Top Posts
ڈر ہے یہ سب ایسے ہی چلتا رہے...
میانمار کی سیاس رہنما آنگ سان سوچی کی...
سڈنی دہشت گردی پاکستان کے سر تھوپنے کی...
پاک بحریہ کا آب سے فضا تک مار...
سڈنی حملہ: بھارت اور افغانستان کا پاکستان کے...
پاکستان دہشت گردی سے معاشروں کو پہنچنے والے...
جان پر کھیل کر حملہ آور کو روکنے...
حماس نے غزہ میں اسرائیلی حملے میں اپنے...
آسٹریلیا : دہشت گردی کے واقعےمیں ہلاکتوں کی...
یوکرین امن مذاکرات سے قبل نیٹو رکنیت کی...
  • Turkish
  • Russian
  • Spanish
  • Persian
  • Pakistan
  • Lebanon
  • Iraq
  • India
  • Bahrain
  • French
  • English
  • Arabic
  • Afghanistan
  • Azerbaijan
شفقنا اردو | بین الاقوامی شیعہ خبر رساں ادارہ اور تجزیاتی مرکز
اردو
  • صفحہ اول
  • تازہ ترین
  • آپ کی خبر
  • بلاگ
  • پاکستان
  • تصویری منظر نامہ
  • دلچسپ و عجیب
  • سائنس و ٹیکنالوجی
  • صحت وتعلیم
  • عالمی منظر نامہ
  • فیچرز و تجزیئے
  • کھیل و کھلاڑی
  • وڈیوز
  • رابطہ

یو این رپورٹ/موسمیاتی بحران: پناہ گزینوں کے کیمپ 2050 تک ناقابل سکونت ہونے کا خطرہ

