Top Posts
فیلڈ مارشل عاصم منیر کی بطور چیف آف...
یو این ڈی پی رپورٹ/مصنوعی ذہانت: ایشیا میں...
بڑی جنگوں کےبھڑکنے کی وجہ سے عالمی اسلحہ...
بلڈ شوگر کیسے ’’جلد‘‘کم کریں؟
حکومت پاکستان نے برطانیہ سے شہزاد اکبر اور...
آبادی کا عفریت اور مذہبی علما کی لاتعلقی/سید...
کیا اے آئی ناول نگاروں کی جگہ لے...
قومی کمیشن برائے اقلیتی حقوق بل: شق 35...
3 کروڑ کا شہر، ایک گٹر… اور کسی...
گورنر راج کے ممکنہ نقصانات/ڈاکٹر توصیف احمد
  • Turkish
  • Russian
  • Spanish
  • Persian
  • Pakistan
  • Lebanon
  • Iraq
  • India
  • Bahrain
  • French
  • English
  • Arabic
  • Afghanistan
  • Azerbaijan
شفقنا اردو | بین الاقوامی شیعہ خبر رساں ادارہ اور تجزیاتی مرکز
اردو
  • صفحہ اول
  • تازہ ترین
  • آپ کی خبر
  • بلاگ
  • پاکستان
  • تصویری منظر نامہ
  • دلچسپ و عجیب
  • سائنس و ٹیکنالوجی
  • صحت وتعلیم
  • عالمی منظر نامہ
  • فیچرز و تجزیئے
  • کھیل و کھلاڑی
  • وڈیوز
  • رابطہ

