کیا ہمارے احساسات کی موت ہوچکی ہے۔۔۔!!! تحریر: علی کاظم

 

 

اسلام آباد کے علاقے شہزاد ٹاؤن کی رہائشی 10 سالہ فرشتہ مہمند کے ساتھ زیادتی اور بیہیمانہ قتل کی جب خبریں پھیلنا شروع ہوئیں تو کچھ لوگوں نے اس کی مذمت کی تو کچھ لوگ اس واقعہ کو لسانیت اور علاقائی تعلق کی بنا پر متنازع بنانے کی مذموم کوششوں میں مصروف ہوگئے۔

 

واقعہ سامنے آنے کے بعد ہونا تو یہ چاہیئے تھا کہ فورا متعلقہ پولیس حکام اس کا نوٹس لیتے اور ذمہ داران کا تعین کرکے انھیں قرار واقعی سزا دلوانے میں اپنا وہ کردار ادا کرتے جس کیلئے انھیں تعینات کیا گی ہے، لیکن ایسا نہیں ہوا۔ محسوس یہی ہوا کہ ان کے بھی احساسات کی موت ہوچکی اور ان پر کسی مظلوم کی کسی آہ وزاری کا کوئی اثر نہیں ہوتا۔

 

پولیس کو واقعہ کی سنگینی کا بروقت احساس کیوں نہیں ہوا۔۔۔؟؟

 

یہ ایک بڑا سوالیہ نشان ہے جس کا جواب فقط اس واقعہ کا محتاج نہیں بلکہ پاکستان میں انسانیت کی تذلیل اور معصوم بچیوں کو ہوس کا نشانہ بنانے کے دیگر تمام واقعات اس بات کے شاہد ہیں کہ کبھی بھی متعلقہ حکام کو فوری ہوش نہیں آیا۔

 

یہ سوئے ہوئے افسران، یہ ذمہ داران اس وقت بدحواس ہوتے ہیں جب کسی حکومتی عہدیدار کی جانب سے یا عدالت کی جانب سے واقعہ کا نوٹس لیا جاتا ہے، پھر ان کی دوڑیں لگتی ہیں، یہی کام اگر وہ اپنی ذمہ داری سمجھتے ہوئے واقعہ کی اطلاع ملتے ہی کرلیں تو شاید ان کا روزگار حلال ہوجائے گا، اورلگتا ایسے ہے کہ حلال کی روزی ان جیسے افسران سے ہضم نہیں ہوتی۔

 

یہ سچ ہےکہ فرشتہ مہمند کے معاملے کو اس حد تک خراب کرنے کی ذمہ داری اگرچہ ہمارے سماجی نظام کی ہے لیکن اس کے زیادہ ذمہ دارمحکمہ پولیس کے اہلکار ہیں جن کی کوتاہی نے معاملے کو اس نہج تک پہنچا دیا کہ ایک معصوم درندگی کا شکار بن گئی۔

ہم سمجھتے ہیں کہ اس واقعہ کا نوٹس لینے کی ضرورت وزیراعظم کو کبھی پیش ہی نہیں آنی چاہیئے تھی، بلکہ کوئی بھی مظلوم، انصاف کا متلاشی جب کبھی داد رسی کیلئے پاکستان کے کسی بھی تھانے میں جائے اور وہاں اس کی سنوائی نہ ہو تو اعلیٰ افسران کو فوری نوٹس لینا چاہیئے، لیکن افسوس ایسا ہوتا نہیں ہے۔

 

ملک میں پولیس نظام کی بات کریں تو اسٹیشن ہاؤس آفیسر ( ایس ایچ او) دراصل علاقے کا بادشاہ ہوتا ہے وہ جب چاہے جو چاہے کرے، نہ چاہے تو کچھ نہ کرے اس سے پوچھنے والا کوئی نہیں ہوتا۔ جس کے خلاف چاہے پرچہ درج کرکے اسے بے قصورالٹا لٹکا دے اور چاہے تو بڑے بڑے مجرموں کے ساتھ عیش و عشرت کی دعوتوں میں مدہوش رہے۔ پولیس سسٹم کے تحت ان ایس ایچ او سے اوپر ڈپٹی سپرٹنڈنٹ آف پولیس ( ڈی ایس پی )، ان سے اوپر سپریٹنڈنٹ آٖ پولیس ( ایس پی )، پھر ایس ایس پی، ان سے اوپر ڈی آئی جی اور پھر آئی جی یعنی پولیس کا سربراہ ہوتا ہے۔

 

اب پولیس افسران کی اس پوری لائن کو دیکھیں تو اصولی طور پر ہر بڑا افسر اپنے سے چھوٹے افسر کی کوتاہی، غیر ذمہ دری اور فرائض سے غفلت کا ذمہ دار ہے لیکن انھیں ذمہ دار شاید چند ایک ہی واقعات میں قرار دیا جاتا ہے ہزاروں لاکھوں واقعات تو رپورٹ بھی نہیں ہوتے۔

 

یہ بھی حقیقت ہے کہ پاکستان میں دہشت گردی کے خلاف جنگ میں پولیس کا کردار یقینا قابل ستائش رہا ہے اور ایسا نہیں کہ پورا محکمہ پولیس ہی خراب ہے بلکہ فرض شناس ، دیانتدار اور وطن پرست اہلکاروں اور افسران کی کمی نہیں لیکن یہ بھی سچ ہے کہ محکمہ پولیس کی اکثریت امن و امان کے قیام، مظلوم کا ساتھ دینے اور ظالم کو سزا دینے کے معیار کی اہلیت پر پوری ہی نہیں اترتی ۔

 

ہم اس حقیقت کا ادراک بھی رکھتے ہیں کہ موجودہ حکومت نے جب سے اقتدار سنبھالا ہے اسے اقتصادی بحران، معاشی مسائل اور بدعنوان عناصر کی سرکوبی جیسے بڑے مسائل کا سامنا ہے، پھر اندرونی و بیرونی دشمنوں کی سرکوبی، سیاسی محاذ آرائیوں سے نمٹنے سمیت بہت سے مسائل سے نبزدآزما حکومت کا یہ کام نہیں کہ وہ علاقائی طح پر ہونے والی اس طعح کی ناانصافیوں کا نوٹس لے کر اپنی توانائی ضایع کرتی رہے۔

 

لیکن فرشتہ مہمند کا واقعہ منظر عام پر آنے کے کئی دن بعد تک بھی متعلقہ پولیس افسران کی مجرمانہ خاموشی نے وزیراعظم پاکستان کو نوٹس لینے پر مجبور کیا اور پھر سب نے دیکھا کیسے ذمہ داران کا تعین بھی شروع ہوگیا اور ملزمان کی سرکوبی بھی۔

 

ان جیسے معاملات اور واقعات سے نمٹنے کیلئے ہماری چند تجاویز حکومت کیلئے ہیں جن پرعملدرآمد بہت سارے معاملات کو رفتہ رفتہ سلجھانے اور مکروہ جرائم کی روک تھام میں مددگار ثابت ہوسکتا ہے، اور امید ہے پھر کوئی فرشتہ کسی شیطان کی بھینٹ چڑھنے سے بچ سکے گی۔

 

ہماری پہلی تجویز ہے کہ حکومت تمام صوبوں کیلئے یہ پالیسی بنائے کہ ایسے کسی بھی واقعہ یا مظلوم کی داد رسی نہ کرنے کے جرم میں کم از کم علاقہ تھانیدار سے لے کر ایس ایس پی سطح تک کے افسران کو بھی سزاوارقراردیا جائے گا اور ان کے خلاف ایسا ایکشن ہو جس سے ان کو مستقبل میں دوبارہ جرات نہ ہو کہ وہ فرئض سے غفلت کا سوچ بھی سکیں۔

 

اس وقت سب سےبڑامسئلہ ہےکہ ہرعلاقےمیں تعینات تھانیداریا تودوسرے صوبے سے ہیں یا دوسرے شہر سے جنھیں اس بات سے غرض نہیں ہوتی کہ علاقے میں جرائم ختم ہوں یا نہ ہوں اسے صرف اپنے ہفتے اور مہینے کی اوپر کی کمائی سے مطلب ہوتا ہے، ایک آرڈیننس کے ذریعے تمام صوبائی حکومتوں کو پابند کیا جانا چاہیئے کہ علاقہ تھانیدار اسی علاقے کا لازمی رہائشی ہو کیونکہ وہ اپنے علاقے سے نہ صرف واقف ہوتا ہے بلکہ اس کی آنکھوں میں کچھ شرم کچھ لحاظ ہوتا ہےکہ وہ جرائم کی سرکوبی  مکمل دیانتداری اور سنجیدگی سے کرے کہ اسے اسی علاقے میں رہنا ہے اوراس کے اہل خانہ بھی وہیں کے مکین ہوتے ہیں۔

 

پاکستان کے تھانے ایسا منظر پیش کرتے ہیں جہاں جرائم پیشہ کی آمد و رفت تو اطمینان بخش لیکن شریف و قانون پسند شہری کسی مسئلے کی رپورٹ کیلئے جانے سے ڈرتا ہے، ماڈل پولیس اسٹیشن کے قیام کی باتیں گذشتہ 30 برسوں سے سنتے آرہے ہیں لیکن پاکستان میں شاید ایک بھی ایسا تھانہ نہیں جسے ماڈل کہا جاسکے، سب سے پہلے تھانوں کی حالت سدھارنے پر توجہ دی جائے بے شک لاک اپ اور قیدیوں کو رکھنے کی جگہ کو عبرتناک بنایا جائے لیکن کم ازکم رپورٹنگ ایریا کو تو ایسا ہونا چاہیئے کہ ہر شخص بنا کسی ڈر و خوف کے وہاں جاسکے۔

پارلیمنٹ میں اگر ممکن نہیں تو صدارتی آرڈیننس کے ذریعے ایسا حکم نافذ کیا جائے کہ کم از کم زنا کے ملزم کا مقدمہ ایک ہفتے میں نمٹا کر اسے سرعام پھانسی نہ صحیح جیل میں ہی پھانسی دی جائے گی، اسی طرح خواتین کو ہرساں کرنے کے ملزم کیلئے بھی سخت سزا کے تعین اور اس پر عملدرآمد یقینی بنایا جائے، کیونکہ سخت سزا کا خوف بہت سے جرائم کے رونما ہونے سے پہلے ہی ان کی روک تھام میں بہترین معاون ثابت ہوسکتا ہے۔

 

یہ چند ایسی تجاویز ہیں جن کےنفاذ میں کوئی مشکل نہیں بلکہ ان پرعمل حکومت کو بہت سی مشکلات سے نجات دیتے ہوئے دیگر اہم امور پر مکمل توجہ دینےکے قابل بنادے گی۔

 

ساتھ ہی عوام کو بھی یہ سوچنا ہوگا کہ ایسے کسی بھی دلسوز واقعہ کو لسانیت، علاقائی تعصب، مذہب و مسلک کا رنگ دینے والوں کی سرکوبی میں کوتاہی نہ کریں بلکہ ایسے لوگوں کی شدید مذمت کرتے ہوئے ان سے اظہار بیزاری اور ان پر لعن طعن کیا جائے اس عمل سے ملک میں انتشار پھیلانے کی ان مکروہ عناصر کی کوششیں رائیگاں جائیں گی ، ہمیں ایسے کم ظرف لوگوں اور پاکستان کی دشمن قوتوں کو اپنے اتحاد و یگانگت سے یہ بتانا ہوگا کہ ہم ایک ہیں رنگ، نسل، زبان، علاقہ ہماری پہچان ہیں ہمارا اختلاف نہیں۔

 

 

Share This Article

تازه ترین