Top Posts
شہباز شریف کی حکومت کیوں ناکام ہے؟ سید...
روس اور ایران کا اسٹریٹجک اتحاد کتنا مضبوط؟...
یو اے ای: غیر قانونی افراد کو پناہ...
افغانستان: پنچشیر میں نیشنل ریزسٹنس فرنٹ کا حملہ:...
عمران خان مائنس ہوا تو ایک بھی باقی...
اسرائیل اں سال دنیا بھر میں قتل ہونے...
بابا وانگا نے 2026 کیلئے کونسی اہم اور...
مسلم ممالک کا اعتراض: ٹونی بلیئر کا نام...
مائیکروسافٹ کا بھارت میں 17.5 ارب ڈالر کی...
پاکستان ڈیفالٹ کے خطرے سے پیچھے ہٹ رہا...
  • Turkish
  • Russian
  • Spanish
  • Persian
  • Pakistan
  • Lebanon
  • Iraq
  • India
  • Bahrain
  • French
  • English
  • Arabic
  • Afghanistan
  • Azerbaijan
شفقنا اردو | بین الاقوامی شیعہ خبر رساں ادارہ اور تجزیاتی مرکز
اردو
  • صفحہ اول
  • تازہ ترین
  • آپ کی خبر
  • بلاگ
  • پاکستان
  • تصویری منظر نامہ
  • دلچسپ و عجیب
  • سائنس و ٹیکنالوجی
  • صحت وتعلیم
  • عالمی منظر نامہ
  • فیچرز و تجزیئے
  • کھیل و کھلاڑی
  • وڈیوز
  • رابطہ

