اصل میں تو یہ محاورہ ہے "اونٹ رے اونٹ تیری کون سی کل سیدھی” (کل یعنی کروٹ/جسم کا کوئی حصہ) کیونکہ اونٹ کے اتنے نشیب و فراز ہوتے ہیں کہ وہ کسی پہلو سے سیدھا دکھتا ہی نہیں۔

 

 

 

کچھ ایسا ہی محاورہ امریکی سرکار پر پورا اترتا ہے جو کب کیا کہہ دیں پتہ نہیں چلتا، کس کو دوست بنالیں اور کس کو دہشت گرد کہہ دیں امریکہ بہادر سے کچھ بعید نہیں۔

 

ابھی کچھ سال پہلے کی ہی بات ہے عراق پر یہ کہہ کر لشکر کشی کردی کہ عراق بڑے پیمانے پر تباہی پھیلانے والے ہتھیار ( ویپن آف ماس ڈسٹرکشن) بنارہا ہے، حالانکہ خود ان کی مقرر کردہ ماہرین کی ٹیم نے عراق میں ایسے کسی ہتھیاروں کی موجودگی کے امکان کو مسترد کیا تھا لیکن امریکی سرکار کو عراق کی اینٹ سے اینٹ بجا کر ہی سکون آیا یہ الگ بات ہے کہ اربوں ڈالرز خرچ کرنے اور لاکھوں بے گناہ فراد کی موت کے بعد امریکہ کو اپنی منہ کی کھانی پڑی۔

 

 

یہاں کچھ بات آگے بڑھانے سے پہلے 2005 کے بعد پھیلنے والے ایک لطیفے کا ذکر نہ کیا تو مزہ نہیں آئے گا۔

 

"کسی نے امریکی سرکار سے پوچھا عراق پر حملہ کیوں کیا۔۔؟

ارے بھائی وہاں ایٹمی ہتھیاروں کا خدشہ تھا۔۔

لیکن عراق میں تو آپ کو کوئی ہتھیار نہیں ملا۔۔!

خدشہ تو تھا نا۔۔امریکی سرکار نے جواب دیا۔

اچھا پھرشمالی کوریا پر حملہ کیوں نہیں کیا۔۔؟؟

ارے پاگل ہو کیا ان کے پاس تو سچ مچ کے ایٹمی ہتھیار ہیں، امریکہ بہادر نے سادہ سا جواب دیا”

 

 

یہ تھا تو لطیفہ لیکن عراق کی تباہی اور وہاں سے ہتھیار نہ ملنے اور شمالی کوریا کے آگے گھٹنے ٹیک کر مذاکرات کیلئے آمادہ ہونے کے امریکی حکومت کے فیصلوں نے دنیا کو حیران کررکھا ہے۔

 

 

 

 

لیکن یہ غلطی کوئی پہلی بار تو نہیں ہوئی اب یہی امریکہ بہادر ایران پر صرف اس لیئے لشکر کشی چاہتا ہے کہ انکل سام کو خدشہ ہے کہ ایران ایٹمی ہتھیار بنارہا ہے اورصرف اس خدشے کی بنیاد پرامریکہ بہادراس انتہا تک آگئےکہ خلیج میں اپنا بحری بیڑہ تک تعینات کردیا۔

 

 

پھر کچھ ایسا ہوا کہ شاید ڈالرز کی کمی، اورکچھ امریکی عوام کی جنگ مخالفت سامنے آنے پر انکل سام نے چند دن قبل ہی اپنے مشیروں سے بات کرتے ہوئے کہا کہ وہ نہیں چاہتے کہ ایران پر امریکی دباؤ لڑائی کی شکل اختیار کرے، پھر جب صحافیوں نے ان سے دریافت کیا تھا کہ آیا امریکہ ایران سے جنگ کرنے جا رہا ہے تو ان کا جواب تھا کہ وہ پرامید ہیں کہ ایسا نہیں ہو گا۔

