Top Posts
احمد الاحمد ہمارے ’ہیرو‘ ہیں،آسٹریلوی وزیراعظم
اسرائیل پر تنقید: امریکی سیاست میں اب کوئی...
بگ بیش میں شاہین آفریدی کا مایوس کُن...
بھارت میں مردہ شخص سب سے زیادہ ووٹ...
واٹس ایپ ہیک ہونے کی صورت میں کیا...
علیمہ خان نے گزشتہ دنوں سوشل میڈیا پر...
ڈیرہ اسماعیل خان: کلاچی آپریشن میں 7 دہشت...
کیا فیض سے جان چھوٹ گئی؟ حامد میر
آئی ایم ایف اور اس کے تخلیق کردہ...
بلاول بھٹو کے مثبت تبصروں پر مریم نواز...
  • Turkish
  • Russian
  • Spanish
  • Persian
  • Pakistan
  • Lebanon
  • Iraq
  • India
  • Bahrain
  • French
  • English
  • Arabic
  • Afghanistan
  • Azerbaijan
شفقنا اردو | بین الاقوامی شیعہ خبر رساں ادارہ اور تجزیاتی مرکز
اردو
  • صفحہ اول
  • تازہ ترین
  • آپ کی خبر
  • بلاگ
  • پاکستان
  • تصویری منظر نامہ
  • دلچسپ و عجیب
  • سائنس و ٹیکنالوجی
  • صحت وتعلیم
  • عالمی منظر نامہ
  • فیچرز و تجزیئے
  • کھیل و کھلاڑی
  • وڈیوز
  • رابطہ

