امریکہ میں ڈیموکریٹک پارٹی کے امیدوار زہران ممدانی نیویارک کے نئے مئیر منتخب ہو گئے ہیں۔ ان کے مقابلے میں آزاد امیدوار آندریو کومیو اور ری پبلیکن پارٹی کے کرٹس سلوا ناکام رہے۔ ممدانی کی عمر صرف چونتیس سال ہے اور وہ یوگنڈا سے ترک وطن کر کے نیویارک میں آباد ہونے والے والدین کے بیٹے ہیں۔ ممدانی کی کم عمری اور متنوع پس منظر کی وجہ سے اس جیت کو بہت اہمیت دی جا رہی ہے۔
زہران ممدانی نے اس جیت کو تبدیلی کے لیے عوام کے ووٹ کی کامیابی قرار دیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ ہم نے سیاست پر موروثیت کا قبضہ ختم کیا ہے۔ اور آج ہم نے واضح الفاظ میں بتا دیا ہے کہ امید اب بھی زندہ ہے۔ یہ امید ووٹ کے ذریعے تبدیلی کا راستہ کھلا رہنے کا نام ہے۔ ممدانی نے اپنی کامیابی کو اسی امید کا نتیجہ قرار دیتے ہوئے درست سمت میں نشاندہی کی ہے۔
اس سال جنوری میں امریکہ میں ڈونلڈ ٹرمپ نے اقتدار سنبھالنے کے بعد سے سخت گیر امیگریشن پالیسیاں اختیار کی ہیں اور وہ متعدد دیگر شعبوں میں بھی مسلمہ قواعد و ضوابط کو تسلیم کرنے سے انکار کرتے ہیں۔ ان کا طرز حکمرانی آمرانہ ہے اور وہ اپنے صدارتی اختیارات استعمال کرتے ہوئے خوشی و فخر محسوس کرتے ہیں۔ وہ میڈیا سے بات کریں یا سوشل میڈیا پر کوئی بیان جاری کریں، ان کی باتوں میں جمہوری مزاج کی بجائے شخصی آمریت کی جھلک نمایاں ہوتی ہے۔ اس ماحول میں نیویارک کے شہریوں نے ایک نووارد نوجوان کو شہر کا نیا مئیر منتخب کر کے واضح کیا ہے کہ اگر جمہوری راستہ کھلا رہے تو کوئی بھی شخص عوام کو اپنی مرضی کا لیڈر چننے سے روک نہیں سکتا۔ یہی جمہوریت کی خوبی اور اس کی طاقت ہے۔ اس کے ہوتے کوئی شخص عوام کو طویل عرصہ تک ان کے بنیادی حقوق سے محروم نہیں کر سکتا۔
صدر ٹرمپ کی امریکہ میں کامیابی کے علاوہ متعدد یورپی ممالک میں بھی ایسی مقبولیت پسند سیاسی پارٹیوں نے طاقت حاصل کی ہے جو معاشروں کو تقسیم کرنے کی حکمت عملی اختیار کرتی ہیں اور مساوات کے اصول کو ماننے سے انکار کرتی ہیں۔ دائیں بازو کی ان انتہاپسند سیاسی قوتوں میں تارکین وطن کی مخالفت اور قوم پرستی کی حوصلہ افزائی کلیدی اہمیت رکھتی ہیں۔ اس سوچ کو عام طور سے یورپ میں جمہوریت کے لیے خطرہ قرار دیا جاتا ہے۔ یوں لگتا ہے کہ ایسی پارٹیاں سیاسی اختیار ملنے کی صورت میں مختلف نسلوں و عقائد کے بارے میں ویسی ہی جارحانہ پالیسیاں اختیار کریں گی جو امریکہ میں ٹرمپ متعارف کرانے کی کوشش کر رہے ہیں۔ متعدد سنسنی خیز اور متنازعہ فیصلے نافذ کرنے کے باوجود صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو معاشرے کے ایک خاص انتہاپسند گروہ کی غیر مشروط حمایت حاصل رہی ہے۔ اسی لیے متعدد تجزیہ نگار آزادی اظہار اور جمہوریت کے مستقبل کے بارے میں مایوس کن باتیں کرنے لگے تھے۔ تاہم آج امریکہ میں ہونے والے انتخابات میں ڈیموکریٹک امیدواروں کی کامیابی اور خاص طور سے نیویارک مئیر کے طور پر زہران ممدانی کا انتخاب اس خوف کو زائل کرنے میں معاون ہو گا۔