by TAK 15:25 | منگل نومبر 11، 2025
15:25 | منگل نومبر 11، 2025 36 views
36
پناہ گزینوں کے لیے اقوام متحدہ کے ادارے (یو این ایچ سی آر) نے بتایا ہے کہ دنیا بھر میں 11 کروڑ 70 لاکھ افراد جنگوں، تشدد اور مظالم سے جان بچانے کے لیے سرحد پار نقل مکانی کر چکے ہیں جبکہ گزشتہ دہائی میں 25 کروڑ لوگوں نے موسمیاتی تبدیلی کے باعث اندرون ملک ہجرت کی ہے۔
ادارے کا کہنا ہے انسانی بحرانوں کا بڑھتے ہوئے ماحولیاتی بحران سے گہرا تعلق ہے۔ جنوبی سوڈان اور برازیل میں آنے والے تباہ کن سیلاب ہوں، کینیا اور پاکستان میں ریکارڈ توڑ گرمی ہو یا چاڈ اور ایتھوپیا میں پانی کی کمی، شدید موسمی حالات کمزور لوگوں کو تباہی کے دہانے پر پہنچا رہے ہیں۔
ادارے کے سربراہ فلیپو گرینڈی نے برازیل کے شہر بیلیم میں اقوام متحدہ کی عالمی موسمیاتی کانفرنس (کاپ 30)کے افتتاحی روز بات کرتے ہوئے کہا ہے کہ موسمی حالات لوگوں کے تحفظ کے لیے بڑھتا ہوا خطرہ ہیں۔ ان کے باعث ضروری سہولیات تک رسائی میں رکاوٹ آ رہی ہے، گھر اور روزگار تباہ ہو رہے ہیں اور پہلے ہی تشدد سے تنگ آ کر ہجرت کرنے والوں کو ایک مرتبہ پھر نقل مکانی پر مجبور کر رہے ہیں۔
پناہ گزینوں اور مہاجرین نے پہلے ہی ناقابل بیان نقصان برداشت کیا ہے اور اب شدید خشک سالی، ہلاکت خیز سیلاب اور ریکارڈ توڑ گرمی کی لہروں کی صورت میں ایک مرتبہ پھر انہی مصیبتوں اور تباہ کاریوں کا سامنا ہے جبکہ ان کے پاس بحالی کے لیے سب سے کم وسائل ہیں۔
بقا کے نظام پر دباؤ
‘یو این ایچ سی آر’ نے خبردار کیا ہے کہ دنیا بھر میں پناہ گزینوں کے لیے بنیادی بقا کے نظام پہلے ہی دباؤ کا شکار ہیں۔ مثال کے طور پر، سیلاب سے متاثرہ چاڈ کے کچھ حصوں میں پڑوسی ملک سوڈان کی جنگ سے بھاگنے والے نئے پناہ گزینوں کو روزانہ فی کس 10 لیٹر سے بھی کم پانی مل رہا ہے جو ہنگامی حالات کے معیارات سے کہیں کم ہے۔
مزید شواہد سے یہ بھی ظاہر ہوتا ہے کہ 2050 تک گرم ترین پناہ گزین کیمپوں میں ہر سال تقریباً 200 روز شدید گرمی پڑ سکتی ہے جو صحت اور بقا دونوں کے لیے سنگین خطرہ ہے۔ ایسی بہت سی جگہیں شدید گرمی اور بڑھتی نمی کے مہلک امتزاج سے ناقابل رہائش ہوتی جا رہی ہیں۔
افریقہ میں ارضی انحطاط
ادارے نے خبردار کیا ہے کہ افریقہ میں زمین کی زرخیزی میں تیزی سے کمی بڑھتا ہوا خطرہ بن رہی ہے۔ رپورٹ کے مطابق، رواں سال کے اوائل میں بارہ لاکھ پناہ گزین اپنے وطن واپس لوٹے لیکن ان میں سے نصف ایسے علاقوں میں گئے جو موسمیاتی اعتبار سے نہایت کمزور یا خطرے سے دوچار ہیں۔ افریقہ کی 75 فیصد زمین انحطاط کا شکار ہو رہی ہے اور پناہ گزین بستیوں میں سے نصف سے زیادہ ان علاقوں میں قائم ہیں جو شدید دباؤ یا ماحولیاتی تناؤ کے شکار ہیں۔
زمین کی اس تیز رفتار تباہی سے خوراک، پانی اور آمدنی تک رسائی سکڑتی جا رہی ہے جس کے نتیجے میں ساہل خطے کے بعض حصوں میں مسلح گروہوں کی تعداد بڑھ رہی ہے اور اس طرح تنازعات اور متواتر نقل مکانی میں اضافہ ہو رہا ہے۔
امدادی وسائل کی قلت
ادارے نے یہ بھی بتایا ہے کہ بڑھتی ضروریات کے باوجود مالی وسائل کی کمی اور انتہائی غیر منصفانہ ماحولیاتی مالیاتی نظام نے لاکھوں افراد کو تحفظ سے محروم کر رکھا ہے۔ اس وقت پناہ گزینوں کی میزبانی کرنے والے تنازع زدہ ممالک کو ان کی ضرورت کے مطابق موسمیاتی وسائل کا صرف ایک چوتھائی حصہ ہی مل رہا ہے جبکہ عالمی سطح پر موسمیاتی مالی امداد کا زیادہ تر حصہ نہ تو بے گھر آبادیوں تک پہنچتا ہے اور نہ ہی ان لوگوں تک جو انہیں پناہ دیتے ہیں۔
مالی وسائل میں کٹوتیوں کے باعث ادارے کی ان لوگوں کو مدد پہنچانے کی صلاحیت بھی محدود ہوتی جا رہی ہے۔ فلیپو گرینڈی کا کہنا تھا کہ استحکام کے وہاں سرمایہ کاری کرنا ہو گی جہاں لوگ سب سے زیادہ خطرے میں ہیں۔ مزید نقل مکانی کو روکنے کے لیے ضروری ہے کہ موسمیاتی وسائل ان لوگوں تک پہنچیں جو پہلے ہی بقا کے لیے کڑی جدوجہد کر رہے ہیں۔ انہیں تنہا نہیں چھوڑا جا سکتا اور اس کانفرنس کو خالی خولی وعدوں کے بجائے عملی اقدامات کرنا ہوں گے۔
رپورٹ کے اہم نکات
  • دنیا بھر میں پناہ گزینوں اور تنازعات کے باعث نقل مکانی پر مجبور ہونے والے افراد کی اکثریت اب ایسے ممالک میں مقیم ہے جو سخت یا انتہائی کڑے موسمیاتی خطرات کا سامنا کر رہے ہیں۔ ہر چار میں سے تین پناہ گزین ایسے ممالک میں رہتے ہیں جہاں موسمیاتی آفات کا خطرہ بہت زیادہ ہے۔
  • رواں سال کے اوائل میں 12 لاکھ پناہ گزین وطن واپس لوٹے لیکن ان میں سے نصف نے ایسے علاقوں کا رخ کیا جو موسمیاتی اثرات کے مقابل کمزور یا خطرے سے دوچار ہیں۔
  • افریقہ کی 75 فیصد زمین تیزی سے انحطاط کا شکار ہو رہی ہے جبکہ پناہ گزینوں کی نصف سے زیادہ بستیاں ان علاقوں میں واقع ہیں جنہیں شدید موسمیاتی دباؤ کا سامنا ہے۔
  • مستقبل میں پناہ گزینوں کے تقریباً تمام علاقوں کو خطرناک حد تک بڑھتی ہوئی گرمی کا سامنا ہو گا۔ 2050 تک دنیا کے گرم ترین 15 پناہ گزین کیمپوں (جو گیمبیا، اریٹریا، ایتھوپیا، سینیگال اور مالی میں واقع ہیں) کو ہر سال تقریباً 200 یا اس سے زیادہ ایام تک شدید گرمی کے دباؤ کا سامنا ہو سکتا ہے۔
  • 2040 تک شدید موسمیاتی خطرات سے دوچار ممالک کی تعداد تین سے بڑھ کر 65 تک پہنچنے کا امکان ہے۔
  • اپریل 2023 سے اب تک سوڈان میں جاری تنازع کے باعث تقریباً 13 لاکھ افراد جنوبی سوڈان اور چاڈ میں پناہ لے چکے ہیں جبکہ یہ دونوں ممالک موسمیاتی ہنگامی حالات سے نمٹنے کے لیے سب سے کم تیاری والے ممالک میں شمار ہوتے ہیں۔
شفقنا اردو
منگل، 11 نومبر 2025
نوٹ: شفقنا نے یہ رپورٹ یو این سے لی
اقوام متحدہپناگزین کیمپعالمی موسمیاتی کانفرنسماحولیاتی بحرانموسمیاتی وسائل
0 FacebookTwitterLinkedinWhatsappTelegramViberEmail
گزشتہ پوسٹ
نیند کے لیے استعمال کیے جانے والے سپلیمنٹ میلاٹونِن ہارٹ فیلیئر کا سبب
اگلی پوسٹ
پاکستان میں حالیہ دہشت گردی کے ڈانڈے افغانستان سے ثابت ہوئے تو کارروائی کریں گے: پاکستانی وزیر دفاع

