تحریر:: علی کاظم
کراچی میں ٹرانسپورٹ سسٹم کی حالت زار ایسے ہی ہے جیسے بھارت میں مسلمانوں کی حالت ہے، یہ موازنہ اس لیئے کیا گیا کہ بھارت میں 22 کروڑ مسلمانوں کے ساتھ ہندو حکومت کا قیام پاکستان سے آج تک سلوک بد سے بدتر ہوتا جارہا ہے اور بھارتی مسلمان ہندوستان کے شہری ہونے کے باوجود غیر قانونی تارکین وطن سے زیادہ کی اہمیت نہیں رکھتے۔
یہی حال کراچی میں پبلک ٹرانسپورٹ سسٹم کا ہے جسے ہر آنے والی حکومت نے بڑھ چڑھ کر اپنانے کے دعوے تو کیئے لیکن سلوک اس سے سوتیلوں سے بھی بڑھ کر کیا گیا، بلکہ ٹرانسپورٹ کے ہر منصوبے کا مقصد صرف کمیشن بنانے اور من پسند افراد کو ٹھیکے عطا کرنے تک ہی محدود رہتا ہے، جس کے بعد کوئی نہ دیکھنے والا نہ پوچھنے والا کہ منصوبے کو مقررہ مدت مین پورا کیوں نہیں کیا، اس میں لگایا جانے والا میٹریل اتنا ناقص کیوں ہے، منصوبے کی تکمیل سے معمولات زندگی تباہ کیوں ہورہی ہے۔

یہ سب سوالات حکومت کی جانب سے نہیں پوچھے جاتے اور اگر میڈیا توجہ دلائے بھی تو ایک دو دن اس کے حوالے سے سرگرمیاں نظر آتی ہیں پھر وہی ڈھاک کے تین پات۔
تازہ ترین اطلاعات کے مطابق سندھ حکومت اور کوریا کی کمپنی کے مابین ٹرانسپورٹ پر معاہدہ طے ہوگیا ہے جس کے تحت شہر قائد میں ایک ہزار نئی بسیں چلائی جائیں گی۔

اس حوالے سے ملنے والی تفصیلات کے مطابق سندھ حکومت نے شہر قائد کے باسیوں کو خوشخبری دی ہے کہ ٹرانسپورٹ مسائل میں گہرے کراچی کا اہم مسئلہ اب جلد ہونے جارہا ہے۔
صوبائی وزیر ٹرانسپورٹ اویس قادر شاہ کہتے ہیں کہ حکومتِ سندھ اور کوریا کی ٹرانسپورٹ کمپنی کے مابین معاہدہ طے پا گیا جس کے تحت آئندہ دو ماہ میں 200 بسیں کراچی کے مختلف روٹس پر چلنا شروع ہوجائیں گی۔
اُن کا کہنا تھا کہ آئندہ دو سالوں کے دوران تقریباً ایک ہزار نئی بسیں سڑک پر چلتی نظر آئیں گی، جبکہ اس کا کرایہ سندھ حکومت خود طے کرے گی۔

معاہدے کے تحت پہلے مرحلے میں 60 روز میں 60 بسیں کراچی میں لائی جائیں گی جبکہ دوسرے مرحلے میں 2 ماہ دن بعد 200 بسیں سڑکوں پر آجائیں گی۔

وزیر ٹرانسپورٹ کا کہنا تھا کہ نئی بس سروس کراچی کے 40 مختلف روٹس پر چلیں گی اور یہ 10 سے 15 کلو میٹر کے روٹ طے کریں گی، انہوں نے اس عزم کا اظہار کیا کہ سندھ حکومت بہت جلد کراچی سمیت صوبے کے دیگر شہروں میں بھی بسوں کا تحفہ دیں گے، کراچی کو نظر انداز کرنے کے تاثر کو غلط ثابت کر دکھایا ہے۔
یہ تو تھے ان دعووں اور وعدوں کی ایک جھلک جو اس سے قبل بھی کراچی کے شہریوں کے ساتھ کیئے جاتے رہے، اب ذرا ہم آپ کو کراچی میں ٹرانسپورٹ کے میگا منصوبوں کی حالت زار کا بتادیں تاکہ آپ کو اندازہ ہوگا کہ اصل میں ہوکیا رہا ہے اور بتایا کیا جارہا ہے۔
گرین لائن بس سروس منصوبہ

تین سال قبل کے وفاقی بجٹ میں کراچی شہر کےلیے بھی میٹرو بس منصوبے کا آغاز کیا گیا جسے ’’گرین لائن بس‘‘ کا نام دیا گیا۔ ابتدائی طور پر اس کی لاگت 16 ارب روپے بتائی گئی اور مدتِ تکمیل دو سال رکھی گئی۔
تاہم وقت گزرنے کے ساتھ اس منصوبے کی لاگت میں اضافہ ہوتا گیا اور یہ رقم 34 ارب روپے تک جاپہنچی ہے۔ اس منصوبے میں ٹریک کی لمبائی سرجانی ٹاؤن تا گرومندر 19 کلو میٹر ہے۔ ن لیگی حکومت کے آخری ایام میں بمشکل 60 فیصد کام ہی مکمل کیا گیا۔
ابتدائی طور پر اس منصوبے میں 100 بسیں چلانے کا اعلان کیا گیا جن سے روزانہ 20 سے 25 ہزار افراد کے مستفید ہونے کی نوید سنائی گئی۔
اس منصوبے کی افادیت اپنی جگہ مگر اہلیانِ کراچی نوحہ کناں ہیں کہ اس منصوبے کو ڈیزائن کرتے وقت متبادل سڑکوں کا انتظام اور مرمت کا کوئی بندوبست نہیں کیا گیا جس کے باعث سارا دن شہری شدید ٹریفک جام اور ذہنی اذیت کا شکار رہتے ہیں۔

اور تو اورمنصوبے کے اطراف میں واقعہ کاروباری مراکز جہاں روزانہ کروڑوں روپے کا کاروبار ہوتا ہے وہ اس منصوبے کی تعمیر کے حوالے سے کی جانے والی توڑ پھوڑ کے باعث گذشتہ تین برسوں سے شدید ذہنی اذیت کا شکار ہیں جبکہ ان کے کاروبار کو بھی اربوں روپے کا نقصان ہوچکا ہے، کیونکہ لوگ، ٹوٹی پھوٹی سڑکوں، دھول مٹی اور ٹریفک جام کی شکایات کے پیش نظر ان مارلیٹوں کے بجائے شہر کی دوسری مارکیٹوں میں جانے کو ترجیح دینے لگے ہیں۔ مگر متعلقہ حکام کے کانوں پرتاحال جوں تک نہیں رینگی ہے۔

اس 19 کلومیٹر طویل ٹریک کے دونوں طرف رہنے والے لوگوں کی تعداد 80 لاکھ سے زائد ہے اور یہ حصہ شہر کراچی کا گنجان ترین علاقہ سمجھا جاتا ہے جبکہ اس منصوبے سے مستفید ہونے والوں کی ممکنہ تعداد، اس آبادی کے مقابلے میں، نہ ہونے کے برابر ہے۔ بعض حلقوں کا کہنا ہے کہ جتنی بڑی لاگت کا یہ منصوبہ ہے، اتنی بڑی رقم میں کراچی کی 70 فیصد مرکزی شاہراہوں کی بہترین مرمت کرکے انہیں کشادہ کیا جاسکتا تھا مگر اس منصوبے کے بعد جو بھی سڑک موجود تھی، اس میں سے کم از کم 20 فٹ چوڑائی مزید کم ہوگئی ہے اور یہ سب کچھ ایک بس سروس کےلیے کیا جارہا ہے۔
اس ٹریک کے دونوں طرف سارا دن میں بلامبالغہ لاکھوں گاڑیاں چلتی ہیں جو سڑک کی چوڑائی کم ہونے کے باعث شدید ٹریفک جام کا باعث بن رہی ہیں اور دس منٹ کا سفر گھنٹوں میں طے ہورہا ہے۔
گرین لائن بس سروس کیلئے 26 فروری 2016 کو اس وقت کے وزیر اعظم نواز شریف نے سنگ بنیاد رکھا

گرین لائن ریپڈ بس سروس منصوبے کا روٹ 17.8 کلومیٹر طویل ہے، جس پر 16 ارب 85 کروڑ روپے لاگت کا تخمینہ لگایا گیا جبکہ اس کی تکمیل ایک سال میں (یعنی دسمبر 2016 تک) ہونے کا وعدہ کیا گیا، امید ظاہر کی جا رہی تھی کہ اس سروس سے ایک گھنٹے سے زائد میں طے ہونے والا فاصلہ منٹوں میں طے ہو سکے گا۔ لیکن 3 برسوں کے بعد بھی یہ منصوبہ مکمل نہیں کیا جاسکا اور ایک یا دو گھنٹے کا فاصلہ منٹوں میں تو کیا طے ہوتا اس میں اب کئی گھنٹے لگنے لگے ہیں۔
یہ ملک کا پہلا تیز ترین ٹرانزٹ سسٹم تھا جس کے لیے وفاقی حکومت فنڈز فراہم کر رہی ہے۔ جو آج تک نئی وفاقی حکومت اور سندھ کی پرانی حکومت کے مابین تنازعہ کا شکار ہے۔
دیگر اہم منصوبے
حکومت سندھ نے گرین لائنز کے علاوہ ’اورینج لائنز، یلو لائنز اور ریڈ لائنز جیسے منصوبوں پر بھی کام کا آغاز کیا، لیکن اس منصوبے کا حشر بھی ویسا ہی ہوا جو شہر کراچی کے دوسرے میگا منصوبوں کے ساتھ ہورہا ہے، اور اب تک نہ ہی یہ منصوبہ مکمل ہوسکا نہ اس پر چلنے والی بسوں کا کچھ پتہ ہے۔
اورینج لائن

حکومت سندھ نے اس پروجیکٹ میں اپنے ذاتی وسائل کا استعمال کا اعلان کیا۔ منصوبے میں چار اعشاریہ سات کلومیٹر طویل کوریڈور کی تعمیر شامل تھی جو ٹی ایم اے آفس اورنگی ٹاوٴن سے بورڈ آفس، ناظم آباد تک تعمیر ہوگا۔ یہاں سے یہ آر بی ٹی گرین لائنز پروجیکٹ سے جڑ جائے گا۔ ایک اندازے کے مطابق، اس بس سروس منصوبے سے روزانہ 50000 مسافر سفر کرسکیں گے۔ اس پروجیکٹ کوبھی 12 ماہ میں مکمل کرنے کا وعدہ کیا گیا لیکن وہ وعدہ ہی کیا جو وفا ہوجائے۔
ریڈ لائنز

منصوبے میں شامل یہ کوریڈور 21.5کلومیٹر طویل ہے جو ماڈل کالونی تا پیپلز چورنگی نزد مزار قائد براستہ یونیورسٹی روڈ ہوگا جس پر تقریباً تین لاکھ پچاس ہزار مسافر سفر کریں گے۔ ریڈ لائن منصوبے تعمیراتی کام کا آغاز دسمبر2016میں کرنے کا اعلان کیا گیا، جبکہ منصوبے کو 2018ء تک مکمل کرنے کا دعویٰ کیا گیا، اور وعدوں اور دعووں کی حقیقت سب کے سامنے ہے کہ اب تک اس منصوبے کی الف بے کا بھی کسی کو پتہ نہیں۔
یلو لائنز

