سانحہ 12 مئی کروانے کے پیچھے کون سی قوتیں کارفرما تھیں اسکا تعین آج تک نہیں ہوسکا، کہیں متحدہ قومی موومنٹ کے جھنڈے لے کر کوئی کارروائی کرتا نظر آیا تو کہیں پیپلز پارٹی اور عوامی نیشنل پارٹی کے جھنڈا بردار لوگ گاڑیوں کو آگ لگاتے نظر آئے۔
یہ بات عیاں ہے کہ کوئی بھی سیاسی پارٹی یا اس کے کارکنان کم از کم جھنڈے لے کر جلاؤ گھیراؤ نہیں کرتے بلکہ جھنڈوں کو عیاں کرنا ہی اس بات کا ثبوت ہے کہ یہ عناصر کسی اور ہی سازش کا حصہ تھے جو معاملے کو سیاسی رنگ دینے کی کوشش کرتے رہے۔

واقعہ سب کو یاد ہے 12 مئی 2007 کو وکلاء تحریک اپنے عروج پر تھی، اُس وقت کے غیر فعال چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری سندھ ہائی کورٹ کی 50ویں سالگرہ کے موقع پر کراچی آرہے تھے کہ اس موقع پر شہر کو خون سے نہلا دیا گیا۔
معزول چیف جسٹس کی کراچی آمد پر اپوزیشن جماعتوں کے کارکنان استقبال کے لیے نکلے اور کئی مقامات پر اُس وقت کی حکومتی اور اپوزیشن جماعتوں کے کارکنوں میں مسلح تصادم شروع ہوا۔

شہر کی شاہراہوں پر اسلحے کا آزادانہ استعمال دیکھنے میں آیا اور خون ریزی میں وکلاء سمیت 48 افراد شہر کی سڑکوں پر دن دہاڑے قتل کردیئے گئے تھے۔
ان واقعات میں 130 سے زائد افراد زخمی بھی ہوئے جبکہ درجنوں گاڑیاں اور املاک بھی نذر آتش کی گئیں جس کے بعد شہر کے مختلف تھانوں میں ان افراد کے قتل کے 7 مقدمات درج ہوئے۔

تقریباً ڈھائی سال قبل پولیس نے ساتوں مقدمات کے چالان انسداد دہشت گردی کی عدالتوں میں جمع کرایا، جس میں اُس وقت کے مشیر داخلہ اور موجودہ میئر کراچی وسیم اختر سمیت 55 سے زائد ملزمان نامزد ہیں اور تمام ضمانت پر رہا ہیں
سانحہ 12 مئی کے حوالے سے کراچی پولیس چیف ڈاکٹر امیر شیخ کہتے ہیں کہ پورے کراچی میں 65 مقدمات درج ہوئے تھے اور اب تک 36 مقدمات کا چالان عدالتوں میں جمع کرایا جاچکا ہے اور حالیہ 3 ماہ میں سانحہ 12 مئی کے کافی ملزمان کی گرفتاریاں ہوئی ہیں۔

انہوں نے کہا کہ سانحے سے متعلق ڈیجیٹل لائبریری سے استفادہ کیا جا رہا ہے اور ڈیوٹی پر موجود پولیس اہلکاروں کے بیانات لیے جارہے ہیں جب کہ مختلف ٹی وی چینلز سے آن اور آف ایئر فوٹیج لے رہے ہیں۔
اس تاریخ کے حوالے سے چیئرمین پیپلز پارٹی بلاول بھٹو نے اپنے بیان میں کہا کہ آمریت اور دہشتگردوں نے مل کر 12 مئی کو کراچی میں خون کی ہولی کھیلی، انہوں نے کہا کہ 12 مئی کے سانحے کو بھلانا ممکن نہیں ہے، پیپلز پارٹی کارکنان نے عدلیہ کی آزادی کے لیے جان کے نذرانے پیش کیے، چیئرمین پیپلز پارٹی نے کہا کہ 12 مئی میں ملوث کردار آج عمران خان کی حکومت کا حصہ ہیں، وفاقی حکومت 12 مئی میں ملوث کرداروں کی پشت پناہی کر رہی ہے۔
سانحہ 12 مئی کے بعد پیپلز پارٹی کی 5 سال حکومت رہی، پھر مسلم لیگ ن نے 5 سال پورے کیئے لیکن دونوں حکومتیں ملوث عناصر کے خلاف کوئی کارروائی نہیں کرسکیں، اور پاکستان کے بہت سے سانحات و واقعات کی طرح 12 مئی 2007 بھی ایسے ہی باتوں باتوں میں تاریخ کا قصہ پارینہ بن جائے گا۔ کوئی بھی حکومت اس بات کی تحقیقات میں دلچسپی نہیں لیتی کہ اس طرح کے واقعات میں کس کو فائدہ اور کس کو نقصان تھا اور جن کو فائدہ ہوا وہ عناصر کون ہوسکتے ہیں۔۔؟؟؟