پاکستان تحریک انصاف کے متعدد سابق لیڈروں نے پارٹی کے بانی اور دیگر رہنماؤں کی رہائی کے لیے مہم چلانے کا اعلان کیا ہے۔ تاہم یہ لوگ اس وقت پارٹی کی قیادت پر فائز عناصر کی طرح احتجاج اور تصادم کا راستہ اختیار کرنے کی بجائے حکومت اور اسٹیبلشمنٹ سے مفاہمت اور بات چیت کے ذریعے مسائل کا حل نکالنا چاہتے ہیں۔ یہ ایک خوش آئند پیش رفت ہے۔ ان کوششوں کی حوصلہ افزائی ہونی چاہیے۔
تحریک انصاف کے دور میں وزیر رہنے والے فواد چوہدری نے اس حوالے سے ہونے والی کوششوں کا ذکر کیا ہے۔ ’ایکس‘ پر ایک بیان میں انہوں نے مفاہمت اور بات چیت کو مسائل کے حل کا واحد راستہ بتایا ہے۔ انہوں نے بعض دیگر نمایاں لیڈروں کے ہمراہ لاہور میں قید کاٹنے والے پارٹی نائب چیئرمین شاہ محمود قریشی کے علاوہ سابق سینیٹر اعجاز چوہدری، سابق صوبائی وزیر میاں محمود الرشید اور سابق گورنر پنجاب عمر سرفراز چیمہ سے بھی ملاقات کی۔ فواد چوہدری نے بتایا ہے کہ شاہ محمود قریشی ان کے نقطہ نظر سے متفق ہیں کہ قومی مفاد کے لیے موجودہ سیاسی تعطل کا کوئی راستہ نکلنا چاہیے۔
فواد چوہدری کا کہنا ہے کہ پاکستان کے موجودہ سیاسی حالات میں سب سے اہم یہ ہے کہ سیاسی درجہ حرارت نیچے لایا جائے۔ اور وہ اس وقت تک کم نہیں ہو سکتا جب تک دونوں سائیڈ یہ فیصلہ نہ کریں کہ انہوں نے ایک قدم پیچھے ہٹنا اور ایک نے قدم بڑھانا ہے۔ پاکستان نے بین الاقوامی طور سے سفارتی کامیابیاں حاصل کی ہیں لیکن سیاسی درجہ حرارت زیادہ ہونے کی وجہ سے ان کا فائدہ حاصل نہیں ہو سکا۔ جب تک یہ درجہ حرارت کم نہیں ہوتا، اُس وقت تک پاکستان میں معاشی ترقی اور سیاسی استحکام نہیں آ سکتا۔ اس لیے اہم ہو گا کہ حکومت ایک قدم آگے بڑھے اور تحریک انصاف ایک قدم پیچھے ہٹے ’۔
ملک کی موجودہ صورت حال میں یہ امر خوش آئند ہے کہ تحریک انصاف سے تعلق رکھنے والے کچھ لیڈر معاملہ کی سنگینی کو سمجھتے ہیں اور یہ ادراک رکھتے ہیں کہ پاکستان کو اس وقت جن مشکلات کا سامنا ہے اور پاکستانی حکومت کو عالمی سطح پر جو سفارتی کامیابیاں حاصل ہوئی ہیں، ان سے پوری طرح استفادہ کرنے کے لیے بات چیت کا راستہ کھولا جائے۔ اور تحریک انصاف یا حکومت کے غیر مفاہمانہ طرز عمل میں لچک پیدا کی جائے۔ فواد چوہدری کی قیادت میں عمران اسمٰعیل اور محمود مولوی پر مشتمل تین رکنی وفد اس حوالے سے حکومتی وزرا کے علاوہ جمعیت علمائے اسلام کے مولانا فضل الرحمان سے ملاقات کا ارادہ رکھتا ہے۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ بعد میں ان مفاہمتی کوششوں میں علی زیدی اور سبطین خان جیسے لیڈر بھی شامل ہوسکتے ہیں۔ فواد چوہدری کا دعویٰ ہے کہ شاہ محمود قریشی اس حکمت عملی سے متفق ہیں، اس لیے انہیں امید ہے کہ تحریک انصاف کے مزید لیڈر بھی اس عمل میں شامل ہوں گے تاکہ ملک میں سیاسی تصادم کا ماحول ختم کیا جا سکے۔
فواد چوہدری نے جس حکمت عملی کا اعلان کیا ہے اس کے مطابق حکومت اور تحریک انصاف کو بیک وقت لچک دکھانا ہوگی۔ یعنی حکومت کی سخت پالیسی نرم ہو اور زیر حراست لیڈروں کی ضمانتوں کا سلسلہ شروع ہو جبکہ تحریک انصاف حکومت کے ساتھ مکالمہ کی ضرورت کو تسلیم کر لے۔ اس حکمت عملی کے تحت پہلے حکومتی وزرا اور مولانا فضل الرحمان کے ساتھ ملاقاتوں میں شاہ محمود قریشی سمیت دوسرے درجے کے لیڈروں کی ضمانتوں پر اتفاق رائے پیدا کرنے کی کوشش کی جائے گی۔ اس کے بعد عمران خان اور بشری بی بی کی ضمانتوں کے لیے میدان ہموار ہو سکے گا۔ فواد چوہدری کا بیان کردہ منصوبہ تقریباً انہی اصولوں پر استوار ہے جس کی طرف ملک کے بیشتر تجزیہ نگار کافی مدت سے اشارہ کر رہے ہیں۔ یہ راستہ ملک کی تمام سیاسی قوتوں کے درمیان مکالمہ کے ذریعے ہی ہموار ہو سکتا ہے۔ ابھی تک تحریک انصاف یا حکومت نے اس حوالے سے کسی نرمی کا مظاہرہ نہیں کیا۔ اگرچہ وزیر اعظم شہباز شریف نے ایک دو بار ایسے مفاہمانہ عمل کی ضرورت پر زور دیا اور ایک بار عمران خان کی اجازت سے حکومتی وفد سے بات چیت بھی شروع ہوئی تھی۔ البتہ یہ بات چیت عمران خان کی رہائی کے سوال پر تعطل کا شکار ہو گئی۔
تحریک انصاف کسی مفاہمت یا سیاسی مکالمہ کے لیے عمران خان کی رہائی کی شرط رکھتی رہی ہے۔ یعنی اس کا موقف رہا ہے کہ اگر حکومت تحریک انصاف سے سیاسی بات چیت کی خواہش رکھتی ہے تو عمران خان کو فوری طور سے رہا کیا جائے۔ یہ مطالبہ درحقیقت ماورائے قانون و عدالت طریقے کی طرف اشارہ کرتا ہے کیوں کہ پی ٹی آئی کا خیال ہے کہ ڈمی عدالتوں نے حکومت کے ’حکم‘ پر عمران خان کو سزائیں سنائی ہیں جو ناجائز اور غلط ہیں۔ حکومت کے لیے عدالتی فیصلوں کی موجودگی میں کسی انتظامی حکم کے تحت عمران خان کی رہائی سیاسی طور سے ممکن نہیں ہے۔ اور تحریک انصاف اس حقیقت کو ماننے سے انکار کرتی رہی ہے۔ اب فواد چوہدری کی طرف سے عمران خان سمیت تمام لیڈروں کی رہائی کے لیے عدالتی طریقہ کار اختیار کرنے کی بات کی گئی ہے۔ حکومت سے بس یہ اتفاق رائے کیا جائے گا کہ استغاثہ ان ضمانتوں کی راہ میں روڑے نہ اٹکائے۔ یہ طریقہ کار قابل عمل اور قابل قبول ہو سکتا ہے۔
اس کے علاوہ فواد چوہدری نے پہلے مرحلے میں شاہ محمود قریشی اور دیگر اہم لیڈروں کی ضمانتیں قبول کرا کے اعتماد سازی کا ماحول پیدا کرنے کی تجویز دی ہے۔ ایسے اقدام کے بعد اگر تحریک انصاف تصادم اور للکارنے کی بجائے، سیاسی مفاہمت کی طرف پیش قدمی کرتی ہے تو عمران خان اور بشریٰ بی بی ضمانتوں کا معاملہ بھی طے ہو سکتا ہے۔ کہنے کی حد تک یہ قابل عمل طریقہ ہو سکتا ہے لیکن گزشتہ دو اڑھائی سال کے دوران تحریک انصاف کی فعال قیادت نے جو رویہ اختیار کیا ہے، اس کی روشنی میں اس پر عمل درآمد آسان نہیں ہو گا۔ اس کے علاوہ تحریک انصاف اگر احتجاج منظم کرنے اور دھرنے دینے جیسے سیاسی طریقوں میں کامیاب نہیں ہوئی لیکن سوشل میڈیا اور حامی یو ٹیوبرز کے ذریعے حکومت اور عسکری قیادت پر شدید گولہ باری کی جاتی رہی ہے۔ اس مہم جوئی میں بیشتر اوقات جھوٹی اور بے بنیاد خبروں کو نشر یا بیان کر کے حکومت کے خلاف میدان ہموار کیا جاتا ہے۔ فواد چوہدری اور ان کے ساتھی مفاہمت کی حکمت عملی میں اسی وقت کامیاب ہوسکتے ہیں جب تحریک انصاف بھی حکومت مخالف پروپیگنڈا مہم میں وقفہ پر آمادہ ہو جائے اور سیاسی مکالمہ کو وقت کی ضرورت سمجھے۔ تاہم اس کا فیصلہ صرف عمران خان ہی کر سکتے ہیں۔
