Top Posts
شہباز شریف کی حکومت کیوں ناکام ہے؟ سید...
روس اور ایران کا اسٹریٹجک اتحاد کتنا مضبوط؟...
یو اے ای: غیر قانونی افراد کو پناہ...
افغانستان: پنچشیر میں نیشنل ریزسٹنس فرنٹ کا حملہ:...
عمران خان مائنس ہوا تو ایک بھی باقی...
اسرائیل اں سال دنیا بھر میں قتل ہونے...
بابا وانگا نے 2026 کیلئے کونسی اہم اور...
مسلم ممالک کا اعتراض: ٹونی بلیئر کا نام...
مائیکروسافٹ کا بھارت میں 17.5 ارب ڈالر کی...
پاکستان ڈیفالٹ کے خطرے سے پیچھے ہٹ رہا...
  • Turkish
  • Russian
  • Spanish
  • Persian
  • Pakistan
  • Lebanon
  • Iraq
  • India
  • Bahrain
  • French
  • English
  • Arabic
  • Afghanistan
  • Azerbaijan
شفقنا اردو | بین الاقوامی شیعہ خبر رساں ادارہ اور تجزیاتی مرکز
اردو
  • صفحہ اول
  • تازہ ترین
  • آپ کی خبر
  • بلاگ
  • پاکستان
  • تصویری منظر نامہ
  • دلچسپ و عجیب
  • سائنس و ٹیکنالوجی
  • صحت وتعلیم
  • عالمی منظر نامہ
  • فیچرز و تجزیئے
  • کھیل و کھلاڑی
  • وڈیوز
  • رابطہ

آر ایل این جی کے نئے کنکشن، کیا امپورٹڈ گیس صارفین کو سستی ملے گی؟ صالح سفیر عباسی

by TAK 15:19 | منگل اکتوبر 28، 2025
15:19 | منگل اکتوبر 28، 2025 65 views
65
یہ تحریر اردو نیوز میں شائع ہوئی
پاکستان میں مقامی گیس کے ذخائر میں مسلسل کمی کے باعث وفاقی حکومت نے کچھ عرصے سے نئے گیس کنکشن جاری کرنے پر پابندی عائد کر رکھی تھی۔ تاہم اب وفاقی حکومت کی جانب سے حال ہی میں درآمد شدہ گیس یا آر ایل این جی کے کنکشن دینے کا آغاز کیا گیا ہے، جس کے بعد کسی حد تک شہریوں نے اپنے گھروں یا کمرشل مقامات کے لیے اس امپورٹڈ گیس سے منسلک ہونے میں دلچسپی ظاہر کی ہے۔
پاکستان میں گیس فراہم کرنے والی دونوں کمپنیاں، یعنی ایس این جی پی ایل اور ایس ایس جی سی ایل شہریوں کو امپورٹڈ گیس کے کنکشن فراہم کر رہی ہیں۔ ان کنکشنز کے چارجز تو مقامی گیس جتنے ہی ہیں، تاہم گیس کی قیمت سوئی گیس کے مقابلے میں کہیں زیادہ ہوگی۔
سب سے پہلے آپ کو یہ بتاتے چلیں کہ پاکستان میں اس وقت گھروں اور کمرشل مقامات پر جو گیس پائپ لائنوں کے ذریعے فراہم کی جا رہی ہے، وہ زیادہ تر مقامی گیس ہے جسے سوئی گیس کہا جاتا ہے۔
تاہم جب سوئی گیس کے ذخائر میں کمی آنے لگی تو حکومت نے سردیوں میں گیس کی طلب پوری کرنے کے لیے بیرونِ ملک سے ایل این جی یا آر ایل این جی منگوانا شروع کی، جسے امپورٹڈ گیس کہا جاتا ہے۔
اب چوں کہ حکومت یہ سمجھتی ہے کہ سردیوں کے بعد اس کے پاس امپورٹڈ گیس کا کچھ ذخیرہ بچ جاتا ہے اور مقامی گیس کے نئے کنکشن دینا ممکن نہیں، اس لیے حکومت نے فیصلہ کیا کہ کیوں نہ اسی امپورٹڈ گیس کو موجودہ سسٹم کے تحت گھریلو اور کمرشل صارفین تک پہنچایا جائے۔
اسی تناظر میں حکومت اب پاکستان بھر میں امپورٹڈ گیس کے گھریلو اور کمرشل کنکشن فراہم کر رہی ہے۔ تاہم یہاں یہ وضاحت کرنا ضروری ہے کہ حکومت یہ گیس موجودہ سسٹم، یعنی انہی پائپ لائنوں کے ذریعے فراہم کرے گی جن سے سوئی گیس پہنچتی ہے۔

