ابھی حال ہی میں محترم عرفان صدیقی صاحب کا ایک مضمون بعنوان ”بہار آئی تو“ نظر سے گزرا۔ اس مضمون میں صدیقی صاحب نے بہت خوبصورتی سے ان انقلابات کی تفصیل بیان کی جو مشرق و سطیٰ کے کئی ممالک میں 2010 کی دہائی کے اوائل میں رونما ہوئے۔ یہ تمام انقلابات ناکامی پر منتج ہوئے۔ اس ہولناک اور مایوس کن تفصیل کو پڑھنے کے بعد یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ کیا وجہ ہے کہ حالیہ دور میں ہونے والے اکثر عوامی انقلابات کامیابی سے ہمکنار ہوئے لیکن اسلامی ممالک میں ہونے والے تمام انقلابات ان عوام کی توقعات پر پورا اترنے میں بری طرح ناکام رہے جنہوں نے اس کی خاطر بہت قربانیاں دی تھیں۔
یہ اس مضمون کا موضوع ہے۔ میں اس مضمون میں صرف ان انقلابات کا تذکرہ کروں گا جو عوامی طاقت کے نتیجے میں رونما ہوئے اور جن کے سامنے حکمرانوں کو گھٹنے ٹیکنے پڑے اور اقتدار سے ہاتھ دھونے پڑے۔
عام تاثر یہ ہے کہ اسلامی دنیا کے پہلے انقلاب کی ابتدا تیونس سے ہوئی اور پھر لیبیا، مصر، یمن اور شام میں عوامی انقلابات رونما ہوئے۔ لیکن حقیقت یہ ہے کہ اسلامی دنیا کا پہلا عوامی انقلاب 1969 میں پاکستان میں رونما ہوا جب عوام سول لباس میں ملبوس ایک فوجی حکمران فیلڈ مارشل ایوب خان کے خلاف کھڑے ہوئے۔ نومبر 1968 میں ایک معمولی واقعہ سے شروع ہونے والی ایک عوامی تحریک نے آناً فاناً پورے ملک کو اپنی لپیٹ میں لے لیا۔ عوامی جلسے اور جلوسوں میں بہت سے لوگ پولیس اور فوج کی گولیوں کا نشانہ بنے۔ ان سینکڑوں جانی قربانیوں کے نتیجے میں فیلڈ مارشل کو اقتدار سے ہاتھ دھونے پڑے۔ میں اس وقت ایف ایس سی کا طالب علم تھا۔ ہر شخص کو امید تھی کہ اب ایک نیا سورج طلوع ہو گا جس میں جمہوری نظام کی بالا دستی ہو گی، عوامی خواہشات کا بول بالا ہو گا، اور ملک ترقی کی راہ پر گامزن ہو گا۔ لیکن ہوا یوں کہ اس انقلاب کے نتیجے میں ایک اور فوجی حکومت قائم ہوئی۔ یہ پاکستان کے منحوس ترین دور کا آغاز تھا۔ اس فوجی دور میں نا صرف ملک دو لخت ہوا بلکہ مشرقی پاکستان میں لاکھوں افراد فوجی بربریت کے نتیجے میں اپنی جان کھو بیٹھے۔ غرض اس عوامی انقلاب سے وابستہ خوابوں کی تعبیر انتہائی بھیانک ثابت ہوئی۔
