پنجاب پولیس نے ایک بار پھر خیبر پختون خوا کے وزیر اعلیٰ سہیل آفریدی کو اڈیالہ جیل میں تحریک انصاف کے بانی عمران خان سے ملاقات کی اجازت نہیں دی۔ اسلام آباد ہائی کورٹ حکم دے چکی ہے کہ وہ ہفتے میں دو بار عمران خان سے ان کے ساتھیوں اور اہل خانہ کی ملاقات یقینی بنائی جائے۔ پارٹی کے جنرل سیکرٹری سلمان اکرم راجہ کو اس بارے میں ملاقاتیوں کی فہرست جیل حکام کے حوالے کرنے کے لیے نامزد کیا گیا ہے۔
سہیل آفریدی آج پشاور سے چوتھی بار عمران خان سے ملنے اڈیالہ پہنچے تھے لیکن نامعلوم وجوہات کی بنا پر انہیں ایک بار پھر جیل جانے اور ملاقات کرنے سے روک دیا گیا۔ جیل کے باہر سلمان اکرم راجہ کے ہمراہ میڈیا سے باتیں کرتے ہوئے سہیل آفریدی نے کہا کہ ہم نے تمام قانونی راستے اختیار کیے ہیں۔ عدالت نے حکم دیا ہے لیکن جیل حکام شاید خود کو اس حکم سے بالا سمجھتے ہیں۔ ’یوں محسوس ہوتا ہے کہ اس ملک میں کوئی اتنا طاقت ور ہے جو عدالتی احکامات کو بھی خاطر میں نہیں لاتا‘ ۔ انہوں نے بتایا کہ وہ اب توہین عدالت کی درخواست دائر کریں گے۔ اس کے علاوہ پارٹی کی قیادت مل بیٹھ کر اس صورت حال میں آئندہ لائحہ عمل طے کرے گی۔
یہ واضح نہیں ہے کہ کیا اڈیالہ جیل کے حکام صرف سہیل آفریدی کو ملنے سے روک رہے ہیں یا پارٹی کے دیگر لیڈروں اور اہل خاندان کو بھی ملاقات کی اجازت نہیں دی جا رہی۔ آج میڈیا سے گفتگو میں تحریک انصاف کے لیڈروں نے پارٹی کے دیگر نمائندوں پر پابندی کا ذکر نہیں کیا۔ البتہ یہ طے تھا کہ سہیل آفریدی 13 اکتوبر کو بھاری اکثریت سے خیبر پختون خوا کے وزیر اعلیٰ بن جانے کے بعد عمران خان سے ملاقات نہیں کرسکے۔ ان کا دعویٰ ہے کہ انہیں صوبائی کابینہ تشکیل دینے کے لیے عمران خان سے ملنے اور ان کی ہدایات لینے کی ضرورت ہے۔ جبکہ جیل حکام یا پنجاب حکومت اس بارے میں کوئی وضاحت دینے کی بھی روادار بھی نہیں ہے۔
یہ تو واضح ہے کہ اس ملاقات کے حوالے سے دونوں طرف سے سیاست کی جا رہی ہے۔ تحریک انصاف یہ تاثر قوی کرنا چاہتی ہے کہ خیبر پختون خوا کے منتخب وزیر اعلیٰ کو عمران خان سے جان بوجھ کر ملنے سے روکا جا رہا ہے تاکہ صوبائی کابینہ کی تشکیل میں رکاوٹ ڈالی جائے۔ دوسری طرف پنجاب حکومت ان ہتھکنڈوں سے شاید یہ تاثر مستحکم کرنا چاہتی ہے کہ اڈیالہ جیل چونکہ پنجاب کی حدود میں واقع ہے لہذا عمران خان کے ساتھ وہاں کیا برتاؤ کیا جاتا ہے، اس کا فیصلہ لاہور میں قائم حکومت ہی کرے گی۔ سہیل آفریدی اس ملاقات کے حوالے سے روز اول سے پرجوش باتیں کرتے رہے ہیں۔ منتخب ہونے کے فوری بعد انہوں نے دعویٰ کیا تھا کہ وہ صوبے کے چیف ایگزیکٹو ہیں۔ انہوں نے پنجاب اور وفاقی حکومت کو آگاہ کر دیا ہے کہ وہ ملاقات کے لیے اڈیالہ جائیں گے۔ دیکھتا ہوں مجھے کون روکتا ہے۔
بدقسمتی سے انہیں روک لیا گیا بلکہ بار بار آنے کے باوجود روکا جا رہا ہے۔ تاکہ پنجاب حکومت یہ واضح کرسکے کہ سہیل آفریدی کے پی کے میں وزیر اعلیٰ ہیں، انہیں پنجاب کے علاقے میں حکم چلانے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔ حالانکہ قانونی و انتظامی طور سے اس بارے میں کسی کو کوئی شبہ نہیں ہے۔ ایک آدھ بار روک کر پنجاب حکومت کسی حد تک اپنی ’اتھارٹی‘ کا اظہار بھی کرچکی ہے لیکن ایک منتخب وزیر اعلیٰ کو بار بار جیل کے باہر توہین آمیز طریقے سے واپس بھیجنا ناجائز اور افسوسناک رویہ ہے۔ دوسری طرف سہیل آفریدی یہ دعویٰ کر رہے ہیں کہ ان کا عمران خان سے ملنا یوں ضروری ہے تاکہ وہ ان سے مشورہ کر کے صوبائی کابینہ تشکیل دے سکیں۔ حالانکہ اس معاملہ میں عمران خان سے ہدایات لینے کے لیے انہیں بنفس نفیس اپنے قائد سے ملنے کی ضرورت نہیں ہے۔ یہ مشاورت دیگر ملاقاتیوں کے ذریعے بھی کی جا سکتی ہے۔ اور جب سہیل آفریدی خود عمران خان سے ملیں گے تو پھر براہ راست بات چیت کی روشنی میں کابینہ میں تبدیلی بھی کرسکیں گے۔ تاہم واضح ہے کہ تحریک انصاف اور پنجاب میں حکمران مسلم لیگ (ن) دونوں اسے سیاسی پوائنٹ اسکورنگ کا معاملہ بنانے پر بضد ہیں۔
عمران خان نے اس ماہ کے شروع میں علی امین گنڈا پور کو اس عہدے سے ہٹا کر ایک کم معروف نوجوان شخص سہیل آفریدی کو صوبے کا وزیر اعلیٰ بنانے کا فیصلہ کیا تھا۔ عام خیال کیا جاتا ہے کہ تحریک انصاف میں یہ شبہ قوی ہو رہا تھا کہ علی امین گنڈا پور اسٹیبلشمنٹ کے ساتھ ملے ہوئے ہیں اور تحریک انصاف کے مفادات پورے کرنے کے قابل نہیں ہیں۔ ان معاملات میں سرفہرست جیل سے عمران خان کی رہائی کا مسئلہ رہا ہے۔ عمران خان اور دیگر پارٹی قیادت کا خیال تھا کہ علی امین گنڈا پور اس بارے میں مفاہمت کا کوئی راستہ تلاش کر لیں گے اور عمران خان جیل سے رہا ہوجائیں گے۔ تاہم بوجوہ یہ مقصد حاصل نہیں ہوسکا۔ اس لیے خیال کیا جاتا ہے کہ سہیل آفریدی کو عمران خان کا وفادار اور پرجوش کارکن ہونے کی وجہ سے خیبر پختون خوا کا وزیر اعلیٰ بنوایا گیا ہے۔ انہوں نے وزیر اعلیٰ بننے کے بعد سے وفاقی حکومت اور اسٹیبلشمنٹ کے بارے میں تند و تیز بیانات بھی دیے ہیں اور عمران خان کے موقف کے مطابق افغانستان سے تناؤ اور کے پی کے میں شرپسندوں کے ساتھ نرمی برتنے کا مطالبہ کیا ہے۔ البتہ افغانستان کی طرف سے پاکستان پر حملہ کے بعد یہ صورت حال خراب ہوئی ہے۔ اور تحریک انصاف کے چیئرمین بیرسٹر گوہر علی کو بھی یہ کہنا پڑا ہے کہ جنگ کی صورت میں تحریک انصاف پاکستان کے ساتھ کھڑی ہوگی۔
یہ واضح ہو رہا ہے کہ فوج اور وفاقی حکومت تحریک طالبان پاکستان کے سوال پر تحریک انصاف سے متضاد رویہ رکھتی ہیں۔ گزشتہ روز استنبول مذاکرات میں تعطل کے بعد وزیر دفاع خواجہ آصف نے تند و تیز بیان جاری کیا تھا اور واضح کیا تھا کہ پاکستان میں افغانستان سے ہونے والی دہشت گردی کو برداشت نہیں کیا جائے گا اور پاکستان کسی مشکل کے بغیر کابل حکومت کو بھاگنے پر مجبور کر سکتا ہے۔ آج آرمی چیف فیلڈ مارشل عاصم منیر نے قبائلی عمائدین سے ملاقات میں دو ٹوک الفاظ میں کہا ہے کہ ’پاکستان، افغانستان سمیت اپنے تمام ہمسایوں سے امن چاہتا ہے تاہم اپنی سرزمین پر افغان سرزمین سے دہشت گردی برداشت نہیں کرے گا۔ افغان طالبان بھارتی حمایت یافتہ گروہوں‘ فتنۃ الخوارج اور فتنۃ الہندوستان ’کے خلاف کارروائی کے بجائے ان کی پشت پناہی اور انہیں ہر ممکن مدد فراہم کر رہے ہیں۔ انہوں نے قبائلی عمائدین کو یقین دلایا کہ پاکستان، بالخصوص خیبر پختونخوا کو دہشت گردوں اور ان کے سہولت کاروں سے مکمل طور پر پاک کیا جائے گا۔ اور ملک بھر سے دہشت گردی کا مکمل خاتمہ کیا جائے گا‘ ۔
حکومت کی یہ پالیسی تحریک انصاف کی تجویز سے ہم آہنگ نہیں ہے۔ وہ افغانستان کے ساتھ بات چیت کے عمل میں حصہ داری چاہتی ہے جس کا مطلب ہے کہ کسی طرح ٹی ٹی پی اور پاکستان کی عسکری قوت کے درمیان ’افہام و تفہیم‘ کا راستہ نکالا جائے۔ فوج اور حکومت اس تجویز کو خاطر میں لانے پر آمادہ نہیں ہیں۔ اسی لیے خیبر پختون خوا میں حکومت کی تبدیلی کے فیصلے کو درحقیقت وفاقی حکومت کی قومی سلامتی اور خارجہ امور پر اختیار کردہ پالیسی سبوتاژ کرنے کے مترادف سمجھا جا رہا ہے۔ تاہم حکومت کو یہ بھی سوچنا چاہیے کہ ایک منتخب وزیر اعلیٰ کی عمران خان سے ملاقات میں رکاوٹیں ڈال کر یا ایک متاثرہ صوبے کے وزیر اعلیٰ کی توہین کر کے، کوئی مقصد حاصل نہیں ہو سکتا۔ وفاقی حکومت اور خیبر پختون خوا کی انتظامیہ کو مل جل کر کوئی متوازن اور قابل قبول حل تلاش کرنا چاہیے۔
اس مقصد کے لیے عمران خان خیبر پختون خوا میں اپنے وزیر اعلیٰ کو وفاقی حکومت کے ساتھ غیر ضروری تصادم سے گریز کا مشورہ دیں اور شہباز شریف پنجاب حکومت سے کہیں کہ سہیل آفریدی کو اڈیالہ جیل جانے اور عمران خان سے ملنے کا موقع فراہم کیا جائے۔ اسلام آباد ہائی کورٹ نے بھی اسی خواہش کا اظہار کیا ہے۔ اور اسی طریقے سے اعتماد سازی کا کام شروع ہو سکتا ہے۔ اس لیے یہ اہم ہے کہ سہیل آفریدی کی عمران خان سے ملاقات روکنے کا بھونڈا ہتھکنڈا اب بند کیا جائے تاکہ میڈیا کے کیمروں کے سامنے روزانہ کی بنیاد پر لگنے والا یہ تماشا اپنے انجام کو پہنچے۔
شفقنا اردو
نوٹ: شفقنا کا اس تحریر کے مندرجات سے متفق ہونا ضروری نہیں