تعلیم ریاست کی ذمے داری/ڈاکٹر توصیف احمد خان

by TAK 13:06 | بدھ نومبر 5، 2025
13:06 | بدھ نومبر 5، 2025 61 views
61
یہ تحریر ایکسپریس نیوز میں شائع ہوئی
تعلیم ریاست کی ذمے داری کے فلسفے پر قائم ہونے والی پیپلز پارٹی نے تعلیم کو نجی شعبہ کے حوالے کرنے کی پالیسی پر خوبصورتی سے عمل کرنا شروع کردیا۔ سندھ میں پبلک پرائیوٹ پارٹنرشپ کے تحت صوبہ بھر میں 500 اسکول قائم کیے جائیں گے۔
ایک رپورٹ کے مطابق سندھ کی حکومت نے صوبے میں معیاری تعلیم تک رسائی کے فروغ کے لیے سندھ ایجوکیشن فاؤنڈیشن کے پبلک پرائیوٹ پارٹنرشپ کے ماڈل کے تحت ایک سہ فریقی معاہدے پر اتفاق کیا ہے۔ سندھ ایجوکیشن فاؤنڈیشن (ایس ای ایف)، دی سٹیزنز فاؤنڈیشن (ٹی سی ایف) اور حکومت سندھ کے ایجوکیشن اینڈ لٹریسی ڈپارٹمنٹ کی شراکت سے نئے اسکول تعمیر ہوںگے۔ یہ شراکت داری 2019سے 2029 تک کے عریہ پر محیط ہے۔
بتایا جاتا ہے کہ اس معاہدے کے تحت بعض غیر فعال ، ترک شدہ اور بند اسکولوں کی بحالی عمل میں آئے گی اور یہ غیر سرکاری اداروں کو اسکولوں کی انتظامی ذمے داری سونپی جائے گی۔ اس معاہدے کے تحت حکومت سندھ کی جانب سے ان اداروں کو سبسڈی کی فراہمی کا بھی ایک نیا نظام وضع کیا جائے گا۔
اس نظام کے تحت ٹی سی ایف کو فی طالب علم 200 روپے اساتذہ کی تربیت اور نصابی کتب کے لیے فراہم کیے جائیں گے۔ اس معاہدے کے پہلے مرحلہ میں ٹی ایس ایف نے اب تک بدین، دادو، حیدرآباد، جیکب آباد، کورنگی، ملیر، کشمور، مٹیاری، میرپور خاص، سانگھڑ، شہید بے نظیر آباد، شکارپور اور سجاول سمیت مختلف اضلاع میں 98 اسکول قائم کیے ہیں۔ جون 2029 تک مجموعی طور پر 500 اسکول تعمیر ہونگے۔
وزیر اعلیٰ سندھ مراد علی شاہ کی صدارت میں ہونے والے اجلاس میں اس تجویز پر بھی غور کیا گیا کہ فی طالب علم ماہانہ سبسڈی 2 ہزار 500 روپے کردی جائے گی۔ تعلیم حکومت سندھ کا سب سے بڑا شعبہ ہے۔ پورے سندھ میں سرکاری پرائمری اور سیکنڈری اسکولوں کی کل تعداد 48 ہزار 932 کے قریب ہے جن میں سے 43 ہزار کے قریب اسکول فعال ہیں۔ اسی طرح اسکولوں میں اساتذہ کی تعداد تقریباً 147,945 ہے جن میں سے سرکاری اسکولوں میں کام کرنے والے اساتذہ کی تعداد 141,718 کے قریب ہے۔
ان میں سے بہت سے اساتذہ وہ ہیں جو غیر حاضر اساتذہ کی تعریف پر پورا اترتے ہیں۔ حکومت سندھ نے اس سال کے مالیاتی بجٹ میں تعلیم کے لیے 3,45 Trillion روپے مختص کیے ہیں۔ اس رقم میں سے بیشتر حصہ اسکولوں کی تعمیر اور ترقی، ان میں سہولتوں کی فراہمی، اساتذہ کی تنخواہوں، ریٹائرڈ اساتذہ کی پنشن اور دیگر تعلیمی لوازمات پر خرچ ہوتا ہے۔ حکومت سندھ کی اتنی خطیر رقم تعلیم پر خرچ کرنے کے باوجود سندھ بھر میں 7.9 ملین بچے اسکول نہیں جاتے اور سندھ کے تعلیمی اداروں خاص طور پر اسکولوں کا معیار مایوس کن ہے۔ شعبہ تعلیم کی رپورٹنگ کرنے والے سینئر صحافیوں کا بیانیہ ہے کہ سندھ کا تعلیم کا پورا نظام شفاف نہیں ہے۔ اس نظام میں ’سفارش‘ اور ’پیسہ کی چمک‘ دو بنیادی لوازمات ہیں۔
گزشتہ سال میٹرک اور انٹرمیڈیٹ کے نتائج سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ سرکاری اسکولوں سے فارغ التحصیل ہونے والے طلبہ کے مقابلے میں پرائیوٹ اسکولوں کے طلبہ نے امتیازی پوزیشن حاصل کیں۔ میڈیکل اور پری انجنیئرنگ کے داخلہ ٹیسٹ میں حیدرآباد اور دیگر بورڈ سے پاس ہونے والے طلبہ مطلوبہ نمبر حاصل نہ کرسکے۔ سندھ حکومت نے نجی اداروں کو پابند کیا ہے کہ 10فیصد نشستیں غریب طلبہ کے لیے میرٹ کی بنیاد پر مختص کی جائیں گی مگر کوئی تعلیمی ادارہ اس پالیسی پر عملدرآمد کرنے پر تیار نہیں ہے۔
جب 2008میں پیپلز پارٹی کی حکومت قائم ہوئی تو اس وقت ورلڈ بینک اسکولوں کی تعلیم کے لیے خطیر رقم فراہم کرتا تھا۔ ورلڈ بینک کے ماہرین نے اساتذہ کے تقرر کے معیار کو غیر اطمینان بخش قرار دیا اور اس بات پر اتفاق رائے ہوا تھا کہ اساتذہ کے تقرر کے لیے انٹری ٹیسٹ لازمی قرار دیا جائے مگر کئی ہزار افراد کو بغیر انٹری ٹیسٹ پاس کیے بھرتی کر لیا گیا، یوں اس وقت کے وزیر تعلیم پیر مظہر الحق کو سبکدوش کیا گیا اور ان افراد کو رخصت کیا گیا۔ یہ ہزاروں افراد کئی برسوں تک کراچی پریس کلب کے سامنے مظاہرہ کرتے رہے۔