دوسرا عوامی انقلاب بھی پاکستان میں رونما ہوا۔ 1971 میں ایک سول وار اور پھر بھارت سے جنگ کے نتیجے میں پاکستان دولخت ہو گیا۔ اسی ہزار فوجیوں نے ہتھیار ڈال دیے۔ ایسے میں جنرل یحییٰ خان کو با دل نخواستہ اقتدار سے علیحدہ ہونا پڑا، اور ذوالفقار علی بھٹو ملک کے صدر بن گئے۔ وہ مارشل لا ایڈمنسٹریٹر بھی تھے۔ بھٹو ایک ذہین اور اعلیٰ تعلیم یافتہ انسان تھے۔ ان میں یہ صلاحیت تھی کہ وہ ملک میں ایسی تبدیلیاں لا سکتے تھے جن سے عوام کی حالت سدھر سکتی تھی۔ لیکن ایک وڈیرہ پس منظر سے تعلق رکھنے کی وجہ سے ان کی سوچیں مخالفین کو زیر کرنے کی طرف تھیں۔ ان کی بیشتر صلاحیتیں اس مقصد کے حصول اور اپنے اقتدار کو ہر صورت طول دینے کی طرف مبذول تھیں۔ اس کا مظہر 1977 کے انتخابات میں ریکارڈ دھاندلی تھی جس کے نتیجے میں وہ تین چوتھائی اکثریت حاصل کرنے میں کامیاب ہو گئے۔ نتیجہ یہ ہوا کہ ان کے خلاف ایک تحریک شروع ہوئی جس نے بہت جلد ایک مذہبی تحریک کا رنگ اختیار کر لیا۔ اس عوامی انقلاب کا انجام بھی یہی ہوا کہ فوج دوبارہ اقتدار پر قابض ہو گئی۔ اس فوجی دور میں کیے گئے بہت سے اقدامات، خاص طور پر اسلامی نظام نافذ کرنے کے حوالے سے، کے اثرات آج تک قوم بھگت رہی ہے۔
اب ان انقلابات کا موازنہ کچھ دوسرے انقلابات سے کرتے ہیں۔
جب میں میٹرک میں تھا تو تاریخ کی ایک ضخیم کتاب کورس میں شامل تھی۔ بہت جلد اس تاریخ کی کتاب کی جگہ مطالعہ پاکستان نے لے لی۔ میری تاریخ کی کتاب میں دو عوامی انقلابات کا تفصیلی ذکر تھا۔ اٹھارہویں صدی کے آخر میں فرانس کا انقلاب اور بیسویں صدی کے اوائل میں برپا ہونے والا روس کا انقلاب۔
فرانس کا انقلاب والٹیر اور روسو جیسے عظیم فلسفیوں کی سوچ کا مظہر تھا۔ نتیجہ یہ کہ ایک عوامی خونی انقلاب کے بعد جب صبح طلوع ہوئی تو فرسودہ شاہی اور جاگیردارانہ نظام اپنے اختتام تک پہنچ چکا تھا۔ اس انقلاب نے لبرل جمہوریت کے تصور کو روشناس کروایا۔ اس نے ایسے معاشرے کو جنم دیا جو آزادی اور انصاف کے تصورات پر قائم ہے۔ یہ تصورات دو سو سال سے زیادہ گزر جانے کے باوجود ابھی تک سیاسی نظام کی بنیاد فراہم کرتے ہیں۔
روس کے انقلاب میں کارل مارکس اور فریڈرک اینجلز جیسے وقت کے عظیم ترین دانشوروں کی سوچوں سے استفادہ کیا گیا تھا۔ اس کے نتیجے میں بادشاہت کا خاتمہ ہو گیا اور سوشلسٹ خیالات کو پروان چڑھنے کا موقعہ ملا۔ پہلی جنگ عظیم کے بعد بہت سے دوسرے ممالک نے ان خیالات کی روشنی میں سوشلسٹ نظریات کو اپنانے کی کوشش کی۔ روسی انقلاب بیسویں صدی کے اہم ترین واقعات میں شامل ہے۔
اب ذرا حالیہ دور میں یورپی ممالک میں ہونے والے انقلابات پر نظر ڈالتے ہیں۔ 1980 کی دہائی میں مشرقی یورپ میں کمیونسٹ نظام کے خلاف عوامی انقلابات کی لہر اٹھی۔ 1980 میں پولینڈ سے اٹھتی ہوئی اس لہر نے 1989 تک ہنگری، مشرقی جرمنی، چیکو سلواکیہ، اور رومانیہ کو اپنی لپیٹ میں لے لیا۔ عوامی قوت کے سامنے دہائیوں سے فوج اور ڈکٹیٹرشپ پر قائم نظام خس و خاشاک کی طرح بہہ گئے۔ لیکن جب صبح ہوئی تو ان سب ملکوں میں جمہوری نظام قائم ہو چکا تھا۔ عوام کو اپنے خوابوں کی تعبیر مل چکی تھی۔
