Top Posts
شہباز شریف کی حکومت کیوں ناکام ہے؟ سید...
روس اور ایران کا اسٹریٹجک اتحاد کتنا مضبوط؟...
یو اے ای: غیر قانونی افراد کو پناہ...
افغانستان: پنچشیر میں نیشنل ریزسٹنس فرنٹ کا حملہ:...
عمران خان مائنس ہوا تو ایک بھی باقی...
اسرائیل اں سال دنیا بھر میں قتل ہونے...
بابا وانگا نے 2026 کیلئے کونسی اہم اور...
مسلم ممالک کا اعتراض: ٹونی بلیئر کا نام...
مائیکروسافٹ کا بھارت میں 17.5 ارب ڈالر کی...
پاکستان ڈیفالٹ کے خطرے سے پیچھے ہٹ رہا...
  • Turkish
  • Russian
  • Spanish
  • Persian
  • Pakistan
  • Lebanon
  • Iraq
  • India
  • Bahrain
  • French
  • English
  • Arabic
  • Afghanistan
  • Azerbaijan
شفقنا اردو | بین الاقوامی شیعہ خبر رساں ادارہ اور تجزیاتی مرکز
اردو
  • صفحہ اول
  • تازہ ترین
  • آپ کی خبر
  • بلاگ
  • پاکستان
  • تصویری منظر نامہ
  • دلچسپ و عجیب
  • سائنس و ٹیکنالوجی
  • صحت وتعلیم
  • عالمی منظر نامہ
  • فیچرز و تجزیئے
  • کھیل و کھلاڑی
  • وڈیوز
  • رابطہ

’غزہ نسل کشی‘ میں اسرائیل سمیت 63 ممالک ملوث ہیں، اقوام متحدہ کی رپورٹ

by TAK 07:29 | جمعرات اکتوبر 30، 2025
07:29 | جمعرات اکتوبر 30، 2025 75 views
75
شفقنا اردو: اقوام متحدہ کے فلسطین کے لیے خصوصی نمائندے کی آج جاری ہونے والی ایک رپورٹ میں انکشاف کیا گیا ہے کہ امریکا، برطانیہ اور جرمنی سمیت 63 ممالک غزہ کی پٹی میں اسرائیل کی 2 سالہ نسل کشی میں شریک یا معاون رہے ہیں۔
فرانسسکا البانیز کی تیار کردہ اس رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ اسرائیل نے یہ اقدامات اکیلے نہیں بلکہ ’تیسرے فریق ممالک‘ کی مدد سے انجام پائے۔
رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ غزہ میں نسل کشی صرف اسرائیل کارروائیوں ہی نہیں بلکہ ایک عالمی شراکتِ جرم کے نظام کا حصہ تھی۔
مزید کہا گیا کہ طاقتور ممالک، جو نوآبادیاتی اور نسلی سرمایہ دارانہ نظام کو فروغ دیتے رہے، انہوں نے اس بات کو یقینی بنانے کے بجائے کہ اسرائیل فلسطینیوں کے بنیادی انسانی حقوق اور حقِ خودارادیت کا احترام کرے، ایسے پُرتشدد حملوں کو جاری رکھنے کی اجازت دی۔
رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ کئی ممالک نے اسرائیل کو مدد اور جواب دہی سے تحفظ فراہم کر کے اسے موقع دیا کہ وہ فلسطین کے مقبوضہ علاقوں میں اپنے آبادکار نسل پرستانہ نظام کو مزید مضبوط کرے۔
رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ غزہ میں نسل کشی کو بین الاقوامی طور پر ممکن بنائے گئے جرم کے طور پر سمجھنا چاہیے، بیشتر مغربی ممالک نے اسرائیل کی نسل کشی کی مہم کو نہ صرف ممکن بنایا بلکہ اسے جائز اور معمول کی کارروائی بنا دیا۔
رپورٹ میں لکھا گیا کہ فلسطینی شہریوں کو ’انسانی ڈھال‘ قرار دے کر اور غزہ پر حملوں کو ’تہذیب و سفاکیت کی جنگ‘ کے طور پر پیش کر کے ان ممالک نے اسرائیلی بیانیے کو تقویت دی اور بین الاقوامی قانون کی خلاف ورزیوں کو جواز بخشا۔
رپورٹ میں کہا گیا کہ جنوبی افریقہ میں نسل پرستی کے خلاف، رودیشیا اور دیگر نوآبادیاتی حکومتوں کے خلاف کیے گئے کامیاب اقدامات سے ظاہر ہوتا ہے کہ بین الاقوامی قانون کے ذریعے انصاف اور حقِ خودارادیت حاصل کی جا سکتی ہے۔
بین الاقوامی عدالتوں کے واضح احکامات کے باوجود اسرائیل کو اس کے دیرینہ جرائم پر جواب دہ نہ ٹھہرانا عالمی برادری کے دوہرے معیار کو ظاہر کرتا ہے۔
مزید کہا گیا کہ ممالک کے پاس بین الاقوامی قانون کی خلاف ورزی روکنے کے لیے کئی اختیارات ہیں، جیسے طاقت کا استعمال، ہتھیاروں اور تجارت پر پابندیاں، محفوظ گزرگاہ سے انکار، اور قانونی کارروائیاں شامل ہیں۔
سفارتی و سیاسی پہلو
اقوام متحدہ کی رپورٹ کے مطابق، اثرورسوخ رکھنے والے‘ دیگر ممالک کی حمایت نے اسرائیل کو اپنے حملے جاری رکھنے کا موقع دیا، یہ حمایت اسرائیلی بیانیے کو اپنانے اور امریکا کی جانب سے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں اسرائیل کے خلاف قراردادوں پر ویٹو کے ذریعے ظاہر ہوئی۔
رپورٹ میں کہا گیا کہ اسرائیل کو کھیل، ثقافت اور دیگر بین الاقوامی فورمز سے بھی باہر نہیں نکالا گیا۔
اِن ممالک نے صورتِ حال کو ایک انسانی بحران کے طور پر لیا، جسے بس سنبھالنا تھا، نہ کہ حل کرنا اور اسرائیل سے غیر قانونی قبضہ ختم کرنے کا مطالبہ نہ کر کے غزہ پر حملے کے لیے مزید گنجائش پیدا کی۔
فروری 2024 میں آسٹریلیا، نیوزی لینڈ، کینیڈا، برطانیہ، جرمنی اور نیدرلینڈز نے ایک طرف اسرائیل کے رفح پر حملے کی مذمت کی، لیکن ساتھ ہی یو این آر ڈبلیو اے کی فنڈنگ بھی روک دی۔
رپورٹ کے مطابق عرب اور مسلم ممالک نے اگرچہ فلسطینیوں کی حمایت کی، لیکن ان کی کوششیں فیصلہ کن ثابت نہیں ہوئیں۔
قانونی کارروائیوں کے حوالے سے بھی پیش رفت نہیں ہوئی، کیونکہ صرف 13 ممالک نے جنوبی افریقہ کے کیس (انٹرنیشنل کورٹ آف جسٹس میں) کی حمایت کی، جب کہ کئی مغربی ممالک نے مسلسل یہ ماننے سے انکار کیا کہ غزہ میں نسل کشی ہو رہی ہے۔
عسکری تعلقات
رپورٹ کے مطابق نسل کشی کے واضح شواہد کے باوجود کئی ممالک اب بھی اسرائیل کے ساتھ ہتھیاروں کی تجارت کر رہے ہیں، اسرائیل اپنی معیشت کا ایک بڑا حصہ ہتھیاروں کی درآمد پر منحصر کرتا ہے، اہم سپلائرز میں امریکا، جرمنی اور اٹلی شامل ہیں۔
رپورٹ کے مطابق امریکا اور اسرائیل کے درمیان تیسری مفاہمتی یادداشت (ایم او یو) کے تحت 2028 تک ہر سال 3.3 ارب ڈالر کی فوجی امداد اور 50 کروڑ ڈالر کے میزائل دفاع کے لیے فراہم کیے جاتے ہیں۔