یہ بھی پڑھنا مت بھولیں

یو این او ڈی سی رپورٹ/ہر روز 137...

15:52 | اتوار دسمبر 14، 2025

سوڈان: یو این امن مشن پر ڈرون حملے...

03:37 | اتوار دسمبر 14، 2025

موسمی شدت سے غزہ میں بیماریوں کا خطرہ...

08:06 | ہفتہ دسمبر 13، 2025

 افغانستان سے ہونے والی دہشتگردی پاکستان، کے لیے...

04:16 | جمعرات دسمبر 11، 2025

انسانی حقوق کمیشن رپورٹ:  بھارت میں  مسلمانوں سمیت...

15:10 | بدھ دسمبر 10، 2025

افغانستان میں امریکی اسلحہ ٹی ٹی پی کے...

06:58 | پیر دسمبر 8، 2025

گیٹس فاؤنڈیش رپورٹ/غیر ملکی امداد میں کمی، رواں...

15:51 | ہفتہ دسمبر 6، 2025

اقوام متحدہ کے ماہرین کا مقبوضہ کشمیر میں...

09:43 | ہفتہ دسمبر 6، 2025

افغانستان کے لیے اقوام متحدہ کے امدادی اشیا...

04:31 | جمعہ دسمبر 5، 2025

یقین کیا جاسکتا ہے کہ اسرائیلی فوج نے...

04:27 | جمعہ دسمبر 5، 2025

تبصرہ کریں Cancel Reply

میرا نام، ای میل اور ویب سائٹ مستقبل میں تبصروں کے لئے محفوظ کیجئے.