انقلاب کے نتیجے میں چیکوسلواکیہ دو ممالک، چیک ریپبلک اور سلوواکیہ میں منقسم ہو گیا۔ یہ تبدیلی خونریزی کے نتیجے میں نہیں بلکہ جمہوری انداز میں واقع ہوئی۔ سب سے رومانٹک لمحہ تو وہ تھا جب انقلابیوں نے ایک ادیب اور دانشور، Vaclav Havel کو صدر منتخب کر لیا۔ اس انقلاب کو velvet یا مخملیں انقلاب کے نام سے یاد کیا جاتا ہے۔ اس انقلاب کے نتیجے میں کمیونزم کی جگہ جمہوری نظام نے لے لی۔ نئے سسٹم میں دونوں ممالک کی اقتصادی ترقی اور عوام کی حالت مغربی یورپ سے مختلف نہیں۔ یہ سب اس وجہ سے ممکن ہو سکا کہ سوسائٹی تعلیم یافتہ تھی۔ بس نظام بدلنے کی دیر تھی کہ ملک ترقی کی راہوں پر گامزن ہو گیا۔
ایک اور مثال مشرقی جرمنی کی دیتا ہوں۔
اسی اور نوے کی دہائیوں میں میں تقریباً ہر سال گرمیوں کی چھٹیوں میں میونخ کے قرب میں واقع میکس پلانک انسٹیٹیوٹ برائے کوانٹم آپٹیکس میں مدعو ہوتا تھا۔ اس کا شمار دنیا کے بہترین ریسرچ انسٹیٹیوٹ میں ہوتا تھا۔ سال بھر، اور خاص طور پر گرمیوں میں، عالمی سطح کے سائنسدان یہاں مدعو ہوتے تھے۔ اس انسٹیٹیوٹ کے ڈائریکٹر ہربرٹ والتھر ایک نامی گرامی سائنسدان تھے۔ اس وقت مغربی جرمنی میں یہ تصور کیا جاتا تھا کہ مشرقی جرمنی اقتصادی طور پر بہت پیچھے رہ گیا ہے۔
پھر 1989 میں ایک عوامی انقلاب کے نتیجے میں دیوار برلن گرا دی گئی اور دونوں جرمنی پھر ایک ملک بن گئے۔ مجھے چند سال بعد برلن یونیورسٹی جانے اور لیکچر دینے کا اتفاق ہوا۔ اس وقت بھی دونوں حصوں میں تفاوت نمایاں تھا۔ لیکن بہت تیزی سے مشرقی جرمنی ہر لحاظ سے ان علاقوں کے ہم پلہ آ گیا جو پہلے مغربی جرمنی کہلاتے تھے۔ یہ سب اس لیے ممکن ہو سکا کہ تمام مسائل کے باوجود مشرقی جرمنی کا تعلیمی نظام مغربی جرمنی سے کسی طور کم نہیں تھا۔
ایک دلچسپ بات یہ ہے کہ جب مجھے برلن یونیورسٹی میں لیکچر دینے کا موقع ملا تو میرے میزبان پروفیسر نے مجھے دیوار برلن کے ایک چھوٹے ٹکڑے کا تحفہ پیش کیا جو اب تک میرے پاس محفوظ ہے۔ مشرقی جرمنی کے لیے وہ لمحہ بہت جذباتی اور فخریہ تھا جب عوام کی طاقت کے سامنے دیوار برلن، جس نے شہر کو دو حصوں میں تقسیم کر رکھا تھا، گرا دی گئی۔ اس کے ٹکڑے ان کی انقلابی جدوجہد کی علامت تھے۔
