Top Posts
احمد الاحمد ہمارے ’ہیرو‘ ہیں،آسٹریلوی وزیراعظم
اسرائیل پر تنقید: امریکی سیاست میں اب کوئی...
بگ بیش میں شاہین آفریدی کا مایوس کُن...
بھارت میں مردہ شخص سب سے زیادہ ووٹ...
واٹس ایپ ہیک ہونے کی صورت میں کیا...
علیمہ خان نے گزشتہ دنوں سوشل میڈیا پر...
ڈیرہ اسماعیل خان: کلاچی آپریشن میں 7 دہشت...
کیا فیض سے جان چھوٹ گئی؟ حامد میر
آئی ایم ایف اور اس کے تخلیق کردہ...
بلاول بھٹو کے مثبت تبصروں پر مریم نواز...
  • Turkish
  • Russian
  • Spanish
  • Persian
  • Pakistan
  • Lebanon
  • Iraq
  • India
  • Bahrain
  • French
  • English
  • Arabic
  • Afghanistan
  • Azerbaijan
شفقنا اردو | بین الاقوامی شیعہ خبر رساں ادارہ اور تجزیاتی مرکز
اردو
  • صفحہ اول
  • تازہ ترین
  • آپ کی خبر
  • بلاگ
  • پاکستان
  • تصویری منظر نامہ
  • دلچسپ و عجیب
  • سائنس و ٹیکنالوجی
  • صحت وتعلیم
  • عالمی منظر نامہ
  • فیچرز و تجزیئے
  • کھیل و کھلاڑی
  • وڈیوز
  • رابطہ

