36
پناہ گزینوں کے لیے اقوام متحدہ کے ادارے (یو این ایچ سی آر) نے بتایا ہے کہ دنیا بھر میں 11 کروڑ 70 لاکھ افراد جنگوں، تشدد اور مظالم سے جان بچانے کے لیے سرحد پار نقل مکانی کر چکے ہیں جبکہ گزشتہ دہائی میں 25 کروڑ لوگوں نے موسمیاتی تبدیلی کے باعث اندرون ملک ہجرت کی ہے۔
ادارے کا کہنا ہے انسانی بحرانوں کا بڑھتے ہوئے ماحولیاتی بحران سے گہرا تعلق ہے۔ جنوبی سوڈان اور برازیل میں آنے والے تباہ کن سیلاب ہوں، کینیا اور پاکستان میں ریکارڈ توڑ گرمی ہو یا چاڈ اور ایتھوپیا میں پانی کی کمی، شدید موسمی حالات کمزور لوگوں کو تباہی کے دہانے پر پہنچا رہے ہیں۔
ادارے کے سربراہ فلیپو گرینڈی نے برازیل کے شہر بیلیم میں اقوام متحدہ کی عالمی موسمیاتی کانفرنس (کاپ 30)کے افتتاحی روز بات کرتے ہوئے کہا ہے کہ موسمی حالات لوگوں کے تحفظ کے لیے بڑھتا ہوا خطرہ ہیں۔ ان کے باعث ضروری سہولیات تک رسائی میں رکاوٹ آ رہی ہے، گھر اور روزگار تباہ ہو رہے ہیں اور پہلے ہی تشدد سے تنگ آ کر ہجرت کرنے والوں کو ایک مرتبہ پھر نقل مکانی پر مجبور کر رہے ہیں۔
پناہ گزینوں اور مہاجرین نے پہلے ہی ناقابل بیان نقصان برداشت کیا ہے اور اب شدید خشک سالی، ہلاکت خیز سیلاب اور ریکارڈ توڑ گرمی کی لہروں کی صورت میں ایک مرتبہ پھر انہی مصیبتوں اور تباہ کاریوں کا سامنا ہے جبکہ ان کے پاس بحالی کے لیے سب سے کم وسائل ہیں۔
بقا کے نظام پر دباؤ
‘یو این ایچ سی آر’ نے خبردار کیا ہے کہ دنیا بھر میں پناہ گزینوں کے لیے بنیادی بقا کے نظام پہلے ہی دباؤ کا شکار ہیں۔ مثال کے طور پر، سیلاب سے متاثرہ چاڈ کے کچھ حصوں میں پڑوسی ملک سوڈان کی جنگ سے بھاگنے والے نئے پناہ گزینوں کو روزانہ فی کس 10 لیٹر سے بھی کم پانی مل رہا ہے جو ہنگامی حالات کے معیارات سے کہیں کم ہے۔
مزید شواہد سے یہ بھی ظاہر ہوتا ہے کہ 2050 تک گرم ترین پناہ گزین کیمپوں میں ہر سال تقریباً 200 روز شدید گرمی پڑ سکتی ہے جو صحت اور بقا دونوں کے لیے سنگین خطرہ ہے۔ ایسی بہت سی جگہیں شدید گرمی اور بڑھتی نمی کے مہلک امتزاج سے ناقابل رہائش ہوتی جا رہی ہیں۔
افریقہ میں ارضی انحطاط
ادارے نے خبردار کیا ہے کہ افریقہ میں زمین کی زرخیزی میں تیزی سے کمی بڑھتا ہوا خطرہ بن رہی ہے۔ رپورٹ کے مطابق، رواں سال کے اوائل میں بارہ لاکھ پناہ گزین اپنے وطن واپس لوٹے لیکن ان میں سے نصف ایسے علاقوں میں گئے جو موسمیاتی اعتبار سے نہایت کمزور یا خطرے سے دوچار ہیں۔ افریقہ کی 75 فیصد زمین انحطاط کا شکار ہو رہی ہے اور پناہ گزین بستیوں میں سے نصف سے زیادہ ان علاقوں میں قائم ہیں جو شدید دباؤ یا ماحولیاتی تناؤ کے شکار ہیں۔