اب اس سوال کی طرف لوٹتے ہیں کہ کیا وجہ ہے کہ تمام مسلمان ملکوں بشمول پاکستان میں عوامی انقلابات کے نتیجے میں آنے والی قیادتیں تباہ کن ثابت ہوئیں۔ وہ تو ان قیادتوں سے بھی بدتر ثابت ہوئیں جن کے خلاف عوام نے بغاوت کا علم بلند کیا تھا اور بعض اوقات ہزاروں کی تعداد میں قربانیاں دیں۔ دوسری طرف مشرقی یورپ کے ممالک میں ایسا نہیں ہوا۔ ان ملکوں میں تو ان عوامی انقلابات کے نتیجے میں ابھرنے والی قیادتیں عوام کی امنگوں کی نمائندگی کرتی تھیں۔ ڈکٹیٹرشپ کی جگہ جمہوری نظام نے لے لی۔ ترقی کا پہیہ اس طور رواں دواں ہوا کہ اب مشرقی یورپ کی اقتصادی صورت حال اور عوام کی حالت مغربی یورپ سے مقابلہ کرتی نظر آتی ہے۔
میرے نزدیک یہ ایک بہت اہم سوال ہے جس پر ہمارے دانشوروں کو سنجیدگی سے غور کرنے کی ضرورت ہے۔ یہاں میں اپنی رائے پیش کرتا ہوں۔
اگر ایک لفظ میں، میں اس فرق کو واضح کروں تو وہ لفظ ہے تعلیم۔ عوامی انقلاب صرف ان ممالک میں کامیاب ہوتے ہیں، جہاں کے عوام جدید تعلیم سے بہرہ ور ہوں۔ جن ممالک میں تعلیم کی بنیادیں مضبوط تھیں، وہاں عوامی انقلاب کے نتیجے میں آنے والی قیادت ایک شاندار مستقبل کی ضامن ہوتی ہے، اور جہاں تعلیمی نظام جدید تقاضوں سے ہم آہنگ نہیں اور ان میں بیشتر مسلمان ممالک شامل ہیں، وہاں تقریباً ہمیشہ عوامی انقلاب تباہی کا پیش خیمہ ثابت ہوئے۔
اس بات کو کس طور سمجھا جائے؟
انقلاب ان ممالک میں برپا ہوتے ہیں جہاں اظہار رائے پر پابندی ہوتی ہے۔ جب طاقت کے ذریعے عوام کی آواز کو دبایا جاتا ہے تو ایک لاوا پکنا شروع ہوتا ہے، جو پھر ایک دن اس طرح پھٹتا ہے کہ پورے سسٹم کی بنیادیں ہل جاتی ہیں۔ جس آئین اور قوانین کے تحت ملک کا نظام چل رہا ہوتا ہے وہ تباہی سے ہمکنار ہوتے ہیں۔ اس صورت حال میں ایک خلا پیدا ہوتا ہے جس کو پر کرنے کے لیے سوسائٹی میں موجود مختلف قوتیں آگے بڑھتی ہیں اور سب سے طاقتور حاوی ہو جاتی ہے۔
ایرانی انقلاب کی ابتدا عام افراد کے ہاتھوں شروع ہوئی جو شاہ کے جابرانہ انداز حکومت سے تنگ آ چکے تھے۔ لیکن جلد ہی اس انقلاب پر مذہبی رنگ چڑھتا چلا گیا اور قیادت مذہبی رہنماؤں کے ہاتھ میں چلی گئی۔ شاہ کی جگہ مذہبی ڈکٹیٹرشپ نے لے لی۔
پاکستان، مصر اور کئی دوسرے ممالک میں فوج نے اقتدار پر قبضہ کر لیا۔ ان لوگوں کے خواب کی تعبیر کتنی ہولناک ثابت ہوئی جنہوں نے ایک جذبے کے تحت اپنی جان پر کھیل کر تحریکیں چلائی تھیں۔
شام اور لیبیا جیسے ممالک میں عوامی انقلاب نے بہتری لانے کی بجائے ملک کی بنیادوں تک کو تباہ کر کے رکھ دیا۔