ملکی ترقی کی راہ میں اصل رکاوٹ/عثمان دموہی

by TAK 15:27 | ہفتہ اکتوبر 25، 2025
15:27 | ہفتہ اکتوبر 25، 2025 102 views
102
یہ تحریر ایکسپریس نیوز میں شائع ہوئی
اس وقت ملکی صورت حال یہ ہے کہ جیسے جیسے وقت گزر رہا ہے، حالات خراب سے خراب تر ہوتے جا رہے ہیں۔ امن و امان کی صورت حال تو خراب ہے ہی معاشی مسائل نے ملک کی جڑیں ہلا دی ہیں۔ ایک طرف روپیہ اپنی قدر کھوتا جا رہا ہے تو دوسری جانب مہنگائی کے عفریت نے ملک کے تمام ہی طبقوں کو پریشان کر دیا ہے۔
غریب کی تو بات ہی کیا ہے، اب تو متوسط سے لے کر امیر گھرانے بھی بے چین و پریشان نظر آتے ہیں۔ اس کی وجہ ہمارے ماہرین ہماری حکومتوں کی غلط پالیسیاں قرار دیتے ہیں مگر موجودہ حکومت تو صاف طور پر واضح کر چکی ہے کہ ملکی موجودہ معاشی صورت حال کی وہ ذمے دار نہیں ہے وہ تو دن رات ملکی حالات کو درست کرنے میں لگی ہوئی ہے اور بلکہ اس کا دعویٰ ہے کہ اس نے حالات کو پہلے سے بہت بہتر کر دیا ہے ورنہ پچھلی حکومت تو ایسے حالات چھوڑ کرگئی تھی کہ ملک کو سنبھالنا ہی بہت مشکل تھا مگر اس کے مطابق اس نے حالات سنبھال لیے ہیں اور آہستہ آہستہ تمام معاملات درست ہو جائیں گے، البتہ اس میں وقت ضرور لگے گا۔
جب لوگ سابقہ حکومت کے لوگوں سے رجوع کرتے ہیں تو وہ اپنا پلہ جھاڑ دیتے ہیں اورکہتے ہیں کہ وہ تو اقتدار سے ہٹائے جاتے وقت ملکی تمام حالات کو بہترین سطح پر چھوڑ کر آئے تھے۔ اس وقت ملکی خزانہ بھی بھرا ہوا تھا، مہنگائی سمیت تمام ہی حالات بہتر تھے۔ بے روزگاری سے لے کر امن و امان تک کنٹرول میں تھے، تجارتی سرگرمیاں بھی عروج پر تھیں۔ عوام میں ہماری حکومت کے لیے بہترین جذبات تھے، اس لیے کہ ہماری تمام پالیسیاں عوامی مفاد میں تھیں، عوام ان کی حکومت کو پسند کرتے تھے، بس اسے کیا کہا جائے کہ ہماری حکومت کو زبردستی ہٹا دیا گیا۔
کسی بھی سابقہ حکومت کے وزیر یا مشیر سے بات کرو، وہ بالکل یہی کہے گا، لیکن موجودہ حکومت کہتی ہے کہ پہلے حالات درست نہیں تھے انھوں نے اب اپنی محنت سے درست کر لیے ہیں تو اب عوام موجودہ مہنگائی بے روزگاری اور خراب امن و امان کا کسے ذمے دار قرار دیں؟ پاکستان کا المیہ یہ ہے کہ خواہ سابقہ حکومتیں ہوں یا موجودہ حکومت اقتدار کو سنبھالنے کے بعد مختلف مشکلات کا شکار ہو جاتی ہیں۔ سب سے اول ملک کی سلامتی اور بقا کا مسئلہ درپیش ہوتا ہے۔ سب سے پہلی مصیبت جو ان کے سامنے آتی ہے وہ ملک میں تسلسل سے جاری دہشت گردی ہے پھر دشمن کی جانب سے مسلسل چھیڑ چھاڑ سے نمٹنا بھی ایک بڑا مسئلہ ہے۔
اب تو وقفے وقفے سے اس کے حملوں کا مقابلہ کرنا بھی ایک گمبھیر مسئلہ بن گیا ہے۔ پی ٹی آئی کے دور میں بھی ملک کو بھارتی جارحیت کا سامنا تھا، دشمن نے اس وقت مقبوضہ کشمیر میں اپنے دہشت گردوں سے پلوامہ میں ایک سنگین دہشت گردی کا واقعہ کروایا جس کا الزام سوچے سمجھے منصوبے کے تحت پاکستان پر عائد کر دیا گیا جس کے جواب میں پاکستان پر بلاجواز فضائی حملہ کیا گیا جس سے پاکستان کی فضائی حدود کی خلاف ورزی ہوئی مگر یہ محض سیاسی فائدہ اٹھانے کے لیے کیا گیا تھا اور اب اس نے کچھ ماہ قبل پہلگام میں اپنے ہی لوگوں کو جو کشمیر کی سیرکرنے آئے تھے، اپنے دہشت گردوں سے قتل کرادیا اور جھوٹا الزام پاکستان پر لگا کر پاکستان پر باقاعدہ حملہ کردیا جس کے جواب میں پاکستان نے بھارت کے سات طیارے مار گرائے جن میں قیمتی اور جدید رفال بھی شامل تھے، اس سے قبل ممبئی میں بھی دشمن ایسی ہی شرمناک حرکت کر چکا ہے۔
یہ وہ کارروائیاں ہیں جو پاکستان کو بدنام کرنے اور بیرونی سرمایہ کاری روکنے کے لیے کی جا رہی ہیں۔ دشمن نے ملک میں دہشت گردی کا بھی ایک بڑا جال بچھا دیا ہے۔ اس وقت افغانستان پاکستان کے لیے ایک بڑا سر درد بن گیا ہے۔ افغانستان کے عدم استحکام سے فائدہ اٹھا کر اس نے ٹی ٹی پی کی شکل میں پاکستان کے لیے ایک مستقل دہشت گردی کا دروازہ کھول دیا ہے۔ پاکستان بے شک اس بھارتی پراکسی کا بڑی بے جگری سے مقابلہ کر رہا ہے مگر بڑی تعداد میں شہری اور فوجی شہید ہو رہے ہیں۔ بلوچستان میں دہشت گردی کا جال بچھانے والا بھی بھارت ہے۔ حکومت پاکستان نے بلوچستان میں دہشت گردی کو ختم کرنے کے لیے تمام ہی اقدامات کر لیے ہیں مگر دہشت گردی کم ہونے کے بجائے مزید بڑھ رہی ہے۔
اصل مسئلہ یہ ہے کہ دہشت گردی خواہ پختونخوا میں ہو یا بلوچستان میں دہشت گردوں کو اسلحہ اور پیسہ کہاں سے مل رہا ہے؟ چاہ بہار بندرگاہ سے بلوچستان میں موجود دہشت گردوں کو پہلے وہاں سے پوری سپورٹ مل رہی تھی لیکن اب چاہ بہار بندرگاہ بھارت کے چنگل سے نکل چکی ہے تو ایسے میں ایک بڑا انکشاف ہوا ہے کہ بھارت نے پاکستان کو دہشت گردی کی دلدل میں مزید پھنسانے کے لیے بہت محنت کی ہے اور کافی بھاگ دوڑ کی ہے۔ گوکہ وہ پہلے سے چاہ بہار بندرگاہ حاصل کر چکا تھا مگر اس نے اس پر اکتفا نہیں کیا اور مزید محفوظ اور موثر جگہ حاصل کرنے کے لیے سلطنت عمان سے رجوع کیا۔ عمان کے سابق بادشاہ بھارت کو بہت قدر کی نگاہ سے دیکھتے تھے کیونکہ انھوں نے وہاں سے ہی تعلیم حاصل کی تھی۔
چنانچہ عمان سے اس کا ایک جزیرہ اپنا نیول پورٹ بنانے کے لیے مانگ لیا جس کا اصل مقصد تو وہاں سے گوادر بندرگاہ کو ناکام بنانے کے لیے بلوچستان میں دہشت گردی کو بڑھانا تھا۔ حکومت عمان کی مہربانی کا ناجائز فائدہ اٹھاتے ہوئے وہاں سے پاکستان مخالف کارروائیاں شروع کر دیں جو اب بھی جاری ہیں۔ خبر کے مطابق وہاں بھارت نے ایک لسننگ ٹاور (آوازیں ریکارڈ کرنے والا ٹاور) قائم کیا ہے جہاں بلوچستان میں دہشت گردوں کے خلاف دی جانے والی ہدایات کو ریکارڈ کیا جاتا ہے اور ان ہدایات کی روشنی میں اپنے دہشت گردوں کو حفاظتی تدابیر اختیار کرنے کے ساتھ ساتھ انھیں دہشت گردی کرنے کے لیے نئی ہدایات جاری کی جاتی ہیں۔
اس وقت پی ٹی آئی کی حکومت تھی جب یہ لسننگ ٹاور عمان میں قائم کیا گیا تھا۔ اس دہشت گردانہ کارروائی کو روکنے کے لیے عمانی حکومت سے رجوع کیا جاسکتا تھا مگر ایسا نہیں ہو سکا۔ بہرحال اب جب کہ اس دہشت گردی کے مرکز کا انکشاف ہو چکا ہے تو موجودہ حکومت کو عمان حکومت سے رجوع کرنا چاہیے اور پوری امید ہے کہ عمانی حکومت بھارت کی اس دہشت گردی کو کسی بھی صورت برداشت نہیں کرے گی اور وہ ضرور اس کا قلع قمع کر دے گی۔ گوادر بندرگاہ پاکستان کی ترقی میں اہم کردار ادا کر سکتی ہے۔ اسے تعمیر ہوتے ہوئے اب کئی برس ہو چکے ہیں مگر یہ ابھی تک مکمل طور پر فعال نہیں ہو سکی ہے جس کی وجہ ظاہر ہے بھارتی دہشت گردی ہے جس کا اب بہر صورت تدارک کیا جانا چاہیے۔
شفقنا اردو
نوٹ: شفقنا کا اس تحریر کے مندرجات سے متفق ہونا ضروری نہیں
بلوچستان دہشت گردیپاکستان بیرونی سرمایہ کاری کی شرحپاکستان معاشی ترقیپی ٹی آئی حکومت
0 FacebookTwitterLinkedinWhatsappTelegramViberEmail
گزشتہ پوسٹ
ماحولیاتی تبدیلی اور فضائی آلودگی
اگلی پوسٹ
امریکا میں خطرناک کیڑے کی نئی قسم دریافت