’نرخ انٹرنیشنل مارکیٹ کے مطابق طے کیے جائیں گے‘

چنانچہ ماہرین یہ سوال اٹھاتے ہیں کہ حکومت جس پائپ لائن میں سوئی گیس فراہم کر رہی ہو، اسی کے ذریعے ساتھ والے گھر کو آر ایل این جی گیس کیسے فراہم کرے گی؟ اردو نیوز نے اس حوالے سے آئل اینڈ گیس ریگولیٹری اتھارٹی (اوگرا) کے ترجمان عمران غزنوی سے رابطہ کیا۔
انہوں نے تصدیق کی کہ اوگرا نے گیس کمپنیوں کو ملک بھر میں امپورٹڈ گیس کے نئے گیس کنکشن دینے کی اجازت دے رکھی ہے، اور شہری پرانے طریقہ کار کے مطابق درخواست دے کر یہ کنکشن حاصل کر سکتے ہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ ’حکومت کو اگر مثال کے طور پر مقامی گیس چھ ڈالر فی ایم ایم بی ٹی یو پڑتی ہے تو امپورٹڈ گیس کی قیمت 16 ڈالر فی ایم ایم بی ٹی یو تک پہنچ سکتی ہے۔ اس لیے اس کے نرخ انٹرنیشنل مارکیٹ کے مطابق طے کیے جائیں گے، یا یوں کہہ سکتے ہیں کہ موجودہ بلوں میں جو سب سے زیادہ سلیب ہے، وہ آر ایل این جی پر لاگو ہو گا۔‘
انہوں نے مزید بتایا کہ ’یہ گیس مقامی پائپ لائن سسٹم کے ذریعے ہی صارفین تک پہنچے گی، میٹر بھی وہی لگے گا، تاہم بلنگ آر ایل این جی کی قیمت کے مطابق ہو گی، اور اسی تناسب سے ادائیگی کرنا ہو گی۔‘
دوسری جانب گیس فراہم کرنے والی کمپنیوں کے نمائندوں کے مطابق ’ابتدا میں اس گیس کے حصول کا رجحان کم تھا، تاہم چوں کہ اب ایل پی جی کے مقابلے میں یہ گیس نسبتاً سستی پڑتی ہے، اس لیے شہریوں کی دلچسپی بڑھ رہی ہے۔‘
ان کے مطابق درخواست دینے کا طریقہ کار وہی ہے، اور شہری گیس میٹر کے لیے عام طریقے سے درخواست دے سکتے ہیں
آر ایل این جی کنکشن کے لیے درخواست پرانے طریقہ کار کے مطابق ہی دی جائے گی۔ گیس کمپنیوں کے مطابق ترجیح ان صارفین کو دی جائے گی جنہوں نے پہلے ہی ارجنٹ فیس یا ڈیمانڈ نوٹس جمع کرا رکھا ہے۔
نئے آر ایل این جی کنکشن کے لیے سکیورٹی ڈیپازٹ 20 ہزار روپے مقرر کیا گیا ہے جو قابلِ واپسی ہو گا، جبکہ 10 مرلے تک کے گھروں کے لیے سروس لائن فیس 3 ہزار روپے رکھی گئی ہے۔ ایسے صارفین جو ارجنٹ کنکشن چاہتے ہیں، وہ فاسٹ ٹریک ایپلیکیشن کے ذریعے درخواست دے سکتے ہیں، جس پر انہیں 25 ہزار روپے اضافی ادا کرنا ہوں گے، جبکہ ان کی قابلِ واپسی سکیورٹی فیس 28 ہزار روپے ہو گی۔

’گیس کمپنیاں اور اوگرا عوام کو بے وقوف بنا رہے ہیں‘

وفاقی حکومت کے نئے کنکشن دینے کے حوالے سے گیس کے شعبے کے ماہر اور اوگرا کے سابق ممبر محمد عارف نے کہا کہ ’گیس کمپنیاں اور اوگرا عوام کو بے وقوف بنا رہے ہیں کیونکہ اوگرا آرڈیننس میں آر ایل این جی اور قدرتی گیس میں کوئی فرق نہیں رکھا گیا۔ آرڈیننس میں گیس کی تعریف نیچرل گیس اور آر ایل این جی دونوں کو ملا کر کی گئی ہے، اس لیے آر ایل این جی کو الگ سے نئی اصطلاح کے طور پر پیش کرنا غلط ہے۔ البتہ آپ اسے امپورٹڈ گیس ضرور کہہ سکتے ہیں۔‘
انہوں نے نشاندہی کی کہ ’آر ایل این جی چوں کہ اسی پائپ لائن سے فراہم کی جائے گی جس سے سوئی گیس جاتی ہے، اس لیے صارفین کو معلوم نہیں ہوگا کہ انہیں مقامی گیس مل رہی ہے یا امپورٹڈ گیس۔ یہی سب سے بڑا سوال ہے کہ حکومت اس فرق کو کیسے یقینی بنائے گی؟‘
اس سوال پر کہ کیا آر ایل این جی، ایل پی جی سے سستی ہو گی؟ محمد عارف کا کہنا تھا کہ ’بظاہر آر ایل این جی، ایل پی جی سے سستی ہونی چاہیے کیونکہ ایل پی جی کے ایم ایم بی ٹی یوز امپورٹڈ گیس کے مقابلے میں مہنگے ہیں، تاہم اگر آر ایل این جی پائپ لائن سے مسلسل فراہم کی جاتی رہی تو صارفین کے لیے یہ مہنگی بھی پڑ سکتی ہے کیونکہ ایل پی جی استعمال کرنے والے صارفین اپنی کھپت کو کنٹرول کر سکتے ہیں، مگر پائپ لائن گیس پر ایسا ممکن نہیں۔‘

