Top Posts
فیلڈ مارشل عاصم منیر کی بطور چیف آف...
یو این ڈی پی رپورٹ/مصنوعی ذہانت: ایشیا میں...
بڑی جنگوں کےبھڑکنے کی وجہ سے عالمی اسلحہ...
بلڈ شوگر کیسے ’’جلد‘‘کم کریں؟
حکومت پاکستان نے برطانیہ سے شہزاد اکبر اور...
آبادی کا عفریت اور مذہبی علما کی لاتعلقی/سید...
کیا اے آئی ناول نگاروں کی جگہ لے...
قومی کمیشن برائے اقلیتی حقوق بل: شق 35...
3 کروڑ کا شہر، ایک گٹر… اور کسی...
گورنر راج کے ممکنہ نقصانات/ڈاکٹر توصیف احمد
  • Turkish
  • Russian
  • Spanish
  • Persian
  • Pakistan
  • Lebanon
  • Iraq
  • India
  • Bahrain
  • French
  • English
  • Arabic
  • Afghanistan
  • Azerbaijan
شفقنا اردو | بین الاقوامی شیعہ خبر رساں ادارہ اور تجزیاتی مرکز
اردو
  • صفحہ اول
  • تازہ ترین
  • آپ کی خبر
  • بلاگ
  • پاکستان
  • تصویری منظر نامہ
  • دلچسپ و عجیب
  • سائنس و ٹیکنالوجی
  • صحت وتعلیم
  • عالمی منظر نامہ
  • فیچرز و تجزیئے
  • کھیل و کھلاڑی
  • وڈیوز
  • رابطہ

مجوزہ 27ویں ترمیم: ’یہ فیصلہ ملک کے مستقبل کو داؤ پر لگا کر کرنا ہوگا‘/زاہد حسین

by TAK 12:40 | جمعہ نومبر 7، 2025
12:40 | جمعہ نومبر 7، 2025 46 views
46
یہ تحریر ڈان نیوز میں شائع ہوئی
بلآخر پینڈورا باکس کھل چکا ہے۔ 27ویں ترمیم کے حوالے سے قیاس آرائیاں گزشتہ کئی ماہ سے گردش میں تھیں۔ اب پاکستان پیپلز پارٹی (پی پی پی) کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے سوشل میڈیا پر اپنے ایک بیان میں آئین میں مجوزہ ترمیم کے وسیع فریم ورک کا ذکر کیا ہے۔
اس تجویز میں آئین میں وسیع پیمانے پر تبدیلیوں کا تصور کیا گیا ہے اور اس کا ایک حصہ عدلیہ کی آزادی کو مزید محدود کرنے اور قومی مالیاتی کمیشن کے تحت صوبائی شیئر کے تحفظ کو ختم کرنے سے متعلق ہے۔
لیکن شاید اس تجویز میں سب سے دلچسپ شق آرٹیکل 243 میں تبدیلی ہے جو مسلح افواج کے سربراہان کی تقرری اور خدمات کے ڈھانچے سے متعلق معاملات کے حوالے سے ہے۔ ترامیم کے بارے میں کوئی تفصیلات دستیاب نہیں ہیں لیکن کچھ وسیع خاکے ہیں جن پر مبینہ طور پر وزیر اعظم اور پیپلز پارٹی کے رہنماؤں کے درمیان ملاقات میں تبادلہ خیال کیا گیا تھا۔
اس پوری صورت حال کی رازداری سے لگتا ہے کہ اس معاملے کی بازگشت بند دروازوں کے پیچھے کئی ماہ سے جاری ہے اور اس امر نے خدشات کو جنم دیا ہے۔ قانون ساز حتیٰ کہ کابینہ کے وزرا بھی ایسی اہم ترمیم کے بارے میں مکمل طور پر اندھیرے میں دکھائی دیتے ہیں جسے پارلیمنٹ میں ابھی پیش کیا جانا ہے۔
ان قیاس آرائیوں میں کچھ سچائی نظر آتی ہے کہ مسودہ کہیں اور سے آیا ہے جیسا کہ 26ویں ترمیم کے معاملے میں کہا جارہا تھا جسے گزشتہ سال پارلیمنٹ کے ذریعے منظور کیا گیا تھا۔ ہائبرڈ حکمرانی کی پریشان کُن حقیقت یہی ہے۔ ملک کے سیاسی طاقت کے ڈھانچے اور وفاق کے انتہائی حساس آئینی معاملے سے بھی پارلیمنٹ اور کابینہ غیر متعلقہ ہوچکے ہیں۔ آئین میں اس طرح کی بڑی تبدیلیوں کے پیچھے جو مقصد ہے، اس کے بارے میں بھی سوالات کھڑے ہوتے ہیں۔
یہ بھی درست ہے کہ آئین کوئی مقدس دستاویز نہیں ہے جسے بدلتے ہوئے ملک و حالات اور وفاق کو درپیش چیلنجز کے مطابق تبدیل نہیں کیا جا سکتا۔ لیکن کوئی بھی تبدیلی جو آئین کے بنیادی ڈھانچے سے متصادم ہو جیسے لوگوں کے بنیادی حقوق کا تحفظ اور حکومتی اداروں کے درمیان طاقت کے منصفانہ توازن میں تبدیلی، آمریت کا باعث بن سکتی ہے اور ملک کے اتحاد کو شدید نقصان پہنچا سکتی ہے۔
اس سے بھی اہم بات یہ ہے کہ جمہوریت اور وفاق کو مضبوط کرنے کے لیے صرف جمہوری طور پر منتخب نمائندوں کو آئین میں ترمیم کا حق حاصل ہے۔ لیکن جس خفیہ طریقے سے ترامیم تیار کی جا رہی ہیں، اس سے وہ بنیادی جمہوری تقاضے پورے نہیں ہوتے۔ مجوزہ ترمیم کو منظور کرنے سے پہلے اس پر عوامی سطح پر اور پارلیمنٹ دونوں میں وسیع بحث کرنے کی ضرورت ہے۔ جمہوریت میں ایسا ہی ہوتا ہے۔
لیکن اس بات کا کوئی اشارہ نہیں ملتا کہ حکومت اپنے مشکوک عوامی مینڈیٹ کے ساتھ اس ضروری جمہوری عمل سے گزرنے کے لیے تیار ہے۔ پھر یہ سوال بھی پیدا ہوتا ہے کہ مجوزہ ترمیم کا مسودہ تیار کرنے میں مخلوط حکومت کا کتنا کردار ہے کیونکہ کابینہ کے بعض اراکین بھی نجی طور پر ایسے معاملات میں اپنی بے بسی کا اظہار کرتے ہیں۔
لیکن وہ خود کو مکمل طور پر ذمہ داری سے بری نہیں کر سکتے۔ وہ ملک میں جمہوری عمل کو کمزور کرنے میں برابر کے مجرم ہیں۔ جس طرح سے 26ویں ترمیم کو پارلیمنٹ میں پیش کیا گیا وہ آئین کو مسخ کرنے میں ان کے تعاون کا منہ بولتا ثبوت تھا۔
چونکہ مجوزہ ترمیم کا مکمل متن دستیاب نہیں ہے، اس لیے صرف ان نکات کا جائزہ ہی لیا جاسکتا ہے جن پر پی پی پی چیئرمین نے روشنی ڈالی ہے اور بعد میں وزیر مملکت برائے قانون نے سوشل میڈیا پر اس کی تصدیق بھی کی۔ تجویز کی اہم ترین شقوں میں سے ایک الگ آئینی عدالت کا قیام ہے۔
مجوزہ ترمیم کو بعض مبصرین نے متنازعہ 26ویں ترمیم کی توسیع کے طور پر بیان کیا ہے اور ایسا لگتا ہے کہ یہ نئی ترمیم اعلیٰ عدلیہ کو مکمل طور پر ایگزیکٹو کے ماتحت بنانے کی کوششوں کا حصہ ہوگی۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ یہ تجویز اس وقت پیش کی گئی ہے کہ جب 26ویں ترمیم کی قانونی حیثیت کو چیلنج کرنے والی درخواست سپریم کورٹ کے آئینی بینچ میں زیرِ سماعت ہے جوکہ خود متنازعہ قانون سازی کی پیداوار ہے۔
ایک علیحدہ آئینی عدالت، آئینی معاملات پر عدالت عظمیٰ کے جو بھی اختیارات باقی رہ گئے ہیں، وہ بھی چھین لے گی۔ یہ عدلیہ کی آزادی کے لیے بہت بڑا دھچکا ہوگا۔ مجوزہ آئینی عدالت کے منتخب ججز سے بھرے ہونے کا کافی امکان ہے جیسا کہ ہم نے جوڈیشل کمیشن کے ذریعے آئینی بینچ کے لیے ججز کی تقرری کے معاملے میں دیکھا ہے جس پر حکمران اتحاد سے وابستہ اراکین کا غلبہ ہے۔
لیکن شاید سب سے زیادہ متنازع تجویز ہائی کورٹ کے ججز کے دیگر علاقائی عدالتوں میں تبادلے کا بندوبست ہے۔ اس سے ہائی کورٹ کے ججز کی پوزیشن نچلی عدالت کے ججز یا سرکاری ملازم تک محدود ہو جائے گی۔
ہم پہلے ہی دیکھ چکے ہیں کہ کس طرح دیگر عدالتوں کے ججز کو اسلام آباد ہائی کورٹ میں لایا جاتا ہے اور جو اپنی اصل عدالت میں سنیارٹی لسٹ میں نچلے درجوں میں ہوتے ہیں، انہیں چیف جسٹس بنا دیا جاتا ہے۔ مجوزہ ترمیم ایگزیکٹیو کو ان ججز کو سزا دینے کی اجازت دے گی جو ایگزیکٹو اور طاقتور اسٹیبلشمنٹ کے دباؤ میں آنے کے لیے تیار نہیں ہوتے ہیں۔
فوجی سربراہان کی تقرری اور خدمات میں توسیع سے متعلق مجوزہ ترمیم کو جواز بناتے ہوئے وزیر مملکت برائے قانون نے مبینہ طور پر اشارہ کیا ہے کہ یہ ضروری تھا کیونکہ 1973ء کے آئین کے نفاذ کے بعد پہلی بار کسی افسر کو فیلڈ مارشل کے عہدے پر ترقی دی گئی ہے۔ آرمی چیف کے مزید اختیارات کے بارے میں کوئی تفصیلات نہیں بتائی گئیں لیکن سوشل میڈیا پر قیاس آرائیاں جاری ہیں۔
قومی مالیاتی کمیشن کے تحت صوبوں کو مالی وسائل کی تقسیم میں مجوزہ تبدیلیاں ایک انتہائی بڑے مسئلے کو جنم دے گی۔ مبینہ طور پر سندھ میں پی پی پی کے ایک عہدیدار کے بیان نے ایسی کسی بھی تجویز کو مسترد کردیا۔ یہ سوال بھی ہے کہ کیا دوسرے صوبے اس تبدیلی کو قبول کریں گے۔ ترمیم کو پارلیمنٹ میں پیش کرنے سے پہلے وفاقی جماعتوں کے درمیان وسیع اتفاق رائے کی ضرورت ہے۔
سپریم کورٹ کی جانب سے پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کو مخصوص نشستیں دینے سے انکار اور حزب اختلاف کے متعدد قانون سازوں کی نااہلی کے بعد حکمران اتحاد کے پاس اب دونوں ایوانوں میں دو تہائی سے زیادہ اکثریت ہے تو ایسے میں حکومت کے لیے ایک اور ترمیم کو ’بلڈوز‘ کرنا یا بغیر بحث کے منظور کروانا مشکل نہیں ہوگا۔ لیکن ایسا فیصلہ ملک اور ایک جمہوری قوم کے مستقبل کی قیمت پر ہوگا۔
شفقنا اردو
نوٹ: شفقنا کا اس تحریر کے مندرجات سے متفق ہونا ضروری نہیں
آئین آرٹیکل 243بلاول بھٹو زرداریپاکستان پیپلز پارٹیپاکستان سپریم کورٹ
0 FacebookTwitterLinkedinWhatsappTelegramViberEmail
گزشتہ پوسٹ
آرمی چیف کے عہدے کی مدت اور سیاسی اختیار کا معاملہ/سید مجاہد علی
اگلی پوسٹ
زہران ممدانی کو ابھی بہت سی رکاوٹوں کا سامنا کرنا ہوگا‘

