Top Posts
شہباز شریف کی حکومت کیوں ناکام ہے؟ سید...
روس اور ایران کا اسٹریٹجک اتحاد کتنا مضبوط؟...
یو اے ای: غیر قانونی افراد کو پناہ...
افغانستان: پنچشیر میں نیشنل ریزسٹنس فرنٹ کا حملہ:...
عمران خان مائنس ہوا تو ایک بھی باقی...
اسرائیل اں سال دنیا بھر میں قتل ہونے...
بابا وانگا نے 2026 کیلئے کونسی اہم اور...
مسلم ممالک کا اعتراض: ٹونی بلیئر کا نام...
مائیکروسافٹ کا بھارت میں 17.5 ارب ڈالر کی...
پاکستان ڈیفالٹ کے خطرے سے پیچھے ہٹ رہا...
  • Turkish
  • Russian
  • Spanish
  • Persian
  • Pakistan
  • Lebanon
  • Iraq
  • India
  • Bahrain
  • French
  • English
  • Arabic
  • Afghanistan
  • Azerbaijan
شفقنا اردو | بین الاقوامی شیعہ خبر رساں ادارہ اور تجزیاتی مرکز
اردو
  • صفحہ اول
  • تازہ ترین
  • آپ کی خبر
  • بلاگ
  • پاکستان
  • تصویری منظر نامہ
  • دلچسپ و عجیب
  • سائنس و ٹیکنالوجی
  • صحت وتعلیم
  • عالمی منظر نامہ
  • فیچرز و تجزیئے
  • کھیل و کھلاڑی
  • وڈیوز
  • رابطہ

مصر میں جلاوطن کیے گئے فلسطینی قیدیوں کو آباد کرنے کے لیے ممالک کی فہرست میں پاکستان بھی شامل