زمین کی اس تیز رفتار تباہی سے خوراک، پانی اور آمدنی تک رسائی سکڑتی جا رہی ہے جس کے نتیجے میں ساہل خطے کے بعض حصوں میں مسلح گروہوں کی تعداد بڑھ رہی ہے اور اس طرح تنازعات اور متواتر نقل مکانی میں اضافہ ہو رہا ہے۔
امدادی وسائل کی قلت
ادارے نے یہ بھی بتایا ہے کہ بڑھتی ضروریات کے باوجود مالی وسائل کی کمی اور انتہائی غیر منصفانہ ماحولیاتی مالیاتی نظام نے لاکھوں افراد کو تحفظ سے محروم کر رکھا ہے۔ اس وقت پناہ گزینوں کی میزبانی کرنے والے تنازع زدہ ممالک کو ان کی ضرورت کے مطابق موسمیاتی وسائل کا صرف ایک چوتھائی حصہ ہی مل رہا ہے جبکہ عالمی سطح پر موسمیاتی مالی امداد کا زیادہ تر حصہ نہ تو بے گھر آبادیوں تک پہنچتا ہے اور نہ ہی ان لوگوں تک جو انہیں پناہ دیتے ہیں۔
مالی وسائل میں کٹوتیوں کے باعث ادارے کی ان لوگوں کو مدد پہنچانے کی صلاحیت بھی محدود ہوتی جا رہی ہے۔ فلیپو گرینڈی کا کہنا تھا کہ استحکام کے وہاں سرمایہ کاری کرنا ہو گی جہاں لوگ سب سے زیادہ خطرے میں ہیں۔ مزید نقل مکانی کو روکنے کے لیے ضروری ہے کہ موسمیاتی وسائل ان لوگوں تک پہنچیں جو پہلے ہی بقا کے لیے کڑی جدوجہد کر رہے ہیں۔ انہیں تنہا نہیں چھوڑا جا سکتا اور اس کانفرنس کو خالی خولی وعدوں کے بجائے عملی اقدامات کرنا ہوں گے۔
رپورٹ کے اہم نکات
-
دنیا بھر میں پناہ گزینوں اور تنازعات کے باعث نقل مکانی پر مجبور ہونے والے افراد کی اکثریت اب ایسے ممالک میں مقیم ہے جو سخت یا انتہائی کڑے موسمیاتی خطرات کا سامنا کر رہے ہیں۔ ہر چار میں سے تین پناہ گزین ایسے ممالک میں رہتے ہیں جہاں موسمیاتی آفات کا خطرہ بہت زیادہ ہے۔
-
رواں سال کے اوائل میں 12 لاکھ پناہ گزین وطن واپس لوٹے لیکن ان میں سے نصف نے ایسے علاقوں کا رخ کیا جو موسمیاتی اثرات کے مقابل کمزور یا خطرے سے دوچار ہیں۔
-
افریقہ کی 75 فیصد زمین تیزی سے انحطاط کا شکار ہو رہی ہے جبکہ پناہ گزینوں کی نصف سے زیادہ بستیاں ان علاقوں میں واقع ہیں جنہیں شدید موسمیاتی دباؤ کا سامنا ہے۔
-
مستقبل میں پناہ گزینوں کے تقریباً تمام علاقوں کو خطرناک حد تک بڑھتی ہوئی گرمی کا سامنا ہو گا۔ 2050 تک دنیا کے گرم ترین 15 پناہ گزین کیمپوں (جو گیمبیا، اریٹریا، ایتھوپیا، سینیگال اور مالی میں واقع ہیں) کو ہر سال تقریباً 200 یا اس سے زیادہ ایام تک شدید گرمی کے دباؤ کا سامنا ہو سکتا ہے۔
-
2040 تک شدید موسمیاتی خطرات سے دوچار ممالک کی تعداد تین سے بڑھ کر 65 تک پہنچنے کا امکان ہے۔
-
اپریل 2023 سے اب تک سوڈان میں جاری تنازع کے باعث تقریباً 13 لاکھ افراد جنوبی سوڈان اور چاڈ میں پناہ لے چکے ہیں جبکہ یہ دونوں ممالک موسمیاتی ہنگامی حالات سے نمٹنے کے لیے سب سے کم تیاری والے ممالک میں شمار ہوتے ہیں۔