’آر ایل این جی کا کنکشن بہتر متبادل ثابت ہو سکتا ہے‘

توانائی کے شعبے پر گہری نظر رکھنے والے ماہر اور سینیئر صحافی خلیق کیانی کے مطابق ’جو شہری ایسے علاقوں میں رہتے ہیں جہاں پائپ لائن گیس میسر نہیں اور وہ ایل پی جی استعمال کر رہے ہیں تو ان کے لیے آر ایل این جی کا کنکشن بہتر متبادل ثابت ہو سکتا ہے۔‘
تاہم انہوں نے بھی سوال اٹھایا کہ ’حکومت ایک ہی پائپ لائن میں مقامی اور امپورٹڈ گیس کا فرق کیسے کرے گی؟‘
خلیق کیانی نے مثال دیتے ہوئے کہا کہ ’اگر کسی مخصوص پلازے یا علاقے کو صرف آر ایل این جی دی جائے تو یہ ممکن ہے، لیکن جہاں گھریلو صارفین کا بڑا نیٹ ورک پہلے سے موجود ہے، وہاں مخصوص صارف تک امپورٹڈ گیس پہنچانا ایک مشکل کام ہو گا۔‘
ان کا کہنا تھا کہ ’بعض گھروں میں ایک پرانا کنکشن مقامی گیس پر ہو گا جبکہ نیا کنکشن آر ایل این جی پر، جس کی قیمت دگنی ہو گی۔ سوال یہ ہے کہ حکومت ایک ہی لائن پر یہ فرق کیسے برقرار رکھے گی؟‘
شفقنا اردو
نوٹ: شفقنا کا اس تحریر کے مندرجات سے متفق ہونا ضروری نہیں
آر ایل این جیاین جی پی ایلپاکستان میں مقامی گیسوفاقی حکومت
0 FacebookTwitterLinkedinWhatsappTelegramViberEmail
گزشتہ پوسٹ
عالمی بینک نے پاکستان کی معاشی ترقی کی موجودہ رفتار کو غربت میں کمی کے لیے ناکافی قرار دے دیا
اگلی پوسٹ
ڈیجیٹل میڈیا پر تنقید کے محرکات/سلمان عابد

یہ بھی پڑھنا مت بھولیں

خیبرپختونخوا میں گورنر راج: ’یہ اقدام ملک کو...

14:35 | پیر دسمبر 8، 2025

پی ٹی آئی کے اہم رہنماؤں کے بیرون...

03:58 | اتوار دسمبر 7، 2025

ن لیگ کا لاہور پر سیاسی تسلط بحال...

13:21 | ہفتہ نومبر 22، 2025

پاکستان ریلوے، مستقبل کے چیلنجز

15:02 | بدھ نومبر 19، 2025

جرمنی نے اسرائیل پر اسلحہ برآمدات پر عائد...

13:52 | منگل نومبر 18، 2025

چیف آف ڈیفینس فورسز کا عہدہ کیوں تخلیق...

12:58 | منگل نومبر 11، 2025

فیلڈ مارشل کاعہدہ آئینی بنانے کیلئے حکومت 27ویں...

15:20 | پیر نومبر 3، 2025

اٹھارویں دستوری ترمیم اور نظام محصولات میں اصلاحات/ڈاکٹر...

11:01 | اتوار اکتوبر 26، 2025

وفاقی حکومت مدارس و مساجد کے امور میں...

02:50 | بدھ اکتوبر 22، 2025

4500 روپےفی من ریٹ نہ دیا گیاتوکسان گندم...

02:22 | منگل اکتوبر 21، 2025

تبصرہ کریں Cancel Reply

میرا نام، ای میل اور ویب سائٹ مستقبل میں تبصروں کے لئے محفوظ کیجئے.

