ایک ہی ٹیلی ویژن اشتہار نے یو ایس-کینیڈا تجارتی مذاکرات کو روک دیا ہے۔
23 اکتوبر 2025 کو، امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اونٹاریو سے 60 سیکنڈ کے اس اشتہار کا حوالہ دیتے ہوئے کینیڈا کے ساتھ تمام مذاکرات فوری طور پر ختم کرنے کا اعلان کیا جس میں صدر رونالڈ ریگن کے 1987 کے ریڈیو خطاب کو ان کے ٹیرف پر حملہ کرنے کے لیے ایک نئی صورت میں پیش کیاگیا۔
سٹیل، ایلومینیم، آٹوز، لکڑی، اور تانبے پر امریکی محصولات کے خلاف مقامی احتجاج کے طور پر جو کچھ شروع ہوا تھا وہ اب ایک سفارتی طوفان کی شکل اختیار کر گیا ہے، جس نے USMCA (امریکہ – میکسیکو-کینیڈا معاہدہ، ایک معاہدہ جس نے 2020 میں شمالی امریکہ کے آزاد تجارتی معاہدے کی جگہ لے لی تھی) کو ہلا کر رکھ دیا ہے۔
زیر بحث اشتہار بند دروازوں والی فیکٹریوں، بڑھتی ہوئی قیمتوں، اور دکان کے خالی فرشوں کی تصاویر کے ساتھ شروع ہوتاہے۔ ان مناظرکے فورا” بعد ریگن کے 25 اپریل 1987 کے ریڈیو ایڈریس سے اقتباس پیش کیا جاتا ہے : "لیکن طویل عرصے میں، اس طرح کی تجارتی رکاوٹوں نے ہر امریکی، کارکن اور صارف کو نقصان پہنچایا ہے۔ زیادہ ٹیرف لامحالہ غیر ممالک کی طرف سے انتقامی کارروائیوں اور شدید تجارتی جنگوں کو جنم دینے کا باعث بنتے ہیں۔ اور لاکھوں لوگ اپنی نوکریوں سے ہاتھ دھو بیٹھتے ہیں۔”
پھر ایک راوی اس نقطے کو بیان کرتا ہے : "ٹیرف ملازمتوں کی حفاظت نہیں کرتے – وہ انہیں ختم کر دیتے ہیں۔” اسپاٹ بند ہو جاتا ہے، ناظرین کو اپنے نمائندوں سے رابطہ کرنے کی تاکید کی جاتی ہے، یہ نوٹ کرتے ہوئے کہ ااس اشتہار کو” اونٹاریو پریمیئر ڈوگ فورڈ "کے دفتر سے مالی اعانت فراہم کی گئی ہے۔
فورڈ، ٹرمپ کے ٹیرف کا ایک نقادہے ، جس کا مقصد تحفظ پسند ڈیوٹیوں کے معاشی نتائج کو اجاگر کرنا ہے۔
2025کے اوائل میں متعارف کرائے گئے یو ایس ٹیرف نے اونٹاریو کے صنعتی مرکز پر حملہ کیا، جس سے اس کے آٹو اور میٹلز کے
شعبوں کو بہت بڑا دھچکا گا جبکہ کینیڈا کے وزیر تجارت ڈومینک لی بلینک امریکی وزیر تجارت ہاورڈ لٹنک سے ملنے کے لیے تیار ی کر رہے تھے۔
فورڈ نے ردعمل کا اظہار ہوتے ہوئے دیکھا۔ انہوں نے سوشل میڈیا پر لکھا، "ہم سچ بتانے کے لیے پبلک ڈومین مواد استعمال کر رہے ہیں۔”
ٹرمپ نے غصے اپنے ایکس اکاؤنٹ ‘ٹروتھ سوشل’ پر غصے کا اظہار کرتے ہوئے اس اشتہار کو "جعلی” قرار دیا، جس میں کینیڈا پر الزام لگایا گیا کہ وہ "امریکی سپریم کورٹ اور دیگر عدالتوں کے فیصلے میں مداخلت” کرتے ہوئے لیے ریگن کے الفاظ کو "دھوکے سے” ترمیم کر رہا ہے۔
اس نے اشتہار کو قومی سلامتی پر حملہ قرار دیتے ہوئے اصرار کیا کہ "ریگن ہمارے ملک کے لیے ٹیرف کو پسندکرتے تھے،” ۔
وائٹ ہاؤس نے کینیڈین مفاہمت کی پیشکش کو مسترد کر دیا۔
رونالڈ ریگن صدارتی فاؤنڈیشن بھی اس معاملے میں کود پڑا اور ریگن کے خطاب کو غلط انداز میں پیش کرنے کے لیے اشتہار کی مذمت کی، اور نوٹ کیا کہ اس نے ٹیرف کی مخالفت کی بجائے "آزاد اور منصفانہ تجارت” کی وکالت کی۔
نتیجہ فوری تھا۔ لی بلینک-لٹنک مذاکرات کو معطل کرتے ہوئے اور USMCA کی نظرثانی پر غیر یقینی صورتحال کا اظہار کرتے ہوئے ٹرمپ نے اعلان کیا: "کینیڈا کے ساتھ تمام تجارتی گفت و شنید یہاں سے ختم ہو جاتی ہے،” ۔