زہران ممدانی کے پس منظر اور عقیدہ کی وجہ سے ان کی کامیابی کو بھی امریکہ ہی نہیں دنیا بھر میں دلچسپی سے دیکھا جا رہا ہے۔ بھارت میں ممدانی کے انڈین پس منظر کی وجہ سے اس کامیابی پر خوشی کا اظہار کیا گیا ہے جبکہ پاکستان میں زہران ممدانی کے مسلمان ہونے کو اہمیت دی جا رہی ہے۔ اور بعض لوگ تو اسے ’اسلام کی فتح‘ جیسے بچگانہ اور غیر ذمہ دارانہ نعروں سے گمراہ کن اور غیر حقیقی رائے قائم کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ زہران ممدانی یا کسی دوسری نسل یا عقیدے سے تعلق رکھنے والا کوئی بھی شخص اگر امریکہ یا کسی دوسرے جمہوری ملک میں کامیابی حاصل کرتا ہے تو وہ بنیادی طور پر اس ملک و معاشرے کے شہری کے طور پر کامیاب ہوتا ہے اور اسی شناخت پر فخر بھی ظاہر کرے گا۔ کیوں کہ اگر زہران ممدانی امریکی شہری نہ ہوتے اور انہوں نے امریکی سیاسی نظام میں اپنی جگہ نہ بنائی ہوتی تو انہیں کبھی بھی ایسی شاندار کامیابی نصیب نہ ہوتی۔
ممدانی کو ووٹ دینے والوں میں ہر رنگ و نسل کے لوگ شامل تھے۔ یہ سب لوگ درحقیقت اپنے شہر نیویارک کو ترقی کے راستے پر گامزن دیکھنا چاہتے ہیں اور انہوں نے غریب اور پسماندہ طبقات کے مسائل حل کرنے کے لیے ممدانی کے منشور اور وعدوں پر بھروسا کیا ہے۔ یہی جمہوریت کا حسن بھی ہوتا ہے۔ ممدانی کا پس منظر اگرچہ یوگنڈا اور انڈیا سے ہے لیکن وہ نیویارک میں پلے بڑھے اور یہیں سیاسی و جمہوری طریقے سیکھے۔ نیویارک کے مئیر کے طور پر بھی وہ انہی وعدوں کا پاس کریں گے جو انہوں نے عوام سے کیے ہیں اور شکل صورت، رنگ و نسل یا عقیدہ کو خاطر میں لائے بغیر سب شہریوں کے لیے مساوی مواقع پیدا کرنے کی کوشش کریں گے۔ اسی وعدے پر انہوں نے انتخاب لڑا اور جیتا اور ان پر عمل کر کے ہی وہ امریکی سیاست میں اپنا مقام بنا سکیں گے۔
اس کے باوجود زہران ممدانی کی کامیابی سے یہ ضرور واضح ہوا ہے کہ اگر سب کو جد و جہد کرنے کا مساوی موقع حاصل ہو تو صلاحیت کی بنیاد پر کوئی بھی شخص کسی بھی عمر میں کوئی بھی مقصد حاصل کر سکتا ہے۔ اسی لیے انہوں نے انتخابی کامیابی کے بعد تقریر کرتے ہوئے اپنی عمر، پس منظر، عقیدے اور سیاسی ایجنڈے کے بارے میں کسی شرمندگی کا اظہار نہیں کیا۔ انہوں نے کہا کہ ’میں جوان ہوں حالانکہ میں بڑا ہونے کی کوشش کر رہا ہوں۔ میں ڈیموکریٹک سوشلسٹ ہوں اور میں مسلمان ہوں۔ یہی نہیں، میں ان میں کسی حقیقت کو مسترد نہیں کرتا‘ ۔ اس بیان سے زہران ممدانی کے اپنی ذات پر اعتماد کا پتہ تو چلتا ہی ہے لیکن اس سے امریکی جمہوری نظام میں ووٹ کی طاقت اور اصول کی حکمرانی کی خبر بھی ملتی ہے۔ زہران ممدانی کی کامیابی درحقیقت اسی لیے امریکہ اور دنیا بھر میں جمہوریت پسند قوتوں کے لیے خوشی کی خبر ہے اور اس کا خیر مقدم کیا جا رہا ہے۔
صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے شروع سے زہران ممدانی کی مخالفت کی تھی۔ انہوں نے نیویارک کے لوگوں کو ہراساں کرنے کے لیے یہاں تک دعویٰ کیا کہ اگر ممدانی مئیر منتخب ہو گئے تو وفاق کی طرف سے نیویارک کی مالی امداد بند کردی جائے گی۔ وہ انہیں سوشلسٹ قرار دے کر بنیادی امریکی اقدار اور سیاسی اصولوں کو نقصان پہنچانے کا ذمہ دار قرار دیتے ہیں لیکن اس کے باوصف منہ زور، طاقت ور اور اختیارات سے بہرہ ور ہونے کے باوجود ڈونلڈ ٹرمپ نیویارک کے انتخابی عمل کو متاثر کرنے میں کامیاب نہیں ہوئے۔ یہی جمہوریت ہے اور اسی سے امید کی وہ کرن روشن ہوتی ہے جو تبدیلی اور حالات میں بہتری کا سبب بن سکتی ہے۔
اسی لیے زہران ممدانی نے انتخابی کامیابی پر کی جانے والی تقریر میں ڈونلڈ ٹرمپ سے مخاطب ہوتے ہوئے کہا کہ میں آپ کے لیے چار لفظ کہنا چاہتا ہوں :
Turn The volume up
یعنی آپ مزید شور مچاؤ۔ میں کامیاب ہو کر اپنے سیاسی منشور پر عمل کروں گا۔ اسی لیے زہران کے یہ الفاظ ٹرمپ کی امیگریشن مخالف پالیسیوں کو براہ راست چیلنج کی حیثیت رکھتے ہیں : ’نیویارک تارکین وطن کا شہر رہے گا۔ اسے امیگرینٹس نے تعمیر کیا، امیگرینٹس ہی نے اسے قوت بخشی اور آج رات سے ایک امیگرینٹ ہی اس کی قیادت کرے گا۔ ڈونلڈ ٹرمپ ہم میں سے کسی ایک تک پہنچنے کے لیے تمہیں ہم سب کا سامنا کرنا ہو گا‘ ۔
امریکہ کے سابق ڈیموکریٹک صدر باراک اوباما نے زہران ممدانی اور دیگر ڈیموکریٹک امیدواروں کی کامیابی پر ان الفاظ میں خوشی کا اظہار کیا : ’یہ ہمیں یاد دلاتا ہے کہ جب بھی ہم کسی مضبوط، مستقبل کی جانب دیکھنے والے رہنماؤں کے ارد گرد اکٹھے ہوتے ہیں جو لوگوں کے مسائل کا خیال رکھتے ہیں، تو ہم جیت سکتے ہیں۔ ہمیں ابھی بھی کافی کام کرنا ہے، لیکن اب مستقبل تھوڑا سا روشن نظر آ رہا ہے‘۔ یہ پیغام بھی یہی واضح کرتا ہے کہ زہران ممدانی یا دیگر ڈیموکریٹک امیدواروں کی کامیابی جمہوریت کے لیے حوصلہ افزا ہے لیکن مکمل کامیابی کے لیے مسلسل اور سخت محنت کرنے کی ضرورت ہوتی ہے۔ انہیں باور کرانا پڑتا ہے کہ عوام اپنے ووٹ سے اپنے لیڈروں کا انتخاب کر سکتے ہیں اور کامیاب ہونے والوں کو یقینی بنانا ہوتا ہے کہ ان وعدوں پر عمل کیا جائے جو انتخابی مہم کے دوران کیے گئے تھے۔
زہران ممدانی کی غیر معمولی مقبولیت اور کامیابی کا راز درحقیقت ان کی ان تھک محنت اور سوشل میڈیا پلیٹ فارمز کو چابکدستی سے استعمال کرنے میں مضمر ہے۔ انہوں نے آسان اور قابل فہم الفاظ میں لوگوں تک اپنا پیغام پہنچایا اور خاص طور سے نیویارک کے نوجوانوں کو اپنا ہمنوا بنایا۔ اسی لیے بعض مبصرین کے نزدیک ٹرمپ اگر سیاسی انتہاپسندی کے ایک طرف کھڑے ہیں تو ممدانی بھی اپنے انداز سیاست سے انتہاپسندی کی دوسری جانب موجود ہیں۔ ٹرمپ کی طرح وہ بھی سوشل میڈیا کے ذریعے ووٹروں تک پہنچنے اور آسان الفاظ میں اپنا پیغام لوگوں تک پہنچانے میں کامیاب ہوئے اور انہیں نیویارک کا مئیر منتخب کر لیا گیا۔
اسی پس منظر میں یہ سوال بھی کیا جا رہا ہے کہ ٹرمپ اور ممدانی درحقیقت ایک ہی سکے کے دو رخ ہیں۔ دونوں مقبولیت پسند ہیں اور آسان نعروں کے ذریعے اپنا حلقہ اثر بنانے میں کامیاب ہوئے ہیں۔ البتہ اب وقت ہی ثابت کرے گا کہ زہران ممدانی نے سماجی سدھار کے لیے جو وعدے کیے ہیں، وہ انہیں کس حد پورا کرنے میں کامیاب ہوتے ہیں۔
شفقنا اردو
نوٹ: شفقنا کا اس تحریر کے مندرجات سے متفق ہونا ضروری نہیں