 

یہ بات خوش آئند تھی، سب نے سکھ کا سانس لیا کہ چلو جنگ کے بادل چھٹ گئے۔

 

 

 

لیکن کچھ ہی دن گزرے ہیں کہ پھر انھیں جنگ کرنے کا خیال آیا، شاید ڈالرز کا مسئلہ اس طرح حل ہوا کہ سعودی عرب نے امریکہ سے ہتھیار کی خریداری پر آمادگی ظاہر کردی ہے پیسوں کو مسئلہ حل ہوا تو پھر ایران برا لگنے لگا، لیکن اس بار الفاظ میں کچھ تبدیلی کرتے ہوئے کہا کہ

"ہم ایرانی حکومت کا خاتمہ نہیں بلکہ وہاں سے جوہری ہتھیاروں کا خاتمہ چاہتے ہیں”

 

امریکی صدر کا کہنا تھا کہ ایران کو نقصان نہیں پہنچانا چاہتے بلکہ جوہری ہتھیاروں کی وجہ سے دنیا میں بہت مسائل ہیں اس لیے امریکا ایران سے جوہری ہتھیاروں کاخاتمہ چاہتا ہے۔

 

ٹرمپ کہتے ہیں کہ ایران میں کوئی جوہری ہتھیار نہیں ہوناچاہیے، ہم اس بارے میں معاہدہ کرلیں گے۔

لیکن ایران میں جوہری ہتھیاروں کے خدشے پر جنگ کی دھکمیاں اور اسی وقت اسی جگہ سے شمالی کوریا کے بارے میں بیان دیتے ہوئے ٹرمپ کہتے ہیں کہ انہیں بھروسہ ہے کہ شمالی کوریا کے سربراہ کم جونگ ان نے جو وعدے کیے ہیں اسے وہ پورا کریں گے۔

 

امریکی صدر نے شمالی کوریا کے حالیہ میزائل تجربوں سے متعلق خدشات کو بھی مسترد کرتے ہوئے شمالی کوریا پر اپنے مکمل اعتماد کا اظہارکیا ان کا کہنا تھا کہ شمالی کوریا نے چند چھوٹے میزائل فائر کیے جس سے ان کے کچھ لوگ اور دیگر پریشان ہوئے تاہم اُن میزائل تجربات نے انہیں کچھ نہیں کیا، شاید کم جونگ نے مجھے سگنل دیا ہے۔

یعنی ایران کو جنگ کی دھمکی اور شمالی کوریا سے دوستی کی خواہش۔۔۔!!

 

اردو زبان میں اگر کہا جائے توایسے طرز عمل کو دو منہ کے سانپ سے تعبیر دی جاتی ہے کہ پتہ نہیں چلتا کس منہ سے ڈسے اور کس  منہ سے کھائے۔

 

 

اب اگر ایران سے بھی معاملات طے کرنے کیلئے ایسی ہی نرم زبان استعمال کی جاتی تو کیا حرج تھا کم ازکم ایران اور اسکی حکومت اپنے عمل میں شمالی کوریا کی قیادت کی طرح ہٹ دھرم تونہیں بلکہ خود ایرانی صدر کہہ چکے ہیں کہ وہ جنگ نہیں چاہتے اور جنگ میں کبھی پہل بھی نہیں کریں گے لیکن اگر ان پر جنگ مسلط کی گئی تو دنیا دیکھے گی اس کا انجام امریکہ کیلئے کتنا عبرتناک ہوگا۔

 

 

 

 

یعنی ایسی زبان ستعمال کرنے پر آپ ہی مجبور کررہے ہیں یہ وہی ایران ہے جس پر کئی برسوں سے امریکہ نے جوہری پھیلاؤ میں ملوث ہونے کا الزام عائد کرکے اقتصادی و تجارتی پابندیاں عائد کردی تھیں جس کے کئی سال بعد سابقہ امریکی صدر نے ایک معاہدے کے تحت  2015 میں نرمیاں کیں۔