کینیڈا کے وزیر اعظم مارک کارنی کا کہنا ہے کہ کینیڈا کا مقصد اگلی دہائی میں اپنی غیر امریکی برآمدات کو دوگنا کرنا ہے، ان کا کہنا ہے کہ امریکی محصولات سرمایہ کاری میں سست روی کا باعث بن رہے ہیں۔
"پالیسی میں اختلاف"
کینیڈا کے وزیر اعظم مارک کارنی نے آگ پر قابو پانے کی کوشش کی، ٹورنٹو کے RED-FM کو بتایا کہ وہ بات چیت کرنے کا ارادہ رکھتے ہیں: "ہم امریکہ کے ساتھ تعمیری مذاکرات پر آگے بڑھنے کے لیے تیار ہیں۔”
اونٹاریو کا اشتہار ورلڈ سیریز کے دوران نشر ہونا تھا، جس سے معاملات کے مزید بھڑکنے کا خدشہ تھا۔
فورڈ کے آبائی شہر ٹورنٹو میں’ بلیو جےز ‘جمعہ کی رات کو سیریز کے پہلے کھیل کے لیے لاس اینجلس ڈوجرز کی میزبانی کرنے کے لیے تیار
ہے۔ گیم -2 ہفتہ کی رات ٹورنٹو میں شیڈول ہے۔
کینیڈین حکام نے اس روک کو ایک "پالیسی اختلاف” قرار دیا، کارنی نے نوٹ کیا کہ ٹیرف بالآخر صارفین پر بوجھ ڈالتے ہیں۔
اس دوران فورڈ نے اشتہار کا دفاع کیا،اور غیر ترمیم شدہ کلپ کی عوامی دستیابی کی طرف اشارہ کیا۔
تنازعہ کی اصل بنیاد رونالڈ ریگن کی میراث ہے۔
ٹیکس میں کٹوتیوں، ڈی ریگولیشن اور سپلائی سائیڈ نمو پر یقین رکھتے ہوئے ریگنومکس نے انٹرپرائز کی لہر کو جنم دیا لیکن امیر اور غریب کے درمیان خلیج کو مزید گہرا کیا۔
تجارت کے معاملے پر، ریگن ایک لبرل تھا: مسابقت کو بڑھانے کے لیے کھلی منڈیوں کا حامی۔
40 ویں امریکی صدر نے 1988 کےامریکہ-کینیڈا آزاد تجارتی معاہدے پر بات چیت کی، جس نے ایک دہائی کے دوران زیادہ تر اشیاء اور خدمات پر محصولات کو ختم کردیاتھا۔
ریگن یہ کہنے کے لیے مشہور تھے کہ تحفظ پسندی "چوروں سے بچنے کے لیے اپنے آپ کو اپنے گھر میں بند کر لیں، سوائےان چوروں کے جو آپ کے گاہک ہیں۔”واضح رہے کہ سرمایہ داری کی کلاسیکل پالیسی کے مطابق ؎تحفظ پسندی’ کا مطلب ملکی مصنوعات کو فروغ دینے کے لیے درآمدات پر ٹیکس اور ٹیرف لگانا ہے تاکہ بیرونی مال کی قیمت بڑھ جائے اور ملکی داخلی پیداواری قیمتوں کا مقابلہ نہ کرسکے جبکہ، اس کے مقابلے میں آزاد منڈی ٹیرف کی مخالفت کرتی ہے۔
"ٹیرف کا اثر"
اس کے باوجود ریگن نے ٹیرف کو عملی طور پر استعمال کیا۔ اس نے 1986 میں جاپانی سیمی کنڈکٹرز اور 1987 میں سبسڈی کا مقابلہ کرنے کے لیے یورپی ٹیرف پر ڈیوٹی عائد کی۔
1981-1988 کے درمیان، ان کی انتظامیہ نے موٹرسائیکلوں، مشینی اوزاروں اور گائے کے گوشت پر ایسے 20 سے زیادہ ٹیکسز لگائے۔
تجزیہ کار نوٹ کرتے ہیں کہ ریگن نے ٹیرف کو سودے بازی کے داؤ کے طور پراستعمال کیا ، نہ کہ مطلق پالیسی کے طور پر، یہ امتیاز ٹرمپ کے ناقدین نے نظر انداز کردیا اور اسے اونٹاریو والے اشتہار میں استعمال کیا۔
اس اشتہار پر سفارتی تنازعہ بڑھنے کے ساتھ، فورڈ نے جمعہ کو کہا کہ صوبہ اس ہفتے کے آخر میں ورلڈ سیریز گیمز کے بعد ریگن کے نشر ہونے والے ٹیلی ویژن اشتہارات کو روک دے گا تاکہ امریکہ-کینیڈا "تجارتی بات چیت دوبارہ شروع ہو سکے۔”
فورڈ نے کہا کہ اس نے اشتہار کو روکنے کا فیصلہ جو پیر سے لاگو ہوگا ، کرنے سے پہلے وزیر اعظم کارنی سے بات کی۔
انہوں نے نوٹ کیا کہ "ہمارا ارادہ ہمیشہ مزدوروں اور کاروباروں پر محصولات کے اثرات پر، اور اس بات کے بارے میں بات چیت شروع کرنا تھا کہ امریکی کس قسم کی معیشت تعمیر کرنا چاہتے ہیں "۔
شفقنا اردو
منگل 28 اکتوبر 2025
نوٹ: شفقنا کا اس تحریر کے مندرجات سے متفق ہونا ضروری نہیں