by TAK 10:11 | ہفتہ اکتوبر 25، 2025
10:11 | ہفتہ اکتوبر 25، 2025 44 views
44
شفقنا اردو: مصر میں جلاوطن کیے گئے فلسطینی قیدیوں کو آباد کرنے کے لیے جن ممالک پر غور کیا جا رہا ہے ان میں قطر، ترکیہ اور ملائیشیا کے علاوہ پاکستان بھی شامل ہے۔
غیر ملکی خبر رساں ادارے ’اے ایف پی‘ کی رپورٹ کے مطابق امریکی ثالثی سے ہونے والے جنگ بندی معاہدے کے بعد، جو 10 اکتوبر سے نافذ العمل ہے، حماس نے تقریباً 2 ہزار فلسطینی قیدیوں کے بدلے تمام 20 زندہ اسرائیلی یرغمالیوں کو رہا کر دیا تھا۔
ان میں سے زیادہ تر قیدی غزہ اور مغربی کنارے واپس چلے گئے، تاہم 154 فلسطینی سابق قیدیوں کو جلاوطن کر کے بسوں کے ذریعے مصر بھیج دیا گیا، جہاں حکام نے انہیں ایک فائیو اسٹار ہوٹل میں رکھا ہوا ہے جہاں سے وہ اجازت کے بغیر باہر نہیں نکل سکتے۔
یاد رہے کہ مصر کے اسرائیل کے ساتھ باضابطہ سفارتی تعلقات ہیں اور اس نے قیدیوں کے تبادلے میں کلیدی ثالثی کردار ادا کیا جب کہ جنگ بندی کے پچھلے معاہدوں کے دوران بھی ہزاروں فلسطینی قیدیوں کو اسی طرح کے تبادلوں کے ذریعے رہا کیا گیا تھا۔
مصر نے سب سے پہلے ان قیدیوں میں سے 150 کو جنوری میں قبول کیا تھا اور 8 ماہ سے زیادہ عرصہ گزرنے کے باوجود ان میں سے زیادہ تر اب بھی اسی ہوٹل میں مقید ہیں، ان کے مستقبل کے بارے میں کوئی واضح فیصلہ نہیں کیا گیا۔
قاہرہ میں موجود یہ تمام افراد اسرائیلی فوجی عدالتوں سے قتل اور مزاحمتی تنظیموں کی رکنیت رکھنے کے الزامات میں عمر قید کی سزا پاچکے ہیں، تاہم، اقوام متحدہ کے ماہرین متعدد مواقع پر ان فیصلوں کو غیر منصفانہ قرار دے چکے ہیں، جنہیں مقبوضہ علاقوں میں فلسطینیوں کے خلاف دہائیوں سے جاری غیر عادلانہ مقدمات کا حصہ سمجھا جاتا ہے۔
بین الاقوامی انسانی حقوق کی تنظیموں نے بھی اسرائیلی عدالتوں پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ یہ عدالتیں دراصل قبضے کے نظام کا حصہ ہیں اور فلسطینیوں کو منصفانہ ٹرائل کے بنیادی حقوق فراہم نہیں کرتیں۔
دوسری جانب، قاہرہ میں موجود ان فلسطینی سابق قیدیوں کو اب نئے مسائل کا سامنا ہے، ان کے پاس نقل و حرکت کی آزادی نہیں، کام کے اجازت نامے نہیں، اور یہ بھی واضح نہیں کہ ان کا اگلا قدم کیا ہوگا جب کہ مصری حکومت نے اب تک ان کی قانونی حیثیت کے بارے میں کوئی باضابطہ بیان جاری نہیں کیا۔
45 سالہ مراد ابو الرب پر 2006 میں الفتح سے وابستہ تنظیم ’الاقصیٰ شہدا بریگیڈ‘ کے ایک آپریشن کے دوران 4 اسرائیلی فوجیوں کو ہلاک کرنے کا الزام ہے، انہوں نے ’اے ایف پی‘ کو بتایا کہ کوئی عرب ملک ہمیں قبول کرنے پر آمادہ نہیں تھا۔
ان کا کہنا تھا کہ ہم 20 سال سے اپنے خاندانوں سے جدا تھے اور اب وہ غیر یقینی صورتحال میں زندگی گزار رہے ہیں، یہاں آکر بھی کچھ نہیں بدلا، میں اب بھی اپنی ماں یا بہن بھائیوں سے نہیں مل سکتا، جب مجھے گرفتار کیا گیا، میری چھوٹی بہن 15 سال کی تھی اور جب میں نے اسے ویڈیو کال پر دیکھا تو میں نے اسے پہچانا ہی نہیں۔
اپنی 19 سالہ قید کے دوران، ابو الرب کو 8 مختلف اسرائیلی جیلوں میں منتقل کیا گیا، اور وہ کسی ایک جیل میں چند ماہ سے زیادہ نہیں رہے۔
ایک اور قیدی جو قتل کے الزام میں 22 سال اسرائیلی جیلوں میں قید رہے، جس پر پاپولر فرنٹ فار دی لبرریشن آف فلسطین سے وابستگی کا الزام تھا، نے اپنی رہائی سے قبل کے لمحات کو سب سے اذیت ناک قرار دیا۔
ان کا کہنا تھا کہ درجنوں قیدیوں کو رسیوں سے باندھ دیا گیا۔ ہمیں آنکھوں پر پٹیاں باندھ کر گھٹنوں کے بل بٹھایا گیا، پھر زمین پر منہ کے بل لٹا دیا گیا اور ہاتھ باندھ دیے گئے۔
50 سالہ محمود العرضہ، جنہیں قتل اور اسلامی جہاد تنظیم سے وابستگی کے الزام میں قید کیا گیا تھا، نے کہا کہ قید کے آخری دو سال ان کی زندگی کے سب سے بدترین تھے، روزانہ کی بنیاد پر مارپیٹ اور تضحیک کی جاتی تھی۔
فلسطینی اتھارٹی کے مطابق، تقریباً 11 ہزار فلسطینی اب بھی اسرائیلی قید میں ہیں جن پر تنازع سے متعلق الزامات عائد ہیں جب کہ ان کی ممکنہ آبادکاری کے حوالے سے پاکستان جیسے ممالک میں بات چیت جاری ہے، حسن عبد ربو نے بتایا کہ یہ تمام افراد اب بھی مصر میں مقیم ہیں اور ان کے قیام کے اخراجات قطر برداشت کر رہا ہے۔
اسرائیلفلسطینی قیدیمصرمغربی کنارہ
0 FacebookTwitterLinkedinWhatsappTelegramViberEmail
گزشتہ پوسٹ
پاکستان کی متوازن خارجہ پالیسی نے عالمی منظرنامہ بدل کر سفارتکاری میں نئے افق کھول دیے ہیں: فارن پالیسی
اگلی پوسٹ
دریائے کابل پر افغان طالبان کے ڈیم کی تعمیر کے اعلان پر پاکستان کا محتاط ردعمل

یہ بھی پڑھنا مت بھولیں

اسرائیل اں سال دنیا بھر میں قتل ہونے...

07:47 | بدھ دسمبر 10، 2025

عالمی دباؤ: اسرائیل نے اردن کے ساتھ بارڈرکو...

04:13 | بدھ دسمبر 10، 2025

یورو ویژن 2026 :اسرائیل کو شرکت کی اجازت،...

09:16 | جمعہ دسمبر 5، 2025

مقبوضہ مغربی کنارے میں 2 سال میں اسرائیلی...

15:20 | ہفتہ نومبر 29، 2025

غزہ جنگ بندی کے باوجود انسانی صورت حال...

04:23 | منگل نومبر 25، 2025

حماس نے اسرائیل کی غزہ جنگ بندی کی...

02:45 | اتوار نومبر 23، 2025

اسرائیل اور ریپ کا ہتھیار/وسعت اللہ خان

13:26 | ہفتہ نومبر 22، 2025

پاکستان کو کسی صورت بھی فوج غزہ نہیں...

03:55 | جمعرات نومبر 20، 2025

پاکستان نے مزید 100 ٹن امدادی سامان غزہ...

