بجلی 55 پیسے فی یونٹ مہنگی، صارفین پر5 ارب 20 کروڑ روپے کا بوجھ پڑے گا

 

 

تفصیلات کےمطابق نیپرامیں اپریل کی فیول پرائس ایڈجسٹمنٹ کیلئے سنٹرل پاور پرچیزنگ ایجنسی کی درخواست کی سماعت وائس چیئرمین نیپرا رحمت اللہ بلوچ کی سربراہی میں ہوئی۔

 

نیپرا کے ممبر پنجاب سیف اللہ چٹھہ اور ممبر سندھ رفیق احمد شیخ بھی شریک ہوئے، سنٹرل پاور پرچیزنگ ایجنسی کی اپریل کی فیول پرائس ایڈجسٹمنٹ کے تحت فی یونٹ بجلی 57 پیسے مہنگی کرنے درخواست دی تھی۔

 

درخواست پر نیپرا نے بجلی کے نرخوں میں 55 پیسے فی یونٹ اضافے کی منظوری دے دی، فیصلے کا اطلاق کےالیکٹرک کے صارفین پر نہیں ہوگا۔

 

اس سے قبل نیپرا کو بتایا گیا کہ اپریل میں کل 9ارب 71کروڑ یونٹ بجلی پیدا کی گئی، بجلی پیداوار پر کل لاگت 53ارب تریسٹھ کروڑ روپے رہی، اپریل میں پانی سے 23فیصد کوئلے سے 10.34فیصد بجلی بنائی گئی ۔

نیپرا کو بریفنگ دی گئی کہ فرنس آئل سے 4.95 فیصد گیس سے 18.42فیصد اور درآمدی ایل این جی سے 30 فیصد بجلی بنائی گئی۔

 

نیپرا حکام کے مطابق اپریل میں آرایل این جی والے پلانٹس نہیں چلائے گئےجبکہ سی پی پی اے کے مطابق اپریل میں ہائیڈل سے 22.94 فیصد اورکوئلے سے 10.34 فیصد بجلی پیدا کی گئی ، مقامی گیس سے 18.24 فیصد اور درآمدی ایل این جی سے30.83 فیصد بجلی پیدا کی گئی ہے اور اپریل میں ایٹمی وسائل سے 7.67 فیصد بجلی پیدا کی گئی۔

 

Share This Article