Top Posts
شہباز شریف کی حکومت کیوں ناکام ہے؟ سید...
روس اور ایران کا اسٹریٹجک اتحاد کتنا مضبوط؟...
یو اے ای: غیر قانونی افراد کو پناہ...
افغانستان: پنچشیر میں نیشنل ریزسٹنس فرنٹ کا حملہ:...
عمران خان مائنس ہوا تو ایک بھی باقی...
اسرائیل اں سال دنیا بھر میں قتل ہونے...
بابا وانگا نے 2026 کیلئے کونسی اہم اور...
مسلم ممالک کا اعتراض: ٹونی بلیئر کا نام...
مائیکروسافٹ کا بھارت میں 17.5 ارب ڈالر کی...
پاکستان ڈیفالٹ کے خطرے سے پیچھے ہٹ رہا...
  • Turkish
  • Russian
  • Spanish
  • Persian
  • Pakistan
  • Lebanon
  • Iraq
  • India
  • Bahrain
  • French
  • English
  • Arabic
  • Afghanistan
  • Azerbaijan
شفقنا اردو | بین الاقوامی شیعہ خبر رساں ادارہ اور تجزیاتی مرکز
اردو
  • صفحہ اول
  • تازہ ترین
  • آپ کی خبر
  • بلاگ
  • پاکستان
  • تصویری منظر نامہ
  • دلچسپ و عجیب
  • سائنس و ٹیکنالوجی
  • صحت وتعلیم
  • عالمی منظر نامہ
  • فیچرز و تجزیئے
  • کھیل و کھلاڑی
  • وڈیوز
  • رابطہ