کچھ افراد ٹکنیکل بنیادوں پر قانونی کمزوریوں کی بنیاد پر عدالتوں سے بحال ہوئے۔ اساتذہ کی بھرتی کے لیے سکھر آئی بی اے کے انٹری ٹیسٹ سے پاس ہونا لازمی قرار دیا گیا۔ کہا جاتا ہے کہ سکھر آئی بی اے ٹیسٹ میں بھی کئی خامیوں کا انکشاف ہوا ہے۔ بہرحال پھر حکومت سندھ نے اساتذہ کے تقرر کے لیے لائسنس سسٹم کا اجراء کیا۔ اب کسی بھی فرد کو ٹیچر بننے کے لیے یہ لائسنس حاصل کرنا لازمی قرار دیا گیا۔ اس لائسنس کی مدت 5 سال قرار دی گئی، یوں سندھ میں اس بات کے قوی امکانات پیدا ہوگئے کہ اب اساتذہ کا تقرر میرٹ کی بنیاد پر ہوگا مگر گریڈ 17 اور اس سے بالا کی آسامیوں کے لیے سندھ پبلک سروس کمیشن کا امتحان پاس کرنا لازمی قرار دیا گیا، البتہ سندھ پبلک سروس کمیشن کی ساکھ خراب ہے ۔ حکومت نے میرٹ پر اساتذہ کے تقرر، نئے اسکولوں کی تعمیر اور اسکولوں میں جدید ترین سہولتیں فراہم کرنے کے بجائے ایک نیا طریقہ سیکھا کہ غیر سرکاری تنظیموں کے سپرد اسکولوں کا نظام کردیا جائے مگر اس کے ساتھ حکومت ان تنظیموں کو سبسڈی دینے پر بھی تیار ہے ، یوں اب اربوں روپے ان تنظیموں کو ہر سال سبسڈی کی مد میں دیے جائیں گے۔
یہ تنظیمیں اپنے معیارکے مطابق اساتذہ کا تقرر کریں گی، یوں حکومت کو نئے اساتذہ کو میرٹ پر ملازمت دینے، ان اساتذہ کو بہتر تنخواہیں دینے اور ریٹائرمنٹ کے بعد پنشن ادا کرنے کے جھنجھٹ سے نجات حاصل ہوجائے گی۔ نیو لبرل ازم کے نظریے کے تحت اب سندھ حکومت بھی تعلیم کی ذمے داری سے بچ جائے گی۔
یہ بھی خبریں ہیں کہ صوبے کے سب سے بڑے سرکاری کو بھی غیر سرکاری تنظیموں کے سپرد کیا جارہا ہے۔ صوبائی وزراء جب پبلک پرائیوٹ پارٹنرشپ کا ذکر کرتے ہیں تو وہ ایس آئی یو ٹی کا حوالہ دیتے ہیں۔ ایس آئی یو ٹی کے سربراہ عظیم ڈاکٹر ادیب الحسن رضوی نے نجی شعبے سے فنڈز تو لیے مگر سارا انتظام سرکاری شعبے میں ہے۔ اس تناظر میں اہم سوال یہ ہے کہ جب حکومت تعلیم اور صحت کی ذمے داریاں بھی پوری نہیں کرے گی، تو اتنی بڑی کابینہ اور اتنی بڑی بیوروکریسی کا کیا جواز ہے؟
سوویت یونین کے خاتمے کے بعد فری مارکیٹ آنے سے تعلیم بھی ایک جنس کی حیثیت اختیار کرگئی ہے۔ عالمی بینک اور آئی ایم ایف کی یہ پالیسی ہے کہ تعلیم اور صحت کے شعبے نجی شعبے کے سپرد ہونے چاہئیں۔ سندھ کی حکومت بالواسطہ طور پر ان عالمی مالیاتی اداروں کی پالیسیوں کو عملی شکل دینے کی کوشش کررہی ہے۔ بعض دانشوروں کا کہنا ہے کہ ان غیر سرکاری اداروں کے تحت قائم کرنے والے تعلیمی اداروں کا معیار بلند ہوتا ہے، یوں عام طالب علم کو معیار تعلیم ملے گی مگر یہ مفروضہ ایک محدود سوچ کی پیداوار ہے۔ یہ غیر سرکاری ادارے حکومت کی سبسڈی سے ہی تعلیمی اداروں کا نظام چلائیں گے۔
ان اداروں میں فرائض انجام دینے والے اچھی تنخواہ، ریٹائرمنٹ کے بعد پنشن نہ ہونے اور کسی بھی وقت ملازمت ختم ہونے کے خطرے کی بناء پر ذہنی دباؤ کا شکار رہیں گے جس کے اثرات ان کے خاندانوں پر ہی نہیں بلکہ طالب علموں پر بھی پڑیں گے۔
یوں اسکول نہ جانے والے کروڑوں بچوں کے اسکولوں میں داخلہ کا معاملہ الجھا رہے گا۔ یہ حقیقت ہے کہ تعلیم اور صحت کی ذمے داری صرف ریاست ہی پورا کرسکتی ہے۔ پیپلز پارٹی نے اسی اصول کی بنیاد پر تعلیمی اداروں کو قومیانے کی پالیسی اختیار کی تھی اور یہی پالیسی تھی کہ جس کی وجہ سے پیپلز پارٹی عوام میں مقبول ہوئی تھی ، اصولی طور پر تو پیپلز پارٹی کو اپنی بنیادی تعلیمی پالیسی میں جو خامیاں ہیں انھیں دور کرنا چاہیے تھا۔ پیپلز پارٹی کی حکومت اپنی اساسی پالیسی دستاویز سے انحراف کرکے کچھ حاصل نہ کرسکے گی۔
شفقنا اردو
نوٹ: شفقنا کا اس تحریر کے مندرجات سے متفق ہونا ضروری نہیں
پاکستان پیپلز پارٹیٹی سی ایفحکومت پنجاب لٹریسی ڈپارٹمنٹسندھ ایجوکیشن فاؤنڈیشنمراد علی شاہ
0 FacebookTwitterLinkedinWhatsappTelegramViberEmail
گزشتہ پوسٹ
ملزم مقتول اور بے گناہ قاتل کی روداد/وسعت اللہ خان
اگلی پوسٹ
شمالی کوریا بہت جلد جوہری تجربہ کرسکتا ہے: جنوبی کوریا

یہ بھی پڑھنا مت بھولیں

بلاول بھٹو کے مثبت تبصروں پر مریم نواز...

13:37 | پیر دسمبر 15، 2025

پی ٹی آئی کا سیاسی سطح پر پیپلز...

04:31 | جمعرات دسمبر 11، 2025

ستائیسویں ترمیم کے بعد/جاوید قاضی

14:35 | پیر دسمبر 8، 2025

ہماری اشرافیہ کو تھوڑا سا تو ڈرنا چاہیے/شہزاد...

13:47 | ہفتہ دسمبر 6، 2025

3 کروڑ کا شہر، ایک گٹر… اور کسی...

13:08 | جمعرات دسمبر 4، 2025

کیا پاکستان میں سیاست واقعی ختم ہو رہی...

10:45 | منگل نومبر 25، 2025

آزادکشمیر تحریک عدم اعتماد کامیاب: راجہ فیصل ممتاز...

13:30 | پیر نومبر 17، 2025

آزاد کشمیر کے وزیر اعظم چوہدری انوار الحق...

04:16 | پیر نومبر 17، 2025

ستائیسویں آئینی ترمیم، حمایت کے بدلے حکومت سے...

13:01 | ہفتہ نومبر 8، 2025

وزیر اعظم شہباز شریف نے 27 ویں آئینی...

04:22 | ہفتہ نومبر 8، 2025

تبصرہ کریں Cancel Reply

میرا نام، ای میل اور ویب سائٹ مستقبل میں تبصروں کے لئے محفوظ کیجئے.

