کرکٹ کےعالمی میلےکی انگلینڈ میں رنگا رنگ افتتاحی تقریب، 30 مئی سے ٹیمیں مدمقابل ہوں گی

 

 

میگا ایونٹ کی افتتاحی تقریب بکنگھم پیلس کے سامنے منعقد ہوئی جس میں ایونٹ میں شرکت کرنے والے تمام 10 ممالک کی نامور شخصیات نے اپنے اپنے ملک کی نمائندگی کی۔

 

 

 

بکنگھم پیلس کے باہر مرکزی سڑک پر منفرد افتتاحی تقریب میں 4 ہزار کے لگ بھگ شائقین شریک ہوئے تقریب کے میزبان معروف فنکار اور سابق انگلش آل راؤنڈر اینڈریو فلنٹوف نے خوب رنگ جمایا، ابتداء میں تمام 10 ٹیموں کے کپتانوں کی آمد ہوئی۔

ایک گھنٹے پر محیط تقریب کو پوری دنیا میں برطانیہ کے معیاری وقت کے مطابق 5 بجے شام سے براہ راست نشر کیا گیا اور دو سو ملکوں میں کروڑوں ناظرین نے اسے براہ راست دیکھا۔

تقریب میں ورلڈ کپ 2015 کے فاتح کپتان آسٹریلیا کے مائیکل کلارک ٹرافی کے ہمراہ پہنچے، جیسے اسٹیج پر نمائش کیلئے رکھا گیا جبکہ تقریب کا اختتام بھی موسیقی کی جھنکار میں ہوا۔

 

 

 

 

افتتاحی تقریب میں نوبیل امن انعام یافتہ ملالہ یوسف زئی نے بھی خطاب کیا شاہی محل کے باہر پاکستانیوں کی بڑی تعداد اپنی ٹیم کو سپورٹ کرنے کے لیے بھی موجود تھی۔

ملالہ نے کہا کہ مجھے بچپن سے کرکٹ کا شوق تھا۔ملالہ نے سبز رنگ کی شرٹ پہن کر پاکستان کے ساتھ اظہار یکجہتی کیا

 

 

افتتاحی تقریب کو ‘اوپننگ پارٹی’ کا نام دیا گیا تھا جس کے باقاعدہ آغاز سے قبل ویسٹ انڈیز کے عظیم بیٹسمین سر ویوین رچرڈز نے کہا کہ ویسٹ انڈیز کو ہرانا آسان نہیں ہے۔

ورلڈ کپ کی مضبوط امیدوار ٹیموں کا نام لیتے ہوئے رچرڈز نے کہا کہ بھارت اور پاکستان کے علاوہ میزبان انگلینڈ بھی بڑی ٹیم ہے جو ٹورنامنٹ جیتنے کی اہلیت رکھتی ہے۔

انگلش کپتان اوئن مورگن نے کہا کہ ہم ایونٹ کیلئے بہت پرجوش ہیں۔ بھارتی کپتان  ویرات کوہلی نے کہا کہ ہمارےانگلینڈمیں بے شمار فینز ہیں، جس سے فائدہ اٹھانے کی کوشش کریں گے جنوبی افریقا اور ویسٹ انڈیز کے کپتانوں نے بھی جیت کی امیدوں کا اظہار کیا۔

ورلڈ کپ کی سرپرائزتقریب کی ٹکٹیں پہلے ہی فروخت ہوچکی تھیں اورقرعہ اندازی کے ذریعے 4 ہزار شائقین کو ایونٹ میں شریک کیلئے خصوصی پاسسز جااری کیئے گئے۔

یہ پاسسز کسی دوسرے کو فروخت نہیں کیے جاسکتے تھے بلکہ جس کے نام پر جاری ہوئے وہی خوش نصیبوں میں شامل تھا۔