مرید کے کا سبق/ڈاکٹر فاروق عادل

by TAK 15:19 | منگل اکتوبر 28، 2025
15:19 | منگل اکتوبر 28، 2025 66 views
66
یہ تحریر ایکسپریس نیوز میں شائع ہوئی
کراچی کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ یہاں آنے کے راستے تو بہت سے ہیں، البتہ واپسی کا راستہ کوئی نہیں۔ اس بار لاہور جا کر اسی قسم کا تجربہ ہوا۔ اس شہرِ خوبی میں ہماری آمد بدھ کی شام ہوئی تھی۔ جمعے کی شب اور ہفتے کی صبح واپسی کا ارادہ باندھا، لیکن معلوم ہوا کہ راستے بند ہیں، لہٰذا واپسی ناممکن ہے۔ اب کیا کریں؟ ساری رات اور اگلا دن امید و بیم میں گزر گیا۔ایک زمانے میں کراچی بھی ایسے تجربوں سے گزر چکا ہے۔
خدا خدا کر کے کراچی نے ان عذابوں سے نجات پائی، لیکن لاہور اس عفریت کی گرفت میں آ گیا۔ کوئی گروہ جب جی چاہے، سڑکوں پر نکل کر دند مچا دیتا ہے۔ قومی زندگی میں 2011 ء سے 2015 ء کا زمانہ کئی وجوہ سے یاد رکھا جائے گا۔ اس کی ایک وجہ میثاقِ جمہوریت کے تاریخی اتفاقِ رائے کو سبوتاژ کرنے کے لیے ایک وسیع البنیاد بندوبست کیا جانا تھا۔ اسی زمانے میں ملک میں شدت پسندی کی نئی قسم متعارف کرائی گئی۔
یہ اسی عہدِ کم ظرف کی دین ہے کہ جب بھی کوئی شدت پسند گروہ حرکت میں آتا ہے تو اس کی زبان اور ہاتھ سے کوئی محفوظ نہیں رہتا۔ وطنِ عزیز کے اعصابی نظام، یعنی شاہراہوں پر قبضہ کر کے نظامِ زندگی کو معطل کر دیتا ہے۔ کوئی بھی گروہ اگر قانون کو ہاتھ میں لے کر عوام کے جان و مال کے لیے خطرہ بن جائے تو اس سے نمٹنے کے لیے قانون موجود ہے۔
لیکن اگر کسی گروہ کو اس کی تمام تر قانون شکنی کے باوجود سیاسی اور مذہبی عصبیت بھی حاصل ہو جائے تو مشکل بڑھ جاتی ہے۔ ہمارے عہد کا مسئلہ بھی یہی ہے، جس کی مثالیں سیاست سے لے کر مذہب تک دیکھی جا سکتی ہیں۔ قانون شکنی کے ذریعے ریاست کو غیر مستحکم کرنے والے یہ تمام عوامل ہمارے لیے تشویش کا باعث ہیں، اور حکمت کا دامن تھام کر ان سے نمٹنے کی تدبیر ہمیں کرنی چاہیے۔
کیا سبب ہے کہ بعض مذہبی گروہ یا سیاسی عناصر اپنی سرگرمیوں میں تہذیب کا دامن ہاتھ سے چھوڑ بیٹھتے ہیں اور قانون کو ہاتھ میں لے کر انارکی پیدا کر دیتے ہیں؟ ہمارے عہد کا یہ سب سے بڑا سوال ہے۔
ہماری سیاسی تاریخ قابلِ رشک نہیں رہی، لیکن اس کے باوجود سیاسی عمل میں رکھ رکھاؤ موجود تھا۔ علمائے کرام اور سیاسی قائدین مخالفین کا ذکر احترام سے کیا کرتے تھے۔ کسی اختلافی مسئلے پر اگر کوئی چل کر کسی کے پاس چلا جاتا تو اس کا احترام کیا جاتا، تنازع ختم ہو جاتا اور ایک دوسرے پر گولہ باری کرتی ہوئی مخالفین کی توپیں خاموش ہو جاتیں۔ لیکن 2014 ء میں صورتِ حال بدل گئی۔
علی الاعلان ایسی تکلیف دہ باتیں کہی گئیں جنھیں شرفا زبان پر لانا پسند نہیں کرتے۔ بانی پی ٹی آئی کے دھرنے نے چین کے صدر کا دورہ منسوخ کرا دیا۔ انھوں نے حکومت کی تو ایک نہ سنی، خود حکومتِ چین کا ہاتھ بھی جھٹک دیا۔ بعد میں صدر شی جن پنگ کا دورہ پاکستان ممکن ہوا اور انھوں نے پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس سے خطاب کیا تو عمران خان اور ان کی جماعت نے اس کا بھی بائیکاٹ کیا۔
قاعدہ یہ ہے کہ ایسے موقع پر سیاسی مخالفین اپنے اختلاف کو بالائے طاق رکھ کر کچھ دیر کے لیے ملتوی کر کے قومی یک جہتی کا مظاہرہ کرتے ہیں۔ ایسا دنیا بھر میں ہوتا ہے، لیکن چینی صدر کے دورے کے موقع پر جس کٹھور پن کا مظاہرہ ہوا، دنیا نے پہلی بار اسے حیرت کے ساتھ دیکھا۔ کچھ اسی قسم کی روایات اس زمانے میں منظم ہونے والے گروہ نے بھی ڈالیں۔
ہمارے یہاں مختلف نوعیتوں کی شدت پسندی کی روایت دم توڑتی ہوئی سرد جنگ کے ساتھ مضبوط ہوئی، جس میں کشیدگی اور تصادم دونوں شامل تھے۔ اس تقسیم نے ہمیں ناقابلِ تلافی نقصان پہنچایا، لیکن اکیسویں صدی کی دوسری دہائی سے شروع ہونے والی کشیدگی نے تمام حدیں پار کر دیں۔
ماضی کی کشیدگی اور حالیہ کشیدگی میں ایک جوہری فرق تھا۔ سرد جنگ والی کشیدگی مختلف فریقوں کے درمیان تھی جب کہ حالیہ کشیدگی نے ریاست کو نشانہ بنایا، جس سے ریاست کمزور ہوئی۔ لاہورمریدکے کا حالیہ شو ڈان بھی اسی طرزِ عمل کی تکرار تھی۔
جب بھی اس قسم کی قانون شکنی کا راستہ روکنے کے لیے حکومت نے انتظامی اقدام کیا۔ اس حکمتِ عملی پر مختلف حلقوں کی طرف سے تنقید کی گئی، لیکن حقیقت یہی ہے کہ کسی بھی گروہ کو ریاست کو چیلنج کرنے کی اجازت نہیں ہونی چاہیے۔ پی ٹی آئی کی حکومت نے ماضی میں ایک شدت پسند گروہ کے خلاف کارروائی کی تھی تو اس موقع پر بھی سمجھ دار حلقوں نے اس کارروائی کی حمایت کی تھی۔ اس موقع پر بھی سوشل میڈیا پر اٹھنے والی آوازوں کے باوجود عوامی سطح پر ریاستی کارروائی کی حمایت کی گئی ہے۔
اس سے یہ معلوم ہوا کہ کسی قانون شکن گروہ کو اگر کچھ عصبیت حاصل بھی ہو تو بھی عوامی شعور اسے اہمیت نہیں دیتا۔ ہر قانون شکن گروہ کو عوام نے مسترد کیا ہے۔ یہ اطمینان کی بات ہے، لیکن اس کے باوجود کرنے کا ایک کام ہے۔
یہ سمجھنے کی ضرورت ہے کہ مذہب ہو یا سیاست، لوگوں کی ایک قابلِ لحاظ تعداد ایسے افراد کے گرد جمع کیسے ہو جاتی ہے جو نہ دین کا درست فہم رکھتے ہیں، نہ سیاست کا، اور نہ قومی مقاصد و مفاد کو کوئی اہمیت دیتے ہیں۔ اس کا سبب صرف ایک ہے، اور وہ ہے کم علمی اور سیاسی آداب سے ناواقفیت۔ ہمارے یہاں سیاسی تربیت کی نرسریاں نہیں رہیں یا دم توڑ رہی ہیں، جیسے اسٹوڈنٹس یونین، محنت کشوں کی سرگرمیاں اور بلدیاتی ادارے۔ یہ حکومت بلکہ ریاست کی ذمے داری ہے کہ وہ ان اداروں کو قانون اور ضابطوں کے مطابق بحال کرے تاکہ سیاسی کارکن لٹھ مار اور بے تہذیب بننے کے بجائے مفید اور مہذب انسان بن سکے۔ اسی طرح سماج اور سنجیدہ فکر علمائے کرام اور دینی اداروں کی یہ ذمے داری ہے کہ وہ کوئی ایسی حکمت اختیار کریں کہ ناخواندہ اور غیر ذمے دار عناصر کوئی جتھہ بنا کر نہ دین کو نقصان پہنچا سکیں، نہ ملک کو کمزور کریں۔
اس معاملے کا ایک تیسرا پہلو بھی ہے: یہ کہ طاقت ور طبقات اپنے مقاصد کے لیے جائز سیاسی سرگرمی کو پٹڑی سے اتارنے سے گریز کریں۔ آثار بتاتے ہیں کہ اس زمانے کے ناکام تجربے کے بعد یہ سبق تو سیکھ لیا گیا ہے۔ اگر ایسا ہے تو یہ خوش آیند ہے۔ لیکن معاشرے کے مختلف اداروں پر جو ذمے داری عائد ہوتی ہے، وہ بہرصورت ادا کرنی ہے۔ اس کے بغیر ہم اپنے سماج اور ریاست کو درست راہ پر گامزن نہیں کر سکیں گے۔
شفقنا اردو
نوٹ: شفقنا کا اس تحریر کے مندرجات سے متفق ہونا ضروری نہیں
پی ٹی آئیتحریک لبیک پاکستانسرد جنگکراچیلاہورمرید کے
0 FacebookTwitterLinkedinWhatsappTelegramViberEmail
گزشتہ پوسٹ
ڈیجیٹل میڈیا پر تنقید کے محرکات/سلمان عابد
اگلی پوسٹ
افغانستان میں مذہبی سیاست کا مرکز اب پاکستان نہیں رہا/احمد ولی مجیب