تازہ ترین

  • شہباز شریف کی حکومت کیوں ناکام ہے؟ سید مجاہد علی

  • روس اور ایران کا اسٹریٹجک اتحاد کتنا مضبوط؟ جاوید اختر

  • یو اے ای: غیر قانونی افراد کو پناہ دینے پر کروڑوں کے جرمانے نافذ

  • افغانستان: پنچشیر میں نیشنل ریزسٹنس فرنٹ کا حملہ: 17 طالبان جنگجو ہلاک

  • عمران خان مائنس ہوا تو ایک بھی باقی نہیں رہے گا: بیرسٹر گوہر علی خان

  • اسرائیل اں سال دنیا بھر میں قتل ہونے والے تمام صحافیوں میں سے تقریباً نصف صحافیوں کے قتل کا ذمہ دار

  • بابا وانگا نے 2026 کیلئے کونسی اہم اور بڑی پیشگوئیاں کیں؟

  • مسلم ممالک کا اعتراض: ٹونی بلیئر کا نام ’غزہ امن کونسل‘ سے نکال دیا گیا

  • مائیکروسافٹ کا بھارت میں 17.5 ارب ڈالر کی خطیر سرمایہ کاری کا اعلان

  • پاکستان ڈیفالٹ کے خطرے سے پیچھے ہٹ رہا ہے، آئی ایم ایف رپورٹ

  • یوکرینی صدر کی مشروط انتخاب کرانے پر رضامندی

  • بابر اعظم اور شاہین شاہ آفریدی بگ بیش لیگ کے 15 ویں ایڈیشن میں شرکت کے لیے آسٹریلیا پہنچ گئے

  •  عمران خان کی بہنوں اور پی ٹی آئی کارکنوں پر پولیس کریک ڈاؤن: اڈیالہ کے باہر دھرنا ختم

  • عالمی دباؤ: اسرائیل نے اردن کے ساتھ بارڈرکو غزہ کے امدادی سامان کے لیے کھولنے کا اعلان کردیا

  • قومی اسمبلی کی کمیٹی برائے خزانہ نے اسمارٹ فونز ر عائد ٹیکس میں کمی کا مطالبہ کردیا

  • وزیرستان میں تحصیل ہیڈ کوارٹر اسپتال غیر فعال: متعدد مریض جاں بحق

  • جدہ میں 135 ملی میٹر بارش ریکارڈ : نظام زندگی درہم برہم

  • گوگل میپس کی وہ ٹِرکس جو آپ کو ضرور استعمال کرنی چاہیے

  • ہندوتوا اور ہندوستان کے زیر انتظام کشمیر میں اجتماعی سزا کا کچل دینے والا ظلم/نعیم افضل

  • یورپی ملک میں خواتین نے مردوں کو گھریلو کام کاج کیلئے ہائر کرنا شروع کردیا

مقبول ترین

  • صفائی اور پاکیزگی قرآن و حدیث کی روشنی میں : شفقنا اسلام

  • چھپکلی کی جلد سے متاثرہ بھوک لگانے والا کیپسول

  • میں نے جمہوریت کی مضبوطی کے لیے کام کیا: جوبائیڈن کا قوم سے خطاب

  • کیا ہندوستان کی آنے والی نسلیں مسلم مخالف نفرت میں اس کی زوال پزیری کو معاف کر دیں گی؟/شاہد عالم

  • مہاتیر محمد نے اپنا استعفیٰ پیش کردیا

  • مکمل لکڑی سے تراشا گیا کارکا ماڈل 2 لاکھ ڈالر میں نیلام

  • ایک ارب 70 کروڑ ڈالر کے قرضوں کی ادائیگی معطل کرنے کے معاہدے پر دستخط

  • اسلام آباد: میجر لاریب قتل کیس میں ایک مجرم کو سزائے موت، دوسرے کو عمر قید

  • دی نیشن رپورٹ/پاکستانی جیلوں میں قید خواتین : اگرچہ ان کی چیخیں دب گئی ہیں مگر ان کے دکھ کو نظر انداز نہیں کیا جاسکتا

  • عورتوں سے باتیں کرنا

@2021 - All Right Reserved. Designed


Back To Top
شفقنا اردو | بین الاقوامی شیعہ خبر رساں ادارہ اور تجزیاتی مرکز
  • صفحہ اول
  • تازہ ترین
  • آپ کی خبر
  • بلاگ
  • پاکستان
  • تصویری منظر نامہ
  • دلچسپ و عجیب
  • سائنس و ٹیکنالوجی
  • صحت وتعلیم
  • عالمی منظر نامہ
  • فیچرز و تجزیئے
  • کھیل و کھلاڑی
  • وڈیوز
  • رابطہ