Top Posts
شہباز شریف کی حکومت کیوں ناکام ہے؟ سید...
روس اور ایران کا اسٹریٹجک اتحاد کتنا مضبوط؟...
یو اے ای: غیر قانونی افراد کو پناہ...
افغانستان: پنچشیر میں نیشنل ریزسٹنس فرنٹ کا حملہ:...
عمران خان مائنس ہوا تو ایک بھی باقی...
اسرائیل اں سال دنیا بھر میں قتل ہونے...
بابا وانگا نے 2026 کیلئے کونسی اہم اور...
مسلم ممالک کا اعتراض: ٹونی بلیئر کا نام...
مائیکروسافٹ کا بھارت میں 17.5 ارب ڈالر کی...
پاکستان ڈیفالٹ کے خطرے سے پیچھے ہٹ رہا...
  • Turkish
  • Russian
  • Spanish
  • Persian
  • Pakistan
  • Lebanon
  • Iraq
  • India
  • Bahrain
  • French
  • English
  • Arabic
  • Afghanistan
  • Azerbaijan
شفقنا اردو | بین الاقوامی شیعہ خبر رساں ادارہ اور تجزیاتی مرکز
اردو
  • صفحہ اول
  • تازہ ترین
  • آپ کی خبر
  • بلاگ
  • پاکستان
  • تصویری منظر نامہ
  • دلچسپ و عجیب
  • سائنس و ٹیکنالوجی
  • صحت وتعلیم
  • عالمی منظر نامہ
  • فیچرز و تجزیئے
  • کھیل و کھلاڑی
  • وڈیوز
  • رابطہ

