وصی رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم، فاتح بدر، و احد، خندق و خیبر، حضرت علی کرم اللہ وجہہ 21 رمضان المبارک کو کوفہ میں شہید ہوئے۔

انیسویں روزے کی سحری کے بعد مسج کوفہ میں نماز فجر کا پہلا ہی سجدہ تھا جب ایک لعین عبدالرحمٰن ابن ملجم نے زہر میں بجھی ہوئی تلوار سے حضرت علی کرم اللہ وجہہ کے سر پرضرب لگائی، جس کے بعد حضرت علی کرم اللہ وجہہ نے 21 رمضان المبارک کو شہادت پائی۔

اگرچہ بنو امیہ کے دور میں حضرت علی کرم اللہ وجہہ کے بے شمار فضائل کو ضایع کیا گیا لیکن آج بھی مسلمانوں کے تمام مسالک کی مستند کتب میں ان کے فضائل کی اتنی تعداد ملتی ہے جس کا شمار ممکن نہیں ہے۔

اگر یہ کہا جائے کہ حضرت علی کرم اللہ وجہہ کی منزلت و فضیلت مسلمانوں سے چھپا کر دشمنوں نے تمام مسالک پر ظلم کیا، کیونکہ  علی کرم اللہ وجہہ پر فقط اہل تشیع کی اجارہ داری تو نہیں ہے ، یہ تو  مسلمانوں کے تمام مسالک کیلئے اتنے ہی معتبر اور محترم ہیں لیکن دشمنوں نے اپنی سازشوں سے حب علی کرم اللہ وجہہ کو ایسا  متناازع بنانے کی کوشش کی کہ مسلمانوں کے تمام مسالک ایک ایسے اختلاف کا شکار ہوگئے جس کی کوئی بنیاد ہی نہیں ہے۔ لیکن شکر پروردگار کا کہ اب تمام مسالک کو سمجھ آرہی ہے اور اتحاد  بین المسلمین کو فروغ مل رہا ہے۔

ہم یہاں اپنے قارئین کیلئے حضرت علی کرم اللہ وجہہ کے فضائل سے متعلق ان احادیث رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو نقل کررہے ہیں جو تمام مسالک کے درمیان متفق الیہ ہیں۔

 

 

 

 

”حدیث غدیر

 

اس حدیث کو اکثر صحابہ وتابعین نے روایت کیا ھے اور بہت سے علماء وحفاظ نے اس کو نقل کیا ہے، بطور اختصارہم صرف حدیث کے محل شاہد اور ان چیزوں کو بیان کرتے ھیں جو امامت وامام کی وضاحت سے متعلق ہیں۔

 

اکثر راوی کہتےہیں:

 

”جب ہم حجة الوداع سےواپس پلٹ رہےتھے، اورغدیرخم میں پہنچے تو رسول اللہ صلیہ اللہ علیہ وآلہ وسلم نےنمازظہرکےبعد مسلمانوں کےدرمیان خطبہ دیا اورحمد باری تعالیٰ کے بعد فرمایا:

”اے لوگو!  قریب ہےکہ میں اپنے پروردگارکی دعوت پر لبیک کہوں میں بھی مسئول ہوں اورتم بھی مسئول ہو، پس تم لوگ کیا کہتےہو؟

تب لوگوں نےکہا:  ”ہم گواہی دیتےہیں کہ آپ نے دین اسلام کی تبلیغ کی، ہم کو وعظ ونصیحت کی اورجہاد کیا، ”فجزاک اللّٰہ خیراً“

 

یہاں تک کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نےفرمایا:

 

اللہ میرا مولا ہے اورمیں تمام مومنین کا مولا ہوں اورمیں ان کےنفسوں پراولیٰ بالتصرف ہوں پس جس جس کا میں مولاہوں اس کےیہ علی بھی مولا ہیں۔

پھر دعا کیلئے ہاتھ بلند کیئے اور کہا: خدایا تواس کودوست رکھ جو علی کو دوست رکھے اوراس کو دشمن رکھ جوعلی کو دشمن رکھے، خدایا تو اس کی نصرت فرما جوعلی کی نصرت کرے، اوراس کو ذلیل کردے جوعلی کو دشمن رکھتا ہے حق علی کے ساتھ اور علی حق کے ساتھ اورجہاں جہاں علی جائیں حق کو ان کے ساتھ وہیں موڑدے۔

اورجب رسول خدا صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا یہ کلام تمام ہوا تو سب لوگ حضرت علی کرم اللہ وجہہ کی طرف مبارکباد دینے کیلئے بڑھے، چنانچہ حضرت عمررضی اللہ تعالیٰ عنہ نے کہا:

 

”بخ بخ لک یا علی، اصبحت مولانا ومولی کل مومن ومومنة“

مبارک ہو مبارک  یاعلی، آپ ہمارے اورہرمومن ومومنہ کے مولا ہوگئے۔

 

 

حضرت علی کرم اللہ وجہہ سے متعلق قول رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم:

 

’’حضرت عبد اﷲ بن عکیم رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا کہ اﷲ تعالیٰ نے شبِ معراج وحی کے ذریعے مجھے علی کی تین صفات کی خبر دی یہ کہ وہ تمام مومنین کے سردار ہیں، متقین کے امام ہیں اور (قیامت کے روز) نورانی چہرے والوں کے قائد ہوں گے۔ اس حدیث کو امام طبرانی نے ’’المعجم الصغیر‘‘ میں بیان کیا ہے۔‘‘

الحديث رقم 184 : أخرجه الطبراني في المعجم الصغير، 2 / 88.

 

 

حضرت علی کرم اللہ وجہہ کے فیصلے:

’’حضرت عمر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ان کے پاس دو بدّو جھگڑا کرتے ہوئے آئے۔ آپ رضی اللہ عنہ نے حضرت علی رضی اللہ عنہ سے فرمایا : اے ابوالحسن! ان دونوں کے درمیان فیصلہ فرما دیں۔ آپ رضی اللہ عنہ نے اُن کے درمیان فیصلہ کر دیا۔ ان میں سے ایک نے کہا کہ (کیا) یہی ہمارے درمیان فیصلہ کرنے کے لئے رہ گیا ہے؟ (اس پر) حضرت عمر رضی اللہ عنہ اس کی طرف بڑھے اور اس کا گریبان پکڑ کر فرمایا : تو ہلاک ہو! کیا تو جانتا ہے کہ یہ کون ہیں؟ یہ میرے اور ہر مؤمن کے مولا ہیں (اور) جو اِن کواپنا مولا نہ مانے وہ مؤمن نہیں۔ اسے محب الدين طبری نے روایت کیا ہے۔‘‘

الحديث رقم 68 : أخرجه محب الدين أحمد الطبری في الرياض النضره فی مناقب العشره، 3 / 128، و محب الدين احمد الطبری في ذخائر العقبی فی مناقب ذوی القربی، : 126.

 

 

 

 

اخوت :

’’حضرت عبداﷲ بن عمر رضی اﷲ عنہما سے روایت ہے کہ جب حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے انصار و مہاجرین کے درمیان اخوت قائم کی تو حضرت علی رضی اللہ عنہ روتے ہوئے آئے اور عرض کیا یا رسول اﷲ! آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے صحابہ کرام میں بھائی چارہ قائم فرمایا لیکن مجھے کسی کا بھائی نہیں بنایا۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : تم دنیا و آخرت میں میرے بھائی ہو اسے امام ترمذي نے روایت کیا ہے اور کہا : یہ حدیث حسن ہے اور اسی باب میں حضرت زید بن ابی اوفی رضی اللہ عنہ سے بھی روایت ہے‘‘

الحديث رقم 73 : أخرجه الترمذی فی الجامع الصحيح، ابواب المناقب، باب مناقب علی بن أبی طالب، 5 / 636، الحديث رقم : 3720، و الحاکم فی المستدرک علٰی الصحيحين، 3 / 15، الحديث رقم : 4288.

 

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی حضرت علی کرم اللہ وجہہ سے محبت:

 

’حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ایک مرتبہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس ایک پرندے کا گوشت تھا، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے دعا کی یااﷲ! اپنی مخلوق میں سے محبوب ترین شخص میرے پاس بھیج تاکہ وہ میرے ساتھ اس پرندے کا گوشت کھائے۔ چنانچہ حضرت علی رضی اللہ عنہ آئے اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ وہ گوشت تناول کیا۔ اس حدیث کو امام ترمذي نے روایت کیا ہے۔‘‘

الحديث رقم 100 : أخرجه الترمذي في الجامع الصحيح، ابواب المناقب، باب مناقب علي بن أبي طالب، 5 / 636، الحديث رقم : 3721، و الطبراني في المعجم الاوسط، 9 / 146، الحديث رقم : 9372، وابن حيان في الطبقات المحدثين بأصبهان، 3 / 454

 

 

’’حضرت بریدۃ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو عورتوں میں سب سے زیادہ محبوب اپنی صاحبزادی حضرت فاطمہ رضی اﷲ عنہا تھیں اور مردوں میں سے سب سے زیادہ محبوب حضرت علی رضی اللہ عنہ تھے۔ اس حدیث کو ترمذی نے روایت کیا ہے اور کہا یہ حدیث حسن ہے۔‘‘

الحديث رقم 101 : أخرجه الترمذي في ابواب المناقب باب فضل فاطمة بنت محمد صلي الله عليه وآله وسلم، 5 / 698، الحديث رقم : 3868، والطبراني في المعجم الاوسط، 8 / 130، الحديث رقم : 7258، والحاکم في المستدرک، 3 : 168، رقم : 4735.