پاک افغان مذاکرات

by TAK 13:04 | ہفتہ نومبر 8، 2025
13:04 | ہفتہ نومبر 8، 2025 51 views
51
یہ تحریر ایکسپریس نیوز میں شائع ہوئی
پاکستان اور افغان طالبان کے درمیان استنبول میں فریقین سرحد پار سے دہشت گردی پر قابو پانے کے لیے کسی قابل عمل منصوبے پر نہ پہنچ سکے۔ دوسری جانب چمن بارڈر پر افغانستان سے کچھ عناصر نے پاکستانی علاقے پر بلااشتعال فائرنگ کی۔ وزارت اطلاعات نے واضح کیا ہے کہ جنگ بندی بدستور برقرار رہے گی اور پاکستان سرحدی امن و استحکام کے برقرار رکھنے کے لیے پرعزم ہے۔
پاکستان اور افغانستان کے تعلقات ہمیشہ سے خطے کے سیاسی، سیکیورٹی اور سفارتی منظرنامے میں ایک اہم مقام رکھتے آئے ہیں۔
دونوں ممالک کے درمیان مذہبی، لسانی اور ثقافتی رشتوں کی گہری جڑیں ہیں، مگر ساتھ ہی یہ رشتے بد اعتمادی، مداخلت اور بارڈر سیکیورٹی کے مسائل سے بھی گندھے ہوئے ہیں۔ گزشتہ کئی برسوں میں افغانستان میں طالبان کے دوبارہ اقتدار میں آنے کے بعد یہ توقع کی جا رہی تھی کہ دونوں ممالک کے تعلقات ایک نئے دور میں داخل ہوں گے، کیونکہ کابل میں ایک ایسا نظام قائم ہوا جسے پاکستان کے بعض حلقے اپنے لیے نسبتاً موافق تصور کرتے تھے، مگر افسوس کہ یہ توقعات جلد ہی کمزور پڑگئیں۔ آج پاکستان اور افغان طالبان کے درمیان تعلقات ایک بار پھر تناؤ، عدم تعاون اور باہمی شکوک و شبہات کا شکار ہیں۔ استنبول میں ہونے والے حالیہ مذاکرات کا بے نتیجہ ختم ہونا، اسی بحران کی تازہ جھلک پیش کرتا ہے۔
آٹھ گھنٹے طویل مذاکرات کے باوجود فریقین کسی واضح اور قابلِ عمل منصوبے پر متفق نہ ہو سکے، جو اس بات کا ثبوت ہے کہ دونوں ممالک کے درمیان بنیادی اختلافات بدستور برقرار ہیں۔ یہ مذاکرات دراصل سرحد پار دہشت گردی، امن و امان کی صورتحال اور جنگ بندی کے مؤثر نفاذ کے طریقہ کار پر مرکوز تھے۔
افغان طالبان کی حکومت سے پاکستان کا سب سے بڑا مطالبہ یہی رہا ہے کہ وہ اپنی سرزمین پاکستان کے خلاف استعمال نہ ہونے دے۔ پاکستان کے مطابق تحریک طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی) کے عسکریت پسند افغانستان کے اندر محفوظ پناہ گاہوں میں موجود ہیں، جہاں سے وہ پاکستان کے سرحدی علاقوں پر حملے کرتے ہیں۔ دوسری جانب افغان طالبان کا موقف ہے کہ وہ اپنی سرزمین کو کسی ملک کے خلاف استعمال نہیں ہونے دیتے اور دہشت گردی کی ذمے داری ان کے دائرہ اختیار سے باہر کے عناصر پر عائد ہوتی ہے۔
استنبول مذاکرات میں اگرچہ ایک اہم پیش رفت یہ رہی کہ دونوں فریقوں نے جنگ بندی کے نفاذ کے لیے ایک نگرانی اور تصدیقی نظام قائم کرنے پر اصولی اتفاق کیا، مگر عملی طور پر یہ اتفاق ابھی ابتدائی نوعیت کا ہے۔ اس نظام کی تشکیل، اس کے فریم ورک اور اس کے نفاذ کی نوعیت پر ابھی کوئی حتمی فیصلہ سامنے نہیں آیا۔ اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ مذاکرات میں اعتماد کا فقدان بدستور حائل ہے۔
اسی دوران بلوچستان کے ضلع چمن میں افغان علاقے کی سمت سے بلااشتعال فائرنگ اور راکٹ حملے کی اطلاعات سامنے آئیں۔ اگرچہ کوئی جانی نقصان نہیں ہوا، لیکن اس واقعے نے دونوں ممالک کے درمیان تناؤ میں مزید اضافہ کر دیا۔ پاکستان نے واضح کیا کہ جنگ بندی برقرار ہے اور سرحدی امن و استحکام کے لیے اس کی پالیسی تبدیل نہیں ہوئی۔ دفترِ خارجہ نے افغان الزامات کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان تحمل کا مظاہرہ کرے گا، مگر ساتھ ہی اپنے دفاعی اقدامات کے لیے تیار رہے گا۔ ان بیانات سے یہ اندازہ لگانا مشکل نہیں کہ دونوں ممالک کے تعلقات فی الحال کشیدگی کے ایک نازک موڑ پر ہیں۔
اصل مسئلہ یہ ہے کہ افغانستان میں طالبان کی حکومت کے بعد خطے میں طاقت کے توازن میں بنیادی تبدیلیاں آئیں۔ طالبان کا فوکس داخلی استحکام پر ہے، مگر ان کی پالیسیوں میں علاقائی ہم آہنگی کی کمی نظر آتی ہے۔ پاکستان چاہتا ہے کہ کابل حکومت سرحدی نگرانی میں تعاون کرے اور ٹی ٹی پی جیسے گروہوں کے خلاف عملی اقدامات کرے، لیکن افغان طالبان اس مطالبے کو اپنی خود مختاری کے خلاف سمجھتے ہیں، یہ نکتہ دونوں کے درمیان سب سے بڑا فاصلہ پیدا کر رہا ہے۔
پاکستان کے لیے سرحد پار دہشت گردی کا مسئلہ قومی سلامتی سے براہ راست منسلک ہے۔ گزشتہ چند برسوں میں ملک کے مختلف حصوں، خاص طور پر خیبرپختونخوا، بلوچستان اور قبائلی اضلاع میں شدت پسند حملوں میں اضافہ دیکھنے میں آیا ہے۔