استنبول اور ریاض میں تعطل کی یکساں کیفیت/سید مجاہد علی

by TAK 11:53 | بدھ اکتوبر 29، 2025
11:53 | بدھ اکتوبر 29، 2025 63 views
63
یہ تحریرکاروان ناروے میں شائع ہوئی
استنبول میں پاکستان اور افغانستان کے امن مذاکرات تعطل کا شکار ہیں۔ اطلاعات کے مطابق افغان وفد کے پاس کوئی حتمی فیصلہ کرنے کا اختیار نہیں ہے۔ دوسری طرف ریاض میں وزیر اعظم شہباز شریف نے سعودی ولی عہد محمد بن سلیمان سے ملاقات کی ہے اور دونوں ملک ’اقتصادی تعاون کے فریم ورک‘ پر متفق ہو گئے ہیں۔
دوسرے لفظوں سعودی عرب کے ساتھ معاملات آگے بڑھانے کا سلسلہ بھی تعطل کا شکار ہے۔ سعودی حکمران پاکستان میں کسی سرمایہ کاری کا کوئی واضح وعدہ یا اقدام کرنے پر آمادہ نہیں ہیں۔ اس حوالے سے شاید کچھ معاملات طے ہونے کا انتظار کیا جا رہا ہے۔ عین ممکن ہے کہ یہ معاملات میں غزہ میں پاکستانی فوج کا کردار سے منسلک ہوں یا سعودی عرب پاکستان میں سیاسی افتراق کے حوالے سے جو ضمانتیں چاہتا ہے، ان پر اسے کوئی واضح اور صاف جواب نہ دیا جا رہا ہو۔
عرب لیڈر اور خاص طور سے سعودی لیڈر اشاروں کنایوں اور سفارتی زبان میں اپنا مفہوم واضح کرتے ہیں۔ وہ عرف عام میں بلیک اینڈ وائٹ پوزیشن اختیار کرنے کی بجائے سارے آپشن کھلے رکھتے ہیں تاکہ سہولت و ضرورت کے مطابق انہیں استعمال میں لایا جا سکے۔ پاکستان کے ساتھ سعودی تعلقات کی تاریخ بہت پرانی اور دوستانہ ہے۔ پاکستان سعودی شاہی خاندان کو حرمین الشریفین کے خادمین کے درجے پر فائز سمجھتے ہوئے، ان کے لیے احترام اور قدر و منزلت کے جذبات رکھتا ہے۔ اسی لیے موجودہ دفاعی معاہدہ ہونے سے پہلے بھی پاکستانی حکام ہمیشہ یہ اعلان کرتے رہے تھے کہ وہ حرمین الشریفین کی حفاظت کے لیے اپنے سعودی بھائیوں کے شانہ بشانہ کھڑے ہیں۔ اسی طرح سعودی عرب نے بھی ہمیشہ سے مالی مشکلات میں گھرے پاکستان کو ریلیف فراہم کرنے کے لیے بلادریغ اقدامات کیے ہیں اور کھلے دل سے ہر قسم کی مالی مدد فراہم کی ہے۔
البتہ گزشتہ کچھ عرصہ سے مشرق وسطیٰ کی تبدیل ہوتی صورت حال اور امریکہ میں صدر ٹرمپ کے ’پل میں تولہ پل میں ماشہ‘ جیسا رویہ عرب لیڈروں کی بے یقینی میں اضافہ کا سبب بنا ہے۔ 9 ستمبر کو دوحہ پر اسرائیلی حملے کے بعد صدر ٹرمپ اپنے عرب حلیفوں کو یہ یقین دلانے میں کامیاب نہیں ہوئے تھے کہ وہ اسرائیلی جارحیت کی صورت میں ان کی حفاظت کی ذمہ داری پوری کرنے کے قابل ہیں۔ اسی لیے عرب دنیا میں پریشانی و ہیجان محسوس کیا گیا۔ اسی ہیجان کے ماحول میں پاکستانی وزیر اعظم اور آرمی چیف 17 ستمبر کو ریاض پہنچے تھے جہاں ان کا غیر معمولی شان و شوکت سے استقبال کیا گیا۔ اسی دورے میں پاکستان اور سعودی حکومت کے درمیان دفاعی معاہدے کی دستاویزات پر دستخط ہوئے۔
اس معاہدے کی اہم ترین شق یہی تھی کہ ایک ملک پر حملہ دوسرے پر حملہ سمجھا جائے گا۔ پاکستان میں ہونے والے مباحث میں یہ تو واضح تھا کہ اگر سعودی عرب کی سالمیت پر آنچ آتی ہے تو پاکستان پوری قوت سے اس کی حفاظت کے لیے تیار ہو گا۔ لیکن اس بارے میں شبہات موجود رہے ہیں کہ اگر پاکستان پر ایسا کوئی برا وقت آتا ہے تو کیا سعودی عرب بھی اسی طرح پاکستان کی مدد کے لیے آئے گا؟ یہ بحث خاص طور سے مئی کے دوران پاکستان اور بھارت کے درمیان ہونے والی عسکری جھڑپوں کے تناظر میں اہم تھی۔ بھارتی لیڈر اب بھی پاکستان کے خلاف ایک اور جنگ لڑنے کی دھمکیاں دیتے رہتے ہیں۔ لیکن دفاعی معاہدہ ہونے کے باوجود اسلام آباد یا ریاض نے اس شق اور پاکستان کے دفاع کے بارے میں کوئی وضاحت دینے کی ضرورت محسوس نہیں کی۔