لیکن ٹرمپ نے2018 میں اس معاہدے کو ناکافی قراردیتے ہوئےیکطرفہ طورپراس سے دستبردارہونےکا اعلان کردیا، بین الاقوامی تجزیہ کاروں کا کہنا ہےکہ امریکہ اپنےاعتراضات کومذاکرات کے ذریعے حل کرسکتا تھا لیکن اچانک معاہدے سےعلیحدگی اورایران پردوبارہ سخت پابندیں عائد کرنے کے امریکی عمل نے ایران کو مجبور کیا کہ وہ 2015 کے جوہری معاہدے کی شرائط پرعملدرآمد کو معطل کردے۔ ساتھ ہی ایران نے یورینیئم کی افزودگی دوبارہ شروع کرنے کی دھمکی بھی دیدی۔

لیکن اس طرح کی دھمکیں تو ہزاروں بار شمالی کوریا بھی دے چکا، بلکہ ہتھیاراورایٹمی میزائل بنا بھی چکا۔ پھر اس کے ساتھ مذاکرات کیوں اور ایران سے جنگ کی باتیں کیوں۔۔۔؟؟

یہاں ہماری ہمدردیاں ایران کے ساتھ نہیں اور نہ شمالی کوریا کے ساتھ دشمنی ہے، بلکہ ہماری بات تو نسل انسانی کی بقا کی ہے کیونکہ پوری دنیا جانتی ہے کہ اگر امریکہ نے ایران پر حملہ کیا تو یہ جنگ ایٹمی جنگ کی سورت اختیار کرکے پوری دنیا کو اپنی لپیٹ میں لے گی، یورپی یونین بھی امریکی حکمت عملی پر خوش نہیں، چین اور روس نے بھی ناراضگی کا اظہار کیا ہے، ایسی صورت میں فریقین کا پلڑا تقریبا برابر ہی ہے اور اس برابرای کی جنگ کے نتائج خوفناک سے بھی کہیں زیادہ بھیانک ہوسکتے ہیں۔

 

 

 

 

اور ایرانی وزیر خارجہ کی اس بات کو کم ازکم فراموش نہیں کرنا چاہیئے

وہ کہتے ہیں کہ  امریکی صدر کو تاریخ کو دیکھنا چاہیے۔

 

ایرانی ہزاروں سال سے فخر کے ساتھ کھڑے ہیں جبکہ تمام حملہ آور آئے اور چلے گئے، احترام کرنا سیکھیں، اس سے فائدہ ہوتا ہے۔

 

جواد ظریف نے صدر ٹرمپ کے اس بیان کو ’نسل کشی کے طعنے‘ قراردیا جس میں صدر ٹرمپ نے ایران کو متنبہ کرتے ہوئے کہا تھا کہ ’اگر دونوں ممالک کے درمیان لڑائی ہوئی تو ایران تباہ ہو جائے گا‘

 

صورتحال یقینا بہت تشویشناک ہے اور جو ممالک یہ سمجھ کر چپ سادھے بیٹھے ہیں کہ یہ ہمارا معاملہ نہیں انھیں یہ سمجھ لینا چاہیئے کہ امریکہ ایران جنگ صرف دو ملکوں تک محدود نہیں ہوگی اس سے پوری نہ صحیح لیکن آدھی دنیا ضرور متاثر ہوگی۔ ایسے میں اس کشیدگی کو حل کرنے کی مشترکہ کوشوں کی بے حد ضرورت ہے ورنہ نتیجہ یہی ہے کہ سب کو مل کر اپنے بچاؤ کیلئے ایٹمی بنکرز بنالینے چاہیئں۔

 

 

 

 

 

0 replies

Leave a Reply

Want to join the discussion?
Feel free to contribute!

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے