Top Posts
شہباز شریف کی حکومت کیوں ناکام ہے؟ سید...
روس اور ایران کا اسٹریٹجک اتحاد کتنا مضبوط؟...
یو اے ای: غیر قانونی افراد کو پناہ...
افغانستان: پنچشیر میں نیشنل ریزسٹنس فرنٹ کا حملہ:...
عمران خان مائنس ہوا تو ایک بھی باقی...
اسرائیل اں سال دنیا بھر میں قتل ہونے...
بابا وانگا نے 2026 کیلئے کونسی اہم اور...
مسلم ممالک کا اعتراض: ٹونی بلیئر کا نام...
مائیکروسافٹ کا بھارت میں 17.5 ارب ڈالر کی...
پاکستان ڈیفالٹ کے خطرے سے پیچھے ہٹ رہا...
  • Turkish
  • Russian
  • Spanish
  • Persian
  • Pakistan
  • Lebanon
  • Iraq
  • India
  • Bahrain
  • French
  • English
  • Arabic
  • Afghanistan
  • Azerbaijan
شفقنا اردو | بین الاقوامی شیعہ خبر رساں ادارہ اور تجزیاتی مرکز
اردو
  • صفحہ اول
  • تازہ ترین
  • آپ کی خبر
  • بلاگ
  • پاکستان
  • تصویری منظر نامہ
  • دلچسپ و عجیب
  • سائنس و ٹیکنالوجی
  • صحت وتعلیم
  • عالمی منظر نامہ
  • فیچرز و تجزیئے
  • کھیل و کھلاڑی
  • وڈیوز
  • رابطہ