اکتوبر 2023 سے امریکا نے 742 کھیپوں پر مشتمل ہتھیار اور گولہ بارود اسرائیل بھیجے اور اربوں ڈالر کی نئی اسلحہ فروخت کی منظوری دی، اکتوبر 2023 سے اکتوبر 2025 تک 26 ممالک نے اسرائیل کو ہتھیاروں کی کم از کم 10 کھیپیں بھیجیں، جن میں چین، تائیوان، بھارت، اٹلی، آسٹریا، اسپین، جمہوریہ چیک، رومانیہ اور فرانس شامل ہیں۔
برطانیہ نے اگرچہ براہِ راست ہتھیار فراہم نہیں کیے، مگر اس نے قبرص میں موجود اپنے اڈوں کے ذریعے امریکی سپلائی لائن کو اسرائیل تک پہنچنے دیا اور گزشتہ 2 برسوں میں غزہ پر 600 جاسوسی پروازیں کیں۔
امداد کو ہتھیار بنانا
رپورٹ میں کہا گیا کہ یہ ممالک نہ صرف اسرائیل کو سہولت فراہم کر رہے ہیں بلکہ غزہ کے عوام تک مناسب امداد نہ پہنچا کر بھی نسل کشی میں شریک ہیں۔
اکتوبر 2023 سے اسرائیل نے مکمل ناکہ بندی نافذ کی، اکتوبر 2023 سے جنوری 2025 کے دوران امدادی ٹرکوں کی روزانہ اوسط تعداد 107 رہی، جو 2023 سے پہلے کی سطح کے ایک تہائی سے بھی کم تھی۔
اگست 2025 تک غزہ میں قحط کی باضابطہ تصدیق ہو چکی تھی۔
اسرائیل کی نسل کشی کی مہم نے جان بوجھ کر انسانی امدادی نظام کو تباہ کیا، جس میں یو این آر ڈبلیو اے کے گوداموں، اسکولوں، کلینکس اور خوراک کے مراکز پر حملے کیے گئے۔
کینیڈا، برطانیہ، بیلجیم، ڈنمارک اور اردن جیسے ممالک نے اسرائیلی ناکہ بندی کے خلاف کھڑے ہونے کے بجائے فضا سے امداد گرانے (ایئرفورڈ) کی مہنگی، غیر مؤثر اور خطرناک کوششیں کیں۔
مزید کہا گیا کہ بحری امدادی مشن اور شہری تنظیموں کے قافلے جو اسرائیلی محاصرے کو توڑنے کی کوشش کر رہے تھے، انہیں اسرائیل نے بین الاقوامی پانیوں میں غیر قانونی طور پر روکا اور دیگر ممالک خاموش رہے۔
تجارتی تعلقات
رپورٹ کے مطابق اسرائیل کی معیشت غیر ملکی تجارت پر بہت زیادہ انحصار کرتی ہے، مگر کسی مغربی ملک نے اسرائیل کے ساتھ تجارت بند نہیں کی بلکہ کئی کے ساتھ تجارت میں اضافہ ہوا۔
جرمنی کے ساتھ 836 ملین ڈالر سے زائد، پولینڈ 237 ملین ڈالر، یونان 186 ملین ڈالر، اٹلی 117 ملین ڈالر، ڈنمارک 99 ملین ڈالر، فرانس 75 ملین ڈالر، سربیا 56 ملین ڈالر، متحدہ عرب امارات 237 ملین ڈالر، مصر 199 ملین ڈالر، اردن 41 ملین ڈالر، مراکش6 ملین ڈالر سے زائد ریکارڈ کی گئی۔
صرف کولمبیا نے 2024 میں اسرائیل کو کوئلے کی برآمد پر پابندی لگا کر عملی قدم اٹھایا تھا۔
رپورٹ کا نتیجہ
جب نسل کشی واضح ہو چکی تھی، تب بھی بیشتر مغربی ممالک اسرائیل کو فوجی، سفارتی، معاشی اور نظریاتی مدد فراہم کرتے رہے، حتیٰ کہ جب اسرائیل نے قحط اور انسانی امداد کو بطور ہتھیار استعمال کیا۔
گزشتہ دو سالوں کے یہ مظالم کوئی اتفاق نہیں بلکہ ایک طویل عرصے سے جاری عالمی شراکتِ جرم کا نتیجہ ہیں، رپورٹ کے مطابق، اسرائیل کی حمایت میں خاموشی اور غیر جانبدار رویہ رکھنے والے ممالک کو بھی نسل کشی میں شریک یا معاون سمجھا جا سکتا ہے۔
سفارشات
اقوام متحدہ کے نمائندے نے درج ذیل اقدامات کرنے کی سفارش کی۔
جن میں مکمل اور مستقل جنگ بندی کے لیے دباؤ ڈالنا اور اسرائیلی فوج کا مکمل انخلا یقینی بنانا، غزہ کے محاصرے کا فوری خاتمہ اور زمینی و بحری قافلوں کے ذریعے انسانی امداد اور رہائش کی فراہمی، ساتجھ ہی غزہ کا ہوائی اڈہ اور بندرگاہ دوبارہ کھولنا تاکہ امداد مؤثر طریقے سے وہاں پہنچ سکے۔
فلسطینی حقِ خودارادیت کو تسلیم کرنا اور اسے پائیدار امن کی بنیاد قرار دینا، اسرائیل کے ساتھ تمام فوجی، تجارتی اور سفارتی تعلقات معطل کرنا، ان تمام افراد، اداروں اور کمپنیوں کی تحقیقات و سزا جو نسل کشی، اشتعال انگیزی یا جنگی جرائم میں ملوث ہوں اور غزہ کی تعمیرِ نو اور متاثرین کے معاوضے کے لیے اقدامات اُٹھائے جائیں۔
انٹرنیشنل کریمنل کورٹ، انٹرنیشنل کورٹ آف جسٹس، یو این آر ڈبلیو اے اور اقوام متحدہ کے اداروں کے ساتھ بھرپور تعاون کرنا اور اقوام متحدہ کے چارٹر کے آرٹیکل 6 کے تحت اسرائیل کی رکنیت معطل کرنا شامل ہے۔
یونائٹنگ فار پیس، جنرل اسمبلی ریزولوشن 377 (5) کے تحت کارروائی کر کے اسرائیل کے قبضے کے خاتمے کو یقینی بنانے کی بھی سفارش کی گئی۔
اقوام متحدہغزہ نسل کشیفلسطینی شہری
0 FacebookTwitterLinkedinWhatsappTelegramViberEmail
گزشتہ پوسٹ
پاکستان اور افغانستان کے درمیان مذاکرات کا ایک اور دور ہونا چاہیے: افغان سفیر
اگلی پوسٹ
پاکستان اور افغانستان مذاکرات جاری رکھنے پر رضامند ہوگئے