عمران خان کو یہ چیلنج درپیش ہے کہ انہیں اندیشہ ہے کہ حکومت کے ساتھ مکالمہ کی صورت میں ان کی سیاسی پوزیشن کمزور ہوگی اور ان کے حامی یہ سمجھیں گے کہ شاید انہوں نے کوئی ’سودے بازی‘ کرلی ہے۔ اگرچہ وہ اس قسم کی سودے بازی اسٹیبلشمنٹ کے ساتھ کرنے پر آمادہ ہیں۔ البتہ پاک فوج واضح کرچکی ہے کہ وہ کسی سیاسی جماعت سے کسی قسم کے معاملات کرنے میں دلچسپی نہیں رکھتی۔ سیاسی پارٹیوں کو حکومتی جماعتوں کے ساتھ رابطہ کرنا چاہیے۔ عمران خان موجودہ حکومت کو بدعنوان، کٹھ پتلی اور ناقابل اعتبار قرار دیتے ہوئے، کسی بھی قسم کے سیاسی رابطوں سے انکار کرتے رہے ہیں۔ یہ کہنا مشکل ہے کہ جیل میں طویل عرصہ گزارنے کے بعد عمران خان کیا سیاسی مفاہمت کرنے اور اسٹیبلشمنٹ کی بجائے سیاسی عناصر سے معاملات طے کرنے کی ضرورت سے آگاہ ہوچکے ہیں یا وہ اب بھی پہلے جیسی ہٹ دھرمی کا مظاہرہ کریں گے۔
فواد چوہدری نے حکومت کو ایک قدم آگے بڑھنے کا جو مشورہ دیا ہے، اس کی عملی شکل بھی واضح کردی ہے کہ حکومت شاہ محمود قریشی اور دیگر لیڈروں کی ضمانتوں میں سہولت کاری کا وعدہ کرے۔ لیکن وہ تحریک انصاف کو ایک قدم پیچھے ہٹانے کا جو مشورہ دے رہے ہیں، اس کے بارے میں واضح نہیں کیا گیا کہ حکومتی سہولت کے جواب میں پی ٹی آئی اعتماد سازی کے کون سے اقدامات کرے گی۔ یا فواد چوہدری اور ان کے ساتھی اس وقت پارٹی قیادت کے مختلف دھڑوں کو کیسے ایک پیج پر جمع کریں گے؟
اس سارے عمل میں کلیدی حیثیت عمران خان کے رویہ کو حاصل ہے۔ اگر وہ بھی شاہ محمود قریشی کی طرح فواد چوہدری و دیگر سابقہ لیڈروں کی مفاہمانہ تجاویز سے متفق ہو جاتے ہیں تو حکومت کے ساتھ معاملات طے کرنا آسان ہو جائے گا۔ البتہ اگر عمران خان نے ’ڈٹا ہوا ہے خان‘ کا نعرہ لگانے اور اس حوالے سے سوشل میڈیا دباؤ کا سلسلہ جاری رکھنے کا ارادہ کیا تو حکومت سے بھی کسی نرمی کی امید نہیں کی جا سکتی۔ اس لیے مناسب ہو گا کہ فواد چوہدری وزیروں یا مولانا فضل الرحمان سے ملاقاتیں کرنے کی بجائے، سب سے پہلے عمران خان سے ملاقات کریں اور ’ایک قدم پیچھے ہٹنے اور ایک قدم آگے بڑھانے‘ کے منصوبہ کی تفصیلات پر انہیں قائل کر لیں تاکہ اس عمل میں حقیقی پیش رفت ممکن ہو سکے۔
عمران خان اور تحریک انصاف کو ماضی کی انتخابی بے اعتدالی کی بجائے مستقبل میں سیاسی پوزیشن کے حوالے سے غور کرنے کی ضرورت ہے۔ اب فروری 2024 کے انتخابات کو بھلا کر 2029 کے انتخابات پر توجہ مبذول کی جائے۔ یہ حکمت عملی بنائی جائے کہ آئندہ انتخابات بروقت اور منصفانہ ہوں۔ اور تحریک انصاف کو ان میں کسی رکاوٹ کے بغیر حصہ لینے کا موقع ملے۔ فواد چوہدری کے سیاسی فارمولے کے تحت اگر پی ٹی آئی یہ مقصد حاصل کرنے میں کامیاب ہوجاتی ہے تو یہ اس کی بہت بڑی سیاسی فتح ہوگی۔ سیاسی لیڈروں کی ضمانتوں پر رہائی اس عمل کو آسان بنانے کا سبب بنے گی۔
شفقنا اردو
نوٹ: شفقنا کااس تحریر کے مندرجات سے متفق ہونا ضروری نہیں