استنبول میں پاکستان اور افغانستان کے امن مذاکرات تعطل کا شکار ہیں۔ اطلاعات کے مطابق افغان وفد کے پاس کوئی حتمی فیصلہ کرنے کا اختیار نہیں ہے۔ دوسری طرف ریاض میں وزیر اعظم شہباز شریف نے سعودی ولی عہد محمد بن سلیمان سے ملاقات کی ہے اور دونوں ملک ’اقتصادی تعاون کے فریم ورک‘ پر متفق ہو گئے ہیں۔
دوسرے لفظوں سعودی عرب کے ساتھ معاملات آگے بڑھانے کا سلسلہ بھی تعطل کا شکار ہے۔ سعودی حکمران پاکستان میں کسی سرمایہ کاری کا کوئی واضح وعدہ یا اقدام کرنے پر آمادہ نہیں ہیں۔ اس حوالے سے شاید کچھ معاملات طے ہونے کا انتظار کیا جا رہا ہے۔ عین ممکن ہے کہ یہ معاملات میں غزہ میں پاکستانی فوج کا کردار سے منسلک ہوں یا سعودی عرب پاکستان میں سیاسی افتراق کے حوالے سے جو ضمانتیں چاہتا ہے، ان پر اسے کوئی واضح اور صاف جواب نہ دیا جا رہا ہو۔
عرب لیڈر اور خاص طور سے سعودی لیڈر اشاروں کنایوں اور سفارتی زبان میں اپنا مفہوم واضح کرتے ہیں۔ وہ عرف عام میں بلیک اینڈ وائٹ پوزیشن اختیار کرنے کی بجائے سارے آپشن کھلے رکھتے ہیں تاکہ سہولت و ضرورت کے مطابق انہیں استعمال میں لایا جا سکے۔ پاکستان کے ساتھ سعودی تعلقات کی تاریخ بہت پرانی اور دوستانہ ہے۔ پاکستان سعودی شاہی خاندان کو حرمین الشریفین کے خادمین کے درجے پر فائز سمجھتے ہوئے، ان کے لیے احترام اور قدر و منزلت کے جذبات رکھتا ہے۔ اسی لیے موجودہ دفاعی معاہدہ ہونے سے پہلے بھی پاکستانی حکام ہمیشہ یہ اعلان کرتے رہے تھے کہ وہ حرمین الشریفین کی حفاظت کے لیے اپنے سعودی بھائیوں کے شانہ بشانہ کھڑے ہیں۔ اسی طرح سعودی عرب نے بھی ہمیشہ سے مالی مشکلات میں گھرے پاکستان کو ریلیف فراہم کرنے کے لیے بلادریغ اقدامات کیے ہیں اور کھلے دل سے ہر قسم کی مالی مدد فراہم کی ہے۔
البتہ گزشتہ کچھ عرصہ سے مشرق وسطیٰ کی تبدیل ہوتی صورت حال اور امریکہ میں صدر ٹرمپ کے ’پل میں تولہ پل میں ماشہ‘ جیسا رویہ عرب لیڈروں کی بے یقینی میں اضافہ کا سبب بنا ہے۔ 9 ستمبر کو دوحہ پر اسرائیلی حملے کے بعد صدر ٹرمپ اپنے عرب حلیفوں کو یہ یقین دلانے میں کامیاب نہیں ہوئے تھے کہ وہ اسرائیلی جارحیت کی صورت میں ان کی حفاظت کی ذمہ داری پوری کرنے کے قابل ہیں۔ اسی لیے عرب دنیا میں پریشانی و ہیجان محسوس کیا گیا۔ اسی ہیجان کے ماحول میں پاکستانی وزیر اعظم اور آرمی چیف 17 ستمبر کو ریاض پہنچے تھے جہاں ان کا غیر معمولی شان و شوکت سے استقبال کیا گیا۔ اسی دورے میں پاکستان اور سعودی حکومت کے درمیان دفاعی معاہدے کی دستاویزات پر دستخط ہوئے۔
اس معاہدے کی اہم ترین شق یہی تھی کہ ایک ملک پر حملہ دوسرے پر حملہ سمجھا جائے گا۔ پاکستان میں ہونے والے مباحث میں یہ تو واضح تھا کہ اگر سعودی عرب کی سالمیت پر آنچ آتی ہے تو پاکستان پوری قوت سے اس کی حفاظت کے لیے تیار ہو گا۔ لیکن اس بارے میں شبہات موجود رہے ہیں کہ اگر پاکستان پر ایسا کوئی برا وقت آتا ہے تو کیا سعودی عرب بھی اسی طرح پاکستان کی مدد کے لیے آئے گا؟ یہ بحث خاص طور سے مئی کے دوران پاکستان اور بھارت کے درمیان ہونے والی عسکری جھڑپوں کے تناظر میں اہم تھی۔ بھارتی لیڈر اب بھی پاکستان کے خلاف ایک اور جنگ لڑنے کی دھمکیاں دیتے رہتے ہیں۔ لیکن دفاعی معاہدہ ہونے کے باوجود اسلام آباد یا ریاض نے اس شق اور پاکستان کے دفاع کے بارے میں کوئی وضاحت دینے کی ضرورت محسوس نہیں کی۔
اس دوران پاکستان پر افغانستان نے حملہ کیا اور تین دن کی جھڑپوں کے بعد قطر و ترکی کی ثالثی میں دونوں ملک جنگ بندی پر آمادہ ہو گئے۔ اگرچہ جنگ بندی معاہدہ تو فوری طور سے نافذ ہو گیا لیکن استنبول میں گزشتہ تین دن سے جاری امن مذاکرات مسلسل تعطل کا شکار ہیں۔ دونوں ملکوں کے وفود ابھی تک وہاں موجود ہیں اور وہ روزانہ کی بنیاد پر کئی کئی گھنٹے کی نشستیں منعقد کر رہے ہیں لیکن اس بات چیت کا کوئی نتیجہ برآمد نہیں ہو رہا۔ سکیورٹی ذرائع اور سرکاری نمائندوں نے میڈیا کو جو کچھ بتایا ہے، اس سے یہی واضح ہوتا ہے کہ افغانستان کا وفد بے اختیار ہے اور وہ ہر بات پر کابل سے ہدایات لیتا ہے اور بعض نکات پر اتفاق کرنے کے بعد ان سے منحرف ہوجاتا ہے۔ پاکستان دو ٹوک الفاظ میں افغانستان پر واضح کر رہا ہے کہ وہ نہ صرف تحریک طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی) کی سرپرستی بند کرے بلکہ اس کا قلع قمع کرنے کے اقدام بھی کیے جائیں تاکہ پاکستان میں دہشت گردی کا سلسلہ بند ہو۔ افغانستان اس اصول پر واضح موقف اختیار کرنے میں ناکام ہو رہا ہے۔ اس معاملہ پر وہ پاکستان کے ساتھ کوئی تحریری معاہدہ کرنے پر بھی آمادہ نہیں ہے۔
پاکستان کا خیال ہے کہ مسلسل سفارتی کوششوں سے شاید افغان وفد عقل کے ناخن لینے پر آمادہ ہو جائے۔ جبکہ افغان وفد اس امید پر استنبول میں بات چیت جاری رکھے ہوئے ہے کہ شاید وہ پاکستان سے افغان سرزمین میں حملے نہ کرنے کا وعدہ لینے میں کامیاب ہو جائے۔ کابل میں طالبان حکومت جانتی ہے کہ باقاعدہ جنگ کی صورت میں وہ پاکستانی فوج کا مقابلہ نہیں کر سکتے، اس لیے جنگ بندی کا تسلسل اور جنگ نہ کرنے کا وعدہ کابل حکومت کے لیے بے حد اہم ہے۔ ایسی یقین دہانی کے بعد پاک افغان بارڈر پر تجارت کا آغاز بھی ممکن بنایا جا سکتا ہے۔ دوسری طرف پاکستان کو یہ فیصلہ کرنا ہے کہ کیا وہ طالبان حکومت کو ایک اور موقع دینے کے بعد کے پی کے اور بلوچستان میں ہونے والی دہشت گردی کے ایک نئے دور کو قبول کر لے۔ افغانستان اگر دہشت گرد گروہوں کے خاتمہ کے لیے کوئی تحریری معاہدہ نہیں کرتا اور معاملہ صرف جنگ نہ کرنے کے وعدے تک محدود رہتا ہے تو اس میں پاکستان کو سراسر خسارہ ہے۔
افغانستان کے حوالے سے عالمی رائے عامہ پاکستان کے ساتھ ہے۔ افغان حکومت کو نہ تو کسی ملک نے تسلیم کیا ہے اور نہ ہی طالبان کی موجودہ حکومت کے بچیوں کی تعلیم کے خلاف سخت گیر اقدامات کے بعد ان کے لیے کوئی نرم گوشہ پیدا ہوا ہے۔ امریکہ اور دیگر ممالک کو یہ تشویش بھی ہونی چاہیے کہ اگر افغانستان سے پاکستان کے خلاف دہشت گردی کا سلسلہ جاری رہتا ہے تو یہ عناصر ریجن کے علاوہ عالمی سطح پر سرگرم ہونے کے لیے بھی مربوط ہوسکتے ہیں۔ ایسے میں پاکستان کو افغانستان کے ساتھ ناخوشگوار مگر فیصلہ کن جنگ کا اقدام کرنا چاہیے۔ افغانستان کی حکومت دونوں ملکوں کے درمیان ڈیورنڈ لائن کو باقاعدہ سرحد نہیں مانتی اور پاکستان کے وسیع علاقوں پر دعویٰ رکھتی ہے۔ اس صورت حال میں پاکستان کو افغانستان میں کئی کلو میٹر اندر جاکر ویسی ہی بفر زون بنانے کی ضرورت ہے جو ترکی نے شام میں قائم کی تھی۔
البتہ افغانستان کے ساتھ مذاکرات کی کامیابی کی امید پر پاکستان نے ابھی تک ایسے باقاعدہ جنگی منصوبے کا اعلان نہیں کیا۔ اگرچہ محسوس کیا جاسکتا ہے کہ پاکستان کی سکیورٹی حکمت عملی میں یہ منصوبہ زیر غور ضرور ہے۔ یہ ایک اہم اور مشکل فیصلہ ہو سکتا ہے۔ کیوں کہ ایک طرف افغانستان سرکش دوست کا کردار ادا کرنے پر مصر ہے تو دوسری طرف بھارت آپریشن سندور میں ناکامی کا انتقام لینے کے لیے دانت تیز کر رہا ہے۔ اس مسئلہ کا تیسرا پہلو خیبر پختون خوا کی حکومت اور پاکستان تحریک انصاف کا غیر متوازن رویہ ہے۔ پارٹی پاکستانی حکومت کے سکیورٹی اقدامات کی کھلے دل سے تائید کرنے کی بجائے مسلسل افغانستان کے لیے سیاسی سہولت حاصل کرنے کی کوشش کرتی ہے۔ کابل کو بھی پاکستان کی داخلی سیاست میں اپنے اس اثر و رسوخ کا اندازہ ہے۔