اس دوران پاکستان پر افغانستان نے حملہ کیا اور تین دن کی جھڑپوں کے بعد قطر و ترکی کی ثالثی میں دونوں ملک جنگ بندی پر آمادہ ہو گئے۔ اگرچہ جنگ بندی معاہدہ تو فوری طور سے نافذ ہو گیا لیکن استنبول میں گزشتہ تین دن سے جاری امن مذاکرات مسلسل تعطل کا شکار ہیں۔ دونوں ملکوں کے وفود ابھی تک وہاں موجود ہیں اور وہ روزانہ کی بنیاد پر کئی کئی گھنٹے کی نشستیں منعقد کر رہے ہیں لیکن اس بات چیت کا کوئی نتیجہ برآمد نہیں ہو رہا۔ سکیورٹی ذرائع اور سرکاری نمائندوں نے میڈیا کو جو کچھ بتایا ہے، اس سے یہی واضح ہوتا ہے کہ افغانستان کا وفد بے اختیار ہے اور وہ ہر بات پر کابل سے ہدایات لیتا ہے اور بعض نکات پر اتفاق کرنے کے بعد ان سے منحرف ہوجاتا ہے۔ پاکستان دو ٹوک الفاظ میں افغانستان پر واضح کر رہا ہے کہ وہ نہ صرف تحریک طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی) کی سرپرستی بند کرے بلکہ اس کا قلع قمع کرنے کے اقدام بھی کیے جائیں تاکہ پاکستان میں دہشت گردی کا سلسلہ بند ہو۔ افغانستان اس اصول پر واضح موقف اختیار کرنے میں ناکام ہو رہا ہے۔ اس معاملہ پر وہ پاکستان کے ساتھ کوئی تحریری معاہدہ کرنے پر بھی آمادہ نہیں ہے۔
پاکستان کا خیال ہے کہ مسلسل سفارتی کوششوں سے شاید افغان وفد عقل کے ناخن لینے پر آمادہ ہو جائے۔ جبکہ افغان وفد اس امید پر استنبول میں بات چیت جاری رکھے ہوئے ہے کہ شاید وہ پاکستان سے افغان سرزمین میں حملے نہ کرنے کا وعدہ لینے میں کامیاب ہو جائے۔ کابل میں طالبان حکومت جانتی ہے کہ باقاعدہ جنگ کی صورت میں وہ پاکستانی فوج کا مقابلہ نہیں کر سکتے، اس لیے جنگ بندی کا تسلسل اور جنگ نہ کرنے کا وعدہ کابل حکومت کے لیے بے حد اہم ہے۔ ایسی یقین دہانی کے بعد پاک افغان بارڈر پر تجارت کا آغاز بھی ممکن بنایا جا سکتا ہے۔ دوسری طرف پاکستان کو یہ فیصلہ کرنا ہے کہ کیا وہ طالبان حکومت کو ایک اور موقع دینے کے بعد کے پی کے اور بلوچستان میں ہونے والی دہشت گردی کے ایک نئے دور کو قبول کر لے۔ افغانستان اگر دہشت گرد گروہوں کے خاتمہ کے لیے کوئی تحریری معاہدہ نہیں کرتا اور معاملہ صرف جنگ نہ کرنے کے وعدے تک محدود رہتا ہے تو اس میں پاکستان کو سراسر خسارہ ہے۔
افغانستان کے حوالے سے عالمی رائے عامہ پاکستان کے ساتھ ہے۔ افغان حکومت کو نہ تو کسی ملک نے تسلیم کیا ہے اور نہ ہی طالبان کی موجودہ حکومت کے بچیوں کی تعلیم کے خلاف سخت گیر اقدامات کے بعد ان کے لیے کوئی نرم گوشہ پیدا ہوا ہے۔ امریکہ اور دیگر ممالک کو یہ تشویش بھی ہونی چاہیے کہ اگر افغانستان سے پاکستان کے خلاف دہشت گردی کا سلسلہ جاری رہتا ہے تو یہ عناصر ریجن کے علاوہ عالمی سطح پر سرگرم ہونے کے لیے بھی مربوط ہوسکتے ہیں۔ ایسے میں پاکستان کو افغانستان کے ساتھ ناخوشگوار مگر فیصلہ کن جنگ کا اقدام کرنا چاہیے۔ افغانستان کی حکومت دونوں ملکوں کے درمیان ڈیورنڈ لائن کو باقاعدہ سرحد نہیں مانتی اور پاکستان کے وسیع علاقوں پر دعویٰ رکھتی ہے۔ اس صورت حال میں پاکستان کو افغانستان میں کئی کلو میٹر اندر جاکر ویسی ہی بفر زون بنانے کی ضرورت ہے جو ترکی نے شام میں قائم کی تھی۔
البتہ افغانستان کے ساتھ مذاکرات کی کامیابی کی امید پر پاکستان نے ابھی تک ایسے باقاعدہ جنگی منصوبے کا اعلان نہیں کیا۔ اگرچہ محسوس کیا جاسکتا ہے کہ پاکستان کی سکیورٹی حکمت عملی میں یہ منصوبہ زیر غور ضرور ہے۔ یہ ایک اہم اور مشکل فیصلہ ہو سکتا ہے۔ کیوں کہ ایک طرف افغانستان سرکش دوست کا کردار ادا کرنے پر مصر ہے تو دوسری طرف بھارت آپریشن سندور میں ناکامی کا انتقام لینے کے لیے دانت تیز کر رہا ہے۔ اس مسئلہ کا تیسرا پہلو خیبر پختون خوا کی حکومت اور پاکستان تحریک انصاف کا غیر متوازن رویہ ہے۔ پارٹی پاکستانی حکومت کے سکیورٹی اقدامات کی کھلے دل سے تائید کرنے کی بجائے مسلسل افغانستان کے لیے سیاسی سہولت حاصل کرنے کی کوشش کرتی ہے۔ کابل کو بھی پاکستان کی داخلی سیاست میں اپنے اس اثر و رسوخ کا اندازہ ہے۔