04:29 | بدھ نومبر 19، 2025

اسرائیلی فوج نے مغربی کنارے میں 2 بچوں...

04:27 | جمعہ نومبر 14، 2025

تبصرہ کریں Cancel Reply

میرا نام، ای میل اور ویب سائٹ مستقبل میں تبصروں کے لئے محفوظ کیجئے.

تازہ ترین

  • شہباز شریف کی حکومت کیوں ناکام ہے؟ سید مجاہد علی

  • روس اور ایران کا اسٹریٹجک اتحاد کتنا مضبوط؟ جاوید اختر

  • یو اے ای: غیر قانونی افراد کو پناہ دینے پر کروڑوں کے جرمانے نافذ

  • افغانستان: پنچشیر میں نیشنل ریزسٹنس فرنٹ کا حملہ: 17 طالبان جنگجو ہلاک

  • عمران خان مائنس ہوا تو ایک بھی باقی نہیں رہے گا: بیرسٹر گوہر علی خان

  • اسرائیل اں سال دنیا بھر میں قتل ہونے والے تمام صحافیوں میں سے تقریباً نصف صحافیوں کے قتل کا ذمہ دار

  • بابا وانگا نے 2026 کیلئے کونسی اہم اور بڑی پیشگوئیاں کیں؟

  • مسلم ممالک کا اعتراض: ٹونی بلیئر کا نام ’غزہ امن کونسل‘ سے نکال دیا گیا

  • مائیکروسافٹ کا بھارت میں 17.5 ارب ڈالر کی خطیر سرمایہ کاری کا اعلان

  • پاکستان ڈیفالٹ کے خطرے سے پیچھے ہٹ رہا ہے، آئی ایم ایف رپورٹ

  • یوکرینی صدر کی مشروط انتخاب کرانے پر رضامندی

  • بابر اعظم اور شاہین شاہ آفریدی بگ بیش لیگ کے 15 ویں ایڈیشن میں شرکت کے لیے آسٹریلیا پہنچ گئے

  •  عمران خان کی بہنوں اور پی ٹی آئی کارکنوں پر پولیس کریک ڈاؤن: اڈیالہ کے باہر دھرنا ختم

  • عالمی دباؤ: اسرائیل نے اردن کے ساتھ بارڈرکو غزہ کے امدادی سامان کے لیے کھولنے کا اعلان کردیا

  • قومی اسمبلی کی کمیٹی برائے خزانہ نے اسمارٹ فونز ر عائد ٹیکس میں کمی کا مطالبہ کردیا

  • وزیرستان میں تحصیل ہیڈ کوارٹر اسپتال غیر فعال: متعدد مریض جاں بحق

  • جدہ میں 135 ملی میٹر بارش ریکارڈ : نظام زندگی درہم برہم

  • گوگل میپس کی وہ ٹِرکس جو آپ کو ضرور استعمال کرنی چاہیے

  • ہندوتوا اور ہندوستان کے زیر انتظام کشمیر میں اجتماعی سزا کا کچل دینے والا ظلم/نعیم افضل

  • یورپی ملک میں خواتین نے مردوں کو گھریلو کام کاج کیلئے ہائر کرنا شروع کردیا

مقبول ترین

  • صفائی اور پاکیزگی قرآن و حدیث کی روشنی میں : شفقنا اسلام

  • چھپکلی کی جلد سے متاثرہ بھوک لگانے والا کیپسول

  • میں نے جمہوریت کی مضبوطی کے لیے کام کیا: جوبائیڈن کا قوم سے خطاب

  • کیا ہندوستان کی آنے والی نسلیں مسلم مخالف نفرت میں اس کی زوال پزیری کو معاف کر دیں گی؟/شاہد عالم

  • مہاتیر محمد نے اپنا استعفیٰ پیش کردیا

  • مکمل لکڑی سے تراشا گیا کارکا ماڈل 2 لاکھ ڈالر میں نیلام

  • ایک ارب 70 کروڑ ڈالر کے قرضوں کی ادائیگی معطل کرنے کے معاہدے پر دستخط

  • اسلام آباد: میجر لاریب قتل کیس میں ایک مجرم کو سزائے موت، دوسرے کو عمر قید

  • دی نیشن رپورٹ/پاکستانی جیلوں میں قید خواتین : اگرچہ ان کی چیخیں دب گئی ہیں مگر ان کے دکھ کو نظر انداز نہیں کیا جاسکتا

  • عورتوں سے باتیں کرنا

@2021 - All Right Reserved. Designed


Back To Top
شفقنا اردو | بین الاقوامی شیعہ خبر رساں ادارہ اور تجزیاتی مرکز
  • صفحہ اول
  • تازہ ترین
  • آپ کی خبر
  • بلاگ
  • پاکستان
  • تصویری منظر نامہ
  • دلچسپ و عجیب
  • سائنس و ٹیکنالوجی
  • صحت وتعلیم
  • عالمی منظر نامہ
  • فیچرز و تجزیئے
  • کھیل و کھلاڑی
  • وڈیوز
  • رابطہ