داتا دربارخود کش حملےکی تحقیقات میں اہم پیشرفت سامنےآئی ہے،سی ٹی ڈی نےلاہورمیں بھاٹی گیٹ کے علاقے سے ایک سہولت کارمحسن خان کو گرفتار کیا ہےہے،جو شبقدرچارسدہ کا رہائشی ہے،ملزم سے دھماکہ خیزمواد بھی برآمد ہوا ہے۔
سی ٹی ڈی ذرائع کا کہنا ہےکہ داتا دربارسانحےکےخود کش حملہ آورکی شناخت بھی ہوگئی ہے، خودکش حملہ آورصادق اللہ مہمند افغانستان کارہائشی تھا،جو افغان پاسپورٹ پر6 مئی کو طورخم بارڈر سے پاکستان میں داخل ہوا تھا۔
ذرائع کےمطابق خود کش حملہ آورکو طیب اللہ نامی شخص نےطورخم بارڈر سےلیا اوراسےلاہورلایا گیا، دونوں نے7 مئی کوسہولت کارمحسن اورنورزیب کےگھرقیام کیا تھا۔
یاد رہے چند روز قبل سیکیورٹی اداروں نے بروقت کارروائی کرتے ہوئے داتا دربار خود کش حملے کے چاردیگرسہولت کاروں کوگرفتارکرکے نامعلوم مقام پر منتقل کردیا تھا ۔
رکشہ ڈرائیورکی نشاندہی پردونوں سہولت کاروں تک رسائی ملی تھی،ملزمان دھماکے کی صبح سوا چھے بجےداتا دربارمیں دیکھےگئے،سیاہ شلوارقمیض پہنے ایک سہولت کارنےسلیپر، جبکہ دوسرے نے چپل پہن رکھےتھے، خودکش بمبارنےبھی کالے کپڑے پہن رکھے تھے۔

واضح رہے 8 مئی کو داتا دربار کے قریب ایلیٹ فورس کی گاڑی کے قریب دھماکے کے نتیجے میں 5 پولیس اہلکاروں سمیت 12 افراد شہید ہوگئے تھے ، آئی جی پنجاب نے بتایا تھا ایلیٹ فورس کی گاڑی پرحملہ آورنےخودکش حملہ کیا، دھماکےمیں 7 کلو دھماکا خیز مواد استعمال کیا گیا تھا۔
بعد ازاں پنجاب حکومت نے سانحہ داتا دربار خودکش حملے کی تحقیقات کے لیے جے آئی ٹی تشکیل دے دی تھی، جاری کردہ نوٹیفکیشن کے مطابق جے آئی ٹی کے سربراہ سی ٹی ڈی کے ایس پی صہیب اشرف مقرر کیئے گئے، ٹیم میں آئی بی، آئی ایس آئی اور ایم آئی کے نمائندے شامل کیئے گئے تھے۔