تازہ ترین

  • ڈر ہے یہ سب ایسے ہی چلتا رہے گا/خالد محمود رسول

  • میانمار کی سیاس رہنما آنگ سان سوچی کی قید میں حالت تشویش ناک

  • سڈنی دہشت گردی پاکستان کے سر تھوپنے کی سازش ناکام

  • پاک بحریہ کا آب سے فضا تک مار کرنے والے جدید میزائل کا کامیاب تجربہ

  • سڈنی حملہ: بھارت اور افغانستان کا پاکستان کے خلاف پروپیگنڈا بے نقاب

  • پاکستان دہشت گردی سے معاشروں کو پہنچنے والے درد اور صدمے کو بخوبی سمجھتا ہے: صدر مملکت

  • جان پر کھیل کر حملہ آور کو روکنے والا شخص قابل احترام ہے: ڈونلڈ ٹرمپ

  • حماس نے غزہ میں اسرائیلی حملے میں اپنے سینئر کمانڈر رائد سعد کی شہادت کی تصدیق کردی

  • آسٹریلیا : دہشت گردی کے واقعےمیں ہلاکتوں کی تعداد 16 ہوگئی

  • یوکرین امن مذاکرات سے قبل نیٹو رکنیت کی دیرینہ خواہش ترک کرنےکو تیار

  • روس، پاکستان اور دیگر ممالک کا افغانستان سے دہشت گردی کے ممکنہ خطرات پر تشویش کا اظہار

  • صرف بانی پی ٹی آئی کی کال کا انتظار ہے: وزیر اعلی کے پی کے

  • یو این او ڈی سی رپورٹ/ہر روز 137 خواتین کا اپنے ہی عزیز و اقارب کے ہاتھوں قتل

  • بھارت پابندیوں کے باوجود روسی تیل کی خریداری جاری رکھنے کا منصوبہ کیسے کام کرتاہے؟ سلیم شفیع

  • سردیوں میں ہونٹ پھٹنے کی وجہ کیا ہے اور اس کا علاج کیا ہے؟

  • رواں سال کےدوران دہشت گردی کے ایک ہزار 588 واقعات :سکیورٹی اہلکاروں سمیت 502 شہری شہید ہوئے: پولیس رپورٹ

  • آسٹریلیا :سڈنی کے ساحل پر مسلح افراد کی فائرنگ سے 12 افراد ہلاک، متعدد زخمی

  • خان نے خود اور PTI کو بُرا پھنسا دیا: انصار عباسی

  • سیاسی کشمکش میں نئی شدت معاشی استحکام کے لیے نیا چیلنج/خرم حسین

  • سیاسی عدم استحکام کے محرک: فیض حمید کی اگلی منزل کیا ہوگی؟باقرسجاد سید

مقبول ترین

  • صفائی اور پاکیزگی قرآن و حدیث کی روشنی میں : شفقنا اسلام

  • چھپکلی کی جلد سے متاثرہ بھوک لگانے والا کیپسول

  • میں نے جمہوریت کی مضبوطی کے لیے کام کیا: جوبائیڈن کا قوم سے خطاب

  • کیا ہندوستان کی آنے والی نسلیں مسلم مخالف نفرت میں اس کی زوال پزیری کو معاف کر دیں گی؟/شاہد عالم

  • مکمل لکڑی سے تراشا گیا کارکا ماڈل 2 لاکھ ڈالر میں نیلام

  • مہاتیر محمد نے اپنا استعفیٰ پیش کردیا

  • ایک ارب 70 کروڑ ڈالر کے قرضوں کی ادائیگی معطل کرنے کے معاہدے پر دستخط

  • دی نیشن رپورٹ/پاکستانی جیلوں میں قید خواتین : اگرچہ ان کی چیخیں دب گئی ہیں مگر ان کے دکھ کو نظر انداز نہیں کیا جاسکتا

  • اسلام آباد: میجر لاریب قتل کیس میں ایک مجرم کو سزائے موت، دوسرے کو عمر قید

  • عورتوں سے باتیں کرنا

@2021 - All Right Reserved. Designed


Back To Top
شفقنا اردو | بین الاقوامی شیعہ خبر رساں ادارہ اور تجزیاتی مرکز
  • صفحہ اول
  • تازہ ترین
  • آپ کی خبر
  • بلاگ
  • پاکستان
  • تصویری منظر نامہ
  • دلچسپ و عجیب
  • سائنس و ٹیکنالوجی
  • صحت وتعلیم
  • عالمی منظر نامہ
  • فیچرز و تجزیئے
  • کھیل و کھلاڑی
  • وڈیوز
  • رابطہ