فقہ حنفی از مفتی منیب الرحمٰن
 

معروف عالم دین مفتی منیب الرحمن کے مطابق پاکستان میں رواں سال 1440 ہجری کے لیے فطرہ کم از کم فدیہ 100روپے ہے۔

 

 

 

مفتی عبدالرزاق نقشبندی (ترجمان مفتی منیب) کے مطابق  شرعی تعلیمات کے حساب سے رواں سال صدقہ الفطر، فدیہ اور صوم کو کفارے کے نصاب کا اعلان کردیا گیا ہے۔

 

علماء کرام کی رائے اور مفتی منیب الرحمان کی منظوری کے بعد رواں برس فی کس فطرے کی رقم مبلغ 100 روپے مقرر کی گئی۔ فطرے کی رقم دو کلو آٹے کی رقم رکھی گئی، اسی طرح صویہ صوم 3 ہزار، کفارہ صوم (برائے 60 مساکین) 6 ہزار روپے، کفارۂ قسم 1 ہزار روپے مقرر کیا گیا۔

 

دارالعلوم نعیمیہ کی جانب سے جاری ہونے والے اعلامیے میں اہل ثروت لوگوں سے اپیل کی گئی ہے کہ وہ اپنی مالی حیثیت کے مطابق فطرہ و فدیہ ادا کریں۔ چیئرمین رویت ہلال کمیٹی مفتی منیب الرحمٰن کا کہنا ہے کہ فطرہ اور فدیہ مالی حیثیت کے مطابق ادا کرنا چاہئے، تاہم گندم کے حساب سے فطرہ کی کم از کم رقم ایک سو روپے بنتی ہے۔

 

فطرے، فدیے، کفارہ صوم اور فدیے کے لیے چار کلو جوَ کی قیمت بالترتیب 400، 12000، 24000 اور چار ہزار مقرر کی گئ، اسی طرح کھجور ، کشمش اور پنیر کی بھی چار چار کلو کی قیمتوں کا نصاب مقرر کیا گیا۔

 

کفارہ صوم کی صورت میں 60 مساکین کو کھانا کھلایا جائے یا پھر گندم کے نصاب سے 6 ہزار روپے جو کے نصاب سے 19200، کھجور اور کشمش کے نصاب سے 96000 روپے ادا کیئے جائیں۔ یاد رہے کہ گزشتہ برس بھی پاکستان میں صدقہ فطر کا نصاب سو روپے مقرر کیا گیا تھا

 

٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭

 
(فقہ جعفریہ (مطابق آیت اللہ سید علی حسینی سیستانی

 

 

 

سوال 1: فطرہ کی مقدار کتنی دینی واجب ہے؟

جواب: ایک صاع یعنی 3 کلو چاہے گندم ہو۔ جٙو ہو۔ کھجور ہو۔ کشمش ہو۔ چاول ہوں۔ جُوّار ہو ۔انکی تین کلو مقدار دی جائے یا انکے برابر نقدی رقم ہو۔

 

سوال2 :فطرہ دینا کس پر واجب ہے؟

جواب: جو شخص فقیر نہ ہو اپنا اور اپنے اہل و عیال کا فطرہ دیناگھر کے سربراہ پر واجب ہے ۔

 

سوال3 :جو شخص اتنا غریب ہو فطرہ ادا نہ کر سکتا ہو تو کیا کرے؟

جواب: گھر کے افراد ایک ساتھ بیٹھ جائیں پہلا شخص فطرہ دوسرے کو دےاوردوسراتیسرےکودے

اسطرح فطرہ اسی پہلے شخص کے پاس آجائے گا تو اس صورت میں سب کا فطرہ ادا ہو جائے گا۔

 

سوال4 :فطرہ کن لوگوں کو دینا چاہئے ؟

جواب: احتیاط واجب ہے کہ جو شرابی  ہو ۔بے نمازی  ہو اور جو کھلم کھلا گناہ کر تا ہو انکو فطرہ نہ دیا جائے بلکہ جو ان کے مقابلے میں شریف نیک اور دیندار ہو اسکو فطرہ دینا چاہئے ۔

 

سوال5:فطرہ فقط مومن کو دیا جائے یا دوسرے مسلمان کو دے سکتے ہیں؟

جواب: احتیاط واجب ہے کہ فطرہ شیعہ اثنا عشری فقرا کو دیا جائے اگر شہر میں نہ ملیں تو دوسرے مسلمان فقرا کو دیا جا سکتا ہے ضروری ہے کہ وہ ناصبی نہ ہو ۔

 

سوال6 : فطرہ کب واجب ہوتا ہے ؟

جواب: عید کا چاند نظر آنے پر فطرہ دینا واجب ہو جاتا ہے۔

 

 

سوال7 : کیا سید امتی کا فطرہ لے سکتا ہے ؟

جواب: سید ہر صورت میں امتی کا فطرہ نہیں لے سکتا البتہ امتی سید کا فطرہ لے سکتا ہے ۔

 

سوال8 :کیا اس شخص کوفطرہ دے سکتےہیں  جوفطرہ کو ناجائز کاموں میں استعمال کرتا ہو ؟

جواب: ایسے بندے کو فطرہ نہیں دے سکتے۔

 

سوال9 :کس کو فطرہ دینا افضل ہے؟

جواب: مستحب کہ فطرہ یا زکٰوة میں انسان اپنے رشتہ داروں اور ہمسایوں

کو دوسرےلوگوں سے افضل سمجھے مناسب یہ ہے کہ اہل علم و فضل  اور دیندار لوگوں کو ترجیح دی جائے۔

 

سوال10: ایک فقیر کو کتنا فطرہ دینا چاہیے ؟

جواب: ایک کو ایک صاع سے کم نہ دیا جائےبلکہ ایک صاع سے زیادہ دے سکتے ہیں مگر فقیر زیادہ ہوں تو کم بھی دے سکتے ہیں ۔

 

سوال11:کیا فقیر کے بارے میں علم ہونا چاہئے کہ یہ بندہ فقیر ہے؟

جواب: جی ہاں آپ کو علم ہونا چاہئے جو شخص آکر کہے میں فقیر ہوں اس کو فطرہ نہ دیا جائے جب تک تصدیق نہ ہو ۔

 

سوال12:کیا فطرہ رمضان المبارک کے دوران دے سکتے ہیں ؟

جواب: بہتر ہے کہ رمضان المبارک  میں فطرہ نہ دیا جائے البتہ اگر کسی کو قرض دے دیں اور بعد میں اس کو فطرہ میں شمار کریں تو کوئی حرج نہیں ۔

 

سوال13:ذمینداروں کے نوکروں کا فطرہ کس پر واجب ہے ؟

جواب: اگر ان کی کفالت (مثلا کھانا وغیرہ) ذمیندار کر رہا ہے تو فطرہ ذمیندار پر واجب ہے

نوٹ:  اگر ان کو کام کرنے کی مزدوری دے دی جاتی ہے اپنے اخراجات کو خود اٹھاتا ہے تو خود اسی(مزدور)  پر فطرہ واجب ہے

 

سوال14:مہمان کا فطرہ کس پر واجب ہو گا؟

جواب: جو مہمان غروب سے پہلے آئے رات بھی وہیں رہے اور جومہمان غروب کی بعد آئے ان کے ہاں کھانا کھانے والا شمار ہو تو صاحب خانہ( گھر )پر فطرہ دینا واجب ہے ۔

 

سوال15:اگر کسی کو فطرہ دیا جائے بعد میں علم ہو کہ فقیر نہیں تو کیا کریں؟

جواب: اس سے فطرہ واپس لیں اگر استعمال کر چکا ہے تو اس کا عوض لیں اگر ملنا ممکن نہ ہو تو دوبارہ اپنے مال سے فطرہ دیا جائے۔

 

٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭

دارالافتاء جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن

 

سوال : صدقہ الفطر کی مقدار اس سال 1440ہجری بمطابق 2019 کیا ہے ؟

 

جواب:

دارالافتاء جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن  کی جانب سے امسال 1440ھ بمطابق 2019 میں  کراچی  اور اس کے مضافات کے لیے صدقۃ الفطر کی رقم مندرجہ ذیل طے کی گئی ہے:

 

گندم:              90  روپے فی کس
جو:               260  روپے فی کس
کھجور:          900  روپے فی کس
کشمش:        1500  روپے فی کس

 

یہ مقدار کراچی اور اس کے مضافات میں رہنے والوں کے لیے مقرر کی گئی ہے، اگر آپ کسی اور جگہ رہتے ہیں  اور صدقۂ فطر گندم سے دینا چاہتے ہیں تو  بازار میں  دو کلو گندم (احتیاطاً) کی جو قیمت ہے اس کے مطابق دے دیں ، اور کھجور اور کشمش وغیرہ سے دینا چاہتے ہیں تو ان کے ساڑھے تین کلو کی بازار میں جو قیمت ہے اس کے مطابق ادا کردیں، یا اس شہر میں کسی مستند ادارے کی طرف سے صدقہ فطر کی متعین کی گئی رقم کے مطابق ادا کردیں۔ فقط واللہ اعلم 

 

0 replies

Leave a Reply

Want to join the discussion?
Feel free to contribute!

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے