پاکستانی شخص نے بھاری انعام ٹھکرا کر حطیم میں نماز پڑھنے کی اجازت حاصل کرلی
Share
واقعہ کے مطابق مکہ مکرمہ مسجد الحرام میں صفائی ستھرائی کے کام پر مامور پاکستانی شہری کو بہترین کارکردگی پیش کرنے پر خادم الحرمین شریفین نے نقد انعام دینے کا اعلان کیا تاہم اُس پاکستانی نے رقم لینے سے انکار کرتے ہوئے ’’حطیم‘‘ میں نماز ادا کرنے کی خواہش کا اظہار کیا۔
مسجد الحرام کی انتظامیہ نے پاکستانی شہری کی درخواست کو قبول کرتے ہوئے اُسے حطیم کے احاطے میں نماز پڑھنے کی اجازت دی۔ سماجی رابطے کی ویب سائٹ پر نوافل ادائیگی کی تصاویر بھی تیزی سے وائرل ہوگئیں۔
واضح رہے کہ مہینے میں بہترین کارکردگی دکھانے والے ملازم کو انتظامیہ کی جانب سے تین ہزار سے پانچ ہزار ریال انعام دیا جاتا ہے، مسجد الحرام میں سیکڑوں کی تعداد میں پاکستانی صفائی ستھرائی کا کام کرتے ہیں۔
حظیم کیا ہے۔۔؟؟
حطیم جسے حجر اسماعیل بھی کہا جاتا ہے، خانہ کعبہ کے شمال کی سمت ایک دیوار ہے جس کے باہر سے طواف کیا جاتا ہے۔ اس دیوار کے متعلق کہا جاتا ہے کہ وہ خانہ کعبہ میں شامل تھی۔ یہی وجہ ہے کہ طواف کعبہ اس دیوار کے باہر سے کیا جاتا ہے ۔ حطیم کی اونچائی 30 اِنچ (90 سینٹی میٹر) ہے اور چوڑائی 1.5 میٹر (4.9 فُٹ) ہے۔
حطیم اصل میں خانہ کعبہ کی عمارت کا ہی حصہ ہے اور عمارت کی چار دیواری کے باہر ہونے کے باوجود اس کی فضیلت واہمیت خانہ کعبہ کی عمارت جتنی ہی ہتے۔
روایت کے مطابق قریش نے جب خانہ کعبہ کی تعمیر کا ارادہ کیا تو اعلان کیا گیا کہ اللہ کے گھر کی تعمیر میں صرف حلال رقم کا ہی استعمال کیا جائے گا، جس کے بعد لوگوں نے عطیات دیئے اور تعمیر شروع کی گئی بعد میں رقم کم پڑ گئی اور تعمیر کے دوران حطیم یا حجر اسماعیل کہلانے والا یہ حصہ عمارت میں کی چار دیواری میں شامل ہونے سے رہ گیا۔
اس وقت سے اب تک حطیم کا احاطہ ایسا ہی ہے اور کعبہ کی عمارت کے باہر ہونے کے باوجود کعبہ کا حصہ ہی ہے۔
اس احاطے میں دو رکعت نماز پڑھنے والے کے تمام گناہوں کو پروردگار عالم اپنے فضل سے معاف کردیتا ہے۔ موجودہ دور میں سعدوی حکام کی جانب سے حطیم میں داخلے کی ہر شخص کو اجازت نہیں تاہم خاص مواقع یا خاص شخصیات کو اس میں نماز پڑھنے کی اجازت دی جاتی ہے۔ اور اس حصے میں نماز پڑھنے کا ثواب بھی خانہ کعبہ کی عمارت کے اندر نماز پڑھنے کے برابر ہی ہے۔