یہ بھی پڑھنا مت بھولیں

3 کروڑ کا شہر، ایک گٹر… اور کسی...

13:08 | جمعرات دسمبر 4، 2025

کیا پاکستان میں سیاست واقعی ختم ہو رہی...

10:45 | منگل نومبر 25، 2025

آزادکشمیر تحریک عدم اعتماد کامیاب: راجہ فیصل ممتاز...

13:30 | پیر نومبر 17، 2025

آزاد کشمیر کے وزیر اعظم چوہدری انوار الحق...

04:16 | پیر نومبر 17، 2025

27 ویں ترمیم: کچھ بھی نیا نہیں ہے:...

12:57 | منگل نومبر 11، 2025

مشترکہ پارلیمانی کمیٹی نے مجوزہ آئینی ترمیم کا...

17:11 | اتوار نومبر 9، 2025

ستائیسویں آئینی ترمیم، حمایت کے بدلے حکومت سے...

13:01 | ہفتہ نومبر 8، 2025

وزیر اعظم شہباز شریف نے 27 ویں آئینی...

04:22 | ہفتہ نومبر 8، 2025

پیپلز پارٹی اور حکومت کے درمیان 27 ویں...

09:23 | جمعہ نومبر 7، 2025

پیپلزپارٹی نے ستائیس ویں آئینی ترمیم کی تجویز...

04:09 | جمعہ نومبر 7، 2025

تبصرہ کریں Cancel Reply

میرا نام، ای میل اور ویب سائٹ مستقبل میں تبصروں کے لئے محفوظ کیجئے.