یہ بھی پڑھنا مت بھولیں

ایک نوٹی فکیشن کو قومی سانحہ بنانے کا...

13:30 | بدھ دسمبر 3، 2025

پاکستان میں  سیاسی اور معاشی اشرافیہ سرکاری پالیسوں...

07:55 | جمعرات نومبر 20، 2025

بلوچستان کاممکنہ ’سیاسی حل‘/مظہر عباس

14:13 | بدھ ستمبر 10، 2025

گزشتہ چھ ماہ کے دوران دہشت گردی کے...

03:44 | اتوار جولائی 13، 2025

بڑھتے گھریلو اخراجات نے پاکستانیوں کو قرض لینے...

08:13 | جمعرات جون 19، 2025

طاقت کا توازن بدل گیا، بھارت پاکستان کو...

10:56 | ہفتہ مئی 17، 2025

بلوچستان میں دہشتگردی میں بھارتی سرپرستی کے شواہد...

15:07 | منگل مئی 13، 2025

شہباز شریف کا امتحان/پیر فاروق بہاؤ الحق شاہ

16:56 | منگل اپریل 29، 2025

پاکستان نے بھارت کی ریاستی دہشت گردی کے...

14:31 | منگل اپریل 29، 2025

 جب تک غیور عوام افوج پاکستان کے ساتھ...