قانون،کیا صرف غریبوں کے لیے؟/ثمرہ شمشاد

by TAK 12:35 | اتوار نومبر 9، 2025
12:35 | اتوار نومبر 9، 2025 34 views
34
یہ تحریر ایکسپریس نیوز میں شائع ہوئی
حالات حاضرہ سے باخبر رہنے کی غرض سے میڈیا کو کھنگالا جائے توکچھ عرصے سے ریاستی حالات کے متعلق مثبت خبریں سامنے آ رہی ہیں۔ یہ تاثر ملتا ہے گویا ہر شعبہ ترقی کی راہ پر گامزن ہے، معیشت بہ نسبت ماضی مستحکم ہے اور چھوٹے چھوٹے مسائل گزرے وقت کا قصہ ہوئے کیونکہ موجودہ وقت بڑی کامیابیوں کا ہے۔
یہاں سوال یہ اٹھتا ہے کہ میڈیا کی جانب سے پیش کردہ یہ منظر نامہ حقیقت ہے یا حقیقت سے انحراف کی کوشش؟ کیونکہ اخبارات کی سرخیاں ہو یا نیوز بلیٹن کے جملے، ہر جانب یہی زاویہ نظر دکھائی دیتا ہے کہ ملکی حالات سنبھل رہے ہیں۔
لیکن حکمرانوں کے بیانات اور سیاسی خبرناموں کے برعکس عام آدمی کے معیار زندگی کا جائزہ لیا جائے یا ترقی کے دعوؤں کا ثبوت عوام الناس کی زندگیوں میں ڈھونڈنے کی کوشش کی جائے تو یہ بات عیاں ہوتی ہے کہ تنزلی جیسے ہمارے لوگوں کا مقدر بن گئی ہے اور وہ خوشحالی کے دعوے محض خیالی داستانیں ہیں۔
ان حکایتوں کی ممکنہ توجیہ یہ ہو سکتی ہے کہ اس ملک میں دو پاکستان ہیں اور روٹی، کپڑا، مکان جیسے مسائل سے الجھتے پاکستان کے مقابل دوسرا پاکستان خوشحال اور مطمئن ہے، بس وہ حالات کی چکی میں پستے پاکستانیوں کی نظروں سے اوجھل اور پہنچ سے دور ہے۔
طبقاتی تقسیم کے تناظر میں پاکستانی شہری تین گروہوں میں منقسم ہیں۔ پہلا گروہ ان پچاس فیصد پاکستانیوں پر مشتمل ہے جن کے عید کے دن کا دسترخوان بھی دل کی خواہش نہیں بلکہ بجٹ کے حساب سے سجتا ہے۔ یہ وہ لوگ ہوتے ہیں جو نیا سوٹ بنانے،گوشت اور میٹھا کھانے کے لیے عید کا انتظار کرتے ہیں مگر وائے قسمت کہ عموماً عید سے پہلے کوئی اچانک بیماری،کوئی قرض، کسی بچے کے اسکول کی فیس یا دیگرگھریلو اخراجات جیسے عفریت ان کے عید کے بہانے ایک دن بے فکری اور خوشی سے جینے کے خواب کو نگل لیتے ہیں۔
نیا سوٹ زیادہ سے زیادہ بچوں کے لیے بنتا ہے اور دسترخوان دال سبزی پر ہی مشتمل رہتا ہے۔ تقریبا چھیالیس فیصد لوگ وہ ہیں جو مقدم الذکر غریبوں کے لحاظ سے بہترین زندگی گزار رہے ہیں، مگر ان میں بھی نصف کی زندگی پرسکون ہے تو بقیہ کے قصہ حیات کا عنوان ’’ جدوجہد‘‘ ہوتا ہے۔
ذاتی اور اچھا گھر، بچوں کی اچھی تعلیم اور شادیاں، اچانک ضرورت یا بیماری کے حملے پرکسی کے سامنے ہاتھ پھیلانے سے بچ جانا وغیرہ متوسط طبقے کی بڑی کامیابیاں ہوتی ہیں۔ پھر آتا ہے وہ ملک کی کل آبادی میں سے چار فیصد پر مشتمل طبقہ جنھیںعرف عام میں اشرافیہ کہا جاتا ہے۔ ان کے لیے راوی چین ہی چین لکھتا ہے۔
خوشحالی کے نعروں اور محنت کش طبقے کے طرز زندگی میں تضاد اور امرا کا طرز بود و باش دیکھ کر خیال آتا ہے، یہ آسودگی و ترقی کی باتیں غلط نہیں، بس یہ قریباً چھیانوے فیصد عام پاکستانیوں کے بجائے چار فیصد ایلیٹ کلاس کے متعلق ہیں۔
عوام کی زندگیوں کی تلخ مگر ناقابل تردید حقیقت تو یہ ہے کہ سالوں سے روز بروز بڑھتی مہنگائی اور پے در پے قدرتی آفات نے گزرتے وقت کے ساتھ ان کی مشکلات میں اضافہ کیا ہے۔ پہلے متوسط طبقے کہ وہ عزت دار لوگ جو کسی کے سامنے ہاتھ پھیلائے بغیر کھینچ تان کرگزارا کرتے ترقیوں کے خواب دیکھ رہے تھے،اب ان کی تگ و دوکا دائرہ کار بھی بنیادی ضروریات ہیں۔
ماضی میں کسانوں کے لیے فصلوں کی آمدنی زندگی کی گاڑی دھکیلنے کو کافی تھی لیکن گزشتہ چند سالوں سے کاشتکاری کے بڑھتے اخراجات اور فصلوں کی قیمتوں میں نہ ہونے کے برابر اضافے نے ایکڑوں کے مالکوں کو چھوڑ کر چھوٹے کسانوں کی زندگیوں کو قابل رحم بنا دیا ہے۔