یہ بھی پڑھنا مت بھولیں

جنگ بندی کے باوجود غزہ میں اسرائیل کی...

15:17 | پیر دسمبر 8، 2025

غزہ میں امن معاہدے کے تحت انخلا کی...

14:43 | پیر دسمبر 8، 2025

افغانستان میں امریکی اسلحہ ٹی ٹی پی کے...

06:58 | پیر دسمبر 8، 2025

کس طرح ٹرمپ کی سٹریٹجک غلطیوں، اورجذباتی قیادت...

13:51 | اتوار دسمبر 7، 2025

يونان ميں فلسطينی پناہ گزين: اميد اور بے...

13:19 | اتوار دسمبر 7، 2025

گیٹس فاؤنڈیش رپورٹ/غیر ملکی امداد میں کمی، رواں...

15:51 | ہفتہ دسمبر 6، 2025

اقوام متحدہ کے ماہرین کا مقبوضہ کشمیر میں...

09:43 | ہفتہ دسمبر 6، 2025

 رفح کراسنگ یکطرفہ کھولنے کے اسرائیلی بیانات پر...

03:49 | ہفتہ دسمبر 6، 2025

یورو ویژن 2026 :اسرائیل کو شرکت کی اجازت،...

09:16 | جمعہ دسمبر 5، 2025

افغانستان کے لیے اقوام متحدہ کے امدادی اشیا...

04:31 | جمعہ دسمبر 5، 2025

تبصرہ کریں Cancel Reply

میرا نام، ای میل اور ویب سائٹ مستقبل میں تبصروں کے لئے محفوظ کیجئے.