تازہ ترین

  • احمد الاحمد ہمارے ’ہیرو‘ ہیں،آسٹریلوی وزیراعظم

  • اسرائیل پر تنقید: امریکی سیاست میں اب کوئی متنازعہ معاملہ نہیں: اکرم ضیاء

  • بگ بیش میں شاہین آفریدی کا مایوس کُن پرفارمنس کا مظاہرہ

  • بھارت میں مردہ شخص سب سے زیادہ ووٹ لے کر الیکشن جیت گیا

  • واٹس ایپ ہیک ہونے کی صورت میں کیا کرنا ہے؟

  • علیمہ خان نے گزشتہ دنوں سوشل میڈیا پر وائرل ہونے والی عمران خان کی تصویر کو اصلی قرار دے دیا

  • ڈیرہ اسماعیل خان: کلاچی آپریشن میں 7 دہشت گرد ہلاک، لانس نائیک جاں بحق

  • کیا فیض سے جان چھوٹ گئی؟ حامد میر

  • آئی ایم ایف اور اس کے تخلیق کردہ طبقات مد مقابل ہیں/ندیم اختر سرور

  • بلاول بھٹو کے مثبت تبصروں پر مریم نواز کا پرتپاک خیرمقدم، برف کیسے پگھلی؟

  • ٹرمپ مشرق وسطی کے ’طاقتور‘ رہنماؤں کی قربت کے خواہاں کیوں؟

  • ڈر ہے یہ سب ایسے ہی چلتا رہے گا/خالد محمود رسول

  • میانمار کی سیاس رہنما آنگ سان سوچی کی قید میں حالت تشویش ناک

  • سڈنی دہشت گردی پاکستان کے سر تھوپنے کی سازش ناکام

  • پاک بحریہ کا آب سے فضا تک مار کرنے والے جدید میزائل کا کامیاب تجربہ

  • سڈنی حملہ: بھارت اور افغانستان کا پاکستان کے خلاف پروپیگنڈا بے نقاب

  • پاکستان دہشت گردی سے معاشروں کو پہنچنے والے درد اور صدمے کو بخوبی سمجھتا ہے: صدر مملکت

  • جان پر کھیل کر حملہ آور کو روکنے والا شخص قابل احترام ہے: ڈونلڈ ٹرمپ

  • حماس نے غزہ میں اسرائیلی حملے میں اپنے سینئر کمانڈر رائد سعد کی شہادت کی تصدیق کردی

  • آسٹریلیا : دہشت گردی کے واقعےمیں ہلاکتوں کی تعداد 16 ہوگئی

مقبول ترین

  • صفائی اور پاکیزگی قرآن و حدیث کی روشنی میں : شفقنا اسلام

  • چھپکلی کی جلد سے متاثرہ بھوک لگانے والا کیپسول

  • میں نے جمہوریت کی مضبوطی کے لیے کام کیا: جوبائیڈن کا قوم سے خطاب

  • کیا ہندوستان کی آنے والی نسلیں مسلم مخالف نفرت میں اس کی زوال پزیری کو معاف کر دیں گی؟/شاہد عالم

  • مکمل لکڑی سے تراشا گیا کارکا ماڈل 2 لاکھ ڈالر میں نیلام

  • مہاتیر محمد نے اپنا استعفیٰ پیش کردیا

  • ایک ارب 70 کروڑ ڈالر کے قرضوں کی ادائیگی معطل کرنے کے معاہدے پر دستخط

  • اسلام آباد: میجر لاریب قتل کیس میں ایک مجرم کو سزائے موت، دوسرے کو عمر قید

  • دی نیشن رپورٹ/پاکستانی جیلوں میں قید خواتین : اگرچہ ان کی چیخیں دب گئی ہیں مگر ان کے دکھ کو نظر انداز نہیں کیا جاسکتا

  • عورتوں سے باتیں کرنا

@2021 - All Right Reserved. Designed


Back To Top
شفقنا اردو | بین الاقوامی شیعہ خبر رساں ادارہ اور تجزیاتی مرکز
  • صفحہ اول
  • تازہ ترین
  • آپ کی خبر
  • بلاگ
  • پاکستان
  • تصویری منظر نامہ
  • دلچسپ و عجیب
  • سائنس و ٹیکنالوجی
  • صحت وتعلیم
  • عالمی منظر نامہ
  • فیچرز و تجزیئے
  • کھیل و کھلاڑی
  • وڈیوز
  • رابطہ