ایسے سنگین اور گنجلک ماحول میں پاک سعودی دفاعی معاہدہ امید کی ایک کرن ہو سکتا تھا۔ یہ تو قابل فہم ہے کہ کسی جنگ کی صورت میں سعودی فوج شاید پاکستان کی براہ راست مدد کرنے کی پوزیشن میں نہ ہو لیکن جب مشترکہ دفاع کے معاہدے پر اتفاق کیا جا چکا ہے تو سعودی عرب کو پاکستانی فوج کو مضبوط بنانے اور اس کی عسکری صلاحیتوں میں اضافہ کے لیے اپنے خزانے کا منہ کھولنا چاہیے تھا۔ سعودی عرب اگر پاکستان سے ’جوہری ضمانت‘ کا خواہاں ہے اور جنگ کی صورت میں عملی مدد بھی مانگے گا تو اسے اس فوج کی صلاحیتوں کو بہتر بنانے پر کم از کم اتنا بجٹ تو صرف کرنا ہی چاہیے جو پاکستان اپنے وسائل سے فراہم کرتا ہے۔ امریکہ کے ساتھ معاملات کی نزاکت کی وجہ سے اگر براہ راست عسکری صلاحیتیں بہتر بنانے میں سعودی وسائل فراہم نہیں ہوسکتے تو متبادل کے طور پر سعودی عرب پاکستان میں وسیع سرمایہ کاری کے ذریعے ملک میں پائی جانے والی معاشی بے یقینی اور انحطاط کی کیفیت ختم کر سکتا ہے۔ یہ سرمایہ کاری بہر حال امریکہ میں 600 ارب ڈالر لگانے کے وعدوں سے کہیں کم ہوگی لیکن سعودی عرب کو اس سے امریکہ میں لگائے گئے سرمایہ کے مقابلہ میں ٹھوس اور طویل المدت مفادات حاصل ہوں گے۔
پاکستانی وزیر اعظم اور آرمی چیف دو ماہ بعد ہی دوبارہ ریاض پہنچے ہیں اور ولی عہد شہزادہ محمد بن سلیمان سے ملاقات ہوئی ہے۔ اس ملاقات کے اعلامیہ میں ’دونوں ملکوں کے درمیان اقتصادی تعاون کا فریم ورک شروع کرنے پر اتفاق کیا گیا ہے۔ تجارت و سرمایہ کاری کے تعلقات مضبوط ہوں گے۔ اقتصادی، تجارتی، سرمایہ کاری اور ترقیاتی شعبوں میں کئی اسٹریٹجک اور اعلیٰ اثرات کے حامل منصوبوں پر تبادلہ خیال کیا جائے گا جو دونوں ممالک کے درمیان تعاون کو مضبوط بنانے، نجی شعبے کے اہم کردار کو بڑھانے اور تجارتی تبادلے کو بڑھانے میں معاون ثابت ہوں گے‘ ۔ اعلامیہ کی زبان سے ہی واضح ہے کہ سعودی عرب، پاکستان میں براہ راست سرمایہ کاری کے حوالے سے کوئی وعدہ کرنے کی سطح تک نہیں پہنچا۔ یہ تو حکومت پاکستان کو بتانا چاہیے کہ اس بارے میں کون سی رکاوٹیں حائل ہیں۔ بلند بانگ دعوؤں اور باہمی دفاع کے اہم اسٹریٹجک معاہدے کے بعد بھی اگر معاشی سرگرمی میں ٹھوس اضافہ دیکھنے میں نہیں آتا تو پاکستان میں نام نہاد معاشی بحالی کے دعوے پایہ تکمیل تک نہیں پہنچ سکیں گے۔
پاکستانی لیڈروں کو یک طرفہ طور سے سفارتی کامیابیوں کا ڈھنڈورا پیٹنے کی بجائے، قوم کو تمام تفصیلات بتانے کی ضرورت ہے۔ اس کے علاوہ افغانستان جیسا دوست نما دشمن ہو یا سعودی عرب جیسا آزمودہ دوست، حکومت ان پر اپنی ریڈ لائنز اور ضرورتیں واضح کرے۔ سفارتی کامیابی کے لیے فالٹ لائنز طے کرنا اور اہداف کا تعین بے حد اہم ہے تاکہ معاملات کرتے ہوئے کوئی غلط فہمی موجود نہ رہے۔
شفقنا اردو
نوٹ: شفقنا کا اس تحریر کے مندرجات سے متفق ہونا ضروری نہیں
استنبولافغان وفدپاکستان اور افغانستانسعودی عربعرب لیڈر
0 FacebookTwitterLinkedinWhatsappTelegramViberEmail
گزشتہ پوسٹ
وزیر اعظم انوار الحق کے خلاف تحریکِ عدم اعتماد: پاکستان کے زیرِ انتظام کشمیر میں سیاسی ہلچل کی وجوہات کیا ہیں؟
اگلی پوسٹ
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے فیلڈ ماشل عاصم منیر کو زبردست فائٹر قرار دےدیا