ان حملوں کی ذمے داری اکثر ٹی ٹی پی قبول کرتی رہی ہے، جس کے بارے میں پاکستان کا مؤقف ہے کہ اس کے جنگجو افغانستان میں موجود ہیں، اگر کابل حکومت اپنے وعدوں پر قائم رہتی اور ان عناصر کے خلاف سخت کارروائی کرتی تو ممکن ہے کہ حالات اتنے بگڑتے نہیں، مگر طالبان قیادت کا رویہ عموماً خاموشی یا تردید تک محدود رہا ہے، جس سے پاکستان کے اندر مایوسی بڑھ رہی ہے۔
دوسری جانب طالبان حکومت خود بھی عالمی تنہائی کا شکار ہے، اسے تسلیم کرنے والا کوئی بڑا ملک تاحال سامنے نہیں آیا۔ ایسے میں پاکستان پر دباؤ ڈالنے کے بجائے سفارتی تعاون کا ماحول پیدا کرنا زیادہ موزوں حکمتِ عملی ہو سکتی ہے، مگر پاکستان کے داخلی حالات اور سیکیورٹی خدشات اسے ایسا کرنے نہیں دیتے۔
استنبول مذاکرات کا انعقاد بذاتِ خود ایک مثبت پیش رفت تھی۔ اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ دونوں فریق مکمل قطع تعلق کے بجائے بات چیت کا راستہ کھلا رکھنا چاہتے ہیں۔ تاہم مذاکرات کا بے نتیجہ ختم ہونا، اس بات کا اشارہ ہے کہ محض سفارتی بیانات یا عمومی اتفاقِ رائے سے عملی بہتری ممکن نہیں۔ جب تک دونوں فریق زمینی حقائق کا ادراک نہیں کریں گے اور اعتماد سازی کے ٹھوس اقدامات نہیں اٹھائیں گے، اُس وقت تک یہ مذاکرات کاغذی وعدوں سے آگے نہیں بڑھ سکیں گے۔
افغان طالبان کو بھی سمجھنا ہوگا کہ پاکستان ان کے خلاف نہیں بلکہ اپنی سلامتی کے تحفظ کے لیے بات کر رہا ہے۔ دونوں ممالک کو مشترکہ دشمنوں دہشت گرد گروہوں، اسمگلنگ نیٹ ورکس اور سرحد پار غیر قانونی سرگرمیوں کے خلاف مل کر کام کرنا ہوگا۔
افغانستان کے ساتھ جاری مذاکرات کی ناکامی نے ایک بار پھر خطے میں پائے جانے والے عدم اعتماد اور مفادات کے تصادم کو نمایاں کر دیا ہے۔ بظاہر امن و تعاون کے نام پر ہونے والے یہ مذاکرات اب اس تاثر کو تقویت دے رہے ہیں کہ کابل کی قیادت مذاکرات کو سنجیدگی سے لینے کے بجائے محض وقت حاصل کرنے کی ایک حکمتِ عملی کے طور پر استعمال کر رہی ہے۔ اس رویّے نے نہ صرف بات چیت کے عمل کو نقصان پہنچایا ہے بلکہ خطے میں استحکام کے امکانات کو بھی کمزور کر دیا ہے۔
پاکستان نے ہمیشہ افغانستان میں امن و ترقی کے لیے اپنا کردار ادا کرنے کی کوشش کی ہے۔ چاہے وہ انسانی بنیادوں پر امداد ہو یا سیاسی و سفارتی تعاون، اسلام آباد نے ہر موقع پر یہ امید رکھی کہ ایک مستحکم افغانستان ہی خطے کے امن کی ضمانت بن سکتا ہے۔ تاہم حالیہ حالات میں یہ افسوسناک تاثر ابھر رہا ہے کہ افغان طالبان، جنھیں کبھی پاکستان کی حمایت حاصل تھی، اب بھارت کے اثر میں آ کر پاکستان مخالف ایجنڈے کا حصہ بنتے جا رہے ہیں۔ اگر یہ بات درست ہے تو یہ نہ صرف دو برادر اسلامی ممالک کے تعلقات کے لیے تشویش ناک ہے بلکہ احسان فراموشی کی بدترین مثال بھی کہلائی جا سکتی ہے۔
افغان طالبان کے لیے یہ وقت امتحان کا ہے۔ ان کی حکومت اگر واقعی ایک ذمے دار ریاست کے طور پر تسلیم ہونا چاہتی ہے تو اسے اپنی سرزمین پر مکمل کنٹرول دکھانا ہوگا۔ آخرکار، یہ حقیقت نظر انداز نہیں کی جا سکتی کہ پاکستان اور افغانستان کا مستقبل ایک دوسرے سے جدا نہیں۔ اگر ایک ملک میں امن نہیں ہوگا تو دوسرے کے لیے بھی پائیدار استحکام ممکن نہیں۔ دہشت گردی، انتہا پسندی اور منشیات جیسے مسائل دونوں ممالک کے مشترکہ دشمن ہیں۔ ان کے خلاف کامیابی صرف اس وقت ممکن ہے جب کابل کھلے دل، خلوص اور اعتماد کے ساتھ بیٹھے۔
استنبول مذاکرات اگرچہ فوری نتائج نہ دے سکے، مگر یہ عمل ایک تسلسل کا متقاضی ہے۔ امن کی راہ ہمیشہ مشکل ہوتی ہے، مگر یہی وہ راستہ ہے جو خطے کو ترقی، خوشحالی اور استحکام کی طرف لے جا سکتا ہے۔ افغان رہنماؤں کو وقتی سیاسی مفادات سے بالاتر ہو کر مستقبل کی نسلوں کے لیے امن کی بنیاد رکھنی چاہیے، اگر آج ماضی کی غلطیوں سے سبق نہ سیکھا تو آنے والے دنوں میں یہ سرحد محض جغرافیائی لکیر نہیں بلکہ بداعتمادی کی دیوار بن جائے گی۔ وقت کا تقاضا ہے کہ افغان طالبان جذبات کے بجائے عقل، سفارت کے بجائے مفاہمت اور الزام تراشی کے بجائے اشتراکِ عمل کا راستہ اختیار کریں۔ یہی راستہ ان کے لیے بھی بہتر ہے اور خطے کے امن کے لیے بھی۔
شفقنا اردو
نوٹ: شفقنا کا اس تحریر کے مندرجات سے متفق ہونا ضروری نہیں
افغان طالبانپاک افغان مذاکراتپاکستان دہشت گردیتحریک طالبان پاکستانملا ہیبت اللہ اخونزادہ
0 FacebookTwitterLinkedinWhatsappTelegramViberEmail
گزشتہ پوسٹ
ستائیسویں آئینی ترمیم، حمایت کے بدلے حکومت سے کون کیا مانگ رہا ہے؟بشیر چوہدری
اگلی پوسٹ
پاکستان میں افغان شہریوں کی گرفتاریوں اور حراست میں محض ایک ہفتے کے دوران 146 فیصد اضافہ

