بھارت میں نریندر مودی کی سرکار، پھر سے ایک بار،کانگریس نے تسلیم کی اپنی ہار

بھارتی لوک سبھا کی 542 نشستوں کے لیے 7 مراحل میں ہونے والے انتخابات میں ووٹوں کی گنتی مکمل ہوگئی جس کے مطابق نریندر مودی کی جماعت بھارتیہ جنتا پارٹی اور اس کی اتحادی جماعتوں نے واضح برتری حاصل کرلی ہے۔

 

بھارتی میڈیا کے مطابق لوک سبھا کی 543 میں سے 542 نشستوں پر ہونے والے انتخابات کی ووٹنگ مکمل کرلی گئی جس میں انفرادی طور پر بھارتیہ جنتا پارٹی نے 300، کانگریس نے 52، اے ڈی ایم کے نے 23، شیو سینا 18 اور دیگر چھوٹی بڑی جماعتوں نے 102 نشستیں حاصل کیں۔

 

غیرحتمی اورغیرسرکاری نتائج کےمطابق بھارتیہ جنتا پارٹی کے اتحاد ‘نیشنل ڈیمو کریٹک الائنس’ نے مجموعی طور پر 345 نشستیں حاصل کیں جس کے مقابلے میں انڈین نیشنل کانگریس کے اتحاد ‘یونائٹیڈ پروگریسیو الائنس’ نے94 نشستیں حاصل کیں۔

 

حکومت بنانے کے لیے کسی بھی جماعت کو 272 نشستیں درکار ہوتی ہیں اور بی جے پی نے انفرادی طور پر مطلوبہ تعداد سے زیادہ 300 نشستیں حاصل کرلی ہیں۔

 

الیکشن کمیشن کی جانب سے باضابطہ اعلان کے بعد بی جے پی باآسانی مسلسل دوسری مرتبہ حکومت بنانے میں کامیاب ہوجائے گی۔

 

کانگریس رہنما راہول گاندھی نے شکست تسلیم کرلی

 

کانگریس کے سربراہ راہول گاندھی نے بھی انتخابات میں اپنی شکست کو تسلیم کرتے ہوئے وزیراعظم نریندر مودی کو مبارکباد پیش کی اور کہا کہ عوام سب سے بڑے فیصلہ ساز ہیں۔

کانگریس کے صدر راہول گاندھی کو اس الیکشن میں بڑا دھچکا لگا ہے، انہیں امیٹھی میں کانگریس کے گڑھ سے بی جے پی کی امیدوار اور اداکارہ سمرتی ایرانی نے ہرایا۔

پریانکا گاندھی نے بھی نریندر مودی کو مبارکباد دیتے ہوئے کہا کہ عوام کے فیصلے کی قدر کرتے ہیں۔

 

کامیابی پورے ملک اور جمہوریت کی فتح ہے، نریندر مودی

 

الیکشن میں بھاری اکثریت سے کامیابی کے بعد بھارتی وزیراعظم نریندرمودی نے بی جے پی ہیڈکوارٹرز میں کارکنوں سے خطاب کیا جہاں جشن کا خصوصی انتظام کیا گیا تھا۔

 

اپنے خطاب میں مودی نے کہا کہ کئی الیکشن ہوئے لیکن اس الیکشن میں سب سے زیادہ ووٹنگ ٹرن آؤٹ رہا، ہم نے کبھی اپنے اصولوں پر سمجھوتا نہیں کیا، شکست پر بھی کبھی ہم نے دل چھوٹا نہیں کیا، یہ کامیابی کسی ایک کی نہیں پورے ملک اور جمہوریت کی فتح ہے۔

 

یاد رہے کہ 2014 میں حکومت بنانے والی جماعت بھارتیہ جنتا پارٹی اور اس کے اتحادیوں نے 336 نشستیں حاصل کی تھیں جب کہ اپوزیشن جماعت انڈین نیشنل کانگریس کو 60 نشستیں ملی تھیں۔

 

پاکستان پر 27 فروری کو بھارتی فضائیہ کے حملے کی اجازت دینے کے حوالے سمیت مودی جی کے بہت سے ایسے کارنامے ہیں جن پر بھارتی پریشان رہے کہ وہ ان کی بے وقوفی پر ہنسیں یا نادانی پر روئیں، جبکہ تجزیہ کاروں کا یہی کہنا رہا کہ اگر مودی جیسے لوگ دوبارہ اقتدار میں آجائیں تو یہ پاکستان کے حق میں اس لیئے بہتر ہے کہ ایسے بھارتی حکمراں اپنی بے وقوفیوں سے خود کو ذلیل اور پاکستان کے اصولی مؤقف کو اجاگر کرنے میں معاون رہیں گے۔

Share This Article

تازه ترین