شفقنا اردو: بھارت کی پسماندہ ترین ریاست بہار میں آج انتخابات کا پہلا مرحلہ ہوگا، 243 حلقوں میں سے 121 میں آج اور دیگر میں منگل کو ووٹنگ ہوگی۔
حکمراں بھارتیہ جنتا پارٹی کےلیے کڑا امتحان ہے، پاکستان سے جنگ ہارنے پر مودی کی ملک بھر میں رسوائی ہوئی ہے۔
مودی کو امریکا کی جانب سے 50 فیصد ٹیرف عائد کیے جانےکے اثرات سے معاشی دباؤ کا بھی سامنا ہے۔
سارے آنکڑے بھارت کی حکمراں جماعت بی جےپی کیخلاف نظر آرہے ہیں، دیہی علاقوں میں امیر اور غریب کے درمیان فرق انتہا کوپہنچ گیا، بے روزگاری بڑا مسئلہ ، اسکولوں اور اسپتالوں کی حالت بھی ابتر ہے۔
اونچی ذات کے ہندوؤں کی نمائندہ بی جے پی کو سن 2020 میں جنتا دل یونائٹڈ کے ساتھ اتحاد کرکے حکومت بنانا پڑی تھی۔
کیا اپوزیشن کانگریس اور راشٹریا جنتا دل کی جانب سے نریندر مودی کو ہرانے کی کوششیں کامیاب ہوں گی ؟
ریاست کے 8کروڑ ووٹرز کی شہریت کی تصدیق کو بنیاد بنا کر 65 لاکھ ووٹرز کا نام پہلے ہی فہرست سے نکالا جاچکا ہے۔ بی جے پی الیکشن جیت گئی تو نتائج پر سوالیہ نشان رہنے کا امکان ہے، حتمی نتیجہ 16 نومبر کو آنے کی توقع ہے۔