یہ بھی پڑھنا مت بھولیں

سعودی عرب میں طوفانی بارش، تیز ہواؤں نے...

05:11 | منگل دسمبر 9، 2025

پاکستانی شہریوں کی بڑی تعداد غیر ملکی جیلوں...

04:29 | ہفتہ دسمبر 6، 2025

سعودی عرب نے پاکستان کے 3 ارب ڈالرزکے...

04:02 | جمعہ دسمبر 5، 2025

پاکستان اور افغانستان کے درمیان کشیدگی کم کرنے...

04:03 | جمعرات دسمبر 4، 2025

پاکستان کی مشرقِ وسطیٰ کی جغرافیائی سیاست میں...

13:29 | بدھ دسمبر 3، 2025

سعودی عرب میں پاک افغان مذاکرات ؟ مزمل...

13:29 | بدھ دسمبر 3، 2025

سعودی عرب میں مقیم غیر ملکی رہائشیوں کے...

13:52 | منگل دسمبر 2، 2025

سعودی عرب کی ثالثی میں پاکستان اور افغانستان...

08:23 | منگل دسمبر 2، 2025

صحافی خاشقجی کا قتل، ابراہیمی معاہدے اور 10...

13:20 | بدھ نومبر 19، 2025

  امریکا اور سعودی عرب کے درمیان سول...

04:00 | بدھ نومبر 19، 2025

تبصرہ کریں Cancel Reply

میرا نام، ای میل اور ویب سائٹ مستقبل میں تبصروں کے لئے محفوظ کیجئے.

تازہ ترین

  • شہباز شریف کی حکومت کیوں ناکام ہے؟ سید مجاہد علی

  • روس اور ایران کا اسٹریٹجک اتحاد کتنا مضبوط؟ جاوید اختر

  • یو اے ای: غیر قانونی افراد کو پناہ دینے پر کروڑوں کے جرمانے نافذ

  • افغانستان: پنچشیر میں نیشنل ریزسٹنس فرنٹ کا حملہ: 17 طالبان جنگجو ہلاک

  • عمران خان مائنس ہوا تو ایک بھی باقی نہیں رہے گا: بیرسٹر گوہر علی خان

  • اسرائیل اں سال دنیا بھر میں قتل ہونے والے تمام صحافیوں میں سے تقریباً نصف صحافیوں کے قتل کا ذمہ دار

