سپریم کورٹ کے دو ججوں سینئر جج جسٹس منصور علی شاہ اور جسٹس اطہر من اللہ نے 27 ویں آئینی ترمیم منظور ہونے کے بعد اپنے عہدوں سے استعفے دے دیے ہیں۔ متعدد حلقوں کی جانب سے اسے عدالتی و آئینی تاریخ میں تاریک باب سے تعبیر کیا جا رہا ہے۔ لیکن یہ سمجھنا بھی اہم ہے کہ مستعفی ہونے والے ججوں نے جس ترمیم کے خلاف احتجاج کرتے ہوئے استعفے دیے ہیں، اسے کسی آمر نے نافذ نہیں کیا بلکہ منتخب پارلیمنٹ نے دو تہائی اکثریت سے منظور کیا ہے۔
اس وقت 27 ترمیم منظور ہونے، آئینی عدالت قائم کرنے اور عدالتی نظام میں بعض دوسری تبدیلیوں کے حوالے سے عدلیہ کی آزادی و خود مختاری کے بارے میں دلائل دیے جا رہے ہیں لیکن اس موقع پر پارلیمنٹ کی خود مختاری، اس کے حق قانون سازی اور ملکی آئین میں ترمیم کے استحقاق کو صریحاً نظر انداز کیا جا رہا ہے۔ ایسے میں اس بنیادی سوال کا جواب تلاش کرنا بے حد اہم ہے کہ اگر ملک کا آئین منتخب پارلیمنٹ کو آئین میں ترمیم کا حق دیتا ہے تو کیا اس نے ایسا کوئی ادارہ بھی تشکیل دینے کی بات کی ہے جو پارلیمنٹ کے اس حق پر قدغن عائد کرے یا یہ طے کرے کہ کوئی ترمیم کیا آئین کی روح سے متصادم تو نہیں ہے۔
ملک کی سپریم کورٹ نے گزشتہ کچھ عرصہ میں ازخود یہ حق حاصل کیا ہوا تھا کہ وہ کسی قانون سازی یا آئینی ترمیم کے بارے میں پارلیمنٹ کے اقدام کا جائزہ لے سکتی ہے۔ ایسا ہی رویہ درحقیقت ان ججوں نے بھی اختیار کیا تھا جنہوں نے ماضی میں گورنر جنرل کی جانب سے آئین ساز پارلیمنٹ توڑنے کو جائز ماننے کے علاوہ بعد میں جنرل ضیا الحق اور جنرل پرویز مشرف کو آئین میں ترامیم کا اختیار دیا تھا۔ ان دونوں فوجی آمروں نے اس حق کو استعمال کرتے ہوئے 1973 کی صورت تبدیل کردی۔ اس موقع پر کسی نے نہیں کہا کہ ایک غیر منتخب فوجی حکمران آئین میں ایسی ترامیم کر رہا ہے جو اس کی روح یا بنیادی ڈھانچے سے متصادم ہیں۔ البتہ 2008 کے بعد جب ملک میں تسلسل سے منتخب حکومتیں امور مملکت دیکھنے کی ذمہ دار رہی ہیں، تو سپریم کورٹ نے متعدد بار ماورائے آئین تشریحات کرنے اور پارلیمنٹ کو اپنا زیر نگین ادارہ بنانے جیسے عدالتی احکامات جاری کرنے کا اقدام کیا ہے۔ ایسے میں یہ بنیادی سوال کرنا بے حد ضروری ہے کہ کیا عدلیہ کی آزادی کا مطلب منتخب پارلیمنٹ کے حق کو سلب کرنا ہے۔ کیا نامزد ججوں کے ایک گروہ کو پارلیمنٹ کی مجموعی ذہانت پر ترجیح دی جا سکتی ہے؟
جسٹس منصور علی شاہ اور جسٹس اطہر من اللہ نے اگر ضمیر کی آواز کے مطابق نئی ترمیم میں خود کو ’معذور‘ سمجھتے ہوئے استعفے دیے ہیں تو اس کی توصیف کرنی چاہیے۔ البتہ اس قدام کو نہ تو نعرہ بنایا جاسکتا ہے اور نہ ہی یہ تسلیم کرنا ممکن ہے کہ یہ دونوں معزز جج حضرات عدلیہ کی آزادی کی جد و جہد میں ’قربانی کا بکرا‘ بنے ہیں۔ سپریم کورٹ کے ججوں میں سیاسی نظریات کی بنیاد پر پائی جانے والی تقسیم اب کوئی پوشیدہ بات نہیں ہے۔ ججوں کے ریمارکس اور فیصلوں میں سیاسی رجحانات کا اظہار معمول بنا رہا ہے۔ سپریم کورٹ کے متعدد چیف جسٹس اور ججوں نے غیر ضروری جوڈیشل ایکٹوازم کا مظاہرہ بھی کیا۔ ایسا رویہ اختیار کرتے ہوئے آئین و قانون کی بجائے ذاتی صوابدید یا پسند و ناپسند کو ملحوظ خاطر رکھا جاتا رہا ہے۔ جسٹس منصور علی شاہ اور جسٹس اطہر من اللہ نے اپنے استعفوں میں اگرچہ بزعم خویش آئین کی پاسداری کے لیے ’قربانی‘ دینے کا اعلان کیا ہے۔ جسٹس منصور علی شاہ نے صدر کے نام لکھے گئے استعفے میں دعویٰ کیا ہے کہ آئین سازی کو سیاسی ضرورتوں کا محتاج بنا دیا گیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ ’ان حالات میں کام کرتے رہنا، آئین کے ساتھ کھلواڑ کو خاموشی سے قبول کرنے کے مترادف ہوتا۔ کیوں کہ آئینی ترمیم کے ذریعے عدلیہ کی آواز دبانے کا اقدام کیا گیا ہے‘۔ اسی طرح جسٹس اطہر من اللہ نے استعفی دیتے ہوئے لکھا ہے کہ ’یہ وہ آئین نہیں ہے جس پر میں نے حلف اٹھایا تھا‘ ۔
تاہم ان دونوں مستعفی ہونے والے معزز ججوں کے فیصلے کو ان کی ذاتی توجیہ اور رائے سے زیادہ اہمیت نہیں دی جا سکتی۔ آئینی و قانونی معاملات بلیک اینڈ وائٹ نہیں ہوتے۔ انہیں ہمیشہ مختلف لوگ مختلف زاویوں سے دیکھتے ہیں۔ اسی لیے بڑے عدالتی بنچوں میں بیشتر فیصلے اکثریتی بنیادوں پر کیے جاتے ہیں حالانکہ اقلیتی جج بھی اسی قانون یا آئینی پہلو کی تشریح کرتے ہوئے اپنے نقطہ نظر کو درست سمجھ رہے ہوتے ہیں۔ اس تناظر میں جسٹس شاہ اور جسٹس من اللہ کے فیصلے کا احترام کرتے ہوئے، انہیں آئین کے خود ساختہ محافظین کا منصب عطا نہیں کیا جاسکتا۔ البتہ ان کے فیصلے کا احترام کرتے ہوئے ان کے لیے نیک خواہشات کا اظہار ضروری ہے۔ ملکی سیاست اور عدالتی تاریخ کے حوالے سے ان استعفوں کے بارے میں وقت ہی اپنا فیصلہ صادر کرے گا۔ بادی النظر میں یہ دونوں جج، چیف جسٹس کو اس بات پر آمادہ کرنے کے خواہش مند تھے کہ جس وقت 27 ویں آئینی ترمیم سینیٹ و قومی اسمبلی میں زیر بحث تھی، وہ اسی دوران میں کوئی جوڈیشل کانفرنس یا فل کورٹ بلا کر پارلیمنٹ میں آئینی ترمیم کے عمل کو روکتے اور حکومت کو یہ پیغام دیا جاتا کہ وہ عدلیہ کے بارے میں کوئی فیصلہ سپریم کورٹ سے پوچھے بغیر نہیں کر سکتی۔ یہ مطالبہ بنیادی طور پر آئین کی روح کے خلاف ہے۔ ملکی آئین کسی آئینی ترمیم کے خلاف کسی بھی عدالت کو غور کرنے کا حق نہیں دیتا۔ ایسے میں کوئی عدالت کیسے کسی پارلیمنٹ کو کسی حتمی فیصلے سے پہلے اپنی مرضی کا پابند کرنے کا حکم جاری کر سکتی ہے؟
تاہم چیف جسٹس یحییٰ آفریدی نے مستعفی ہونے والوں ججوں کے علاوہ، ایک تیسرے جج جسٹس صلاح الدین پنہوار کی طرف سے بھی ایسی ہی خواہش کے بعد جمعہ 14 نومبر کو ستائیسویں آئینی ترمیم پر غور کرنے کے لیے فل کورٹ کا اجلاس بلانے کا فیصلہ کیا ہے۔ جسٹس منصور علی شاہ اور جسٹس اطہر من اللہ کو چیف جسٹس کے اس اقدام کے بعد استعفے دینے کی بجائے حوصلہ مندی سے فل کورٹ میں اپنی قانونی رائے پیش کرنی چاہیے تھی جس کا مطالبہ خود ان دونوں نے اپنے خطوں میں کیا تھا۔ لیکن شاید وہ خود بھی جانتے ہوں گے کہ سولہ رکنی سپریم کورٹ میں ان کی رائے اقلیتی ججوں کی رائے ہے۔ اور عدالت عظمی کے بیشتر جج پارلیمنٹ کے حق قانون سازی یا آئینی ترمیم کو محدود کرنے کی حمایت نہیں کرتے۔ اس طرح ان دونوں معزز ججوں کے استعفوں سے یہ تاثر قوی ہو گا کہ وہ مخالفانہ رائے کا احترام کرنے کی تاب نہیں رکھتے بلکہ اپنی قانونی تفہیم کو سب ججوں پر مسلط کرنے کی خواہش رکھتے ہیں۔ کوئی عدالتی نظیر اس طریقے کو درست قرار نہیں دے سکتی۔
پاکستان میں حکمرانی کے نظام، انتخابی طریقہ کار، فوج اور سیاسی فیصلوں میں تال میل کی تاریخ بہت پرانی اور گنجلک ہے۔ اس لیے کسی جج کو انتخابات میں دھاندلی کو یک طرفہ طور سے درست قرار دے کر موجودہ حکومت کو ’اشرافیہ کا ٹولا‘ قرار دینا زیب نہیں دیتا۔ موجودہ حکومت کی سیاست اور طریقہ کار سے اختلاف کے باوجود عدالتیں محض شواہد کی بنیاد پر کوئی حکم جاری کر سکتی ہیں۔ ان شواہد کا جائزہ بھی انہیں آئین و قانون کی روشنی میں ہی کرنا پڑتا ہے۔ ملکی آئین میں اس بار 27 ویں ترمیم کی گئی ہے۔ گویا 1973 میں آئین منظور ہونے کے بعد سے اب تک 27 بار اسے ملکی ضرورتوں کے لیے ناکافی سمجھتے ہوئے ترامیم ضروری سمجھی گئی تھیں۔ اس لیے یہ کہنا درست نہیں ہے کہ اب یہ آئین تبدیل ہو چکا ہے، اس لیے ’باضمیر‘ ججوں کو استعفے دے دینے چاہئیں کیوں کہ یہ وہ آئین نہیں جس کے تحت انہوں نے حلف اٹھایا تھا۔ یہ قانون کی سرسری تفہیم سے متصادم طرز عمل ہے کیوں کہ قانون بنائے جاتے ہیں اور پھر انہیں ضرورت کے مطابق تبدیل کیا جاتا ہے۔
البتہ ملک میں پاور اسٹرکچر پر ضرور مباحث ہونے چاہئیں۔ لیکن ان مباحثوں میں پارلیمنٹ کے حق قانون سازی کو حتمی اور اٹل سمجھنا ضروری ہو گا۔ پارلیمنٹ کے حتمی اختیار کو چیلنج کرنے والے عناصر درحقیقت ملک میں جمہوریت کو مزید کمزور کرنے کا سبب بنیں گے۔ یہ کہنا درست نہیں ہے کہ عدلیہ اسی وقت آزاد اور خود مختار ہوگی جب اسے ملک کے منتخب اداروں پر بالادستی دی جائے گی۔ بلکہ ایسی غلط روایات ختم ہونے سے عدلیہ کا اعتماد اور کارکردگی بہتر ہو گی۔
شفقنا اردو
نوٹ: شفقنا کا اس تحریر کے مندرجات سے متفق ہونا ضروری نہیں