یہ بھی پڑھنا مت بھولیں

کیا مستحکم سیاسی سیٹ اپ سے معاشی ترقی...

13:05 | منگل دسمبر 9، 2025

کچھ لوگ ادارے اور پی ٹی آئی کے...

05:03 | منگل دسمبر 9، 2025

الیکشن کمیشن کی طرف سے بیرسٹر گوہر علی...

06:40 | پیر دسمبر 8، 2025

مائنس ون نہیں تو پی ٹی آئی پوری...

04:54 | پیر دسمبر 8، 2025

اَت یا پَت؟/سہیل وڑائچ

13:03 | اتوار دسمبر 7، 2025

فوج کے سخت رد عمل کی وجہ بانی...

07:27 | اتوار دسمبر 7، 2025

ہماری اشرافیہ کو تھوڑا سا تو ڈرنا چاہیے/شہزاد...

13:47 | ہفتہ دسمبر 6، 2025

بے بسی کے 15 گھنٹے۔۔۔! اجمل جامی

13:39 | جمعہ دسمبر 5، 2025

3 کروڑ کا شہر، ایک گٹر… اور کسی...

13:08 | جمعرات دسمبر 4، 2025

گورنر راج کے ممکنہ نقصانات/ڈاکٹر توصیف احمد

13:08 | جمعرات دسمبر 4، 2025

تبصرہ کریں Cancel Reply

میرا نام، ای میل اور ویب سائٹ مستقبل میں تبصروں کے لئے محفوظ کیجئے.