  • بابا وانگا نے 2026 کیلئے کونسی اہم اور بڑی پیشگوئیاں کیں؟

  • مسلم ممالک کا اعتراض: ٹونی بلیئر کا نام ’غزہ امن کونسل‘ سے نکال دیا گیا

  • مائیکروسافٹ کا بھارت میں 17.5 ارب ڈالر کی خطیر سرمایہ کاری کا اعلان

  • پاکستان ڈیفالٹ کے خطرے سے پیچھے ہٹ رہا ہے، آئی ایم ایف رپورٹ

  • یوکرینی صدر کی مشروط انتخاب کرانے پر رضامندی

  • بابر اعظم اور شاہین شاہ آفریدی بگ بیش لیگ کے 15 ویں ایڈیشن میں شرکت کے لیے آسٹریلیا پہنچ گئے

  •  عمران خان کی بہنوں اور پی ٹی آئی کارکنوں پر پولیس کریک ڈاؤن: اڈیالہ کے باہر دھرنا ختم

  • عالمی دباؤ: اسرائیل نے اردن کے ساتھ بارڈرکو غزہ کے امدادی سامان کے لیے کھولنے کا اعلان کردیا

  • قومی اسمبلی کی کمیٹی برائے خزانہ نے اسمارٹ فونز ر عائد ٹیکس میں کمی کا مطالبہ کردیا

  • وزیرستان میں تحصیل ہیڈ کوارٹر اسپتال غیر فعال: متعدد مریض جاں بحق

  • جدہ میں 135 ملی میٹر بارش ریکارڈ : نظام زندگی درہم برہم

  • گوگل میپس کی وہ ٹِرکس جو آپ کو ضرور استعمال کرنی چاہیے

  • ہندوتوا اور ہندوستان کے زیر انتظام کشمیر میں اجتماعی سزا کا کچل دینے والا ظلم/نعیم افضل

  • یورپی ملک میں خواتین نے مردوں کو گھریلو کام کاج کیلئے ہائر کرنا شروع کردیا

مقبول ترین

  • صفائی اور پاکیزگی قرآن و حدیث کی روشنی میں : شفقنا اسلام

  • چھپکلی کی جلد سے متاثرہ بھوک لگانے والا کیپسول

  • میں نے جمہوریت کی مضبوطی کے لیے کام کیا: جوبائیڈن کا قوم سے خطاب

  • کیا ہندوستان کی آنے والی نسلیں مسلم مخالف نفرت میں اس کی زوال پزیری کو معاف کر دیں گی؟/شاہد عالم

  • مہاتیر محمد نے اپنا استعفیٰ پیش کردیا

  • مکمل لکڑی سے تراشا گیا کارکا ماڈل 2 لاکھ ڈالر میں نیلام

  • ایک ارب 70 کروڑ ڈالر کے قرضوں کی ادائیگی معطل کرنے کے معاہدے پر دستخط

  • اسلام آباد: میجر لاریب قتل کیس میں ایک مجرم کو سزائے موت، دوسرے کو عمر قید

  • دی نیشن رپورٹ/پاکستانی جیلوں میں قید خواتین : اگرچہ ان کی چیخیں دب گئی ہیں مگر ان کے دکھ کو نظر انداز نہیں کیا جاسکتا

  • عورتوں سے باتیں کرنا

@2021 - All Right Reserved. Designed


Back To Top
شفقنا اردو | بین الاقوامی شیعہ خبر رساں ادارہ اور تجزیاتی مرکز
  • صفحہ اول
  • تازہ ترین
  • آپ کی خبر
  • بلاگ
  • پاکستان
  • تصویری منظر نامہ
  • دلچسپ و عجیب
  • سائنس و ٹیکنالوجی
  • صحت وتعلیم
  • عالمی منظر نامہ
  • فیچرز و تجزیئے
  • کھیل و کھلاڑی
  • وڈیوز
  • رابطہ