تازہ ترین خبروں کے مطابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ملک کے کمپیوٹر ’نیٹ ورکس‘ کو ’غیر ملکی‘ حریف کمپنیوں سے بچانے کے لیے قومی ہنگامی صورت حال کا اعلان کر دیا ہے۔
ڈونلڈ ٹرمپ نے ایک ایگزیکٹو آرڈر پر دستخط کے ذریعے امریکی کمپنیوں کو غیر ملکی حریف ٹیلی کام کمپنیوں کی خدمات استعمال کرنے سے منع کیا جن کے بارے میں یہ خیال ظاہر کیا جا رہا ہے کہ وہ ملک کی سلامتی کے لیے خطرہ ہیں۔
صدر ٹرمپ نے ایگزیکٹو آرڈر میں کسی بھی کمپنی کا نام خاص طور پر نہیں لیا ہے، تاہم تجزیہ کاروں کا خیال ہے کہ صدر ٹرمپ نے خاص طور پر چین کی ٹیلی کام کمپنی ہواوے کے حوالے سے یہ اقدام اٹھایا ہے۔
بیان کے مطابق صدر ٹرمپ کا یہ اقدام کامرس سیکریٹری کو یہ اختیار دیتا ہے کہ وہ قومی سلامتی کو ناقابل قبول خطرے سے نمٹنے کے لیے ٹرانزیکشن کو روک دیں، وفاقی کمیونیکیشنز کمیشن کے چیئرمین اجیت پائی نے امریکی صدر کے اس اقدام کا خیر مقدم کیا ہے۔
ہواوے پر امریکی الزامات کیا ہیں۔۔؟؟

ٹرمپ کے اس تازہ اقدام سے پہلے رواں سال کے آغاز میں امریکہ نے ہواوے پہ الزام عائد کیا تھا کہ ایران کے ساتھ کاروبار کرنے کے لیے کمپنی نے اپنی دو ذیلی کمپنیوں ’ہواوے ڈیوائس یو ایس اے‘ اور ’سکائی کوم‘ کمپنیوں سے اپنے تعلق کے بارے میں امریکہ اور ایک بین الاقوامی بینک کو اندھیرے میں رکھا۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی حکومت نے ایران پر ان پابندیوں کو دوبارہ نافذ کر دیا تھا جو 2015 کے جوہری معاہدے کے بعد ختم کر دی گئی تھیں۔ یہی نہیں بلکہ امریکہ نے حال ہی میں ایران پر مزید سخت پابندیاں بھی عائد کی ہیں جن کا نشانہ تیل کی درآمد، بینکاری اور جہاز رانی کی صنعت ہیں۔
دوسرا کیس ہواوے پر یہ ہے کہ اس نے موبائل فونوں کی پائیداری کا تجزیہ کرنے والی ٹی موبائل نامی کمپنی کی ایک ٹیکنولوجی چوری کی۔ اس کے ساتھ کمپنی پر انصاف کی راہ میں رکاوٹ ڈالنے اور رقم کی منتقلی کے فراڈ کا الزام بھی ہے۔
امریکی حکام نے مجموعی طور پر کمپنی کے خلاف 23 الزامات عائد کیے ہیں
ہواوے کمپنی نے امریکی الزامات مسترد کردیئے۔۔۔!!!

ہواوے نے تمام الزامات کی تردید کی ہے اور کہا ہے کہ ’کسی بھی بڑے حملے کا کوئی ثبوت نہیں ہے‘ لیکن اس کے باوجود کمپنی کی ساکھ اور کاروبار متاثر ہونا شروع ہوگیا ہے۔
ہواوے کے چیئرمین لیانگ ہو نے کہا ہے کہ وہ منگل کو لندن میں ہونے والے ایک ملاقات کے دوران حکومتوں کے ساتھ غیر جاسوسی معاہدوں پر دستخط کرنے کے لیے تیار ہیں۔
ہواوے کے چیف ایگزیکٹو افسر کین ہُو بھی کہتے ہیں کہ ’بعض مارکیٹوں میں ہواوے کے خلاف خوف کی فضا پیدا کرنے کی کوششوں اور اس کے کاروبار میں اضافے کو روکنے کے لیے سیاسی حربوں کے باوجود ہمیں اس بات پر فخر ہے کہ ہمارے کسٹمرز ہم پر اعتماد کرتے ہیں۔
ہواوے کی اتنی اہمیت کیوں ہے۔۔!!