 

 

’’حضرت سلمان فارسی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے حضرت علی رضی اللہ عنہ سے فرمایا: تجھ سے محبت کرنے والا مجھ سے محبت کرنے والا ہے اور تجھ سے بغض رکھنے والا مجھ سے بغض رکھنے والا ہے۔ اس حدیث کوامام طبرانی نے ’’المعجم الکبیر‘‘ میں روایت کیا ہے۔‘‘

الحديث رقم 114 : أخرجه الطبراني في المعجم الکبير، 6 / 239، الحديث رقم : 6097، والبزار في المسند، 6 / 488، والهيثمي في مجمع الزوائد، 9 / 132، والديلمي في الفردوس بمأثور الخطاب، 5 / 316، الحديث رقم : 8304

حضرت علی کرم اللہ وجہہ سے محبت مومن کی پہچان:

 

’ حضرت زر بن حبیش رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ حضرت علی رضی اللہ عنہ نے فرمایا: قسم ہے اس ذات کی جس نے دانے کو پھاڑا (اور اس سے اناج اور نباتات اگائے) اور جس نے جانداروں کو پیدا کیا، حضور نبی امی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا مجھ سے عہد ہے کہ مجھ سے صرف مومن ہی محبت کرے گا اور صرف منافق ہی مجھ سے بغض رکھے گا۔ اس حدیث کو امام مسلم نے روایت کیا ہے۔‘‘

الحديث رقم 117 : أخرجه مسلم في الصحيح، کتاب الإيمان، باب الدليل علي أن حب الأنصار و علي من الإيمان، 1 / 86، الحديث رقم : 78، و ابن حبان في الصحيح، 15 / 367، الحديث رقم : 6924، والنسائي في السنن الکبري، 5 / 47، الحديث رقم : 8153، وابن أبي شيبة في المصنف، 6 / 365، الحديث رقم : 32064، وأبويعلي في المسند، 1 / 250، الحديث رقم : 291، و البزار في المسند، 2 / 182، الحديث رقم : 560، و ابن ابي عاصم في السنة، 2 / 598، الحديث رقم : 1325.

 

 

’حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ہم انصار لوگ، منافقین کو ان کے حضرت علی رضی اللہ عنہ کے ساتھ بغض کی وجہ سے پہچانتے تھے۔ اس حدیث کو امام ترمذی نے روایت کیا ہے۔‘‘

الحديث رقم 120 : أخرجه الترمذي في الجامع الصحيح، ابواب المناقب، باب مناقب علي بن أبي طالب، 5 / 635، الحديث رقم : 3717، و أبو نعيم في حلية الاولياء، 6 / 295.

 

حضرت علی کرم اللہ وجہہ کی شجاعت:

’’حضرت سہل بن سعد رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے غزوہ خیبر کے دن فرمایا کل میں جھنڈا اس شخص کو دوں گا جس کے ہاتھوں پر اللہ تعالیٰ فتح عطا فرمائے گا، وہ اللہ اور اس کے رسول سے محبت کرتا ہے اور اللہ اور اس کا رسول اس سے محبت کرتے ہیں۔ حضرت سہل رضی اللہ عنہ نے کہا پھر صحابہ نے اس اضطراب کی کیفیت میں رات گزاری کہ دیکھئے حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کس کو جھنڈا عطا فرماتے ہیں، جب صبح ہوئی تو صحابہ کرام حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس پہنچے ان میں سے ہر شخص کو یہ توقع تھی کہ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اس کو جھنڈا عطا فرمائیں گے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : علی ابن ابی طالب کہاں ہیں؟ صحابہ نے عرض کیا : یا رسول اللہ! ان کی آنکھوں میں تکلیف ہے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : ان کو بلاؤ، حضرت علی رضی اللہ عنہ کو بلایا گیا، حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان کی آنکھوں میں لعاب دہن ڈالا اور ان کے حق میں دعا کی تو ان کی آنکھیں اس طرح ٹھیک ہو گئیں گویا کبھی تکلیف ہی نہ تھی، پس حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان کو جھنڈا عطا فرمایا۔ حضرت علی رضی اللہ عنہ نے عرض کیا : یا رسول اللہ! میں ان سے اس وقت تک قتال کرتا رہوں گا جب تک وہ ہماری طرح نہ ہو جائیں، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : نرمی سے روانہ ہونا، جب تم ان کے پاس میدان جنگ میں پہنچ جاؤ تو ان کو اسلام کی دعوت دینا اور ان کو یہ بتانا کہ ان پر اللہ کے کیا حقوق واجب ہیں، بخدا اگر تمہاری وجہ سے ایک شخص بھی ہدایت پا جاتا ہے تو وہ تمہارے لیے سرخ اونٹوں سے بہتر ہے۔ یہ حدیث متفق علیہ ہے۔‘‘