ورلڈ کپ کے مینجنگ ڈائریکٹر اسٹیو ایلورتھی نے کہا کہ اوپننگ پارٹی نے ہر اس پہلو کا احاطہ کیا جو اس ٹورنامنٹ کو خاص بناتا ہے، اس میں شریک ہونے والے خوش قسمت شائقین اور ٹی وی ناظرین لطف اندوز ہوئے

دلچسپ 60 سیکنڈ چیلنج کرکٹ

 

 

 

تقریب میں عوام کے ساتھ ایونٹ میں شریک 10 ممالک کی معروف شخصیات نے اپنے اپنے ملک کی نمائندگی کی اور 60 سکینڈز چیلنج کرکٹ میں حصہ لیا۔

60 سیکنڈز چیلنج کی فاتح انگلنڈ کی ٹیم رہی جس نے 74رنز اسکور کیے۔ پاکستان کی نمائندگی امن کا نوبیل انعام حاصل کرنے والی ملالہ یوسف زئی اور ٹیسٹ کرکٹر اظہرعلی نے کی، کرکٹ میں دونوں نے 38 رنز بنائے۔

بھارت کی جانب سے انیل کمبلے اور بولی ووڈ اسٹار فرحان اختر نے نمائندگی کی اور 19 رنز بنائے۔

سری لنکا کی جانب سے مہیلا جے وردھنے اور بنگلہ دیش کی نمائندگی عبدالرزاق کے ہمرا خاتون اداکارہ نے کی۔

آسٹریلیا نے بریٹ لی کی قیادت میں 69 رنز بنائے، جیمز فرینکلن نے نیوزی لینڈ کے لیے 32 رنز بنائے، جیک کیلس نے جنوبی افریقا کیلئے 48 رنز بنائے اور انگلینڈ نے کیون پیٹرسن کی قیادت میں 74 رنز بنائے۔

انگلینڈ نے 60 سیکنڈز چیلنج میچ میں آسٹریلیا کو پیچھے چھوڑتے ہوئے کامیابی حاصل کی۔

 

عالمی کپ مقابلوں میں شریک ٹیمیں کوئی گروپ نہیں ہوگا

 

 

 

دنیائے کرکٹ کے سب سے بڑے میلے کا پہلا میچ میزبان انگلینڈ اور جنوبی افریقا کے درمیان ہوگا۔

ورلڈکپ کے لیے 10 ٹیمیں ایونٹ میں مدمقابل ہیں جنہیں 2 گروپس میں تقسیم کرنے کے بجائے تمام ٹیمیں ایک دوسرے کے خلاف میچ کھیلیں گی۔

 

 

 

 

 

افغانستان کے لیے یہ دوسرا موقع ہے کہ وہ ورلڈکپ میں کوالیفائی کرنے میں کامیاب رہا جب کہ دیگر ٹیموں میں دفاعی چیمپئن آسٹریلیا، پاکستان، بھارت، انگلینڈ، ویسٹ انڈیز، نیوزی لینڈ، جنوبی افریقا، سری لنکا اور بنگلادیش شامل ہیں۔

ایونٹ میں مجموعی طور پر 48 میچز کھیلے جائیں گے، فائنل اور سیمی فائنل سے قبل تمام ٹیمیں اپنے اپنے 9، 9 میچز کھیلیں گی جن میں سے 4 ٹیمیں سیمی فائنل میں جگہ بنائیں گی اور 14 جولائی کو فائنل مقابلہ ہوگا۔

پاکستان اپنا ایونٹ کا پہلا میچ 31 مئی کو ویسٹ انڈیز کے خلاف کھیلے گا جو پاکستانی وقت کے مطابق دوپہر ڈھائی بجے شروع ہوگا۔

 

 

 

 

پاکستان کا دوسرا میچ 3 جون کو انگلینڈ، 7 جون کو سری لنکا، 12 جون کو آسٹریلیا، 16 جون کو بھارت، 23 جون کو جنوبی افریقا، 26 جون کو نیوزی لینڈ، 29 جون کو افغانستان اور 5 جولائی کو بنگلادیش کے خلاف ہوگا۔

 

Share This Article

تازه ترین