تازہ ترین

  • شہباز شریف کی حکومت کیوں ناکام ہے؟ سید مجاہد علی

  • روس اور ایران کا اسٹریٹجک اتحاد کتنا مضبوط؟ جاوید اختر

  • یو اے ای: غیر قانونی افراد کو پناہ دینے پر کروڑوں کے جرمانے نافذ

  • افغانستان: پنچشیر میں نیشنل ریزسٹنس فرنٹ کا حملہ: 17 طالبان جنگجو ہلاک

  • عمران خان مائنس ہوا تو ایک بھی باقی نہیں رہے گا: بیرسٹر گوہر علی خان

  • اسرائیل اں سال دنیا بھر میں قتل ہونے والے تمام صحافیوں میں سے تقریباً نصف صحافیوں کے قتل کا ذمہ دار

  • بابا وانگا نے 2026 کیلئے کونسی اہم اور بڑی پیشگوئیاں کیں؟

  • مسلم ممالک کا اعتراض: ٹونی بلیئر کا نام ’غزہ امن کونسل‘ سے نکال دیا گیا

  • مائیکروسافٹ کا بھارت میں 17.5 ارب ڈالر کی خطیر سرمایہ کاری کا اعلان

  • پاکستان ڈیفالٹ کے خطرے سے پیچھے ہٹ رہا ہے، آئی ایم ایف رپورٹ

  • یوکرینی صدر کی مشروط انتخاب کرانے پر رضامندی

  • بابر اعظم اور شاہین شاہ آفریدی بگ بیش لیگ کے 15 ویں ایڈیشن میں شرکت کے لیے آسٹریلیا پہنچ گئے

  •  عمران خان کی بہنوں اور پی ٹی آئی کارکنوں پر پولیس کریک ڈاؤن: اڈیالہ کے باہر دھرنا ختم

  • عالمی دباؤ: اسرائیل نے اردن کے ساتھ بارڈرکو غزہ کے امدادی سامان کے لیے کھولنے کا اعلان کردیا

  • قومی اسمبلی کی کمیٹی برائے خزانہ نے اسمارٹ فونز ر عائد ٹیکس میں کمی کا مطالبہ کردیا

  • وزیرستان میں تحصیل ہیڈ کوارٹر اسپتال غیر فعال: متعدد مریض جاں بحق

  • جدہ میں 135 ملی میٹر بارش ریکارڈ : نظام زندگی درہم برہم

  • گوگل میپس کی وہ ٹِرکس جو آپ کو ضرور استعمال کرنی چاہیے

  • ہندوتوا اور ہندوستان کے زیر انتظام کشمیر میں اجتماعی سزا کا کچل دینے والا ظلم/نعیم افضل

  • یورپی ملک میں خواتین نے مردوں کو گھریلو کام کاج کیلئے ہائر کرنا شروع کردیا

مقبول ترین

  • صفائی اور پاکیزگی قرآن و حدیث کی روشنی میں : شفقنا اسلام

  • چھپکلی کی جلد سے متاثرہ بھوک لگانے والا کیپسول

  • میں نے جمہوریت کی مضبوطی کے لیے کام کیا: جوبائیڈن کا قوم سے خطاب

  • کیا ہندوستان کی آنے والی نسلیں مسلم مخالف نفرت میں اس کی زوال پزیری کو معاف کر دیں گی؟/شاہد عالم

  • مہاتیر محمد نے اپنا استعفیٰ پیش کردیا

  • مکمل لکڑی سے تراشا گیا کارکا ماڈل 2 لاکھ ڈالر میں نیلام

  • ایک ارب 70 کروڑ ڈالر کے قرضوں کی ادائیگی معطل کرنے کے معاہدے پر دستخط

  • اسلام آباد: میجر لاریب قتل کیس میں ایک مجرم کو سزائے موت، دوسرے کو عمر قید

  • دی نیشن رپورٹ/پاکستانی جیلوں میں قید خواتین : اگرچہ ان کی چیخیں دب گئی ہیں مگر ان کے دکھ کو نظر انداز نہیں کیا جاسکتا

  • عورتوں سے باتیں کرنا

@2021 - All Right Reserved. Designed


Back To Top
شفقنا اردو | بین الاقوامی شیعہ خبر رساں ادارہ اور تجزیاتی مرکز
  • صفحہ اول
  • تازہ ترین
  • آپ کی خبر
  • بلاگ
  • پاکستان
  • تصویری منظر نامہ
  • دلچسپ و عجیب
  • سائنس و ٹیکنالوجی
  • صحت وتعلیم
  • عالمی منظر نامہ
  • فیچرز و تجزیئے
  • کھیل و کھلاڑی
  • وڈیوز
  • رابطہ