ذرا ایک لمحے کے لیے آنکھیں بند کر کے سوچیں کہ پاکستان میں 1969 اور 1977 کے انقلابات کے نتیجے میں کیا واقعی اس بات کی امید کی جا سکتی تھی کہ ایک ایسا جمہوری نظام قائم ہو گا جو عوام کی امنگوں کے مطابق ہو گا۔ ملک ترقی کی راہوں پر گامزن ہو گا۔ کیا ایسے لوگ افراط میں موجود تھے جو ملک کی باگ ڈور سنبھالنے کے اہل تھے؟
کیا تیونس، مصر، لیبیا، یمن اور شام میں توقع کی جا سکتی تھی کہ نئی قیادت ایسے تعلیم یافتہ افراد پر مشتمل ہو گی جو ملک کی تقدیر بدل دینے کی صلاحیت رکھتے ہوں گے؟
اگر ان سوالات کا جواب نفی میں ہے تو ایسا کیوں ہے؟
سیدھی بات ہے کہ ایک ایسے ملک میں جہاں معاشرے کی ترقی میں تعلیم کی اہمیت کا ادراک بالکل نہ ہو اور جہاں جہالت اور مذہبی جنونیت کا دور دورہ ہو، وہاں یہ سوچنا بھی محال ہے کہ کوئی عوامی انقلاب ایک ایسی ترقی پسند قیادت کو سامنے لانے کی صلاحیت رکھتا ہے جو جدید تعلیم سے آراستہ ہو۔
ایک عوامی انقلاب کے نتیجے میں ملکی نظام درہم برہم ہو جاتا ہے۔ اس بوسیدہ نظام کی جگہ لینے کے لئے جس عنصر کی فراخدلی سے موجودگی ضروری ہے وہ ہے مختلف شعبوں میں اعلیٰ تعلیم یافتہ افراد۔
صورت حال کچھ ایسی ہے کہ اگر آپ کا اپنا گھر خستہ حال اور بوسیدہ محسوس ہو، تو آپ اس کی دیواریں گرا دیتے ہیں۔ لیکن اگر معمار اور انجینئر میسر نہ ہوں تو گھر کی اس طور تعمیر کہ پرانے مسائل حل ہو جائیں ناممکن ہو جاتا ہے۔ اس صورت میں زیادہ امکان یہی ہے کہ گھر کی صورت حال مزید بگڑ جائے گی۔
ذرا غور کریں کہ آپ کی نظر میں پورے ملک میں کتنے افراد ہیں جو کسی یونیورسٹی کا وائس چانسلر بننے کے اہل ہیں۔ جن کا تعلیمی نظام میں اتنا بڑا نام ہو کہ وہ یونیورسٹی کو ایک اعلیٰ مقام تک پہنچانے کی صلاحیت رکھتے ہوں۔
آپ کی نظر میں کتنے افراد ہیں جو ملک کا وزیر خزانہ بننے کے اہل ہیں جو ملکی معیشت کو ایسی بلندیوں تک لے جانے کی صلاحیت رکھتے ہوں جس کی بدولت پاکستان دنیا کی کامیاب ترین معیشت میں شامل ہو جائے۔ پاکستان میں بین الاقوامی سطح کے معیشت دانوں کی تعداد کتنی ہے؟
آپ کی نظر میں کتنے افراد ہیں جو تعلیم اور سائنس کے شعبوں میں ایسی قیادت فراہم کر سکتے ہوں کہ ملک میں ایک تعلیمی انقلاب رونما ہو جائے؟
مجھے یاد ہے کہ اپنے قائداعظم یونیورسٹی کے دور میں جب ایک وائس چانسلر کی ریٹائرمنٹ کے بعد نئے وائس چانسلر کی اپائنٹمنٹ کے بارے میں قیاس آرائیاں ہو رہی ہوتی تھیں تو میں یہ سوال کرتا تھا کہ ہم میں سے کوئی بھی پانچ ایسے افراد کا پینل سوچ سکتا ہے جس میں سے ہر فرد ان صلاحیتوں سے مالامال ہو اور جس کا تعلیمی نظام میں اتنا بڑا نام ہو کہ وہ یونیورسٹی کو ایک اعلیٰ مقام تک پہنچانے کی صلاحیت رکھتا ہو۔ ایک عام تاثر تھا کہ ایسا ممکن نہیں۔