یہ کوریڈور 26 کلومیٹر طویل ہے جو داوٴد چورنگی تا ریگل چوک، صدر اور نمائش براستہ کورنگی روڈ ایف ٹی سی اور شاہراہ قائدین پر مشتمل ہوگا۔ منصوبے پر روزانہ دو لاکھ پچاس ہزار مسافر سفر کریں گے۔ پروجیکٹ کے لئے چینی کمپنی سے ’کنسیشن ایگریمنٹ‘ طے پا چکا ہے اور اس پر دونوں فریقوں کے سائن بھی موجود ہیں۔ لیکن اس کے باوجود منصوبہ کہاں ہے کسی کو نہیں پتہ کم از کم گراؤنڈ پر تو اس کیلئے کوئی ہلچل نظر نہیں آتی۔
ان تمام ہرے، پیلے، لال، نیلے نارنگی منصوبوں کا احوال تو آپ نے پڑھا، یہ منصوبے تو کیا مکمل ہوتے اہالیان کراچی کے رنگ اس منصوبوں کے رنگ کی طرح ہوگئے ہیں، ایک آس ہے کہ شاید کسی کو شہر اور شہریوں کی حالت زار پر ترس آجائے اور ان منصوبوں کو اتنی تاخیر کے بعد اب مکمل کرلیا جائے۔
سندھ حکومت سے پوچھو تو ان کا جواب ہوتا ہے کہ وفاق سے فنڈنگ نہیں ہورہی، ہم کیا کرسکتے ہیں، پھر ان سے پوچھا جائے کہ ہر سال صوبائی بجٹ میں ترقیاتی کاموں کیلئے جو رقم مختص کی جاتی ہے وہ کہاں جارہی ہے تو جواب کچھ نہیں دیا جاتا۔
اگر سندھ حکومت کے وزراء کے دفاتر جائیں تو معلوم ہوتا ہے کہ انھیں اپنی وزارت کے تحٹ دیئے گئے امور کو سلجھانے اور عوام کی ھالت زار سدھارنے سے کوئی غرض نہیں بس ان کے دفاتر میں آپ کو ٹرانسفر پوسٹنگ کرانے والے سیاسی رہنماؤں اور کارکنان کی بڑی تعداد ضرور ملے گی۔

ہم مایوسی کی بات نہیں کریں گے لیکن سچائی سے منہ بھی نہیں موڑا جاسکتا، اس پوری صورتحال میں کم ازکم نظر تو یہی آرہا ہے کہ شہر میں پبلک ٹرانسپورٹ کے ان منصوبوں کی فی الحال تکمیل نہیں ہوسکتی اور اگر دو چار سال میں ایسا ہوبھی گیا تو منصوبے کا انفراسٹکچر اس وقت تک استعمال کے قابل ہی نہیں رہے گا۔
شہر کراچی میں اس وقت بلدیاتی حکومت تو موجود ہے مگر اس کے پاس اختیارات نہ ہونے کے برابر ہیں اور اختیارات کا مرکز سندھ حکومت ہے۔ مگر افسوس کے ساتھ کہنا پڑتا ہے کے کراچی جیسے میگاسٹی کے لیے سڑکوں کا انفراسٹرکچر صوبائی حکومت کی ترجیحات میں شامل نہیں۔
سوال یہ ہے کےجو بھی جماعتیں اقتدار میں ہیں، ان منصوبوں کے حوالے سے ان کی ترجیحات کیا ہیں؟
کچھ باتیں آنے والا وقت ظاہر کرے گا مگرجب تک کراچی کی اکثریتی آبادی اس جبر مسلسل سے گزرتی رہے گی، حکمرانوں سے پوچھتی رہے گی: کس جرم کی پائی ہے سزا یاد نہیں۔۔۔۔۔؟؟
گویا، سندھ خصوصا کراچی کے عوام کو صبر کے پیالے میں واٹر بورڈ کا آلودہ پانی ڈال کر پینا پڑے گا، صبر کا پھل کھانے کا اس لیئے مشورہ نہیں دے سکتے کہ پھل بہت مہنگے ہیں۔