یہ بھی پڑھنا مت بھولیں

خیبرپختونخوا میں گورنر راج: ’یہ اقدام ملک کو...

14:35 | پیر دسمبر 8، 2025

افغانستان میں امریکی اسلحہ ٹی ٹی پی کے...

06:58 | پیر دسمبر 8، 2025

افغان طالبان کے پاکستان سے تجارت روکنے کے...

05:21 | پیر دسمبر 8، 2025

کابل کا خطرناک جیو پولیٹیکل جوا: پاکستان کی...

13:13 | اتوار دسمبر 7، 2025

پاکستان کا سعودی عرب میں پاک افغان مذاکرات...

09:14 | جمعہ دسمبر 5، 2025

نیشنل گارڈ کے اہلکاروں پر فائرنگ کے واقعے...

04:12 | جمعرات دسمبر 4، 2025

پاکستان اور افغانستان کے درمیان کشیدگی کم کرنے...

04:03 | جمعرات دسمبر 4، 2025

سعودی عرب میں پاک افغان مذاکرات ؟ مزمل...

13:29 | بدھ دسمبر 3، 2025

افغان مسئلے کو طاقت سے حل کر سکتے...

03:48 | اتوار نومبر 30، 2025

پاکستان نے افغان طالبان کو سمجھنے میں غلطی...

18:34 | جمعہ نومبر 28، 2025

تبصرہ کریں Cancel Reply

میرا نام، ای میل اور ویب سائٹ مستقبل میں تبصروں کے لئے محفوظ کیجئے.