ہواوے 2015 سے دنیا کی سب سے بڑی ٹیلی کمیونیکیشن کا سامان اور سہولیات مہیا کرنے والی کمپنیوں میں سے ایک ہے۔ حال ہی میں اس نے ایپل کو پیچھے چھوڑتے ہوئے سام سنگ کے بعد دنیا میں سمارٹ فون بنانے والی دوسری بڑی کمپنی کا اعزاز اپنے نام کیا ہے۔
ہواوے کا کہنا ہے کہ اس نے فائیو جی کے 25 کمرشل معاہدے حاصل کر رکھے ہیں اور 10 ہزار سے زیادہ فائیو جی بیس سٹیشنز وہ مختلف ممالک کو بھجوا چکا ہے جس سے اندازوں کے مطابق 2018 میں اس کی کمائی 100 ارب ڈالر سے زائد رہی، چین میں ہواوے کو مستقبل کی امید کے نام سے جانا جاتا ہے۔
لیکن امریکہ اور بیشتر مغربی ممالک کو یہ تشویش ہے کہ چینی حکومت ہواوے کو اپنی جاسوسی صلاحیتوں میں اضافے کے لیے بھی استعمال کر سکتی ہے جبکہ کمپنی کا یہ کہنا ہے کہ اس پر حکومت کا کوئی ’کنٹرول‘ نہیں۔

ہواوے کے بانی کی بیٹی منگ کی گرفتاری نے بھی چین کو بھڑکا دیا ہے۔ انھیں امریکہ کی درخواست پہ کینیڈا کے مغربی شہر وینکوور سے یکم دسمبر کو گرفتار کیا گیا۔
انھیں بعد میں مقامی عدالت سے ایک کروڑ کینیڈین ڈالر کے عوض ضمانت ملی لیکن ان کی چوبیس گھنٹے نگرانی کی جا رہی ہے اور ان کے ٹخنے پر برقی نگرانی کا آلہ بھی لگا دیا گیا ہے۔
ایران سے تنازعات میں شدت، امریکہ کی عراق سے غیر ایمرجنسی واپسی کی ہدایت

دوسری جانب ایک اور حکم میں ایران کے ساتھ جاری حالیہ کشیدگی کے پیش نظر امریکا نے عراق میں اپنے سفارتخانے اور قونصل خانے سے غیر ضروری عملے کو فوری طور پر ملک سے نکل جانے کی ہدایات جاری کردی ہیں۔
امریکی فوج کا کہنا ہے کہ انہیں خطے میں ایران کی حمایت یافتہ فورسز کے حوالے سے بعض خفیہ اطلاعات موصول ہوئی ہیں جس کے بعد مشرق وسطیٰ میں امریکیوں کے لیے خطرے کی سطح کو بڑھادیا گیا ہے۔
تاہم شدت پسند تنظیم داعش کیخلاف قائم ہونے والے عالمی اتحاد کے برطانیہ سے تعلق رکھنے والے نائب کمانڈر کرس گھیکا یہ کہہ چکے ہیں کہ عراق اور شام میں ایران کے حمایت یافتہ فورسز سے کوئی خاص خطرہ نہیں ہے تاہم اب امریکا نے ان کے اس بیان کو پس پشت ڈالتے ہوئے اپنے سفارتی عملے کو انخلا کا حکم دے دیا ہے۔
اس کے ساتھ ہی جرمنی کے وزارت دفاع نے بھی اس بات کی تصدیق کی ہے کہ جرمن آرمی نے عراق میں اپنے ٹریننگ پروگرامز معطل کردیے ہیں۔ ترجمان وزارت دفاع نے بتایا کہ ہمیں ایران کے حمایت یافتہ فورسز کی جانب سے حملوں کے خطرات کا اشارہ ملا ہے تاہم عراق میں موجود 160 جرمن فوجیوں کو براہ راست کوئی دھمکی موصول نہیں ہوئی۔
ہالینڈ کے وزارت دفاع کا بھی کہنا ہے کہ عراق میں ڈچ فوجیوں نے بھی نامعلوم خطرات کے پیش نظر ٹریننگ مشن معطل کردیا گیا ہے۔