ایسے سنگین اور گنجلک ماحول میں پاک سعودی دفاعی معاہدہ امید کی ایک کرن ہو سکتا تھا۔ یہ تو قابل فہم ہے کہ کسی جنگ کی صورت میں سعودی فوج شاید پاکستان کی براہ راست مدد کرنے کی پوزیشن میں نہ ہو لیکن جب مشترکہ دفاع کے معاہدے پر اتفاق کیا جا چکا ہے تو سعودی عرب کو پاکستانی فوج کو مضبوط بنانے اور اس کی عسکری صلاحیتوں میں اضافہ کے لیے اپنے خزانے کا منہ کھولنا چاہیے تھا۔ سعودی عرب اگر پاکستان سے ’جوہری ضمانت‘ کا خواہاں ہے اور جنگ کی صورت میں عملی مدد بھی مانگے گا تو اسے اس فوج کی صلاحیتوں کو بہتر بنانے پر کم از کم اتنا بجٹ تو صرف کرنا ہی چاہیے جو پاکستان اپنے وسائل سے فراہم کرتا ہے۔ امریکہ کے ساتھ معاملات کی نزاکت کی وجہ سے اگر براہ راست عسکری صلاحیتیں بہتر بنانے میں سعودی وسائل فراہم نہیں ہوسکتے تو متبادل کے طور پر سعودی عرب پاکستان میں وسیع سرمایہ کاری کے ذریعے ملک میں پائی جانے والی معاشی بے یقینی اور انحطاط کی کیفیت ختم کر سکتا ہے۔ یہ سرمایہ کاری بہر حال امریکہ میں 600 ارب ڈالر لگانے کے وعدوں سے کہیں کم ہوگی لیکن سعودی عرب کو اس سے امریکہ میں لگائے گئے سرمایہ کے مقابلہ میں ٹھوس اور طویل المدت مفادات حاصل ہوں گے۔
پاکستانی وزیر اعظم اور آرمی چیف دو ماہ بعد ہی دوبارہ ریاض پہنچے ہیں اور ولی عہد شہزادہ محمد بن سلیمان سے ملاقات ہوئی ہے۔ اس ملاقات کے اعلامیہ میں ’دونوں ملکوں کے درمیان اقتصادی تعاون کا فریم ورک شروع کرنے پر اتفاق کیا گیا ہے۔ تجارت و سرمایہ کاری کے تعلقات مضبوط ہوں گے۔ اقتصادی، تجارتی، سرمایہ کاری اور ترقیاتی شعبوں میں کئی اسٹریٹجک اور اعلیٰ اثرات کے حامل منصوبوں پر تبادلہ خیال کیا جائے گا جو دونوں ممالک کے درمیان تعاون کو مضبوط بنانے، نجی شعبے کے اہم کردار کو بڑھانے اور تجارتی تبادلے کو بڑھانے میں معاون ثابت ہوں گے‘ ۔ اعلامیہ کی زبان سے ہی واضح ہے کہ سعودی عرب، پاکستان میں براہ راست سرمایہ کاری کے حوالے سے کوئی وعدہ کرنے کی سطح تک نہیں پہنچا۔ یہ تو حکومت پاکستان کو بتانا چاہیے کہ اس بارے میں کون سی رکاوٹیں حائل ہیں۔ بلند بانگ دعوؤں اور باہمی دفاع کے اہم اسٹریٹجک معاہدے کے بعد بھی اگر معاشی سرگرمی میں ٹھوس اضافہ دیکھنے میں نہیں آتا تو پاکستان میں نام نہاد معاشی بحالی کے دعوے پایہ تکمیل تک نہیں پہنچ سکیں گے۔
پاکستانی لیڈروں کو یک طرفہ طور سے سفارتی کامیابیوں کا ڈھنڈورا پیٹنے کی بجائے، قوم کو تمام تفصیلات بتانے کی ضرورت ہے۔ اس کے علاوہ افغانستان جیسا دوست نما دشمن ہو یا سعودی عرب جیسا آزمودہ دوست، حکومت ان پر اپنی ریڈ لائنز اور ضرورتیں واضح کرے۔ سفارتی کامیابی کے لیے فالٹ لائنز طے کرنا اور اہداف کا تعین بے حد اہم ہے تاکہ معاملات کرتے ہوئے کوئی غلط فہمی موجود نہ رہے۔
شفقنا اردو
نوٹ: شفقنا کا اس تحریر کے مندرجات سے متفق ہونا ضروری نہیں