مسلمان اس وقت دنیا بھر میں ایک ارب پچتتر کروڑ کے لگ بھگ ہیں۔ اسلام عیسائیت کے بعد دوسرا بڑا مذہب ہے۔ عیسائیت کو ماننے والوں کی تعداد تقریباً دو ارب پچاس کروڑ کے قریب ہے۔ اسلامی ممالک 57 ہیں؛ ان میں خلیجی ریاستیں تیل کی دولت سے مالامال ہیں۔ یورپ، امریکہ، آسٹریلیا تک انہوں نے بھاری سرمایہ کاری کر رکھی ہے، مگر سوائے ترکی کے کسی مسلم ملک میں حقیقی جمہوریت نہیں ہے (یاد رہے: ترکی خود کو اسلامی نہیں بلکہ سیکولر ملک کہتا ہے — ان کے آئین میں لکھا ہوا ہے)۔
پاکستان میں جمہوریت نام نہاد ہے؛ چار مارشل لأ لگ چکے ہیں۔ جب سیاسی حکومت ہوتی ہے تو وہ صرف اقتدار میں ہوتی ہے، اختیار میں نہیں؛ فیصلے طاقتور کرتے ہیں۔ بنگلہ دیش بھی آمریت کا مزہ چکھ چکا ہے، مگر وہاں کی عوام نے سیاسی آمریت کے خلاف تاریخ ساز جدوجہد کی اور کامیاب رہی۔
پچھلے دو سالوں سے غزہ میں جو ظلم و بربریت کا بازار گرم رہا، مگر اسلامی دنیا خاموش رہی — یہ الگ بات ہے۔ حماس نے جو پہل کی، اس کے بعد اپنے ستر ہزار شہریوں کے ہلاک ہونے اور ساٹھ فیصد غزہ کے تباہ ہونے کے باوجود امن معاہدہ قبول کر لیا اور اسرائیلی یرغمالیوں کو بھی رہا کر دیا۔ آخر اس سارے عمل کے بعد حماس کے حصے کیا آیا، میں ہنوز سمجھنے سے قاصر ہوں۔ اگر اس نے ایرانی رضامندی سے یہ سب کیا تھا تو ایران بھی دو سال تک غزہ میں قتل عام دیکھتا رہا؛ ایران نے اسرائیل پر جوابی حملہ تب کیا جب اسرائیل نے ایران پر بھی حملہ کیا۔ ایران نے اپنے اہم ترین کمانڈر ماروا لیے اور اہم فوجی ٹھکانے تباہ کر دیے۔ ایران میں جمہوریت وہاں کے ملاوں کی سپریم کونسل کے ماتحت ہے۔
اب سوڈان میں جو کچھ ہو رہا ہے وہ نوشتۂ دیوار ہے۔ سوشل میڈیا پر مسلمان کے ہاتھوں مسلمان کے قتل عام کی ویڈیوز دیکھ کر نتن یاہو بھی شرما گیا۔ سوڈان تین کروڑ آبادی کا ملک ہے؛ چند سال قبل جنوبی سوڈان مذہب کی بنیاد پر الگ ہو کر ایک نیا ملک بن چکا ہے (وہ اقوامِ متحدہ کا رکن بھی ہے)۔ اب سوڈان میں فوج میں تقسیم ہے؛ مختلف جنرل اپنے لشکروں کی قیادت کر رہے ہیں اور ایک دوسرے کے خون کے پیاسے ہیں۔ جب منظم فوج نہ ہو تو وہ لشکروں میں ہی بٹ جاتی ہے۔ سوڈان کی اس سول وار کے پیچھے متحدہ عرب امارات کا نام زبانِ زد عام ہے — سوڈان کے سونے کے ذخائر پر اُن کی نظریں ہیں، اسی لیے وہ ایک فوجی لشکر کو ہتھیار اور حمایت دے رہے ہیں۔
دنیا بھر میں مسلمان تماشہ بن چکے ہیں۔ امیر ترین خلیجی ریاستیں بھی مغرب اور امریکہ کی ٹیکنالوجی کی غلام ہیں۔ اور رہے ہم تو ویسے ہی—نہ تین میں نہ تیرہ؛ ہم تو بس ایک لنچ کی مار ہیں۔ "There is no free lunch” کے ثمرات جلد قوم دیکھ لے گی۔ غرض یہ کہ عالمِ اسلام دنیا میں فیصلہ کن کردار ادا کرنے میں ناکام رہا: علم و فضل سے دوری، جمہوریت کی عدم دستیابی، آزادیٔ اظہار پر قدغن، اور بنیادی انسانی حقوق کا فقدان — یہ سب اسلامی شدت پسندی اور ہمارے راندہ درگاہ ہونے کے نشانات ہیں۔
شفقنا اردو
نوٹ: شفقنا کا اس تحریر کے مندرجات سے متفق ہونا ضروری نہیں