تازہ ترین

  • شہباز شریف کی حکومت کیوں ناکام ہے؟ سید مجاہد علی

  • روس اور ایران کا اسٹریٹجک اتحاد کتنا مضبوط؟ جاوید اختر

  • یو اے ای: غیر قانونی افراد کو پناہ دینے پر کروڑوں کے جرمانے نافذ

  • افغانستان: پنچشیر میں نیشنل ریزسٹنس فرنٹ کا حملہ: 17 طالبان جنگجو ہلاک

  • عمران خان مائنس ہوا تو ایک بھی باقی نہیں رہے گا: بیرسٹر گوہر علی خان

  • اسرائیل اں سال دنیا بھر میں قتل ہونے والے تمام صحافیوں میں سے تقریباً نصف صحافیوں کے قتل کا ذمہ دار

  • بابا وانگا نے 2026 کیلئے کونسی اہم اور بڑی پیشگوئیاں کیں؟

  • مسلم ممالک کا اعتراض: ٹونی بلیئر کا نام ’غزہ امن کونسل‘ سے نکال دیا گیا

  • مائیکروسافٹ کا بھارت میں 17.5 ارب ڈالر کی خطیر سرمایہ کاری کا اعلان

  • پاکستان ڈیفالٹ کے خطرے سے پیچھے ہٹ رہا ہے، آئی ایم ایف رپورٹ

  • یوکرینی صدر کی مشروط انتخاب کرانے پر رضامندی

  • بابر اعظم اور شاہین شاہ آفریدی بگ بیش لیگ کے 15 ویں ایڈیشن میں شرکت کے لیے آسٹریلیا پہنچ گئے

  •  عمران خان کی بہنوں اور پی ٹی آئی کارکنوں پر پولیس کریک ڈاؤن: اڈیالہ کے باہر دھرنا ختم

  • عالمی دباؤ: اسرائیل نے اردن کے ساتھ بارڈرکو غزہ کے امدادی سامان کے لیے کھولنے کا اعلان کردیا

  • قومی اسمبلی کی کمیٹی برائے خزانہ نے اسمارٹ فونز ر عائد ٹیکس میں کمی کا مطالبہ کردیا

  • وزیرستان میں تحصیل ہیڈ کوارٹر اسپتال غیر فعال: متعدد مریض جاں بحق

  • جدہ میں 135 ملی میٹر بارش ریکارڈ : نظام زندگی درہم برہم

  • گوگل میپس کی وہ ٹِرکس جو آپ کو ضرور استعمال کرنی چاہیے

  • ہندوتوا اور ہندوستان کے زیر انتظام کشمیر میں اجتماعی سزا کا کچل دینے والا ظلم/نعیم افضل

  • یورپی ملک میں خواتین نے مردوں کو گھریلو کام کاج کیلئے ہائر کرنا شروع کردیا

مقبول ترین

  • صفائی اور پاکیزگی قرآن و حدیث کی روشنی میں : شفقنا اسلام

  • چھپکلی کی جلد سے متاثرہ بھوک لگانے والا کیپسول

  • میں نے جمہوریت کی مضبوطی کے لیے کام کیا: جوبائیڈن کا قوم سے خطاب

  • کیا ہندوستان کی آنے والی نسلیں مسلم مخالف نفرت میں اس کی زوال پزیری کو معاف کر دیں گی؟/شاہد عالم

  • مہاتیر محمد نے اپنا استعفیٰ پیش کردیا

  • مکمل لکڑی سے تراشا گیا کارکا ماڈل 2 لاکھ ڈالر میں نیلام

  • ایک ارب 70 کروڑ ڈالر کے قرضوں کی ادائیگی معطل کرنے کے معاہدے پر دستخط

  • اسلام آباد: میجر لاریب قتل کیس میں ایک مجرم کو سزائے موت، دوسرے کو عمر قید

  • دی نیشن رپورٹ/پاکستانی جیلوں میں قید خواتین : اگرچہ ان کی چیخیں دب گئی ہیں مگر ان کے دکھ کو نظر انداز نہیں کیا جاسکتا

  • عورتوں سے باتیں کرنا

@2021 - All Right Reserved. Designed


Back To Top
شفقنا اردو | بین الاقوامی شیعہ خبر رساں ادارہ اور تجزیاتی مرکز
  • صفحہ اول
  • تازہ ترین
  • آپ کی خبر
  • بلاگ
  • پاکستان
  • تصویری منظر نامہ
  • دلچسپ و عجیب
  • سائنس و ٹیکنالوجی
  • صحت وتعلیم
  • عالمی منظر نامہ
  • فیچرز و تجزیئے
  • کھیل و کھلاڑی
  • وڈیوز
  • رابطہ