ملائیشیا میں پھنسے پاکستانی قیدیوں کا احوال ۔۔۔۔ علی کاظم

ایک چھوٹی سی خبر میں چھپا بہت بڑا مسئلہ جسے کابینہ اجلاس کے بعد وزراء و مشیران کی میڈیا بریفنگ میں بھی ایک لائن سے زیادہ کی اہمیت نہیں دی گئی۔ معاون خصوصی برائے اطلاعات فردوس عاشق اعوان نے بتایا کہ کابینہ نے ملائیشیا کی جیلوں میں قید پاکستانیوں کی واپسی کیلئے فوری اقدامات کا فیصلہ کرتے ہوئے متعلقہ محکمے کو ہدایات جاری کردی ہیں۔

 

 یاد رہے کہ ملائیشیا کی جیلوں میں اس وقت تین سو سے زائد پاکستانی سزائیں پوری ہونے کے باوجود قید ہیں ۔ سزائیں کاٹ لی ہیں۔

 

 ان تارکین وطن کے اہل خانہ کے بہت شور مچانے پر پاکستانی ہائی کمیشن نے کچھ ماہ قبل حکومت پاکستان کو اس حوالے سے خصوصی فلائیٹ کے لئے مراسلہ لکھا تھا کہ ان قیدیوں کو رہا کروا کر پاکستان واپس بھیجا جا سکے۔ جس پر اب وفاقی کابینہ کے اجلاس میں بحث ہوئی ہے امید تو ہے کہ شاید اب ان کی واپسی کا فوری بندوبست کروایا جائے لیکن شاید اس میں بھی کچھ ہفتے لگ جائیں اور یہ قیدی یہ عید بھی شائد ملائشیاء کی جیلوں میں ہی گزاریں گے۔

ہم اپنے قارئین کو ملائیشیا میں پاکستانیوں کی کچھ حالت زار کا بتادیں، تاکہ انھیں اس مسئلے کی اہمیت کا واضح اندازہ ہوسکے۔

اسلامی ملک ملائیشیا نے مہاتیر محمد کے زمانے میں ترقی کی نئی مثالیں قائم کیں اور 80 کی دہائی تک پاکستان سے امداد لینے والے ملک میں ترقی کی رفتار کچھ اس قدر تیز ہوئی کہ عالمی اداروں نے اپنا خطیر سرمایہ وہاں لگا دیا، نتیجے میں ملائیشیا اس وقت مشرق بعید کے ترقی پذیر ممالک میں سرفہرست ہے۔

malaysia-travel-583d01ac5f9b58d5b13cec0d

پاکستان سے ملائیشیا جانے والے افراد کی تعداد میں 1998 کے بعد بے پناہ اضافہ ہوا، ابتدا میں تمام ٹیکنکل ضروریات پوری کرنے کیلئے پاکستان سے ہنر مند منگوائے جاتے تھے جو بعد ازاں حکومت کی عدم توجہی کی بناء پر صرف مزدوری کرنے والوں تک محدود ہوگئی اور اسی دوران جعلی ایجنٹس نے بھی وزٹ ویزے، جعلی ویزوں پر غیر قانونی طریقوں کے ذریعے پاکستانی نوجوانوں کو ہزاروں کی تعداد میں ملائیشیا بھیجا جو وہاں انتہائی کسمپرسی کے عالم میں زندگی گزار رہے ہیں۔

malaysia2

ملائیشیا کے موجودہ قوانین کے تحت اب ورک پرمٹ نہایت محدود تعداد میں جاری کیا جاتا ہے، یہی وجہ ہے کہ اکثریت اب بنا ویزے کے غیر قانونی طور پر وہاں رہنے پر مجبور ہے، 800 رنگٹ (  ایک رنگٹ تقریبا 34 روہے کے برابر) سے 1500 رنگٹ کی تنخواہ پانے والے یہ پاکستانی ملائیشیا میں کنسٹرکشن، دکانوں، ڈیپارٹمنٹل اسٹورز اور مختلف فیکٹریوں میں چوری چھپے کام کررہے ہیں اور اخراجات نکال کر ان کے پاس بمشکل 500 سے 700 رنگٹ ( 17 سے 22 ہزار روپے) کی ہی بچت ہوپاتی ہے۔

فیکٹری مالکان اور ٹھیکیدار ان پاکستانیوں کے جعلی ویزوں کی اصلیت جانتے ہیں اسی وجہ سے تنخواہوں کی ادائیگی میں تاخیر ڈرانا دھمکانا معمول ہے جبکہ آئے دن پولیس اور امیگریشن کے چھاپوں کی وجہ سے بھی ملائیشیا میں پاکستانی ایک عذاب کا شکار ہیں اور وہاں ہمارے پاکستانی ہائی کمیشن کا کردار و کارکردگی اس لحاظ سے نہ ہونے کے برابر ہے۔

Illegal_midvalley0607

اب اگر ملائیشین پولیس کی جانب سے یہ غیر قانونی طور پر مقیم پاکستانی پکڑے جاتے ہیں تو یا تو انھیں بھاری رشوت کے عیوض چھوڑا جاتا ہے یا امیگیشن کے حوالے کردیا جاتا ہے جو ان پاکستانیوں کو کیمپ (ملائیشین جیل) بھیج دیتی ہے۔

ان کیمپوں کا شمار دنیا کی بدترین جیلوں میں ہوتا ہے، جہاں پہنچنے والے قیدی کو لباس کے نام پر صرف ایک نیکر دی جاتی ہے، سرمونڈھ دیا جاتا ہے، بے پناہ مشقت کرائی جاتی ہے اور کسی سے ملنے کی اجازت بھی نہیں ہوتی ، دووقت کے کھانے میں ابلے ہوئے چاول اور بدبودار ابلی ہوئی تھوڑی سی سبزی دی جاتی ہے۔

hqdefault

کیمپ سے رہائی کا ایک ہی طریقہ ہے کہ پہلے قیدی اپنا جرمانہ بھریں، پھر امیگریشن والوں کو کچھ رقم اور قیدی کے ریٹرن ٹکٹ کے ساتھ پاکستانی ہائی کمیشن کا جاری کردہ آؤٹ پاس دیا جائے ( اس پورے عمل پر تقریبا 3 ہزار رنگٹ خرچ آتا ہے)  تو کہیں جاکر اس قیدی کو نیکرکےساتھ ایک ٹی شرٹ دے کر پولیس کی نگرانی میں ایئرپورٹ منتقل کیا جاتا ہے جہاں سے وہ پاکستان پہنچتا ہے اور یہاں بھی ایف آئی اے کے چنگل میں پھنس جاتا ہے۔

اس تمام صورتحال کے تناظر میں سب سے پہلے تو ضرورت اس امر کی ہے کہ حکومت پاکستان ملائیشیا کی حکومت سے بات کرکے وہاں غیر قانونی طورپرمقیم پاکستانیوں کیلئے ایمنسٹی اسکیم متعارف کروائے کہ جس نے واپس جانا ہے مقررہ مدت میں بنا کسی جرمانے کے واپس جاسکتا ہے اور جس نے وہاں رہنا ہے اسے ورک پرمٹ رعایتی فیس پر جاری کیا جائے۔

how_to_get_pakistan_visa_kuala_lumpur

موجودہ حکومت پر یہ بھی لازم ہے کہ اربوں ڈالرز کا زرمبادلہ بھیجنے والے پاکستانیوں کی حالت زار کی مسلسل خبرگیری کیلئےوزارت خارجہ، اوورسیز پاکستانیوں کی وزرات اور بیرون ممالک میں قائم ہائی کمیشنز و سفارتخانوں کوبھی ہدایات جاری کرے جنھیں کبھی توفیق ہی نہیں ہوتی کہ وہ پاکستانیوں کا حال احوال لیتے رہیں اور انھیں درپیش مشکلات کے خاتمے میں اپنا کردار ادا کریں کیونکہ لاکھوں پاکستانی مختلف ممالک میں کم وبیش ایسی ہی صورتحال سے دوچار اور حکومت کی جانب امید بھری نگاہوں سے دیکھ رہے ہوتے ہیں۔

Share This Article

تازه ترین