تازہ ترین

  • فیلڈ مارشل عاصم منیر کی بطور چیف آف ڈیفنس فورسز تعیناتی کی سمری منظور

  • یو این ڈی پی رپورٹ/مصنوعی ذہانت: ایشیا میں کروڑوں افراد بیروزگار ہونے کا خطرہ

  • بڑی جنگوں کےبھڑکنے کی وجہ سے عالمی اسلحہ سازوں کی آمدنی میں اضافہ: SIPRI رپورٹ: ایس اے شہزاد

  • بلڈ شوگر کیسے ’’جلد‘‘کم کریں؟

  • حکومت پاکستان نے برطانیہ سے شہزاد اکبر اور عادل راجہ کی حوالگی کی درخواست کردی

  • آبادی کا عفریت اور مذہبی علما کی لاتعلقی/سید مجاہد علی

  • کیا اے آئی ناول نگاروں کی جگہ لے لے گی؟/جانتھن مارگولس

  • قومی کمیشن برائے اقلیتی حقوق بل: شق 35 کیوں حذف کی گئی؟

  • 3 کروڑ کا شہر، ایک گٹر… اور کسی کو فرق ہی نہیں پڑا! محمد توحید

  • گورنر راج کے ممکنہ نقصانات/ڈاکٹر توصیف احمد

  • ائیر انڈیا کا احمد آباد طیارہ حادثہ مشکوک ہے: امریکی اخبار کا الزام

  • امریکہ میں دہشت گردی کی منصوبہ بندی میں گرفتارشخص پاکستانی نہیں: دفتر خارجہ پاکستان

  • کرپشن پر آئی ایم ایف رپورٹ چارج شیٹ قرار دی گئی

  • فضائی آلودگی: نئی دہلی میں دو سال میں سانس کی بیماری کے دو لاکھ سے زائد کیسز

  • نیشنل گارڈ کے اہلکاروں پر فائرنگ کے واقعے سے افغانستان کی عوام یا حکومت کا کوئی تعلق نہیں/افغان وزیر خارجہ

  • اقوام متحدہ جنرل اسمبلی کی قرارداد میں مقبوضہ فلسطینی علاقوں سے اسرائیلی افواج کے انخلا کا مطالبہ

  • امریکہ میںپاکستانی نژادنوجوان غیر قانونی اسلحہ رکھنے اور حملے کی منصوبہ بندی کے الزام میں گرفتار

  • پاکستان اور افغانستان کے درمیان کشیدگی کم کرنے کے لیے سعودیہ میں ہونے والے تازہ ترین امن مذاکرات بے نتیجہ ختم

  • وفاقی وزارت تجارت کاانسانی بنیادوں پر طورخم اور چمن تجارتی گزرگاہوں کو کھولنےکا فیصلہ

  • جنوبی افریقا نے دوسرے ون ڈے میں بھارت کو 4 وکٹوں سے شکست دے دی

مقبول ترین

  • چھپکلی کی جلد سے متاثرہ بھوک لگانے والا کیپسول

  • صفائی اور پاکیزگی قرآن و حدیث کی روشنی میں : شفقنا اسلام

  • میں نے جمہوریت کی مضبوطی کے لیے کام کیا: جوبائیڈن کا قوم سے خطاب

  • مہاتیر محمد نے اپنا استعفیٰ پیش کردیا

  • کیا ہندوستان کی آنے والی نسلیں مسلم مخالف نفرت میں اس کی زوال پزیری کو معاف کر دیں گی؟/شاہد عالم

  • ایک ارب 70 کروڑ ڈالر کے قرضوں کی ادائیگی معطل کرنے کے معاہدے پر دستخط

  • مکمل لکڑی سے تراشا گیا کارکا ماڈل 2 لاکھ ڈالر میں نیلام

  • اسلام آباد: میجر لاریب قتل کیس میں ایک مجرم کو سزائے موت، دوسرے کو عمر قید

  • دی نیشن رپورٹ/پاکستانی جیلوں میں قید خواتین : اگرچہ ان کی چیخیں دب گئی ہیں مگر ان کے دکھ کو نظر انداز نہیں کیا جاسکتا

  • عورتوں سے باتیں کرنا

@2021 - All Right Reserved. Designed


Back To Top
شفقنا اردو | بین الاقوامی شیعہ خبر رساں ادارہ اور تجزیاتی مرکز
  • صفحہ اول
  • تازہ ترین
  • آپ کی خبر
  • بلاگ
  • پاکستان
  • تصویری منظر نامہ
  • دلچسپ و عجیب
  • سائنس و ٹیکنالوجی
  • صحت وتعلیم
  • عالمی منظر نامہ
  • فیچرز و تجزیئے
  • کھیل و کھلاڑی
  • وڈیوز
  • رابطہ