وفاقی کابینہ کا اجلاس وزیراعظم عمران خان کی زیر صدارت ہوا جس میں 15 مئی کو ہونے والے اقتصادی رابطہ کمیٹی (ای سی سی) اجلاس کے فیصلوں کی توثیق کی گئی۔
وزیراعظم کی معاون خصوصی برائے اطلاعات ڈاکٹر فردوس عاشق اعوان کا کابینہ اجلاس کے بعد پریس کانفرنس میں کہنا تھاکہ وفاقی کابینہ اجلاس میں ڈالرکی بڑھتی قدرپرغورکیا گيا،اجلاس میں وزیراعظم نے عزم دہرایا کہ مشکل صورتحال سے نکلنے کے لیے عوام کی طاقت ساتھ ہے۔
انہوں نےکہا کہ مشیرخزانہ ماضی کی حکومتوں کےمعیشت پرخودکش حملے پرجلد ہی خود بات کریں گے، ماضی کی حکومت نے معیشت کے لیے بارودی سرنگیں بچھائیں۔
وفاقی کابینہ نے ’کامیاب جوان‘ پروگرام کی منظوری دی ہے جس کے تحت نوجوانوں کے لیے روزگار کے مواقع پیدا کیے گئے ہیں، اس پروگرام میں خواتین کے لیے 25 فیصد کوٹا رکھا گیا ہے، بینک پانچ لاکھ تک چھ فیصد اور پانچ سے پچاس لاکھ تک آٹھ فیصد شرح سود پر قرض دیں گے۔
معاون خصوصی برائے اطلاعات نے بتایا کہ پنجاب اور کے پی کے میں نیا لوکل گورنمنٹ بل متعارف کرادیا گیا ہے، اسلام آباد میں لوکل گورنمنٹ بورڈ کی تعیناتی کی منظوری دی گئی ہے اوراسد عمرکو اسلام آباد لوکل بورڈممبرتعینات کیا گیا ہے۔
ڈاکٹر فردوس عاشق اعوان کا کہنا تھا کہ شہید ذوالفقار علی بھٹو یونیورسٹی کے وائس چانسلر اور کراچی کی بینکنگ کورٹ کے جج کی تعیناتی کی منظوری بھی دی گئی،کابینہ اجلاس میں فیصلہ کیا گیا کہ وفاق کے تحت نئی تعلیمی پالیسی ترتیب دی جائے گی، وزیرتعلیم آئندہ چند روز میں اس پر بریفنگ دیں گے۔

بعد ازاں وزیراعظم کے معاون خصوصی برائے امور نوجوانان عثمان ڈار کا وڈیو بیان میں کہنا تھا کہ ملک بھر کےنوجوانوں کے لیےاچھی اوربڑی خبر ہے کہ وزیراعظم کے بعد کابینہ نے بھی کامیاب جوان پروگرام کی توثیق کردی ہے۔
انہوں نے کہا کہ مشکل معاشی حالات کے باوجود "کامیاب جوان” پروگرام کے لیے 100 ارب روپیہ مختص کردیا گیا ہے، کابینہ سے خطیر رقم کی منظوری نوجوانوں کی بڑی کامیابی ہے۔