الحديث رقم 132 : أخرجه البخاري في الصحيح، کتاب المغازي، باب غزوة خيبر، 4 / 1542، الحديث رقم : 3973، و في کتاب فضائل الصحابة، باب مناقب علي بن أبي طالب، 3 / 1357، الحديث رقم : 3498، ومسلم في الصحيح، کتاب فضائل الصحابة، باب من فضائل علي بن أبي طالب، 4 / 1872، الحديث رقم : 2406، وأحمد بن حنبل في المسند، 5 / 333، الحديث رقم : 22872، و ابن حبان في الصحيح، 15 / 377، الحديث رقم : 6932، و أبو يعلي في المسند، 13 / 531، الحديث رقم : 7537.

 

 

حضرت علی کرم اللہ وجہہ کے گھر کی فضیلت:

’حضرت عبد اﷲابن عباس رضی اﷲ عنہما سے روایت ہے کہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے حضرت علی رضی اللہ عنہ کے دروازے کے سوا مسجد میں کھلنے والے تمام دروازے بند کرنے کا حکم دیا۔ اس حدیث کو امام ترمذی نے روایت کیا ہے۔‘‘

الحديث رقم 145 : أخرجه الترمذي في الجامع الصحيح، ابواب المناقب، باب مناقب علي، 5 / 641، الحديث رقم : 3732، و الهيثمي في مجمع الزوائد، 9 / 115

’ حضرت عبد اﷲ بن عباس رضی اﷲ عنہما بیان کرتے ہیں کہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: میں علم کا شہر ہوں اور علی اس کا دروازہ ہے۔ لہٰذا جو اس شہر میں داخل ہونا چاہتا ہے اسے چاہیے کہ وہ اس دروازے سے آئے۔ اس حدیث کو امام حاکم نے روایت کیا ہے اور کہا یہ حدیث صحیح الاسناد ہے۔‘‘

الحديث رقم 151 : أخرجه الحاکم في المستدرک، 3 / 137، الحديث رقم : 4637، و الديلمي في الفردوس بمأثور الخطاب، 1 / 44، الحديث رقم : 106.

 

 

حضرت علی کرم اللہ وجہہ کو دیکھنا عبادت:

’حضرت عمران بن حصین رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: علی کی طرف دیکھنا بھی عبادت ہے۔ اس حدیث کو امام حاکم نے روایت کیا ہے اور کہا یہ حدیث صحیح الاسناد ہے۔‘‘

الحديث رقم 163 : أخرجه الحاکم في المستدرک، 3 / 52، الحديث رقم : 4681، و الديلمي في الفردوس بمأثور الخطاب، 4 / 294، الحديث رقم : 6866، وأبونعيم في حلية الأولياء، 2 / 183.

 

’’حضرت عائشہ رضی اﷲ عنہا بیان کرتی ہیں کہ میں نے اپنے والد حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ کو دیکھا کہ وہ کثرت سے حضرت علی رضی اللہ عنہ کے چہرے کو دیکھا کرتے۔ پس میں نے آپ سے پوچھا، اے ابا جان! کیا وجہ ہے کہ آپ کثرت سے حضرت علی رضی اللہ عنہ کے چہرے کی طرف تکتے رہتے ہیں؟ حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ نے جواب دیا : اے میری بیٹی! میں نے حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا ہے کہ علی کے چہرے کو تکنا بھی عبادت ہے۔ اس حدیث کو ابن عساکر نے ’’تاريخ دمشق الکبیر‘‘ میں بیان کیا ہے۔‘‘

الحديث رقم 166 : أخرجه ابن عساکر في تاريخه، 42 / 355، و الزمخشري في مختصر کتاب الموافقة : 14.

0 replies

Leave a Reply

Want to join the discussion?
Feel free to contribute!

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے