Top Posts
شہباز شریف کی حکومت کیوں ناکام ہے؟ سید...
روس اور ایران کا اسٹریٹجک اتحاد کتنا مضبوط؟...
یو اے ای: غیر قانونی افراد کو پناہ...
افغانستان: پنچشیر میں نیشنل ریزسٹنس فرنٹ کا حملہ:...
عمران خان مائنس ہوا تو ایک بھی باقی...
اسرائیل اں سال دنیا بھر میں قتل ہونے...
بابا وانگا نے 2026 کیلئے کونسی اہم اور...
مسلم ممالک کا اعتراض: ٹونی بلیئر کا نام...
مائیکروسافٹ کا بھارت میں 17.5 ارب ڈالر کی...
پاکستان ڈیفالٹ کے خطرے سے پیچھے ہٹ رہا...
  • Turkish
  • Russian
  • Spanish
  • Persian
  • Pakistan
  • Lebanon
  • Iraq
  • India
  • Bahrain
  • French
  • English
  • Arabic
  • Afghanistan
  • Azerbaijan
شفقنا اردو | بین الاقوامی شیعہ خبر رساں ادارہ اور تجزیاتی مرکز
اردو
  • صفحہ اول
  • تازہ ترین
  • آپ کی خبر
  • بلاگ
  • پاکستان
  • تصویری منظر نامہ
  • دلچسپ و عجیب
  • سائنس و ٹیکنالوجی
  • صحت وتعلیم
  • عالمی منظر نامہ
  • فیچرز و تجزیئے
  • کھیل و کھلاڑی
  • وڈیوز
  • رابطہ

غزہ کی تباہی، انصاف کا دہرا معیار

by TAK 15:43 | اتوار نومبر 16، 2025
15:43 | اتوار نومبر 16، 2025 41 views
41
یہ تحریر ایکسپریس نیوز میں شائع ہوئی
جی سیون ممالک نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے غزہ منصوبے کی حمایت کا اعادہ کیا۔ کینیڈا میں جی سیون ممالک کے وزرائے خارجہ کا اجلاس ہوا جس میں غزہ کی صورتحال، یوکرین روس جنگ سمیت دیگر امور پرگفتگو کی گئی۔ اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل انتونیو گوتریس نے غزہ جنگ بندی معاہدے کو ’’ انتہائی نازک‘‘ قرار دیتے ہوئے فریقین سے مکمل احترام کی اپیل کی ہے تاکہ امن کی بحالی ممکن ہو سکے۔ ادھر غزہ میں ایک اجتماعی قبر سے 51 لاشیں برآمد ہوئی ہیں۔
غزہ کی موجودہ صورتحال انسانی تاریخ کے بدترین المیوں میں سے ایک المیہ ہے، مگر افسوس کہ اسے سیاسی بیانیے اور سفارتی مفادات کی نذرکیا جا رہا ہے۔ عالمی طاقتوں کی پالیسیاں اس حد تک دو رخی ہوچکی ہیں کہ ظلم کا شکار ہونے والی قوم اگر فلسطینی ہو تو دنیا کے حساس ترین ادارے بھی خاموشی کی چادر اوڑھ لیتے ہیں۔ جی سیون ممالک کا حالیہ اجلاس بھی اسی دہرے معیار کی ایک واضح جھلک ہے جہاں غزہ کے حقیقی حقائق پر سنجیدہ بات کرنے کے بجائے امریکی صدر کے اس منصوبے کی اعادہ شدہ حمایت سامنے آئی جس نے مشرقِ وسطیٰ میں امن کے بجائے مزید بے چینی، تقسیم اور کشیدگی کو جنم دیا ہے۔
یہ اجلاس اگرچہ عالمی سفارت کاری کا ایک اہم فورم تھا، مگر اس کی ترجیحات دیکھ کر اندازہ ہوتا ہے کہ دنیا کے بڑے طاقتور ممالک کے نزدیک فلسطینی عوام کی زندگیوں کا کوئی وزن نہیں۔ یرغمالیوں کی واپسی اور ان کی باقیات کی حوالگی پر جو زور مشترکہ اعلامیے میں دیا گیا، وہ بظاہر انسانی ہمدردی کا اظہار ہے، مگر اس کے ساتھ ساتھ فلسطینی گھروں کے ملبے سے نکلی، اجتماعی قبروں کا ذکر نہ ہونا، ایک سنگین ناانصافی ہے۔ ایسا محسوس ہوتا ہے جیسے انسانی حقوق کا معیار بھی قومیت اور طاقت کے ترازو میں تولا جاتا ہے۔
غزہ، جو کبھی بچوں کی ہنسی اورگھروں کے صحنوں میں گونجتی زندگیوں سے آباد تھا، آج ملبوں کا شہر بن چکا ہے۔ غزہ کے آسمان پر دھوئیں کی دھاریاں، گلیوں میں چیخیں، اسپتالوں میں بے بسی اور قبرستانوں میں تنگی، یہ سب کچھ ایک عام دن کا حصہ بن گیا ہے۔ اسرائیل کی جانب سے جنگ بندی معاہدے کی مسلسل خلاف ورزی نے ثابت کردیا ہے کہ طاقتور ممالک کی سرپرستی میں وہ کسی قانون،کسی معاہدے اورکسی اخلاقی قدر کو خاطر میں نہیں لاتا۔ جب عالمی برادری خاموش ہو، تو ظلم بڑھتا ہے، اور یہی غزہ میں ہو رہا ہے۔
اسرائیلی حملوں کی تازہ لہر نے نہ صرف غزہ سٹی، بیت لاہیا اور خان یونس کو نشانہ بنایا بلکہ مغربی کنارے میں بھی حالات خطرناک حد تک بگڑ چکے ہیں۔ قابض فوج کی گولیوں کا نشانہ بننے والے دو معصوم فلسطینی بچے محض ’’واقعات‘‘ کا حصہ نہیں، بلکہ وہ اس سوال کا جواب ہیں کہ عالمی قوانین کہاں ہیں؟ انسانی حقوق کہاں ہیں؟ بچوں کے تحفظ کی عالمی کونسلیں، ادارے اور تنظیمیں کہاں ہیں؟ دنیا بھر میں بچوں کے حقوق پر لیکچر دینے والے ملک کہاں ہیں؟ جب تک یہ سوالات جواب نہیں پاتے، تب تک عالمی انسانی حقوق ایک کھوکھلا نعرہ ہی رہیں گے۔
اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل انتونیوگوتریس نے جنگ بندی معاہدے کو ’’انتہائی نازک‘‘ قرار دیا ہے، مگر اصل مسئلہ یہ ہے کہ یہ نازکی طاقتور ممالک کی مصلحتوں کی وجہ سے پیدا ہوئی ہے۔ غزہ کے شہری آج بھی کھنڈرات میں خوراک، پانی اور ادویات کی تلاش میں گھومتے پھر رہے ہیں۔ یونیورسٹیوں، اسکولوں اور اسپتالوں سمیت ہر جگہ تباہی کے آثار ہیں۔ اسرائیلی حملوں کے بعد ریسکیو مشینری تک پہنچنے میں گھنٹوں نہیں بلکہ دن لگ جاتے ہیں۔ سول ڈیفنس کے کارکنوں کے مطابق درجنوں خاندان ابھی بھی ملبوں کے نیچے دبے ہوئے ہیں، اور ہر لمحہ ان کی زندگی کا چراغ بجھ سکتا ہے۔ یہ منظر نامہ صرف متاثرہ خاندانوں کا نہیں بلکہ پوری انسانیت کا امتحان ہے۔
اجتماعی قبریں چونکانے والی حقیقت نہیں بلکہ ہماری اجتماعی بے حسی کا ثبوت بن چکی ہیں۔ 51 لاشوں کا ایک ساتھ ملنا، جن میں بچے، عورتیں، بزرگ اور جوان شامل ہیں، اس بات کا ثبوت ہے کہ غزہ میں کسی کا نقصان ایک فرد کا نہیں، پورے خاندان، پورے محلے اور پورے شہر کا نقصان بن جاتا ہے، لیکن دنیا کے طاقتور ایوان ان قبروں کے سامنے بھی خاموش ہیں۔
حماس کی جانب سے یرغمالیوں کی لاشوں کی حوالگی کا سلسلہ جاری ہے، جس کے بدلے میں اسرائیل فلسطینی قیدیوں کو رہا کرتا ہے۔ یہ ایک انسانی تبادلے کا عمل ضرور ہے، مگر اس کے ساتھ ایک تلخ سوال جڑا ہوا ہے: فلسطینی قیدیوں کی رہائی کا معیار یرغمالیوں کی تعداد کیوں؟ کیا فلسطینی قیدی، جن میں بچے، نوجوان اور خواتین شامل ہیں، انسان نہیں؟ کیا ان کے لیے بھی انسانی ہمدردی کا کوئی قانون موجود نہیں؟ یہ المیہ ہے کہ فلسطینی قیدیوں کو دنیا کے اکثر ممالک محض ’’شماریاتی تعداد‘‘ کے طور پر دیکھتے ہیں، مگر یرغمالیوں کو عالمی سیاست کا محور بنایا جاتا ہے۔ انصاف کا یہ دہرا معیار نفرتوں کو پروان چڑھاتا ہے، جنگ کو لمبا کرتا ہے اور نفسیاتی خلیج کو وسیع کرتا ہے۔
غزہ کی تباہی صرف موجودہ نسل پر نہیں رکی، اگلی کئی نسلیں اس کے اثرات جھیلتی رہیں گی۔ تباہ شدہ تعلیمی ادارے، اسپتالوں کا انہدام، معیشت کا خاتمہ اور ذہنی و جسمانی صدمات۔ یہ سب کچھ ایسے زخم ہیں جو صرف مرہم نہیں بلکہ انصاف کا تقاضا کرتے ہیں۔ جب تک انصاف نہیں ملتا، تب تک امن کی کوئی بھی کوشش کامیاب نہیں ہوسکتی۔ اسرائیل کی جارحیت کو روکنے کے لیے صرف بیانات کافی نہیں، عملی قدم ناگزیر ہیں۔عالمی طاقتیں، خصوصاً امریکا، اگر واقعی غزہ میں امن چاہتے ہیں تو انھیں سب سے پہلے اس پالیس مائنڈ سیٹ کو بدلنا ہوگا جو اسرائیل کے ہر اقدام کو تحفظ دیتا ہے۔
طاقتور ممالک کی یہ ذمے داری ہے کہ وہ انسانی جانوں کو سیاسی فیصلوں سے اوپر رکھیں، اگر یوکرین کے مسئلے پر وہ یک جہتی کا مظاہرہ کر سکتے ہیں، تو فلسطین کے لیے خاموش کیوں؟ اگر انسانی حقوق عالمی سطح پر برابر ہیں تو پھر فلسطینی کیوں مستثنیٰ ہیں؟غزہ کے معصوم بچے جب دنیا کی اس بے حسی کو دیکھتے ہیں، تو ان کی آنکھوں میں یہ سوال جھلکتا ہے کہ کیا ان کا وجود کسی عالمی ضابطے کا حصہ نہیں؟ کیا ان کے خواب، ان کی مسکراہٹ اور ان کی زندگی کسی اخلاقی یا قانونی تحفظ کی حقدار نہیں؟ یہ سوالات صرف فلسطینی بچوں کے نہیں، پوری دنیا کے لیے آئینہ ہیں۔
آج دنیا کو فیصلہ کرنا ہوگا کہ وہ مستقبل میں کس طرف کھڑی نظر آنا چاہتی ہے، اگر انصاف کی خاطر نہیں، تو کم از کم انسانیت کی خاطر ہی سہی، دنیا کو غزہ کے لیے کھڑا ہونا ہوگا۔ فلسطینیوں کو حقِ خودارادیت دینا، ان کے گھروں پر مسلط جنگ بند کرانا، اور اسرائیل کو اس کی جارحیت کے نتائج سے آگاہ کرنا، یعنی اختیاری نہیں بلکہ ضروری ہے۔
غزہ میں غذائی قلت اس حد تک بڑھ چکی ہے کہ قحط کے آثار واضح طور پر دکھائی دینے لگے ہیں۔ امداد کو روکنا، خوراک اور ادویات کو سیاسی تنازعے کا ہتھیار بنانا، انسانی حقوق کی ایسی پامالی ہے جس کی کوئی تاریخ مثال پیش نہیں کرتی۔ جب ایک پوری آبادی جان بوجھ کر بھوک، پیاس اور بے گھری کے رحم و کرم پر چھوڑ دی جائے، تو یہ نہ صرف جنگی جرم ہے بلکہ تہذیب یافتہ دنیا کے منہ پر طمانچہ ہے۔ عالمی ادارے چیخ چیخ کر انتباہ کر رہے ہیں کہ غزہ کے بچے شدید غذائی کمی کا شکار ہیں، لیکن عالمی طاقتوں کی سماعتوں پر جیسے لکیر کھینچ دی گئی ہو۔
ادھر انفرا اسٹرکچر کی تباہی نے صورتحال مزید المناک بنا دی ہے۔ اسپتال زمیں بوس، اسکول ملبے کا ڈھیر، پانی اور بجلی کی عدم فراہمی، صفائی کے نظام کی تباہی اور وباؤں کے بڑھتے ہوئے خدشات—غزہ کے باسیوں کے لیے زندگی ایک نہ ختم ہونے والے کرب میں بدل چکی ہے۔ ایندھن کی بندش نے نہ صرف طبی امداد کو تقریباً ناممکن بنا دیا ہے بلکہ امدادی کارروائیوں کو بھی مفلوج کر دیا ہے۔ آج غزہ ایک کھلا زخم ہے، اور دنیا تماشائی بنی بیٹھی ہے۔
غزہ کا درد صرف فلسطینیوں کا نہیں، یہ انسانیت کا امتحان ہے۔ اگر دنیا نے اب بھی خاموشی اختیار کیے رکھی، تو تاریخ اسے کبھی معاف نہیں کرے گی۔ ہمیں اپنی آواز بلند کرنا ہوگی، کیونکہ غزہ کے ملبے میں دبی ہوئی نہ صرف انسانی زندگیاں ہیں، بلکہ ہماری اجتماعی اخلاقیات، ہمارا ضمیر اور ہمارا مستقبل بھی۔آخر میں یہی کہا جا سکتا ہے کہ غزہ کا مسئلہ کسی ایک قوم، ملک یا مذہب کا مسئلہ نہیں۔ یہ پوری انسانیت کی آزمائش ہے۔
اگر اقوام متحدہ، عالمی برادری اور طاقتور ممالک واقعی تاریخ میں باعزت ہونا چاہتے ہیں تو انھیں آج، اسی لمحے، ظلم کے سامنے دیوار بننا ہوگا۔ ورنہ آنے والے وقت میں جب تاریخ رقم ہوگی، تو غزہ کے ملبے میں دبی انسانی چیخیں ان کے ضمیر کا ہمیشہ پیچھا کرتی رہیں گی۔ غزہ کی دھرتی انصاف کی طلبگار ہے اور جب تک انصاف نہیں ملتا، امن محض ایک خواب ہی رہے گا۔
شفقنا اردو
نوٹ: شفقنا کا اس تحریر کے مندرجات سے متفق ہونا ضروری نہیں
امریکی صدر ٹرمپانتونیو گوتریسجی سیون ممالکغزہ امن معاہدہغزہ نسل کشی
0 FacebookTwitterLinkedinWhatsappTelegramViberEmail
گزشتہ پوسٹ
کیا طالبان افغانستان کو مزید برباد کرنا چاہتے ہیں؟/عثمان دموہی
اگلی پوسٹ
پنجاب: بلدیاتی الیکشن میں تاخیر کیوں؟سید عارف نوناری

یہ بھی پڑھنا مت بھولیں

یوکرینی صدر کی مشروط انتخاب کرانے پر رضامندی

04:19 | بدھ دسمبر 10، 2025

پاکستان نے بھرپور سفارت کاری سے امریکاکے ساتھ...

05:17 | منگل دسمبر 9، 2025

جنگ بندی کے باوجود غزہ میں اسرائیل کی...

15:17 | پیر دسمبر 8، 2025

غزہ میں امن معاہدے کے تحت انخلا کی...

14:43 | پیر دسمبر 8، 2025

امریکا نے مزید 55 ایرانی ملک بدر کر...

06:54 | پیر دسمبر 8، 2025

تھائی لینڈ اور کمبوڈیا کے درمیان ایک بار...

06:42 | پیر دسمبر 8، 2025

کس طرح ٹرمپ کی سٹریٹجک غلطیوں، اورجذباتی قیادت...

13:51 | اتوار دسمبر 7، 2025

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی اسرائیلی وزیراعطم نیتن...

13:51 | اتوار دسمبر 7، 2025

يونان ميں فلسطينی پناہ گزين: اميد اور بے...

13:19 | اتوار دسمبر 7، 2025

 رفح کراسنگ یکطرفہ کھولنے کے اسرائیلی بیانات پر...

03:49 | ہفتہ دسمبر 6، 2025

تبصرہ کریں Cancel Reply

میرا نام، ای میل اور ویب سائٹ مستقبل میں تبصروں کے لئے محفوظ کیجئے.

تازہ ترین

  • شہباز شریف کی حکومت کیوں ناکام ہے؟ سید مجاہد علی

  • روس اور ایران کا اسٹریٹجک اتحاد کتنا مضبوط؟ جاوید اختر

  • یو اے ای: غیر قانونی افراد کو پناہ دینے پر کروڑوں کے جرمانے نافذ

  • افغانستان: پنچشیر میں نیشنل ریزسٹنس فرنٹ کا حملہ: 17 طالبان جنگجو ہلاک

  • عمران خان مائنس ہوا تو ایک بھی باقی نہیں رہے گا: بیرسٹر گوہر علی خان

  • اسرائیل اں سال دنیا بھر میں قتل ہونے والے تمام صحافیوں میں سے تقریباً نصف صحافیوں کے قتل کا ذمہ دار

  • بابا وانگا نے 2026 کیلئے کونسی اہم اور بڑی پیشگوئیاں کیں؟

  • مسلم ممالک کا اعتراض: ٹونی بلیئر کا نام ’غزہ امن کونسل‘ سے نکال دیا گیا

  • مائیکروسافٹ کا بھارت میں 17.5 ارب ڈالر کی خطیر سرمایہ کاری کا اعلان

  • پاکستان ڈیفالٹ کے خطرے سے پیچھے ہٹ رہا ہے، آئی ایم ایف رپورٹ

  • یوکرینی صدر کی مشروط انتخاب کرانے پر رضامندی

  • بابر اعظم اور شاہین شاہ آفریدی بگ بیش لیگ کے 15 ویں ایڈیشن میں شرکت کے لیے آسٹریلیا پہنچ گئے

  •  عمران خان کی بہنوں اور پی ٹی آئی کارکنوں پر پولیس کریک ڈاؤن: اڈیالہ کے باہر دھرنا ختم

  • عالمی دباؤ: اسرائیل نے اردن کے ساتھ بارڈرکو غزہ کے امدادی سامان کے لیے کھولنے کا اعلان کردیا

  • قومی اسمبلی کی کمیٹی برائے خزانہ نے اسمارٹ فونز ر عائد ٹیکس میں کمی کا مطالبہ کردیا

  • وزیرستان میں تحصیل ہیڈ کوارٹر اسپتال غیر فعال: متعدد مریض جاں بحق

  • جدہ میں 135 ملی میٹر بارش ریکارڈ : نظام زندگی درہم برہم

  • گوگل میپس کی وہ ٹِرکس جو آپ کو ضرور استعمال کرنی چاہیے

  • ہندوتوا اور ہندوستان کے زیر انتظام کشمیر میں اجتماعی سزا کا کچل دینے والا ظلم/نعیم افضل

  • یورپی ملک میں خواتین نے مردوں کو گھریلو کام کاج کیلئے ہائر کرنا شروع کردیا

مقبول ترین

  • صفائی اور پاکیزگی قرآن و حدیث کی روشنی میں : شفقنا اسلام

  • چھپکلی کی جلد سے متاثرہ بھوک لگانے والا کیپسول

  • میں نے جمہوریت کی مضبوطی کے لیے کام کیا: جوبائیڈن کا قوم سے خطاب

  • کیا ہندوستان کی آنے والی نسلیں مسلم مخالف نفرت میں اس کی زوال پزیری کو معاف کر دیں گی؟/شاہد عالم

  • مہاتیر محمد نے اپنا استعفیٰ پیش کردیا

  • مکمل لکڑی سے تراشا گیا کارکا ماڈل 2 لاکھ ڈالر میں نیلام

  • ایک ارب 70 کروڑ ڈالر کے قرضوں کی ادائیگی معطل کرنے کے معاہدے پر دستخط

  • اسلام آباد: میجر لاریب قتل کیس میں ایک مجرم کو سزائے موت، دوسرے کو عمر قید

  • دی نیشن رپورٹ/پاکستانی جیلوں میں قید خواتین : اگرچہ ان کی چیخیں دب گئی ہیں مگر ان کے دکھ کو نظر انداز نہیں کیا جاسکتا

  • عورتوں سے باتیں کرنا

@2021 - All Right Reserved. Designed


Back To Top
شفقنا اردو | بین الاقوامی شیعہ خبر رساں ادارہ اور تجزیاتی مرکز
  • صفحہ اول
  • تازہ ترین
  • آپ کی خبر
  • بلاگ
  • پاکستان
  • تصویری منظر نامہ
  • دلچسپ و عجیب
  • سائنس و ٹیکنالوجی
  • صحت وتعلیم
  • عالمی منظر نامہ
  • فیچرز و تجزیئے
  • کھیل و کھلاڑی
  • وڈیوز
  • رابطہ