شمالی وزیرستان میں سیکیورٹی چیک پوسٹ پر حملے میں ملوث رکن قومی اسمبلی محسن داوڑ کو 8 روزہ ریمانڈ پر سی ٹی ڈی کے حوالے کر دیا گیاخڑ کمر چیک پوسٹ واقعے کے دن محسن داوڑ انسانی ڈھال کو استعمال کرتے ہوئے فرار ہوئےتھے۔
حملے کے بعد تھانہ سی ٹی ڈی بنوں میں انسپکٹر محمد جلیل خان کی مدعیت میں سیکیورٹی چیک پوسٹ پر حملے کا مقدمہ درج کیا گیا جس میں دہشت گردی، 302،324 سمیت کُل 10 دفعات شامل کی گئیں
پاک فوج کی چوک پوسٹ پر حملے کے ردعمل میں فوج نے پی ٹی ایم کے رہنما علی وزیر سمیت آٹھ شرپسندوں کو بھی گرفتار کیا تھا۔ گرفتار شدگان پاک فوج کی چیک پوسٹ پر حملے اور وہاں موجود سپاہیوں کو زخمی کرنے میں ملوث تھے۔
پاک فوج کے شعبہ نشر و اشاعت کے مطابق میران شاہ کے علاقے میں بویا میں واقع خارکمر چیک پوسٹ پر اتوارکے روز حملہ کیا گیا تھا، حملے کا مقصد ایک روز قبل حراست میں لیے گئے مشتبہ دہشت گردوں کو رہائی دلانا تھا۔
یاد رہے کہ کچھ روز قبل پی ٹی ایم رہنما علی وزیرنے جلسے میں کچھ عرصہ پہلے قومی اداروں کوکھلے عام دھمکیاں بھی دی تھیں کہ میں تمہیں ماروں گا، دوسری جانب محسن داوڑ نے روپوشی کے دوران ایک غیر ملکی نشریاتی ادارے کو دیے انٹرویو میں پاک فوج سے وزیرستان چھوڑنے کا مطالبہ کرتے ہوئے اپنی اصلیت ظاہر کردی تھی۔