جنگ بندی سے بقا تک: غزہ کیلئے ماحولیاتی انصاف کی جنگ/منیر احمد

by TAK 15:02 | اتوار نومبر 2، 2025
15:02 | اتوار نومبر 2، 2025 52 views
52
یہ تحریر ایم ایم نیوز میں شائع ہوئی
قاہرہ اور نیویارک میں اسرائیل اور حماس کے درمیان جنگ بندی کے لیے جاری مذاکرات کے دوران دنیا کی نظریں ہتھیاروں کے خاموش ہونے پر مرکوز ہیں مگر غزہ کا اصل مسئلہ بندوقوں کے شور سے زیادہ گہرا ہے۔
امن کے یہ مذاکرات جنگ بندی ، انخلاء اور انسانی رسائی جیسے الفاظ میں لپٹے ہوئے ہیں لیکن ان الفاظ کے نیچے ایک اور تباہی چھپی ہے۔
وہ ماحولیاتی بربادی جو غزہ کو زمین پر سب سے زیادہ زہریلا اور ناقابلِ رہائش مقام بنا چکی ہے۔ اگر جنگ کل ختم بھی ہو جائے تو آلودہ پانی، زہریلی مٹی اور ملبے کے پہاڑ دہائیوں تک موت بانٹتے رہیں گے۔
دنیا نے مہینوں تک صرف انسانی ہلاکتوں، بے گھری اور نسل کشی کی قانونی و اخلاقی بحث پر توجہ دی مگر بہت کم لوگوں نے غزہ کی ماحولیاتی موت پر غور کیا، وہ خاموش مگر تباہ کن انجام جو لگاتار بمباری نے اس خطے کے قدرتی نظام کو پہنچایا۔
اقوامِ متحدہ، عالمی بینک اور یو این ماحولیاتی پروگرام کی تازہ رپورٹوں نے اس تباہی کو اعداد و شمار میں بیان کیا ہے۔ ایک مشترکہ رپورٹ کے مطابق غزہ کی تعمیرِ نو کے لیے 53 ارب ڈالر درکار ہیں جبکہ 4 کروڑ 70 لاکھ ٹن ملبہ زمین پر بکھرا ہوا ہے، جو ایک ماحولیاتی بم کی مانند ہے۔
عالمی ادارہ صحت کے مطابق 80 فیصد سے زائد آبادی کو صاف پانی دستیاب نہیں، اور 90 فیصد گندا پانی بغیر صفائی کے بحیرہ روم میں بہا دیا جا رہا ہے۔
بعض علاقوں میں زہریلی دھاتوں اور کیمیکل کی مقدار عالمی معیار سے کئی گنا زیادہ ہے۔
یو این ماحولیاتی پروگرام نے خبردار کیا ہے کہ صورتحال انتہائی سنگین ہو چکی ہے کیونکہ پانی، نکاسی اور توانائی کے نظام کی تباہی نے ماحولیاتی زنجیر کو مکمل طور پر توڑ دیا ہے ۔ زیرِ زمین پانی گندے ایندھن سے آلودہ، مٹی دھماکہ خیز کیمیکل سے بھری اور ساحلی پانی کالے گند سے بھرے ہوئے ہیں۔
جنگ بندی بھی اگر ہو جائے تو غزہ کی فضا اب بھی محصور ہے۔ سیوریج سمندر میں بہہ رہا ہے، ڈی سیلی نیشن پلانٹس ایندھن کی کمی سے بند پڑے ہیں اور ملبے کی دھول میں زہریلے کیمیکل شامل ہیں۔
یہ آلودگی سرحدوں تک محدود نہیں بلکہ ہواؤں اور سمندری لہروں کے ذریعے مصر، اسرائیل اور دیگر خطوں تک پھیل رہی ہے۔
ماہرینِ انسانی حقوق اب ایکو سائیڈ کی اصطلاح استعمال کر رہے ہیں یعنی ماحول کا منظم قتل۔
ان کے مطابق یہ تباہی حادثاتی نہیں بلکہ منظم تشدد کی ایک توسیع ہے۔ اقوامِ متحدہ کے ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ پانی، خوراک اور ایندھن کی محرومی اجتماعی سزا کے زمرے میں آ سکتی ہے جو نسل کشی کے قانون میں شامل جرم ہے۔
قانونی بحث اپنی جگہ، مگر حقیقت یہ ہے کہ غزہ کو زندگی کے قدرتی وسائل سے محروم کیا جا رہا ہے۔ زہریلے کنویں، تباہ شدہ کھیت، اور آلودہ ہوا اس بات کی گواہی ہیں کہ یہاں زندہ رہنا خود ایک مزاحمت بن چکا ہے۔
یو این ای پی اور عالمی بینک کی مشترکہ رپورٹ میں ماحولیاتی بحالی کے چار بنیادی نکات پیش کیے گئے ہیں۔
اول، پانی اور نکاسی کے نظام کی بحالی کو ہنگامی انسانی تحفظ کے زمرے میں شامل کیا جائے۔ جب تک صاف پانی اور نکاسی کا نظام درست نہیں ہوتا، کوئی جنگ بندی وباؤں کو نہیں روک سکتی۔
دوم، ایک جامع ماحولیاتی تجزیہ فوری طور پر شروع کیا جائے۔ سیٹلائٹ تصویریں کافی نہیں، ماہرین کو زمین پر جا کر مٹی، ہوااور سمندری پانی کے نمونے لینے ہوں گے۔
سوم، ملبے کی محفوظ صفائی عوامی صحت کا مسئلہ ہے، تعمیراتی سہولت نہیں۔ اس ملبے میں زہریلی دھاتیں اور ایسبیسٹاس شامل ہیں جو آنے والی نسلوں کے لیے مہلک ثابت ہو سکتی ہیں۔
چہارم، غزہ کی تعمیر نو کو سبز معیشت کے تصور کے ساتھ جوڑا جائے ، شمسی توانائی، ماحول دوست رہائش، اور ری سائیکل مٹیریل کے ذریعے نہ صرف فضا بہتر بنائی جا سکتی ہے بلکہ روزگار کے نئے مواقع بھی پیدا ہوں گے۔
بین الاقوامی برادری پر لازم ہے کہ وہ ماحولیاتی انصاف کو امن کے بنیادی ستون کے طور پر تسلیم کرے۔ اگر تعمیرِ نو انہی طاقتوں کے ہاتھوں میں رہی جو تباہی میں شریک تھیں، تو یہ محض ناانصافی کا نیا روپ ہو گا۔
ایک تجویز کے مطابق، اقوامِ متحدہ اور عالمی بینک کی زیرِ نگرانی غزہ ماحولیاتی بحالی کمیشن تشکیل دیا جائے جو مقامی انجینئرز، سائنسدانوں اور کمیونٹی نمائندوں کی شمولیت کے ساتھ بحالی کے عمل کی نگرانی کرے۔
امن معاہدے سے بڑھ کر ضرورت ایک ماحولیاتی جنگ بندی کی ہے ایسی جنگ بندی جو زمین، پانی اور ہوا کی شفا پر مبنی ہو۔ غزہ کی اصل بحالی تب ممکن ہوگی جب اس کی مٹی میں زندگی واپس آئے، پانی زہر سے پاک ہو، اور اس کے بچے سانس لینے کے قابل ہوا میں جی سکیں۔
غزہ کا مستقبل سفارتی معاہدوں سے نہیں بلکہ اس کے پانی کی شفافیت، مٹی کی زرخیزی، اور آنے والی نسلوں کی صحت سے طے ہوگا۔ حقیقی امن وہی ہے جو فطرت اور انسان دونوں کو زندہ رکھے ورنہ جنگ صرف شکل بدل کر جاری رہے گی۔
شفقنا اردو
نوٹ: شفقنا کا اس تحریر کے مندرجات سے متفق ہونا ضروری نہیں
اسرائیل اور حماساقوام متحدہعالمی بینکغزہ نسل کشی
0 FacebookTwitterLinkedinWhatsappTelegramViberEmail
گزشتہ پوسٹ
نیویارک میئرکا تاریخ سازالیکشن اور زُہران ممدانی/نسیم حیدر
اگلی پوسٹ
ایران اپنی جوہری تنصیبات کو ’مزید طاقت کے ساتھ دوبارہ تعمیر کرے گا: ایرانی صدر

یہ بھی پڑھنا مت بھولیں

پاکستان ڈیفالٹ کے خطرے سے پیچھے ہٹ رہا...

04:23 | بدھ دسمبر 10، 2025

جنگ بندی کے باوجود غزہ میں اسرائیل کی...

15:17 | پیر دسمبر 8، 2025

غزہ میں امن معاہدے کے تحت انخلا کی...

14:43 | پیر دسمبر 8، 2025

افغانستان میں امریکی اسلحہ ٹی ٹی پی کے...

06:58 | پیر دسمبر 8، 2025

کس طرح ٹرمپ کی سٹریٹجک غلطیوں، اورجذباتی قیادت...

13:51 | اتوار دسمبر 7، 2025

يونان ميں فلسطينی پناہ گزين: اميد اور بے...

13:19 | اتوار دسمبر 7، 2025

گیٹس فاؤنڈیش رپورٹ/غیر ملکی امداد میں کمی، رواں...

15:51 | ہفتہ دسمبر 6، 2025

اقوام متحدہ کے ماہرین کا مقبوضہ کشمیر میں...

09:43 | ہفتہ دسمبر 6، 2025

 رفح کراسنگ یکطرفہ کھولنے کے اسرائیلی بیانات پر...

03:49 | ہفتہ دسمبر 6، 2025

یورو ویژن 2026 :اسرائیل کو شرکت کی اجازت،...

09:16 | جمعہ دسمبر 5، 2025

تبصرہ کریں Cancel Reply

میرا نام، ای میل اور ویب سائٹ مستقبل میں تبصروں کے لئے محفوظ کیجئے.

تازہ ترین

  • شہباز شریف کی حکومت کیوں ناکام ہے؟ سید مجاہد علی

  • روس اور ایران کا اسٹریٹجک اتحاد کتنا مضبوط؟ جاوید اختر

  • یو اے ای: غیر قانونی افراد کو پناہ دینے پر کروڑوں کے جرمانے نافذ

  • افغانستان: پنچشیر میں نیشنل ریزسٹنس فرنٹ کا حملہ: 17 طالبان جنگجو ہلاک

  • عمران خان مائنس ہوا تو ایک بھی باقی نہیں رہے گا: بیرسٹر گوہر علی خان

  • اسرائیل اں سال دنیا بھر میں قتل ہونے والے تمام صحافیوں میں سے تقریباً نصف صحافیوں کے قتل کا ذمہ دار