تازہ ترین

  • شہباز شریف کی حکومت کیوں ناکام ہے؟ سید مجاہد علی

  • روس اور ایران کا اسٹریٹجک اتحاد کتنا مضبوط؟ جاوید اختر

  • یو اے ای: غیر قانونی افراد کو پناہ دینے پر کروڑوں کے جرمانے نافذ

  • افغانستان: پنچشیر میں نیشنل ریزسٹنس فرنٹ کا حملہ: 17 طالبان جنگجو ہلاک

  • عمران خان مائنس ہوا تو ایک بھی باقی نہیں رہے گا: بیرسٹر گوہر علی خان

  • اسرائیل اں سال دنیا بھر میں قتل ہونے والے تمام صحافیوں میں سے تقریباً نصف صحافیوں کے قتل کا ذمہ دار

  • بابا وانگا نے 2026 کیلئے کونسی اہم اور بڑی پیشگوئیاں کیں؟

  • مسلم ممالک کا اعتراض: ٹونی بلیئر کا نام ’غزہ امن کونسل‘ سے نکال دیا گیا

  • مائیکروسافٹ کا بھارت میں 17.5 ارب ڈالر کی خطیر سرمایہ کاری کا اعلان

  • پاکستان ڈیفالٹ کے خطرے سے پیچھے ہٹ رہا ہے، آئی ایم ایف رپورٹ

  • یوکرینی صدر کی مشروط انتخاب کرانے پر رضامندی

  • بابر اعظم اور شاہین شاہ آفریدی بگ بیش لیگ کے 15 ویں ایڈیشن میں شرکت کے لیے آسٹریلیا پہنچ گئے

  •  عمران خان کی بہنوں اور پی ٹی آئی کارکنوں پر پولیس کریک ڈاؤن: اڈیالہ کے باہر دھرنا ختم

  • عالمی دباؤ: اسرائیل نے اردن کے ساتھ بارڈرکو غزہ کے امدادی سامان کے لیے کھولنے کا اعلان کردیا

  • قومی اسمبلی کی کمیٹی برائے خزانہ نے اسمارٹ فونز ر عائد ٹیکس میں کمی کا مطالبہ کردیا

  • وزیرستان میں تحصیل ہیڈ کوارٹر اسپتال غیر فعال: متعدد مریض جاں بحق

  • جدہ میں 135 ملی میٹر بارش ریکارڈ : نظام زندگی درہم برہم

  • گوگل میپس کی وہ ٹِرکس جو آپ کو ضرور استعمال کرنی چاہیے

  • ہندوتوا اور ہندوستان کے زیر انتظام کشمیر میں اجتماعی سزا کا کچل دینے والا ظلم/نعیم افضل

  • یورپی ملک میں خواتین نے مردوں کو گھریلو کام کاج کیلئے ہائر کرنا شروع کردیا

مقبول ترین

  • صفائی اور پاکیزگی قرآن و حدیث کی روشنی میں : شفقنا اسلام

  • چھپکلی کی جلد سے متاثرہ بھوک لگانے والا کیپسول

  • میں نے جمہوریت کی مضبوطی کے لیے کام کیا: جوبائیڈن کا قوم سے خطاب

  • کیا ہندوستان کی آنے والی نسلیں مسلم مخالف نفرت میں اس کی زوال پزیری کو معاف کر دیں گی؟/شاہد عالم

  • مہاتیر محمد نے اپنا استعفیٰ پیش کردیا

  • مکمل لکڑی سے تراشا گیا کارکا ماڈل 2 لاکھ ڈالر میں نیلام

  • ایک ارب 70 کروڑ ڈالر کے قرضوں کی ادائیگی معطل کرنے کے معاہدے پر دستخط

  • اسلام آباد: میجر لاریب قتل کیس میں ایک مجرم کو سزائے موت، دوسرے کو عمر قید

  • دی نیشن رپورٹ/پاکستانی جیلوں میں قید خواتین : اگرچہ ان کی چیخیں دب گئی ہیں مگر ان کے دکھ کو نظر انداز نہیں کیا جاسکتا

  • عورتوں سے باتیں کرنا

@2021 - All Right Reserved. Designed


Back To Top
شفقنا اردو | بین الاقوامی شیعہ خبر رساں ادارہ اور تجزیاتی مرکز
  • صفحہ اول
  • تازہ ترین
  • آپ کی خبر
  • بلاگ
  • پاکستان
  • تصویری منظر نامہ
  • دلچسپ و عجیب
  • سائنس و ٹیکنالوجی
  • صحت وتعلیم
  • عالمی منظر نامہ
  • فیچرز و تجزیئے
  • کھیل و کھلاڑی
  • وڈیوز
  • رابطہ