ملکی صورت حال اس سے مختلف نہیں۔ آپ اپنی پسند کی سیاسی جماعت پر نظر ڈالیں اور تصور کریں کہ اس کے پاس پارلیمنٹ میں دو تہائی نہیں بلکہ تین چوتھائی اکثریت ہے اور وہ ہر وہ کچھ کرنے کی پوزیشن میں ہے جو وہ کرنا چاہتی ہے۔ ایک مرتبہ پھر آنکھیں بند کر کے سوچیں کہ وزیر خزانہ کون ہو گا؟ وزیر خارجہ کون ہو گا؟ وزیر تعلیم کون ہو گا؟ وزیر سائنس اور ٹیکنالوجی کون ہو گا؟ وزیر توانائی کون ہو گا؟
اس طور آپ ذہن میں ایک ایسی کیبنٹ کا تصور کریں جو آپ کے نزدیک ڈریم ٹیم ہو۔ اور پھر سوال کریں کہ کیا یہ ٹیم واقعی آپ کے خواب پورے کرنے کی صلاحیت رکھتی ہے۔ اگر آپ کا جواب نفی میں ہے تو سوچ لیجیے کہ کوئی پالیسی اور کوئی عوامی انقلاب ملک کو ان ترقی کی راہوں پر ڈالنے کی صلاحیت نہیں رکھتا جو ایک محدود مدت میں ہمیں صف اول کا ملک بنا دے۔
ہماری صورت حال تو یہ ہے کہ اگر صرف ایسے افراد مل جائیں جن پر کرپشن اور اقربا پروری کا داغ نہ ہو تو غنیمت لگتا ہے۔ ایسے افراد تو معاشرے میں ناپید ہیں جو خواب دیکھنا جانتے ہیں اور پھر ان خوابوں کی تکمیل کی صلاحیتیں رکھتے ہیں۔ ایسے افراد تو ایک اعلیٰ تعلیمی نظام کی پیداوار ہوتے ہیں۔ ایک اعلیٰ تعلیمی نظام ہی یہ ممکن بناتا ہے کہ ایسے سینکڑوں بلکہ ہزاروں افراد ہوں، جن میں سے کسی ایک کو بھی ملک کا وزیر خزانہ، وزیر تعلیم، وزیر پیداوار یا کسی اور محکمے کا وزیر اس اعتماد کے ساتھ فائز کیا جا سکے کہ وہ عوام کی امنگوں پر پورا اتر سکے۔
اس طور یہ سمجھنا آسان ہو جاتا ہے کہ پاکستان اور دوسرے اسلامی ممالک میں عوامی انقلاب کیوں ناکام ہوئے اور ایسا کیوں ہے کہ مجھ جیسے افراد اس بات کا تصور بھی نہیں کر پاتے ہیں کہ وہ اپنی زندگی میں اپنے ملک اور معاشرے کو دنیا کے عظیم معاشروں کی صف میں دیکھ پائیں گے۔
ضرورت اس بات کی ہے کہ اس جنگجو ذہنیت سے نکلا جائے جس کا ہم آزادی کے ابتدائی لمحات سے آج تک شکار رہے ہیں اور جس نے ہماری بنیادوں کو کھوکھلا کر دیا ہے، اور معاشرے کی تعمیر نو اس بنیاد پر کی جائے کہ ایسی تعلیم، جو جدید تقاضوں سے ہم آہنگ ہو اور جو تخلیقی صلاحیتوں کی آبیاری کرتی ہو، ملک کے ہر بچے کو میسر ہو۔
پاکستان میں کس طور ایک تعلیمی انقلاب کی بنیاد رکھی جائے؟ اس بارے میں آئندہ۔
شفقنا اردو
نوٹ: شفقنا کا اس تحریر کے مندرجات سے متفق ہونا ضروری نہیں