90 فیصد پاکستانی پرائیویٹ سیکٹر سے جڑے ہیں جہاں مہنگائی کے طوفان کے مقابلے میں تنخواہوں میں اضافہ نہ ہونے کے برابر ہے۔ حکومت نہ لوگوں کو سرکاری نوکریاں فراہم کر سکی اور نہ پرائیویٹ سیکٹر میں انھیں استحصال سے بچانے کے لیے کوئی قانون پاس کر سکی۔ حکومت بھلے اپنی کوششوں کے باوجود غربت سے نبرد آزما ہوتے شہریوں کی مشکلات کو ختم نہ کر پائی ہو، مگر ’’ ناجائز تجاوزات کے خلاف آپریشن‘‘ کی پالیسی کے سبب نادانستہ طور پر ہی سہی ہزاروں گھرانوں کو مشکلات کی کھائی میں دھکیل چکی ہے۔
اس کی زد میں آنے والے یہ ہمارے وہ ان پڑھ یا واجبی سی تعلیم رکھنے والے ہم وطن ہیں جنھوں نے زندگی کی تمام توانائیاں اپنے خاندانوں کا پیٹ پالنے اور اگلی نسل کو محفوظ مستقبل دینے کی خاطر انھیںحسب استطاعت بہترین تعلیم دلوانے میں صرف کیں۔
اب جب وہ لوگ ادھیڑ عمری یا بڑھاپے کو پہنچے ہیں، ان کے بہتر مستقبل کے خوابوں کی تعبیر اس صورت میں سامنے آئی ہے کہ ان کے جوان تعلیم یافتہ بچے نوکریوں کی تلاش میں مارے مارے پھر رہے ہیں اور وہ اپنا روزی روٹی کا ذریعہ بھی گنوا بیٹھے ہیں۔
غیر قانونی تجاوزات کا خاتمہ اگر حکومتی پالیسی ہے تو ہم اس کا احترام کرتے ہیں لیکن ذہنوں میں یہ سوال ضرور ابھرتا ہے کہ متاثرہ لوگوں کو متبادل روزگار کے مواقع فراہم کرنا کیا ریاستی ذمے داری نہیں؟ اور اگر ناکافی وسائل اور دیگر وجوہات کی بنا پر یہ ممکن نہیں تو ایسے میں یہ مخدوش کن کارروائیاں کیا دانشمندانہ فیصلہ ہیں؟
یہ اقدامات قانون کی پاسداری کے نام پرکیے جاتے رہے ہیں لیکن ملک میں قانون کی بالادستی کا عالم تو یہ ہے کہ غریب کو فاقوں کے بچانے کے لیے قانون نہیں بدلے جا سکتے مگر سرکاری ہاؤس کو خوبصورتی بخشنے کے لیے تمام قوانین کو باآسانی پس پشت ڈالا جا سکتا ہے۔
نادار عوام کو مشکلات سے بچانے کے لیے نام نہاد آپریشن کے قوانین میں ترمیم نہیں کی جا سکتی لیکن سرکاری ہاؤس کی سجاوٹ کے لیے عوام کو لیز پر دی گئی درجنوں دکانوں کے معاہدے کو پل بھر میں ضرور ختم کیا جا سکتا ہے۔
کیا شفافیت اور قانون کی پاسداری تب ممکن ہے جب حکومت خود اپنے معاہدوں کی خلاف ورزی کرے؟ضلع سرگودھا میں جیل روڈ پر ’’ جیل مارکیٹ ‘‘ کے نام سے مشہور مارکیٹ جو تقریبا 90 دکانوں پر مشتمل تھی، جس سے قریباً دو ہزار لوگوں کا روزگار جڑا تھا، 10 ستمبر 2025 کو ملبے کا ڈھیر بنا دی گئی۔
اس مارکیٹ کی آدھی دکانوں کی زمین 1980 میں حکومت کی جانب سے سو سال کے لیے لوگوں کو لیز پر دی گئی تھی۔ بقیہ آدھی دکانوں کی زمین 2017 میں لوگوں کو دی گئی تھی۔
دکاندار معاہدے کے مطابق کرایہ باقاعدگی سے حکومتی خزانے میں جمع کرواتے تھے۔ 2022 میں لیز کے معاہدے کی مدت سے متعلقہ قانون میں ترمیم ہوئی اور 2023 میں پانچ سال کے لیے دوبارہ معاہدہ کیا گیا، لیکن پانچ سال پورے ہونے سے قبل مارکیٹ بنا کسی نوٹس کے منہدم کردی جاتی ہے۔
مارکیٹ کو گرانے کی وجہ یہ تھی کہ اس کے عقب میں دو ایکڑ کے رقبے پر ڈی پی او ہاؤس بنایا گیا تھا۔ اس سرکاری محل کی تزین و آرائش کے لیے مارکیٹ کی جگہ پر گرین بیلٹ بنانے کا منصوبہ تشکیل دیا گیا تھا جس کی تکمیل کے لیے مارکیٹ گرانا ناگزیر تھا۔
فقنا اردو
نوٹ: شفقنا کا اس تحریر کے مندرجات سے متفق ہونا ضروری نہیں
پاکستان اعلی طبقاتپاکستان طبقانی تقسیمروٹی کپڑا اور مکان
0 FacebookTwitterLinkedinWhatsappTelegramViberEmail
گزشتہ پوسٹ
سرحدی کشیدگی کا بوجھ افغان مہاجرین پر
اگلی پوسٹ
مشترکہ پارلیمانی کمیٹی نے مجوزہ آئینی ترمیم کا پورا ڈرافٹ منظور کرلیا

