استنبول میں افغانستان کے ساتھ امن مذاکرات ناکام ہونے کے بعد وزیر دفاع خواجہ آصف نے نہایت سخت بیان میں کابل حکومت ختم کرنے کا اشارہ دیتے ہوئے کہا ہے کہ پاکستان کو طالبان حکومت کے سرکردہ نمائندوں کو واپس غاروں میں بھیجنے کے لیے اپنی پوری عسکری قوت بھی استعمال نہیں کرنا پڑے گی۔
امن کی کوششوں کی خواہش رکھنے والے ملک کے وزیر دفاع کا یہ بیان غیر معمولی طور سے تلخ اور جارحانہ ہے۔ اس سے حالات میں پرامن طریقے سے تبدیلی لانے کا مرحلہ دشوار ہو جائے گا۔ اس کے علاوہ دونوں ملکوں کے درمیان تلخیوں میں اضافہ ہو گا۔ پاکستان اگرچہ افغانستان کے مقابلے میں بڑی عسکری طاقت ہو سکتا ہے لیکن کسی بھی جنگ کی قیمت ادا کرتے ہوئے ممالک کی معیشت زیر بار ہوتی ہے۔ پاکستان صرف معاشی وجوہات کی بنا پر ہی افغانستان یا کسی بھی ملک کے ساتھ جنگ کا متحمل نہیں ہو سکتا۔
اس سے پہلے وزیر اطلاعات عطا تارڑ نے بھی گزشتہ رات استنبول مذاکرات ناکام ہو جانے کی اطلاع دیتے ہوئے سخت زبان استعمال کی تھی اور کہا تھا کہ افغانستان کی ہٹ دھرمی اور کابل میں ہندوستان کے اشاروں پر چلنے والے لیڈروں کی وجہ سے یہ مذاکرات ناکام ہوئے ہیں۔ استنبول میں ہونے والے مذاکرات کے بارے میں میزبان ملک کی طرف سے کوئی سرکاری بیان سامنے نہیں آیا۔ اس لیے ان کی نوعیت یا اس دوران اختیار کیے گئے موقف کے بارے میں محض قیاس آرائیاں ہی کی جا سکتی ہیں۔ سرکاری ذرائع نے میڈیا کو جو معلومات فراہم کی ہیں ان میں اسی بات پر زور دیا گیا ہے کہ پاکستان کا طالبان حکومت سے ایک ہی مطالبہ تھا کہ وہ ٹی ایل پی کی سرپرستی بند کردے۔ لیکن کابل حکومت کے نمائندے اس بارے میں کوئی وعدہ کرنے سے گریز کر رہے تھے اور غیر متعلقہ امور کو مباحث کا حصہ بنا کر وقت ضائع کیا جا رہا تھا۔
کسی ایک سفارتی کوشش کی ناکامی کا ہرگز یہ مقصد نہیں ہو سکتا کہ اس کے بعد مصالحت اور افہام و تفہیم کے تمام راستے بند ہو گئے ہیں اور اب جنگ کے سوا کوئی چارہ نہیں ہے۔ بدقسمتی سے خواجہ آصف اور عطا تارڑ کے بیانات سے یہی اندازہ ہوتا ہے کہ پاکستانی حکومت کے خیال میں اب طالبان حکومت سے بات چیت کا کوئی فائدہ نہیں ہو گا بلکہ کسی بے اعتدالی کی صورت میں جنگ ہی مسئلہ کا واحد حل ہے۔ یہ سوچ زمینی حقائق اور کابل میں طالبان حکومت کے طرز عمل کی روشنی میں درست ہو سکتی ہے لیکن سفارتی و سیاسی دماغ کبھی بھی منفی حکومتی رویوں کی بنیاد پر صبر و حوصلہ کا دامن ہاتھ سے نہیں چھوڑتے بلکہ دل جمعی سے حالات تبدیل کرنے کی کوششیں جاری رکھی جاتی ہیں۔
وہی باتیں جو خواجہ آصف نے ’ایکس‘ پر ایک تند و تیز پیغام میں بیان کی ہیں، انہیں اگر سفارتی ذرائع سے طالبان لیڈروں تک پہنچانے کا طریقہ اختیار کیا جاتا تو اسے پاکستانی حکومت کی ہوشمندی سمجھا جاتا اور ثالث ممالک کے علاوہ دیگر علاقائی ممالک بھی سوچتے کہ پاکستان معاملات کو مصالحت سے طے کرنے میں سنجیدہ ہے۔ لیکن مذاکرات کی ناکامی اور کابل کی طرف سے کوئی منفی رد عمل سامنے نہ آنے کے باوجود پاکستانی سیاسی لیڈروں کے سخت بیانات سے یہ محسوس کیا جائے گا جیسے پاکستان استنبول مذاکرات میں محض حجت پوری کرنے کے لیے گیا تھا۔ حالانکہ یہ تاثر طالبان حکومت کے بارے میں عام ہونا چاہیے تھا۔ حیرت ہے کہ خواجہ آصف جیسا تجربہ کار اور سینئر سیاست دان بھی اس بنیادی نکتے کو سمجھنے سے قاصر رہا ہے۔
طالبان حکومت کی طرف سے اس کے برعکس مذاکرات جاری رکھنے کی بات کی گئی ہے۔ مذاکرات کی ناکامی کے بعد طالبان کے سیاسی دفتر کے سربراہ اور قطر میں افغانستان کے سفیر سہیل شاہین کا کہنا ہے کہ پاکستان اور افغانستان کے درمیان ہونے والے مذاکرات اب تک کسی حتمی نتیجے تک نہیں پہنچے ہیں تاہم ان کا ایک اور دور ہونا چاہیے۔ سہیل شاہین ترکی میں ہونے والے مذاکرات میں افغان وفد میں شامل تھے۔ ان سے پاکستان کے وزیر اطلاعات کے اس بیان کے بارے میں پوچھا گیا تھا کہ مذاکرات ناکام ہو چکے ہیں تو سہیل شاہین کا کہنا تھا کہ ’مذاکرات کا ایک اور دور ہونا چاہیے‘ ۔ انہوں نے کہا کہ عام طور پر اس طرح کے مذاکرات میں ایک ہی بیٹھک یا ایک ہی دور میں حتمی معاہدے نہیں ہوتے۔
بادی النظر میں محسوس کیا جاسکتا ہے کہ اس معاملہ میں افغانستان کا رویہ متوازن اور غیر جذباتی ہے جبکہ پاکستانی وزیروں کے بیانات جذباتی، کسی حد تک سفارتی حساسیت سے خالی اور اشتعال انگیز ہیں۔ حالانکہ زمینی حقائق اس کے برعکس ہیں۔ یعنی اس معاملہ میں افغانستان جارحیت کا مرتکب ہو رہا ہے اور پاکستان میں دہشت گردی کے مرتکب عناصر کو پناہ دینے اور ان کی سرپرستی کا سبب بن رہا ہے۔ لیکن سفارتی لب و لہجہ میں افغان نمائندہ پاکستانی وزیروں کے عقل و شعور سے خالی بیانات کے برعکس زیرک اور ہوشمندانہ تجویز پیش کر رہا ہے۔ اسی سے صورت حال کو کسی حکومت کی سفارتی ناکامی یا کامیابی کے پیمانے سے ماپا جاتا ہے۔
یہ واضح ہے کہ پاکستان، افغانستان کے راستے خیبر پختون خوا اور بلوچستان میں ہونے والی دہشت گردی کو جاری رہنے کی اجازت نہیں دے سکتا۔ آج بھی ایسے ہی ایک گروہ کے ساتھ جھڑپ میں پاکستانی فوج کا ایک کیپٹن اور پانچ جوان شہید ہو گئے۔ اس سے اندازہ کیا جاسکتا ہے کہ کابل حکومت جن عناصر کی خاطر پاکستان سے دشمنی کا رشتہ استوار کرنے کے راستے پر گامزن ہے، وہ کس قدر خطرناک راستے پر گامزن ہیں۔ پاکستانی حکومتی ترجمانوں سمیت متعدد ذرائع سے سامنے آنے والی معلومات سے یہ اندازہ بھی کیا جاسکتا ہے کہ کابل میں حکمران ٹولا کئی دھڑوں میں تقسیم ہے اور وہ باہمی چپقلش طے کرنے کے لیے بھی پاکستان کے ساتھ جنگ جوئی کا ماحول قائم رکھنا چاہتے ہیں۔
پاکستان نے طالبان پیدا کرنے سے لے کر انہیں حکومت میں پہنچانے تک ان عناصر کے ساتھ مل کر کام کیا ہے۔ اس لیے پاکستانی سکیورٹی اسٹیبلشمنٹ کو ان لوگوں کے مزاج، ذہنی استعداد اور سوچ کا بخوبی اندازہ بھی ہو گا۔ موجودہ صورت حال میں بھی فوج کے ترجمان کی بجائے اختیارات سے عاری وزیر دفاع نے ایک ایسا بیان جاری کیا ہے جسے درحقیقت افغانستان کے خلاف اعلان جنگ سمجھا جاسکتا ہے۔ اگر سیاسی حکومت کے نمائندے سیاسی پوائنٹ اسکورنگ کے لیے ایک حساس سکیورٹی و سفارتی معاملہ میں منہ ماری کرنے کی کوشش کر رہے ہیں تو اس سے وسیع تر قومی مفاد حاصل نہیں ہو گا۔ البتہ عام لوگوں سے واہ واہ ضرور وصول کی جا سکتی ہے۔
اس دوران تحریک انصاف کے چیئرمین بیرسٹر گوہر علی خان نے ایک ٹی وی انٹرویو میں کہا ہے کہ ’اگر کوئی ملک پراکسی یا پھر براہ راست جنگ لڑے گا، پاکستان کے ہر ایک انچ کا دفاع کیا جائے گا۔ اس میں کوئی دو رائے نہیں کہ پاکستانیوں کی طرح پاکستان تحریک انصاف بھی پاکستان کے ساتھ کھڑی رہے گی‘ ۔ یہ بیان مثبت ہونے کے باوجود ناکافی ہے کیوں کہ بیرسٹر گوہر علی تحریک انصاف کے ترجمان کے درجے پر فائز نہیں ہیں۔ ایسا واضح اور دو ٹوک بیان عمران خان کی طرف سے آنا چاہیے۔
حال ہی میں ان کی ہدایت پر منتخب کرائے گئے وزیر اعلیٰ سہیل آفریدی اس حوالے سے متضاد بیانات دیتے رہے ہیں۔ ایک موقع پر انہوں نے استنبول میں مذاکرات کرنے والے پاکستانی سفارتی وفد کے بارے میں کہا تھا کہ ان میں ایسے لوگ شامل نہیں ہیں جو افغانستان کے ساتھ معاملات طے کر سکیں۔ ایک صوبے کی طرف سے وفاقی حکومت کے اختیار میں مداخلت سے قطع نظر ایسا سیاسی طرز عمل ملک میں تقسیم اور فکری انتشار کا سبب بن رہا ہے۔ اس حوالے سے حکومت کو بھی اپنی حکمت عملی تبدیل کرنی چاہیے لیکن اڈیالہ جیل کے مکین کو بھی سمجھنا ہو گا کہ وہ جس سیاسی کامیابی کی جنگ لڑنا چاہتے ہیں، اس میں قومی سلامتی اور جغرافیائی یک جہتی کو داؤ پر لگانے کی دانستہ یا نادانستہ کوشش نہ کی جائے۔
پاکستان کو اس وقت بھارت کے علاوہ افغانستان کے ساتھ جنگی صورت حال کا سامنا ہے۔ اس مقصد کے لیے قومی سیاسی ہم آہنگی کا فرض صرف حکمران جماعتوں ہی پر عائد نہیں ہوتا بلکہ اپوزیشن پارٹیوں کو بھی حکومت کے ساتھ مل بیٹھنا چاہیے تاکہ دشمن ممالک کو معلوم ہو سکے کہ قومی سلامتی کے سوال پر پوری پاکستانی قوم متحد ہے۔ اس کا سب سے مناسب اور موثر راستہ سیاسی مکالمہ کا آغاز ہے۔ تحریک انصاف کابل حکومت اور تحریک طالبان پاکستان کے ساتھ تو بات چیت کو مناسب حکمت عملی سمجھتی ہے لیکن حکمران مسلم لیگ (ن) اور پیپلز پارٹی کے ساتھ مذاکرات کو ’گناہ عظیم‘ بتایا جاتا ہے۔
یہ دو عملی ختم کیے بغیر قومی اتحاد کا معاملہ مشکوک رہے گا لیکن تحریک انصاف کی نیک نیتی پر بھی سوالات اٹھائے جاتے رہیں گے۔ بے اعتباری و شبہ کے اس ماحول کو ختم کرنا سب کے مفاد میں ہے۔
شفقنا اردو
نوٹ: شفقنا کا اس تحریرکے مندرجات سے متفق ہونا ضروری نہیں