پاکستان اور چین نے اپنے دوستی کے سفر کا آغاز 21 مئی 1951 سے کیا، یہ رشتہ وقت کے ساتھ ساتھ مضبوط ہوتا رہا اور آج 68 برس گزرنے کے بعد بھی دونوں ممالک کے درمیان مثالی دوستی قائم ہے۔
پاکستان سن 1947 میں قائداعظم کی قیادت میں آزاد ہوا جبکہ چین 1949ء میں ماؤزے تنگ کی سربراہی اور اُن کے لانگ مارچ کے ثمرات کے نتیجہ میں آزاد ہوا، 1949ء میں چین کی آزادی کے ساتھ ہی پاکستان اور چین کے تعلقات بہتری کی طرف گامزن ہونا شروع ہو گئے تھے۔ پاکستان دنیا کا وہ واحد ملک تھا جس نے نے چین کی آزادی کو سب سے پہلے تسلیم کیا یہی سے دونوں ممالک کے درمیان رشتے استوار ہونا شروع ہوئے۔
پاکستان اور چین ایک دوسرے کے ساتھ معاشی، اقتصادی، اسلحہ اور توانائی سمیت دیگر منصوبوں پر تعاون کرتے رہتے ہیں۔ چین کے اشتراک سے پاکستان میں اقتصادی راہداری کا سب سے بڑا منصوبہ ’’سی پیک‘‘ جاری ہے جو پاکستان کی تقدیر کو بدل دے گا، اس منصوبے کو ناکام بنانے کے لیے بھارت سمیت دیگر ممالک سے سازشیں کیں مگر دونوں ممالک کی قیادتوں نے مل کر دشمن کے عزائم کو ہمیشہ خاک میں ملایا۔
پاکستان پر جب بھی آزمائش کا وقت پڑا چین سے سب آگے بڑھ کر مدد کی، 1965 میں جب بھارت نے دراندازی کی کوشش کی تو چین نے پاکستان کی بھرپور مدد کی اور دوستی کا حق نبھایا جس کی وجہ سے بھارت کے خواب چکنا چور ہوئے اور اُسے شکستِ فاش سے دوچار ہونا پڑا۔
اسی طرح 1971 میں جب بھارت نے مشرقی پاکستان میں مکتی باہنیوں کو ورغلا کر بنگلا دیش کو پاکستان سےعلیحدہ کروایا توچین اُس کے بعد بھی پاکستان کے شانہ بشانہ کھڑا ہوا اورنازک صورتحال سے نکالنے میں پاکستان کا بھرپور ساتھ دیا جس کے بعد دونوں ممالک اور بھی قریب آگئے۔
حیران کن طور پر جب 1949 میں چین آزاد ہوا تو امریکا اور چین کے تعلقات کشیدہ تھے البتہ پاکستان نے کئی سالوں تک مسلسل جدوجہد کر کے امریکا کو کشیدگی ختم کرنے پر رضا مند کیا اور اُس وقت کے امریکی وزیر خارجہ ہنری کسنجر نے چین کا دورہ بھی کیا تھا۔
پاک چین دوستی کے سال بہ سال اہم واقعات
1990 میں پاکستان مسلم دنیا کا پہلا اور نان کمیونسٹ ممالک میں تیسرا ملک تھا جس نے جمہوریہ چین کی آزادی کو تسلیم کیا
1951 پاکستان اور چین کے مابین لازوال سفارتی تعلقات کا آغاز ہوا جس پائیدار دوستی میں بدل گیا۔
1956 وزیر اعظم پاکستان حسین شہید سہروردی اور چینی وازیراعظم ژو ااینلائی نے بیجنگ میں دوستی کے معاہدے پر دستخط کیئے۔
1963 پاکستان نے ٹرانس قراقرم ٹریکٹ کو سنبھالتے ہوئے سرحدی تنازع ختم کردیا۔
1970 پاکستان نے امریکی صدر نکسن کے 1972 میں دورہ چین کی راہ ہموار کی۔
1978 پاکستان کے شمالی علاقہ جات سے گزرتی ہوئی چین کی سرحد جانے والی قراقرم ہائی وے باقاعدہ کھول دی گئی۔
1980 چین اور امریکہ نے پاکستان کے ذریعے روس کے خلاف افغان گوریلا جنگ کی معاونت کا آغاز کیا۔
1986 پاکستان اور چین کے مابین نیوکلیئے تعاون کا معاہدہ ہوا۔
1996 چینی صدر جیانگ ژمن نے پاکستان کا سرکاری دورہ کیا۔
1999 پنجاب میں چین کے تعاون سے 300 میگاواٹ کے نیوکلیئر پاور پلانٹ کا افتتاح ہوا۔
2001 پاک چائنہ مشترکہ ایم بی ٹی۔2000 الخالد ٹینک سازی کا آغاز ہوا۔
2002 گوادر ڈیپ سی پورٹ کی تعمیر کا آغاز ہواچین اس میں مرکزی سرمایہ کار تھا۔
2003 ملتان روڈ لاہور میں 11 کروڑ ڈالر کے مشترکہ ہاؤسنگ منصوبے کے معاہدے پر دستخط ہوئے۔
2007 مشہور زمانہ جے ایف تھنڈر طیارہ سازی کا چین کے تعاون سے آغاز ہوا۔
2008 پاک چین فری ٹریڈ معاہدے پر دستخط کیئے گئے۔
2008 پاک بحریہ میں چین کے تعاون سے تیارکردی ایف-22 جہاز شامل کیا گیا۔
2010 پاکستان اور چین نے انسداد دہشت گردی کی مشترکہ مشقوں کا آغاز کیا۔
2010 چین نے سیلاب زدگان کی امداد کیلئے 26 کروڑ ڈالرز اور چار ریسکیو ہیلی کاپٹرز دیئے۔
2010 چینی وزیر اعظم وین جیاباؤ نے پاکستان کا دورہ کیا اور 30 ارب ڈالرز کے معاہدوں پر دستخط کیئے گئے۔
2011 پاکستان نے فضا سے فضا میں مار کرنے والے ایس ڈی-10 میزائل کی خریداری کا پروگرام بنایا۔
2013 گوادر پورٹ کے انتظامی اختیارات سنگاپور کمبپنی سے لے کر چینی کمپنی کو دے دیئے گئے، جس پر بھارت نے بہت واویلا مچایا۔
2013 چینی وزیر اعظم لی کی چیانگ نے پاکستان کا سرکاری دورہ کیا،پہلی بار پاک چین تجارتی حجم 12 ارب ڈالر تک جاپہنچا۔
2013 جولائی کی 5 تاریخ پاک چین اقتصادی راہداری سی پیک منصوبے کا آغاز ہوا اربوں ڈالرز کے معاہدے کیئے گئے۔
2013 دسمبر کی 24 تاریخ، چین نے کراچی میں ساڑھے 6 ارب ڈالر کی لاگت سے 11 سو میگاواٹ کے نیوکلیئر پاور منصوبے میں سرمایہ کاری کی۔
2014 میں چینی وزیراعظم نے پاکستان میں توانائی اور مواصلات کے شعبے میں 31 ارب 50 کروڑ ڈالر کی سرمایہ کاری کا اعلان کیا۔
2014 میں لاہور میں اورنج لائن میٹرو ریل پراجیکٹ کیلئے 1 ارب 27 کروڑ ڈالرز کے معاہدے پر دستخط کیئے گئے۔
2014 نومبر میں پاک چینی اقتصادی راہداری منصوبے میں توسیع کرتے ہوئے اس کا حجم 42ارب ڈالرز کردیا گیا جبکہ پاکستان نے زین جیانگ تنازع کے حل میں معاونت کی۔
2015 اپریل میں چینی صدر ژی جن پنگ نے اعلیٰ سطح وفد کے ہمراہ پاکستان کا دورہ کیا اور اس دوران اربوں ڈالرز کی 51 مختلف مفاہمتی یادداشتوں پردستخط کیئے گئے۔
2015 پاک چین دوستی کے نام پر پاکستان میں 20 روپے کے سکے کا استعمال شروع ہوا جس پر دونوں ممالک کے جھنڈے بنے ہوئے ہیں۔
پاک چین دوستی کا یہ 68 برسوں کا سفر اور اس کی تاریخ بتاتی ہے کہ دونوں ممالک نے کبھی ایک دوسرے کو تنہا نہیں چھوڑا، یہی دوستی کی بلندی ہوتی ہے یہ الگ بات ہے کہ بین الاقوامی طور پر پاک چین دوستی توڑنے اور آپس میں اختلافات پیدا کرنے کی بے شمار سازشیں کی گئیں لیکن اس دونوں حکومتوں نے کبھی کسی سازش کو کامیاب نہیں ہونے دیا۔