یہ بھی پڑھنا مت بھولیں

عام آدمی کا پاکستان

03:55 | ہفتہ مئی 20، 2023

تبصرہ کریں Cancel Reply

میرا نام، ای میل اور ویب سائٹ مستقبل میں تبصروں کے لئے محفوظ کیجئے.

تازہ ترین

  • فیلڈ مارشل عاصم منیر کی بطور چیف آف ڈیفنس فورسز تعیناتی کی سمری منظور

  • یو این ڈی پی رپورٹ/مصنوعی ذہانت: ایشیا میں کروڑوں افراد بیروزگار ہونے کا خطرہ

  • بڑی جنگوں کےبھڑکنے کی وجہ سے عالمی اسلحہ سازوں کی آمدنی میں اضافہ: SIPRI رپورٹ: ایس اے شہزاد

  • بلڈ شوگر کیسے ’’جلد‘‘کم کریں؟

  • حکومت پاکستان نے برطانیہ سے شہزاد اکبر اور عادل راجہ کی حوالگی کی درخواست کردی

  • آبادی کا عفریت اور مذہبی علما کی لاتعلقی/سید مجاہد علی

  • کیا اے آئی ناول نگاروں کی جگہ لے لے گی؟/جانتھن مارگولس

  • قومی کمیشن برائے اقلیتی حقوق بل: شق 35 کیوں حذف کی گئی؟

  • 3 کروڑ کا شہر، ایک گٹر… اور کسی کو فرق ہی نہیں پڑا! محمد توحید

  • گورنر راج کے ممکنہ نقصانات/ڈاکٹر توصیف احمد

  • ائیر انڈیا کا احمد آباد طیارہ حادثہ مشکوک ہے: امریکی اخبار کا الزام

  • امریکہ میں دہشت گردی کی منصوبہ بندی میں گرفتارشخص پاکستانی نہیں: دفتر خارجہ پاکستان

  • کرپشن پر آئی ایم ایف رپورٹ چارج شیٹ قرار دی گئی

  • فضائی آلودگی: نئی دہلی میں دو سال میں سانس کی بیماری کے دو لاکھ سے زائد کیسز

  • نیشنل گارڈ کے اہلکاروں پر فائرنگ کے واقعے سے افغانستان کی عوام یا حکومت کا کوئی تعلق نہیں/افغان وزیر خارجہ

  • اقوام متحدہ جنرل اسمبلی کی قرارداد میں مقبوضہ فلسطینی علاقوں سے اسرائیلی افواج کے انخلا کا مطالبہ

  • امریکہ میںپاکستانی نژادنوجوان غیر قانونی اسلحہ رکھنے اور حملے کی منصوبہ بندی کے الزام میں گرفتار

  • پاکستان اور افغانستان کے درمیان کشیدگی کم کرنے کے لیے سعودیہ میں ہونے والے تازہ ترین امن مذاکرات بے نتیجہ ختم

  • وفاقی وزارت تجارت کاانسانی بنیادوں پر طورخم اور چمن تجارتی گزرگاہوں کو کھولنےکا فیصلہ

  • جنوبی افریقا نے دوسرے ون ڈے میں بھارت کو 4 وکٹوں سے شکست دے دی

مقبول ترین

  • چھپکلی کی جلد سے متاثرہ بھوک لگانے والا کیپسول

  • صفائی اور پاکیزگی قرآن و حدیث کی روشنی میں : شفقنا اسلام

  • میں نے جمہوریت کی مضبوطی کے لیے کام کیا: جوبائیڈن کا قوم سے خطاب

  • مہاتیر محمد نے اپنا استعفیٰ پیش کردیا

  • کیا ہندوستان کی آنے والی نسلیں مسلم مخالف نفرت میں اس کی زوال پزیری کو معاف کر دیں گی؟/شاہد عالم

  • ایک ارب 70 کروڑ ڈالر کے قرضوں کی ادائیگی معطل کرنے کے معاہدے پر دستخط

  • مکمل لکڑی سے تراشا گیا کارکا ماڈل 2 لاکھ ڈالر میں نیلام

  • اسلام آباد: میجر لاریب قتل کیس میں ایک مجرم کو سزائے موت، دوسرے کو عمر قید

  • دی نیشن رپورٹ/پاکستانی جیلوں میں قید خواتین : اگرچہ ان کی چیخیں دب گئی ہیں مگر ان کے دکھ کو نظر انداز نہیں کیا جاسکتا

  • عورتوں سے باتیں کرنا

@2021 - All Right Reserved. Designed


Back To Top
شفقنا اردو | بین الاقوامی شیعہ خبر رساں ادارہ اور تجزیاتی مرکز
  • صفحہ اول
  • تازہ ترین
  • آپ کی خبر
  • بلاگ
  • پاکستان
  • تصویری منظر نامہ
  • دلچسپ و عجیب
  • سائنس و ٹیکنالوجی
  • صحت وتعلیم
  • عالمی منظر نامہ
  • فیچرز و تجزیئے
  • کھیل و کھلاڑی
  • وڈیوز
  • رابطہ