14:19 | منگل اپریل 15، 2025

تبصرہ کریں Cancel Reply

میرا نام، ای میل اور ویب سائٹ مستقبل میں تبصروں کے لئے محفوظ کیجئے.

تازہ ترین

  • احمد الاحمد ہمارے ’ہیرو‘ ہیں،آسٹریلوی وزیراعظم

  • اسرائیل پر تنقید: امریکی سیاست میں اب کوئی متنازعہ معاملہ نہیں: اکرم ضیاء

  • بگ بیش میں شاہین آفریدی کا مایوس کُن پرفارمنس کا مظاہرہ

  • بھارت میں مردہ شخص سب سے زیادہ ووٹ لے کر الیکشن جیت گیا

  • واٹس ایپ ہیک ہونے کی صورت میں کیا کرنا ہے؟

  • علیمہ خان نے گزشتہ دنوں سوشل میڈیا پر وائرل ہونے والی عمران خان کی تصویر کو اصلی قرار دے دیا

  • ڈیرہ اسماعیل خان: کلاچی آپریشن میں 7 دہشت گرد ہلاک، لانس نائیک جاں بحق

  • کیا فیض سے جان چھوٹ گئی؟ حامد میر

  • آئی ایم ایف اور اس کے تخلیق کردہ طبقات مد مقابل ہیں/ندیم اختر سرور

  • بلاول بھٹو کے مثبت تبصروں پر مریم نواز کا پرتپاک خیرمقدم، برف کیسے پگھلی؟

  • ٹرمپ مشرق وسطی کے ’طاقتور‘ رہنماؤں کی قربت کے خواہاں کیوں؟

  • ڈر ہے یہ سب ایسے ہی چلتا رہے گا/خالد محمود رسول

  • میانمار کی سیاس رہنما آنگ سان سوچی کی قید میں حالت تشویش ناک

  • سڈنی دہشت گردی پاکستان کے سر تھوپنے کی سازش ناکام

  • پاک بحریہ کا آب سے فضا تک مار کرنے والے جدید میزائل کا کامیاب تجربہ

  • سڈنی حملہ: بھارت اور افغانستان کا پاکستان کے خلاف پروپیگنڈا بے نقاب

  • پاکستان دہشت گردی سے معاشروں کو پہنچنے والے درد اور صدمے کو بخوبی سمجھتا ہے: صدر مملکت

  • جان پر کھیل کر حملہ آور کو روکنے والا شخص قابل احترام ہے: ڈونلڈ ٹرمپ

  • حماس نے غزہ میں اسرائیلی حملے میں اپنے سینئر کمانڈر رائد سعد کی شہادت کی تصدیق کردی

  • آسٹریلیا : دہشت گردی کے واقعےمیں ہلاکتوں کی تعداد 16 ہوگئی

مقبول ترین

  • صفائی اور پاکیزگی قرآن و حدیث کی روشنی میں : شفقنا اسلام

  • چھپکلی کی جلد سے متاثرہ بھوک لگانے والا کیپسول

  • میں نے جمہوریت کی مضبوطی کے لیے کام کیا: جوبائیڈن کا قوم سے خطاب

  • کیا ہندوستان کی آنے والی نسلیں مسلم مخالف نفرت میں اس کی زوال پزیری کو معاف کر دیں گی؟/شاہد عالم

  • مکمل لکڑی سے تراشا گیا کارکا ماڈل 2 لاکھ ڈالر میں نیلام

  • مہاتیر محمد نے اپنا استعفیٰ پیش کردیا

  • ایک ارب 70 کروڑ ڈالر کے قرضوں کی ادائیگی معطل کرنے کے معاہدے پر دستخط

  • اسلام آباد: میجر لاریب قتل کیس میں ایک مجرم کو سزائے موت، دوسرے کو عمر قید

  • دی نیشن رپورٹ/پاکستانی جیلوں میں قید خواتین : اگرچہ ان کی چیخیں دب گئی ہیں مگر ان کے دکھ کو نظر انداز نہیں کیا جاسکتا

  • عورتوں سے باتیں کرنا

@2021 - All Right Reserved. Designed


Back To Top
شفقنا اردو | بین الاقوامی شیعہ خبر رساں ادارہ اور تجزیاتی مرکز
  • صفحہ اول
  • تازہ ترین
  • آپ کی خبر
  • بلاگ
  • پاکستان
  • تصویری منظر نامہ
  • دلچسپ و عجیب
  • سائنس و ٹیکنالوجی
  • صحت وتعلیم
  • عالمی منظر نامہ
  • فیچرز و تجزیئے
  • کھیل و کھلاڑی
  • وڈیوز
  • رابطہ