امریکی ریاست ورجینیا میں فائرنگ، 12 افراد ہلاک متعدد زخمی، حملہ آور بھی مارا گیا

 

 

غیر ملکی خبر رساں ادارے کے مطابق فائرنگ کا واقعہ ورجینیا شہر کی سرکاری عمارت میونسپل سینٹر میں گزشتہ شام 4 بجے پیش آیا جہاں سابق ملازم نے اندھا دھند فائرنگ کی جس کے نتیجے میں 12 افراد ہلاک اور کئی زخمی ہوگئے۔

 

واقعے کی اطلاع ملتے ہی پولیس فوری جائے وقوعہ پر پہنچ گئی اور علاقے کو مکمل طور پر سیل کردیا گیا، زخمی افراد کو فوری طبی امداد کے لیے اسپتال منتقل کیا گیا جن میں 6 پولیس اہلکار بھی شامل ہیں۔ وائٹ ہاؤس کے ایک ترجمان نے بتایا کہ صدر ٹرمپ کو اس واقعے کے اطلاع دے دی گئی ہے۔

 

برطانوی نشریاتی ادارے بی بی سی کے مطابق حملہ آور پولیس کی جوابی کارروائی کے دوران مارا گیا جس کی شناخت ظاہر نہیں کی گئی ہے۔

 

 

پولیس حکام نے بتایا کہ حملہ آور نے پارکنگ کی طرف کھڑے کچھ افراد کو نشانہ بنایا جب کہ دیگر کا سرکاری عمارت کی تینوں منزلوں پر تعاقب کیا، حکام کا کہنا ہے کہ یہ واقعہ انتہائی خوفناک ہے جو ایک وار زون کے طور پر بہتر بیان ہوسکتا ہے۔

 

حکام نے مرنے والے 12 افراد کی شناخت ظاہر نہیں کی ہے۔ اس فائرنگ میں پولیس افسر سمیت کم از کم چھ افراد زخمی ہوئے ہیں لیکن وہ کس قدر زخمی ہیں اسے ابھی ظاہر نہیں کیا گيا ہے،پولیس سربراہ نے صحافیوں کو بتایا کہ پولیس افسر کی زندگی اس لیے بچ گئی کہ ان کو لگنے والی گولی ان کے بلٹ پروف ویسٹ میں پھنس گئی۔

امریکی میڈیا کا کہنا ہے کہ تفتیشی ادارہ ایف بی آئی واقعے کی جگہ پر موجود تھا اور وہ مقامی حکام کو شوٹنگ کی تفتیش میں مدد فراہم کر رہا تھا۔

 

ورجینیا بیچ ریاست کی سب سے گنجان آبادی والا شہر ہے جہاں تقریبا چار لاکھ 40 ہزار شہری رہتے ہیں

 

ادھر ورجینیا کے گورنر راف نارتھم نے اس واقعے کو شہر اور ریاست کے لیے ‘المناک دن’ کے طورپریاد کیا، ورجینیا کے سینیٹر ٹم کینے نے بھی اپنی ٹوئٹ میں فائرنگ واقعے کی شدید مذمت کرتے ہوئے زخمیوں کی جلد صحت یابی کے لیے دعا کی، جبکہ شہر کے میئر رابرٹ ڈایر نے کہا: ‘ورجینیا بیچ کی تاریخ میں یہ سب سے زیادہ المناک دن ہے۔

 

امریکی ٹریکنگ ویب سائٹ گن وائلینس آرکائوز کے مطابق یہ امریکہ میں رواں سال ہونے والا 150 واں شوٹنگ کا واقعہ ہے۔

Share This Article

تازه ترین