانے پر رضامندی

  • بابر اعظم اور شاہین شاہ آفریدی بگ بیش لیگ کے 15 ویں ایڈیشن میں شرکت کے لیے آسٹریلیا پہنچ گئے

  •  عمران خان کی بہنوں اور پی ٹی آئی کارکنوں پر پولیس کریک ڈاؤن: اڈیالہ کے باہر دھرنا ختم

  • عالمی دباؤ: اسرائیل نے اردن کے ساتھ بارڈرکو غزہ کے امدادی سامان کے لیے کھولنے کا اعلان کردیا

  • قومی اسمبلی کی کمیٹی برائے خزانہ نے اسمارٹ فونز ر عائد ٹیکس میں کمی کا مطالبہ کردیا

  • وزیرستان میں تحصیل ہیڈ کوارٹر اسپتال غیر فعال: متعدد مریض جاں بحق

  • جدہ میں 135 ملی میٹر بارش ریکارڈ : نظام زندگی درہم برہم

  • گوگل میپس کی وہ ٹِرکس جو آپ کو ضرور استعمال کرنی چاہیے

  • ہندوتوا اور ہندوستان کے زیر انتظام کشمیر میں اجتماعی سزا کا کچل دینے والا ظلم/نعیم افضل

  • یورپی ملک میں خواتین نے مردوں کو گھریلو کام کاج کیلئے ہائر کرنا شروع کردیا

مقبول ترین

  • صفائی اور پاکیزگی قرآن و حدیث کی روشنی میں : شفقنا اسلام

  • چھپکلی کی جلد سے متاثرہ بھوک لگانے والا کیپسول

  • میں نے جمہوریت کی مضبوطی کے لیے کام کیا: جوبائیڈن کا قوم سے خطاب

  • کیا ہندوستان کی آنے والی نسلیں مسلم مخالف نفرت میں اس کی زوال پزیری کو معاف کر دیں گی؟/شاہد عالم

  • مہاتیر محمد نے اپنا استعفیٰ پیش کردیا

  • مکمل لکڑی سے تراشا گیا کارکا ماڈل 2 لاکھ ڈالر میں نیلام

  • ایک ارب 70 کروڑ ڈالر کے قرضوں کی ادائیگی معطل کرنے کے معاہدے پر دستخط

  • اسلام آباد: میجر لاریب قتل کیس میں ایک مجرم کو سزائے موت، دوسرے کو عمر قید

  • دی نیشن رپورٹ/پاکستانی جیلوں میں قید خواتین : اگرچہ ان کی چیخیں دب گئی ہیں مگر ان کے دکھ کو نظر انداز نہیں کیا جاسکتا

  • عورتوں سے باتیں کرنا

@2021 - All Right Reserved. Designed


Back To Top
شفقنا اردو | بین الاقوامی شیعہ خبر رساں ادارہ اور تجزیاتی مرکز
  • صفحہ اول
  • تازہ ترین
  • آپ کی خبر
  • بلاگ
  • پاکستان
  • تصویری منظر نامہ
  • دلچسپ و عجیب
  • سائنس و ٹیکنالوجی
  • صحت وتعلیم
  • عالمی منظر نامہ
  • فیچرز و تجزیئے
  • کھیل و کھلاڑی
  • وڈیوز
  • رابطہ