  • بابا وانگا نے 2026 کیلئے کونسی اہم اور بڑی پیشگوئیاں کیں؟

  • مسلم ممالک کا اعتراض: ٹونی بلیئر کا نام ’غزہ امن کونسل‘ سے نکال دیا گیا

  • مائیکروسافٹ کا بھارت میں 17.5 ارب ڈالر کی خطیر سرمایہ کاری کا اعلان

  • پاکستان ڈیفالٹ کے خطرے سے پیچھے ہٹ رہا ہے، آئی ایم ایف رپورٹ

  • یوکرینی صدر کی مشروط انتخاب کرانے پر رضامندی

  • بابر اعظم اور شاہین شاہ آفریدی بگ بیش لیگ کے 15 ویں ایڈیشن میں شرکت کے لیے آسٹریلیا پہنچ گئے

  •  عمران خان کی بہنوں اور پی ٹی آئی کارکنوں پر پولیس کریک ڈاؤن: اڈیالہ کے باہر دھرنا ختم

  • عالمی دباؤ: اسرائیل نے اردن کے ساتھ بارڈرکو غزہ کے امدادی سامان کے لیے کھولنے کا اعلان کردیا

  • قومی اسمبلی کی کمیٹی برائے خزانہ نے اسمارٹ فونز ر عائد ٹیکس میں کمی کا مطالبہ کردیا

  • وزیرستان میں تحصیل ہیڈ کوارٹر اسپتال غیر فعال: متعدد مریض جاں بحق

  • جدہ میں 135 ملی میٹر بارش ریکارڈ : نظام زندگی درہم برہم

  • گوگل میپس کی وہ ٹِرکس جو آپ کو ضرور استعمال کرنی چاہیے

  • ہندوتوا اور ہندوستان کے زیر انتظام کشمیر میں اجتماعی سزا کا کچل دینے والا ظلم/نعیم افضل

  • یورپی ملک میں خواتین نے مردوں کو گھریلو کام کاج کیلئے ہائر کرنا شروع کردیا

مقبول ترین

  • صفائی اور پاکیزگی قرآن و حدیث کی روشنی میں : شفقنا اسلام

  • چھپکلی کی جلد سے متاثرہ بھوک لگانے والا کیپسول

  • میں نے جمہوریت کی مضبوطی کے لیے کام کیا: جوبائیڈن کا قوم سے خطاب

  • کیا ہندوستان کی آنے والی نسلیں مسلم مخالف نفرت میں اس کی زوال پزیری کو معاف کر دیں گی؟/شاہد عالم

  • مہاتیر محمد نے اپنا استعفیٰ پیش کردیا

  • مکمل لکڑی سے تراشا گیا کارکا ماڈل 2 لاکھ ڈالر میں نیلام

  • ایک ارب 70 کروڑ ڈالر کے قرضوں کی ادائیگی معطل کرنے کے معاہدے پر دستخط

  • اسلام آباد: میجر لاریب قتل کیس میں ایک مجرم کو سزائے موت، دوسرے کو عمر قید

  • دی نیشن رپورٹ/پاکستانی جیلوں میں قید خواتین : اگرچہ ان کی چیخیں دب گئی ہیں مگر ان کے دکھ کو نظر انداز نہیں کیا جاسکتا

  • عورتوں سے باتیں کرنا

@2021 - All Right Reserved. Designed


Back To Top
شفقنا اردو | بین الاقوامی شیعہ خبر رساں ادارہ اور تجزیاتی مرکز
  • صفحہ اول
  • تازہ ترین
  • آپ کی خبر
  • بلاگ
  • پاکستان
  • تصویری منظر نامہ
  • دلچسپ و عجیب
  • سائنس و ٹیکنالوجی
  • صحت وتعلیم
  • عالمی منظر نامہ
  • فیچرز و تجزیئے
  • کھیل و کھلاڑی
  • وڈیوز
  • رابطہ